ذوالفقار علی بھٹو سے دو ملاقاتیں اور تیسرا تجاذب


mujahid mirza

میں تب گورنمنٹ کالج لاہور میں سال دوم کا طالبعلم تھا۔ ایوب خان کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ میں بھی شریک ہوتا تھا۔ میں نے بھٹو کو پہلی بار مال روڈ پر ایسے ہی ایک جلوس میں دیکھا تھا۔ وہ ٹرک کے اوپر کھڑے تھے۔ شلوار قمیص میں ملبوس تھے۔ حسب معمول گریبان کے بٹن کھلے تھے ۔ کف چڑھائے ہوئے تھے۔ سیاہی مائل سفید بال پریشان تھے اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’اب تو مجھے بیگم خلیق الزمان سے زیادہ اچھی اردو بولنا آ گئی ہے‘ یہ سن کر پورا جلوس قہقہہ بار ہو گیا تھا۔ تب وہ تازہ تازہ جیل سے رہا ہو کر آئے تھے۔ انہیں منٹگمری ڈسٹرکٹ جیل کی چوہوں بھری کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا۔ مگر یہ میری ان سے ملاقات نہیں تھی۔

میری ملاقات اس سے پہلے تب ہوئی تھی جب ایوب خان کے حکم پر ان کی پروازوں میں تاخیر کی جاتی تھی۔ میری ایک رشتے کی بہن اور ان کے خاوند جو خود بھی میرے قریبی رشتے دار تھے، سائنسدان کے طور پر آسٹریلیا جا رہے تھے۔ ہم انہیں چھوڑنے لاہور ایئر پورٹ گئے ہوئے تھے۔ تب ایئر پورٹ کے رن وے کے باہر لوہے کا نیچا سا جنگلہ ہوتا تھا۔ چھوڑنے کے لیے آنے والے لوگ مسافروں کو پیدل چل کر طیارے کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے بلکہ مسافر طیارے کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے ہاتھ ہلاتے تھے اور چھوڑنے آنے والے ہاتھ ہلا کر انہیں رخصت کیا کرتے تھے۔ میں جنگلے کے ساتھ باقی رشتے داروں سے کچھ دور کھڑا تھا۔ وہاں کسی نے کسی کو بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے طیارے کی روانگی میں تاخیر ہو گئی ہے اور وہ وہاں تشریف رکھتے ہیں، اس شخص نے ایک کمرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ تب یہ وی آئی پی روم بھی قابل رسائی تھا۔ میں رشتے داروں کو الوداع کہنا چھوڑ کر تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کمرے میں پہنچا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ہلکے کتھئی پینٹ سوٹ میں ملبوس ایک صوفے پر بیٹھے محو کلام تھے باقی لوگ جن کی تعداد زیادہ نہیں تھی انہماک سے سن رہے تھے۔ بیٹھنے کو جگہ نہیں تھی۔ میں بھٹو صاحب کے دائیں جانب صوفے کے بازو پر ٹک گیا تھا۔

buttho4

دو چار منٹ بعد وہ باہر نکلے تھے اور برآمدے میں کھڑے شورش کاشمیری کے ساتھ باتیں کرنے لگے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ نکلا تھا، تب میں ان کا شیدائی ہوا کرتا تھا اگرچہ آج بھی پیار کرتا ہوں۔ میں نے زندگی میں نہ تب تک کسی شخصیت کا آٹو گراف لیا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی لیا۔ میری جیب میں تب ایک سو کا نوٹ تھا جو اس دور کے طالبعلم کے لیے بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔ میں نے ان کی گفتگو میں مخل ہوتے ہوئے وہ نوٹ بھٹو صاحب کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا، ’سر! آٹو گراف پلیز‘ ( یہ لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھر آئی ہیں) بھٹو نے شان بے نیازی سے نوٹ پکڑ کر پہلے اپنی بات مکمل کی تھی اور پھر میری جانب مڑ کر کہا تھا ’پین‘۔ میرے پاس پین نہیں تھا۔ جناب شورش کاشمیری نے اپنا پین نکالا تھا اور کھول کر انہیں دیا تھا، انہوں نے میرے سو روپے کے نوٹ پر دستخط ثبت کرکے مجھے دے دیا تھا۔ میں خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔ بہت دیر اس نوٹ کو سنبھالا تھا لیکن میرے بھٹو مخالف دوستوں نے بالآخر وہ دستاویز ضائع کروا کر دم لیا تھا جس کا مجھے آج بھی از حد افسوس ہے۔

پھر بھٹو صاحب نے شہر شہر دورے کرنے شروع کیے تھے۔ ان کا ایک دورہ میرے شہر علی پور ضلع مظفر گڑھ کا بھی تھا۔ تب مجھے انقلاب کے سرخ رنگ کا ہی معلوم تھا اور بس۔ میں نے سرخ اور سیاہ ہلکے کاڈرائے کا کپڑا خریدا تھا اور اپنے طور پر ایک بوشرٹ ڈیزائن کی تھی۔ انارکلی میں گورنمنٹ کالج کے اقبال ہوسٹل کے باسیوں کے ایک مقبول ٹیلر ماسٹر ہوتے تھے۔ انہوں نے اس قمیص کی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے سینے سے انکار کر دیا تھا مگر میں بھی دھن کا پکا تھا۔ مجھے اپنے معشوق سے ملنا تھا جس کے لیے مجھے انقلابی رنگ کا مخصوص شرٹ پہننا تھا میں بھٹو صاحب کے مجوزہ دورے سے تین چار روز پہلے گھر پہنچ گیا تھا۔ اپنی پالنے والی بہن کے سر ہو گیا تھا کہ جیسا میں چاہتا ہوں ویسی بوشرٹ سی کے دے۔ اس بیچاری نے دودن کی محنت سے وہ شرٹ تیار کی تھی جسے پہن کر میں شہر کے بہت دور باہر تک نکلا تھا تاکہ جب بھٹو صاحب علی پور میں داخل ہوں تو میں ان سے ہاتھ ملانے والا پہلا شخص رہوں۔ ایسا ہی ہوا تھا۔ انہوں نے قصبے سے باہر سفید پتلون اور سرخ و سیاہ معمول سے ہٹ کر شرٹ میں کھڑے لڑکے کو دیکھ کر بالکل میرے نزدیک کار رکوا لی تھی۔ نہ صرف مجھ سے ہاتھ ملایا تھا بلکہ بڑی شفقت سے پوچھا تھا ’ہاؤ آر یو؟‘ میں نے متبسم چہرے کے ساتھ کہا تھا، ’فائن سر‘۔ مجھے لگا تھا کہ انہوں ے مجھے پہچان لیا تھا کہ میں وہی آٹو گراف لینے والا لڑکا ہوں ورنہ وہ انگریزی میں حال کیوں پوچھتے؟ یہ میرا گمان بھی ہو سکتا ہے اور خوش فہمی بھی۔
نہ پوچھیے میں کتنا خوش تھا۔

پھر پیپلز پارٹی کے ایک وزیر مختار اعوان سے اختلافات ہو گئے۔ تفصیل میں جائے بغیر اتنا بتا دوں کہ کھاد فیکٹری کے مزدوروں کے ایک احتجاجی جلوس میں مجھ پر پولیس نے بے تحاشا تشدد کیا تھا۔ قصہ مختصر میں مختار اعوان اور مصطفٰے کھر کے معتوبین میں شامل رہا تھا۔ جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں میری جام ساقی سے ملاقات ہوئی جو ایک طویل دوستی میں بدل گئی تھی۔

ہم بائیں بازو کے انقلابی تھے۔ ہم پیپلز پارٹی سے دور چلے گئے تھے یا وہ ہم سے دور۔ پیپلز پارٹی کے خلاف پی این اے کی تحریک کے دوران میں ملتان میں فوج کا ڈاکٹر تھا۔ میری ہمدردیاں باوجود بھٹو صاحب کی سیاسی قلابازیوں کے ان کے ساتھ تھیں۔ چھ جنوری 1978 ک میری شادی ہو گئی تھی۔ جون 1978 کو میں نے بھٹو کی حکومت ختم کیے جانے اور مارشل لاء لگائے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اعجاز عظیم کو فوج چھوڑنے کے Bhutto5اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا اور جولائی میں مجھے فوج سے رخصت کر دیا گیا تھا۔

حسن نثار کا ایک ہفت روزہ ’احساسات‘ کے نام سے ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں میرا اس ذات شریف سے یارانہ تھا۔ یاری دوستی میں اس کے رسالے کے لیے کچھ لکھ بھی دیا کرتا تھا۔ میں نے ایک بسیط مضمون ’نشے‘ کے عنوان سے لکھا تھا جو اس رسالے میں شائع ہوا تھا۔ چند روز بعد حسن نے بتایا تھا کہ فلاں ڈاکٹر صاحب نے تمہارا مضمون پڑھ کرکے تم سے ملنے کی خواہش کی ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب لاہور میں نفسیاتی امراض کے معروف معالج تھے۔ جب میں ان سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے سرکاری گاڑی اور گھر سمیت اینٹی نارکوٹک کنٹرول بورڈ میں ملازمت کی پیشکش کی تھی ۔ اگرچہ وہ میرے پسندیدہ استاد رہے تھے لیکن اس عرصے میں وہ ایک اچھے کمانے والے بن چکے تھے۔ میں نے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے شور مچایا ہوا تھا کہ ’اج بھٹو نوں پھانسی ہو جانی اے، جلدی جلدی گھراں نوں جاؤ‘۔ بلکہ وہ خود بھی مریضوں کو فارغ کرکے احتیاطا‘ گاڑی کی ٹینکی بھروانے نکلے تھے اور از راہ مہربانی میرے موٹر بائیک کی ٹینکی بھی بھروا دی تھی۔ لیکن ان کی کہی بات افواہ ثابت ہوئی تھی۔

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ بھٹو صاحب کو اچانک پھانسی دے دی جائے گی۔ اس رات میں تونسے میں اپنے سسرال کے ہاں تھا۔ ایک کچے پکے کمرے میں میری اہلیہ کے ماں باپ اور چھوٹے بھائی تھے اور ایک میں ہم دونوں۔ رات کو کسی وقت میری طبیعت شدید بے چین ہو گئی تھی۔ میرا بیوی کی بات سننے کو بھی جی نہیں چاہ رہا تھا۔ ایک بیکلی تھی جو اندر سے کھائے جا رہی تھی۔ میں کمرے سے نکل گیا تھا۔ بیوی کو تاکید کی تھی کہ مجھے تنہا رہنے دے۔ انتہائی ڈیپریشن طاری ہو گیا تھا۔ میں صحن کے آخر میں بنی ایک کھولی میں ایسے لیٹ گیا تھا جیسے شکم مادر میں بچہ۔ اہلیہ پرشان ہو کر بالآخر میرے قریب پہنچی تھی۔ وہ مجھے اٹھنے کو کہہ رہی تھی اور میں بڑبڑا رہا تھا۔ آخرکار میرے منہ سے نکلا تھا ’اب ختم بھی کرو‘۔ یہ کہہ کر میں بالکل پرسکون ہو گیا تھا اور اٹھ کر اہلیہ کے ہمراہ کمرے میں جا کر سو گیا تھا۔ کوئی دس بجے اہلیہ نے جگایا تھا اور کہا تھا کہ ’پھوپھا مولوی لطیف تم سے افسوس کرنے آئے ہیں‘۔ ’کس بات کا؟‘ میں نے تحیر سے پوچھا تھا۔ ’رات بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے‘ اہلیہ نے نظریں جھکا کر اطلاع دی تھی۔ اس کا پھوپھا جماعت اسلامی کے مقامی امیر تھے۔ میں نے چیخ کر کہا تھا،‘ اسے کہو چلا جائے یہاں سے‘۔ مگر وہ ڈٹے رہے تھے، اور مجھ سے افسوس کرکے ہی گئے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ جب میں ’اب ختم بھی کرو‘ کہہ کر پرسکون ہو گیا تھا وہ وہی وقت تھا جب بھٹو نے جلاد سے کہا تھا ’فنش اٹ ناؤ‘۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ذوالفقار علی بھٹو سے دو ملاقاتیں اور تیسرا تجاذب

  • 05-04-2016 at 1:53 pm
    Permalink

    پاکستان بننے کے بعد تقریباََ ۱۱ سال تک بھی کوئی مربوط انتظامی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا گیا اس لیئے انتظامیہ ہی امور حکومت انجام دیتی رہی تاوقتیکہ ۵۸ میں آمریت نمودار ھوگئی۔ اسی آمریت کی کوکھ سے تقریباََ ۱۰ سال بعد ۱۹۶۸ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان کی کابینہ کے اہم رکن اور مستعفی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی حکومت کا نعرہ لگایا تو عوام اسے اپنی حکومت سمجھ کر والہانہ بھٹو کو پیچھے دوڑ پڑی لیکن وقت نے فوراََ ہی ثابت کردیا کہ بھٹو کی ڈکشنری میں عوام کا مطلب ملٹری اور سول اٹیبلشمنٹ کے علاوہ وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی معاملہ میں کرتا دھرتا ہیں یعنی اشرافیہ اور آج بھی جمہوریت کا ڈھول پیٹنے والے یہی جند فیصد اشرافیہ ہی ہیں جو حقیقی جمہوریت کے راستے کی دیوار ہیں

Comments are closed.