گجراتی موسیقی اور مستی میں آئے نَجدی اونٹ


 

khurram niazi2006ء میں  بھی یوں ہی لگا تھا کہ ہم جیسے سچے عاشق کوڈینگیں مارتے چھوڑ کر محبوب اور رقیب سرِعام محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہوں۔ اس وقت ہم سرزمینِ الحرمین الشریفین کے ملازم تھے شاہ فہد نے دنیائے فانی سے کوچ فرمایا تھا اور ان کی جگہ اَسی پچاسی سالہ ولی عہد عبداللہ نے لی تھی اور آتے ہی سعودی عرب کا نیا امیج  بنانے کے لئے بین الاقوامی دوروں کا اعلان کیا تھا۔ ابتداء چار روزہ بھارت یاترا سے کرتے ہوئے  فرمایا تھا کہ” بھارت میرا دوسرا گھر ہے” ہر سعودی اخبار نے اس وقت بھی ہند-سعودی دوستی پر کئی کئی صفحات کے ضمیمے شائع کئے تھے۔ ہم پڑھتے، کُڑھتے، تلملاتے، کھسیاتے اور ساتھ کام کرنے والے ہندستانیوں سے نظریں چراتے رہے۔

گو اب ہم سعودیہ کے نوکر نہیں لیکن بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے حالیہ دو روزہ سعودی دورہ کے سلسلے میں تمام سعودی اخبارات میں کئی ماہ سے  مہمان کی شان میں عربی اور انگریزی میں قصیدہ خوانی دیکھ کر بس یہی خیال آیا کہ

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

سعودی روزناموں  نے لکھا کہ مودی صاحب” کرشمہ ساز عوامی رہنما” ہیں اور وہ “عوام کی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لئے کس قدر مشقت کر رہے ہیں”۔  ان کی پوری سیاسی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے غریب پس منظر، بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے خدمات، بالخصوص ان کی قیادت میں گجرات کی معجزاتی ترقی کا زور دے کر ذکر کیا گیا۔ اور یہ بھی کہ ان کی” انتخابی فتح سے کانگریس کی بد ترین شکست ہوئی اور اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت ہوگئی کہ بھارتی عوام انقلابی تبدیلی کے پیچھے ہیں”

سعودیہ اور بھارت کی قربت میں ان دونوں ملکوں کی اپنی ضروریات کا دخل ہے۔ دونوں دنیا کی بیس سب سے بڑی معیشتوں کے کلب جی 20 کے ارکان ہیں۔ بھارت اپنی تیز تر صنعتی ترقی کے لئے بلا رکاوٹ سعودی تیل کی فراہمی کا خواہشمند  ہے۔ اسے اپنی مصنوعات کی کھپت کے لئے منڈیوں کی تلاش بھی ہے۔ خاص کر فارماسیوٹیکل اور کاروں کی انڈسٹری صارفین کی راہ تک رہی ہے۔ اس کے تیس لاکھ باشندے  سعودیہ میں کام کرکے وطن کے زرِ مبادلہ میں دس ارب ڈالر کی خطیر رقم منتقل کرتے ہیں۔ لیکن ان میں اکثریت مزدور پیشہ ہیں۔ غیر ملکی تارکینِ وطن کی ‘مہمان نوازی’ میں سعودیہ کی تاریخ نا قابلِ رشک بلکہ بدنام سی ہے۔ اگر موافقانہ ماحول میسر ہو، اعلیٰ تنخواہوں کی کشش موجود ہو، غیر ضروری زیادتیوں اور تعصب کا ڈر نہ ہو تو بھارت کی تعلیم یافتہ آبادی سعودیہ کا ُرخ  کرسکتی ہے۔ دوسری طرف سعودیہ تیل کی دولت پر اپنا انحصار کم کرکے معیشت میں تنوع لانا چاہتا ہے۔ اسے تیل کی ذیلی مصنوعات(بائی پراڈکٹس) کے لئے بڑے خریدار چاہئے ہیں جو صرف چین اور ہندوستان ہوسکتے ہیں۔ اسے تربیت یافتہ، مہذب، منظم اور قانون کے پابند پیشہ ور کارکنان درکار ہیں جو اس کی ترقی میں مددگار بن سکیں۔

دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔  2012ء ایک سنگِ میل سال تھا جب ممبئی حملے میں ملوث ضیاء الدین انصاری عرف ابو جندل کو بھارت کے حوالے کردیا گیا تھا۔ بھارت صرف سعودیہ ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا کوئی موثر کردار دیکھ رہا ہے۔  دلچسپ امر یہ ہے کہ ان مذاکرات میں ہندوستان میں مدرسوں اور مساجد کی تعمیر کا کوئی اشارہ یا مسلم آبادی کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

ریاستوں کے مابین تعلقات کی بنیاد زمینی حقائق اور قومی مفادات پر رکھی جاتی ہے ( یا رکھی جانی چاہئے!)۔ ملکوں کے نا مستقل دوست ہوتے ہیں نا دشمن بس مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ اس میں مشترکہ عقائد یا یکساں زبان اور تہذیب کا کوئی خاص کردار نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اس وقت اسلام کے نام پر جہاد کی جتنی تحریکیں چل رہی ہیں وہ در اصل اچھی بھلی مسلمان ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے اور ان کے حصے بخرے کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل سعودیہ نے عرب قوم پرستی کو اپنے وجود کے خلاف خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی سرحدوں سے دور رکھا اور اس کے مقابلے میں مسلم بنیاد پرستی کی سرپرستی کی لیکن اب وہ ان عناصر کو اپنی بنیادوں کا دشمن خیال کرتا ہے۔

 60ء کی دہائی میں چین اور روس کے جھگڑے اور 70ء کے عشرے میں  چین اور ویتنام کے تنازع  سے عیاں ہوتا ہے کہ کمیونسٹ ریاستیں بھی قومی مفادات کو نظریاتی مفادات سے بالاتر رکھتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “گجراتی موسیقی اور مستی میں آئے نَجدی اونٹ

  • 05-04-2016 at 2:08 am
    Permalink

    اگر پاکستانی یہ سوچ رہے ہیں‌کہ ہم بھی مسلم تم بھی مسلم کرکے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ پینگیں‌بڑھا سکیں‌گے تو ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج جس دنیا میں‌ہم سانس لے رہے ہیں‌وہ کافی رابطے والی ہے اور اب مذہب کی بنیاد پر جوڑ گٹھ، سیاست اور تجارت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں‌ جو مقابلہ کرسکتا ہو وہی کامیاب ہوگا۔ نئی ایجادات کی، سوچ کی، راستوں‌کی ضرورت ہے۔ جہاں‌نہ ایجادات ہورہی ہوں، نہ تعلیم میں‌وہ آگے ہوں‌‌اور نہ ہی ماحول محفوظ ہو کہ کوئی تجارت یا پروڈکشن ہو تو پھر ایسے ملکوں‌سے کون تعلقات رکھنا پسند کرے گا؟
    مجھے یاد ہے لوگ آپس میں‌ باتیں‌کرتے تھے کہ انڈیا افغانستان کیوں‌جارہا ہے؟ انڈیا امریکہ کیوں‌جارہا ہے؟ بھئی آپ انڈیا کے انکل تو نہیں‌کہ آپ سے پوچھ کر جائے گا۔ انڈیا، افغانستان یا سعودی عرب یا دنیا کا کوئی بھی ملک، سبھی کی ترجیح یہی ہے اور ہونی بھی چاہئیے کہ ان کے اپنے ملک اور اس کے لوگوں‌کے لئیے کس طرح‌آگے بڑھا جائے اور بین الاقوامی سطح پر کس طرح‌مفید تعلقات پیدا کئیے جائیں۔ اس دنیا کا صرف ایک مذہب ہے اور وہ ہے اکانومکس۔

Comments are closed.