مستنصر حسین تارڑ: کچھ یادیں، کچھ باتیں


zahid hassanکہا گیا ” مستنصر حسین تارڑ، اس عہد کے بڑے اور اہم لکھنے والے ہیں“۔ اس میں خیر شک شبہے کی گنجائش موجود نہیں۔ اس بات کو تقویت مگر تب ملتی ہے جب یہ بات ایک ایسے لکھنے والے کے بارے میں کی جا رہی ہو جو بیک وقت اپنی ذات اور شخصیت کی بے شمار پہچانیں رکھتا ہو۔ وہ ناول نگار ہو، کہانی کار ہو، ڈرامے لکھتا ہو، ڈراموں میں کام کرتا رہا ہو، ٹیلی ویژن کے صاحب طرز میزبان کی حیثیت ہو جس کی۔ وہ کالم نگار ہو اور دنیا بھر میں دنیا اسے صاحب اسلوب سفرنامہ نگار کی حیثیت سے جانتی ہو۔ جس کی کہانیوں اور ناولوں میں دیگر دنیاﺅں کے ساتھ ساتھ ، پنجاب سانس لیتا دکھائی دیتا ہو۔ پورے کا پورا، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ۔ میں مگر جس مستنصر حسین تارڑ کو جانتا ہوں اس نے ساٹھ سے اوپر کچھ کتابوں میں کچھ ایسی ناولیں، کچھ ایسی کہانیاں تخلیق کی ہیں جو اپنے موضوعات، زبان، اسلوب اور تکنیک کے اعتبار سے امر ہیں اور امر رہیں گی۔ وہ ”پکھیرو“ کا مصنف ہے۔ اس نے ”پیار کا پہلا شہر“ تخلیق کیا ہے۔ اس نے ” فاختہ“ جیسی لازوال کہانی او ر ’بہاﺅ‘ جیسا باکمال ناول لکھا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والا اس کا افسانوی مجموعہ ’پندرہ کہانیاں‘ میں اس نے معاصر آشوب کو دہشت گردی، وحشت و بربریت اور اس دیس کے فنکار کی بے بسی کے تناظر میں کمال ہنرمندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یکم مارچ 1939 ءکو پیدا ہونے والے اس 77 سالہ ’جواں سال‘ لکھنے والے اس فنکار کے ساتھ پچھلے ہفتے لاہور میں دو اہم اور عمدہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان کے 77 سالہ یوم پیدائش پر منعقد ہونے والی ان تقریبات میں سمجھو لاہور کا لاہور امڈ آیا اور لاہورہی نہیں فیصل آباد اور اسلام آباد سے بھی ’تکیہ تارڑ‘ کے نمائندگان موجود تھے۔ یہ ’تکیہ تارڑ‘ بھی عجیب خوبصورت اصطلاح ہے۔ دنیا بھر میں تارڑ سے منسلک یہ ’تکیے‘ قائم ہیں جن میں گاہے بگاہے شریک ہونے والے تارڑ صاحب کے قارئین، ان کی کتابیں پڑھتے، کتابوں کے
حوالے سے گفتگو کرتے اور ’تارڑ شناسی‘ کا جتن کرتے ہیں۔
تارڑ صاحب کے حوالے سے منعقدہ پہلی تقریب میں کہ جس کا اہتمام اکادمی ادیبات پاکستان لاہور شاخ نے کیا تھا۔ ادباءو شعرا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کہنا چاہیے کہ ہال، مقررین ، سامعین اور قارئین سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ تقریب میں شرکت کے لیے پروفیسر ڈاکٹر قاسم بگھیو خاص طور پر اسلام آباد سے آئے۔ میزبانی کے فرائض محمد عاصم بٹ نے کمال خوبی کے ساتھ نباہے۔ محمد عاصم بٹ نے کم و بیش تارڑ صاحب کا سارا کام پڑھ رکھا ہے اور کبھی کبھار باغ جناح کی روشوں پر چلتے، اندرون لاہور کی بھول بھلیوں میں گھومتے پھرتے، اس شہر بے مثال کے گلی کوچوں میں ’چہلتے پہلتے‘ ہم تارڑ کے فکشن خاص طور پر ناولوں اور کہانیوں کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ mustansarتارڑ صاحب نے زندگی اسی طرح جی ہے جیسے کہ ایک لکھنے والے کو جینی چاہیے اور انہو ںنے زندگی کے بارے میں لکھا ہے جیسا کہ ایک لکھنے والے کو لکھنا چاہیے۔ یقینا ان کا شمار ایسے لکھنے والوں میں ہوتا ہے جو بہت زیادہ لکھتے ہیں لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے وہ پڑھتے ہیں اور بہت زیادہ پڑھتے ہیں۔ اس بات کا اظہار ان کے کالموں سے بھی ہوتا رہتا ہے جو وہ اپنے زیر مطالعہ ادیبوں کے بارے میں اکثر و بیشتر لکھتے رہتے ہیں۔ ماضی قریب میں انہوں نے یشار کمال اور حان پامک، مورا کامی، جوزمے سارا میگو اور بعض دوسرے بین الاقوامی فکشن نگاروں کو پڑھا اور جستہ جستہ اپنے پڑھنے والوں سے بھی ان کا تعارف کروایا۔ یہ ایک بڑے لکھنے والے کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف دنیا بھر میں لکھے جانے والے عظیم فکشن سے آگاہ رہتا ہے۔ اس کی عظمت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا اعتراف بھی کرتا ہے۔
اکادمی کی جانب سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں آمنہ مفتی، نیلم احمد بشیر، سلمیٰ اعوان، قاضی جاوید، پروین ملک اور تبسم کاشمیری نے تارڑ صاحب کے فن اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی۔ تارڑ صاحب سے مکالمے کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنے حوالے سے اور اپنے ناولوں ، سفرناموں اور کہانیوں کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی۔ تقریب میں سلیم سہیل، صائمہ ارم،انجم قریشی، زاہد مسعود، رخشندہ نوید سمیت بے شمار خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ کہنا چاہیے کہ لاہور شہر کی چند یادگار تقریبات میں سے ایک
تقریب یہ تھی۔
یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، جوہر ٹاﺅن نے گزشتہ آٹھ ماہ سے ادبی تقریبات کا اہتمام کر رکھا ہے۔ ہر تقریب مہینے کی پہلی اتوار کی صبح یونیورسٹی کے کھلے لان میں منعقد کی جاتی ہے جس میں لاہور اور بیرون لاہور سے ادیب، شاعر کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ اکثر تقریبات میں صہیب حسن مراد صاحب خود شریک ہوتے ہیں ورنہ انتظامی معاملات نمٹانے کے لیے مرزا صاحب اور احمد سہیل ہمہ وقت مہمانوں کی خدمت اور رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس اتوار یعنی 3اپریل کی صبح مستنصر حسین تارڑ، کے حوالے سے مختص تھی جس میں ایک مثبت اور خوبصورت بات ان طلبا کی کثیر تعداد میں شرکت تھی جو تارڑ صاحب کی شخصیت اور ان کی کتابوں سے محبت رکھتے ہیں۔ یہاں شریک بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں تارڑ صاحب کی کتابیں نظر آئیں۔ ابتدا میں عمرانہ مشتاق نے تارڑ صاحب کے حوالے سے ایک بھرپور تعارفیہ پیش کیا۔ بعد ازاں محمد عاصم بٹ اور آمنہ مفتی نے تارڑ صاحب کے ساتھ بھرپور ڈائیلاگ کیا۔ تارڑ صاحب نے بذات خودیہاں تفصیلی گفتگو کی۔ اپنے خاندان، نام اور کام کے حوالے سے بعض ایسے گوشے بھی وا ہوئے جو ان کے پڑھنے اور جاننے والوں سے پوشیدہ تھے۔ خاص طور پر ان کی دادی کا ”مستنصر“ نام یاد کرنے کے لیے تسبیح کے دانوں پر ورد کرتے رہنا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی دادی ان کا نام ’لال دین‘ رکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی برملا اعتراف کیا کہ آج انہیں جو یہ بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے اس کے پیچھے دادی کے ان کے نام کو یاد کرنے کے لیے وظیفے کو گہرا عمل دخل ہے۔
خود میرے مستنصر حسین تارڑ ، کی ذات، فن اور کام سے شناسائی کے تین مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پاک ٹی ہاﺅس آتا ہے ۔ جہاں میرا یہ پسندیدہ ادیب کبھی کبھار آتا اور آکر اسرار زیدی صاحب کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ اپنے نئے کام کے حوالے سے باتیں کرتا۔ ایک آدھ بار اس نے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں اپنے ناول کے کچھ حصے بھی پڑھے۔ خاص طور پر ’راکھ‘ کے ایک حصے پر ہونے والی گفتگو مجھے یاد ہے۔ انہی دنوں میں ان کا ناول (یعنی کچھ برس ہی قبل)’بہاﺅ‘ چھپ کر سامنے آیا تو پڑھنے والوں نے نہ صرف اس کا کھلے ہاتھوں استقبال کیا بلکہ اس کے موضوع، ہزاروں برس پرانی سرسوتی اور گھاگھرا ندی کی تہذیب اور اس کو فنکارانہ انداز سے گوندھنے کے عمل میں تارڑ، ایک منفرد ادیب کے طور پر سامنے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’بہاﺅ‘ اردو فکشن کی دنیا میں ایک یکسر منفرد ناول ہے جس پر ابھی بات ہونا باقی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں، کوئی وقت جاتا ہے کہ یہ ناول ہماری ادبی دنیا میں پرانے تہذیبی عمل کی دریافت کے طور پر سامنے آئے گا۔ تب ہمیں تارڑ mustan1کی فنکارانہ اور ہنرمندانہ شخصیت سے بھی آگہی حاصل ہو گی۔
ان کی ذات کو جاننے کا دوسرا مرحلہ 2000 ءکے ابتدائی برسوں میں ہوا جب ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں ساﺅتھ ایشین لینگوجزکی پروفیسر ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ نے پاکستان کے سیاسی، سماجی، تہذیبی حالات کو جاننے کے لیے تین ناولوں کا مطالعہ پیش کیا۔ ان میں راکھ (مستنصر حسین تارڑ) دل بھٹکے گا (احمد بشیر) اور عشق کے مارے ہوئے (زاہد حسن) شامل تھے۔ تب تک تارڑ صاحب سے ذاتی شناسائی حاصل ہو چکی تھی۔ وہ میرا متذکرہ ناول پڑھ چکے تھے اور اس کے لیے تعریفی کلمات بھی ان سے سن چکا تھا۔ تب میں نے ان کے کام کو ایک بار پھر سے پڑھنے کا آغاز کیا۔ ان کے ناولوں اور کہانیوں میں ’پنجاب‘ کی بھرپور تصویر دیکھ کر ان سے ایک نیا ناول پنجابی میں لکھنے کی خواہش کا بارہا اظہار بھی کیا جو ابھی تشنہ تعبیر ہے۔ تاہم اس ضمن میں ، میں تاحال مایوسی کا شکار نہیں ہوا ہوں۔ یقینا ’پکھیرو‘ جیسے خوبصورت اور منفرد موضوع کے حامل ناول کی طرح پنجابی میں ان کی کچھ اور کہانیاں اور ناول ضرور شائع ہوں گے…. ان کی ذات سے شناسائی کا تیسرا مرحلہ وہ ہے جو ’ریڈنگز‘ کے کافی ہاﺅس، میں گزشتہ کئی برس سے جاری ہے۔ جہاں محمد سلیم الرحمن، ریاض احمد، محمد انوار ناصر، ذوالفقار احمد تابش ، راﺅ صاحب، محمود الحسن، رفاقت علی شاہد، عمیر غنی، سلیم سہیل، مشتاق صوفی، طاہر بخاری، ثقلین شوکت اور دیگر بے شمار دوستوں کی رفاقت ہمیں میسر ہے۔ پچھلے ایک دو برس اس بیٹھک پر بھاری گزرے ہیں۔ کبھی کبھار تشریف لانے والے محمد کاظم صاحب وفات پا گئے۔ شاہد حمید صاحب بیماری کے سبب نہیں آرہے۔ تارڑ صاحب بذات خود ایک نہایت سنجیدہ نوعیت کے آپریشن سے گزرے۔ اس دوران اس قدر کمزور ہو گئے کہ چلنا دوبھر ہو گیا۔ پھراب کچھ عرصہ سے ڈیفنس منتقل ہو جانے کے باعث اب بہت کم آتے ہیں۔ تاہم پچھلے ہی کچھ عرصے میں آنے والا ان کا افسانوی مجموعہ مسلسل زیر بحث رہا ہے جس کے حوالے سے محمد سلیم الرحمن نہایت جامع اور مبسوط تبصرہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے لکھا ہے۔
”مستنصر کے افسانوں کا ایک مجموعہ پہلے شائع ہو چکا ہے۔ اس مجموعے کا ایک افسانہ ”بابا بگلوس“ آج بھی یاد آتا ہے لیکن یہ پندرہ افسانے جو اس نے حال ہی میں کتابی صورت میں مجتمع کر دیے ہیں۔ ان کی شان کچھ اور ہے۔ شاید لکھنے والے نے سوچھا کہ ناولوں کی بھول بھلیاں میں چاہنے والوں کو بہتیری چک پھیریاں کھلا دیں۔ اب چھوٹے چھوٹے، ہوادار، کشادگی کا احساس دلانے والے مکان بھی بنانے چاہئیں تاکہ قاری چین کی سانس لے سکے۔ اس مجموعے میں چند گھر ایسے ہیں جن میں اگر آپ قیام کریں اور کھلے دروازوں اور دریچوں سے ہوا کو بے نیازی سے آتے جاتے محسوس کر سکیں تو شاید کبھی ان سے باہر نہ آنا چاہئیں۔ مصنف بھی ایک طرح کا معمار ہوتا ہے اور اگر وہ ایسی عمارت کھڑی کر دے جو خوش نما بھی اور مزاج دار بھی تو اور کیا درکار ہے“۔
درست فرمایا محمد سلیم الرحمن صاحب نے ، تارڑ صاحب، آج بھی اسی لگن، دھن اور سج دھج کے ساتھ تخلیق کی جانی، انجانی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اب انہوں نے لاہور، پنجاب اور دیگر تاریخی علاقوں کے بارے میں لکھنے کا آغاز کر دیا ہے۔ ہماری دعا ہے وہ اسے بخیر و خوبی مکمل کریں۔ ان کی صحت و سلامتی کے لیے ہماری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments