کراچی کا ایک ہندو واپس آتا ہے


کلپنا!
جہاز کا سفر بہت آرام دہ تھا اور ایئرانڈیا کی اچھی سی ایئرہوسٹیس نے راستے بھر خوب خیال رکھا۔ میں راستے بھر سوچتا رہا کراچی کے بارے میں۔ ان سڑکوں، گلیوں، بازاروں کے بارے میں جہاں زندگی کی ابتدا کی تھی، سب کچھ بدل گیا ہوگا ایسے ہی جیسے بومبے بدل گیا ہے، بڑا ہوگیا ہے روز بہ روز بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ بومبے کا تو نام بھی بدل گیا ہے ممبئی، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ نام بدلنے کا کیا تُک ہے۔ شکر ہے کراچی کا نام نہیں بدلا گیاہے۔ کراچی میرے دماغ میں کسی فلم کی ریل کی طرح چلتا رہا۔ میرے بچپن کا مہربان کراچی، فارسی، سندھی، اُردو، گجراتی، انگریزی بولنے والوں کا شہر۔ مسلمان، ہندو، پارسی، عیسائیوں کی چھوٹی سی دنیا جہاں ہم سب پیار سے رہتے تھے، غربت اور امارت کے باوجود، جہاں چوری نہیں تھی، بے ایمانی نہیں تھی، اغوا نہیں تھا، ڈکیتی نہیں تھی، لوگ قتل نہیں ہوتے تھے، ان کی عزتیں محفوظ تھیں۔ میں اسی کراچی کی تلاش میں نکلا تھا۔

تم اور پرولا بھی کراچی آجانا پروگرام کے مطابق۔ جب تک شاید میں جگن ناتھ کے بارے میں کچھ پتہ بھی کرلوں گا۔ شاید وہ مل جائیں وہ نہیں تو ان کا پریوار مل جائے۔
کراچی کا ایئرپورٹ بڑا ہے لیکن میرا خیال تھا کہ اور بھی بڑا ہوگا۔ باہر ہوٹل کی گاڑی آگئی تھی، ڈرائیور نے بتایا تھاکہ یہی ملیر والی روڈ ہے جس پر ایئرپورٹ ہے جو حیدرآباد بھی جاتی ہے۔ ملیر سے کراچی کا اچھا فاصلہ تھا، ٹرین سے ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا میرے بچپن میں۔ ملیر کا مندر اچھا خاصا بڑا مندر تھا اب پتہ نہیں کہ ہے یا ختم ہوگیا۔ میٹروپول ہوٹل کو میں پہچان گیا اس کے ساتھ ہی الٹے ہاتھ پر مڑ کے فریئرہال کے سامنے بڑا سا میریٹ ہوٹل ہے جس کے ساتھ ہی امریکن قونصلیٹ کا دفتر بھی ہے۔

ہمارے کراچی میں میریٹ ہوٹل نہیں تھا، امریکی قونصلیٹ کا آفس نہیں تھا بلکہ اس پوری جگہ پر انگریز فوجیوں کا بڑا سا اسٹور اور پی ڈبلیو ڈی کا بڑا سا آفس تھا، اس آفس سے کراچی کی سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال اور مرمت ہوتی تھی جس کے ساتھ ہی ڈاکخانہ بنا ہوا تھا۔ یہ جگہ توبالکل ہی بدل گئی ہے۔ اگر فریئرہال نہ ہوتا تو شاید میں اس کو پہچانتا بھی نہیں۔ یہاں تو بیرک سی بنی ہوئی تھی جہاں سے گزرتے ہوئے بہت سارے گورے آتے جاتے نظر آتے تھے اور ساتھ میں پوسٹ آفس ہونے کی وجہ سے کافی رونق ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں پِتا جی کے ساتھ یہاں آیا تھا، وہ اپنے کزن دیوان دیارام چیلارام مرچندانی سے ملنے آئے تھے۔ وہ پبلک ورکس کے بڑے سخت گیر انجینئر تھے۔ انہوں نے کراچی کی بڑی سیوا کی تھی۔ اب ایسے افسر کہاں۔
سنجے انکل کا خیال رکھنا۔
تمہارا پاپا

٭٭٭    ٭٭٭

کلپنا،
امید ہے کہ ٹھیک ہوگی۔
آج صبح ہی میں نے ہوٹل سے ٹیکسی کرلی ہے۔ جوزف نام ہے ٹیکسی ڈرائیور کا، اچھا آدمی لگتا ہے۔ جتنے دن رہوں گا اس کو ہی ساتھ رکھوں گا۔ کراچی کا آدمی ہے، کراچی کی ساری جگہیں دکھا دے گا۔ اور جب تم اور پرولا آؤگے تو تم دونوں کو شاپنگ بھی کرا دے گا۔ اس عرصے میں، میں اس سے کراچی کے بازاروں کا بھی پتہ کر لوں گا۔ تم لوگوں کو کراچی شاید اچھا لگے، میرے لیے تو چیزیں کافی بدل گئی ہیں، پر ایسا لگتا ہے کل تک میں اِدھر ہی تھا، مجھے وشواس ہے کہ جگن ناتھ چاچا کا پتہ پڑجائے گا۔

آج میں نے پہلا کام یہ کیا کہ کے ایم سی کے بلڈنگ کے سامنے جو اپنا پراناسوامی نارائن مندر ہے، وہاں چلا گیا۔ پوجا پاٹ کے بعد وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ جیون ہے وہاں پر بڑے پیار سے کھانا کھلاتا ہے ہمارے جیسے مسافروں کو بھی۔ اس نے ہی پرشوتم سے ملاقات کرادی۔ پرشوتم بھلا آدمی ہے۔ کام کچھ کرتا نہیں، شام صبح مندر میں ہی بیٹھا رہتا ہے۔ اسے میں ساتھ لے لوں گا، ایک سے دو بھلے ہوں گے پھر کراچی کا ہے تو کراچی میں ہر جگہ لے جا بھی سکے گا، دکھا بھی دے گا۔ پرشوتم سے ہی شاید چاچا جگن ناتھ کا پتہ لگ سکے۔ زندہ تو خیر کیا ہوں گے لیکن کچھ اتاپتہ مل جائے۔ کہاں رہے؟ کیا کرتے رہے؟ شاید شادی کرلی ہو۔ شاید بچے ہوں، کوئی پریوار چھوڑا ہو، اگر ہوں گے تو کافی بڑے ہوں گے، دیکھو کیا ہوتا ہے۔

آج ہی پرشوتم کے ساتھ کلفٹن کے پرانے مندر میں بھی چلا گیا۔ میرے بچپن میں کلفٹن جانا آسان نہیں تھا اور جب جاتے تو سورج ڈھلنے سے پہلے آجاتے تھے، کہتے تھے ریل کی پٹریوں کے ساتھ کچھ بھوت پریت رہتے ہیں۔ ان بھوتوں کی جگہ پر تو بلڈنگیں بن گئی ہیں اور کلفٹن بھی ہمارے زمانے والا کلفٹن نہیں ہے۔ بڑی بڑی بلڈنگیں تو بن گئی ہیں پر ان میں کوئی خوبصورتی نہیں ہے۔ کچھ پرانی بلڈنگیں دکھائی دیں، ان کی شان برقرار ہے، مندر کا راستہ کچھ پرانا سا ہوگیا ہے۔ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کراچی کے اس مندر میں پجاری بہار ی ہے۔ کافی دیر وہاں رہا پھر سمندر کی لہریں گنتا رہا، اس سمندر کو یاد کرتا رہا جو میرے بچپن کا سمندر تھا لہریں اس کی بھی ختم نہیں ہوتی تھیں اور میری گنتی ختم ہوجاتی تھی۔ آج بھی گنتی ختم ہوگئی لہریں ختم نہیں ہوئیں۔
میری چڑیوں کودانہ اور کبوتروں کے لیے پانی رکھنا نہ بھولنا۔ پریتو اور راہول کو بہت دھوپ میں مت کھیلنے دینا۔
تمہارا پاپا

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں