پاکستانی محبوبائیں


Muhammad-Ishfaqسابقہ مضمون (پاکستانی عاشق) پہ حضرات کے نالہ و شیون کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کی دلجوئی و اشک شوئی کیلئے ان کی محبوباؤں کی تحلیلِ نفسی پیشِ خدمت ہے۔ گزشتہ مضمون کی اشاعت کے بعد فدوی کو جتنی خواتین کی فرینڈز ریکویسٹس موصول ہوئیں، اس مضمون کے بعد ان سب نے اس احقر کو بلاک کر دینا ہے مگر یاروں کیلئے یہ قربانی بھی منظور ہے۔

(1) جونکیں:

جونکیں آپ کا جذباتی، مالی، ذہنی ہر طرح کا استحصال کرتی ہیں مگر اس خوبی اور صفائی سے کہ عاشق بیچارا اسے ان کی محبت سمجھتا رہتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس طبقے کی محبوباؤں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ اپنے ساتھ ایک تکلیف دہ ماضی لے کر آتی ہیں۔ ابا کی وفات یا دوسری شادی، اماں کی فوتگی یا طویل بیماری، منگنی یا نکاح کا ٹوٹنا وغیرہ وغیرہ۔ کوئی نہ کوئی حقیقی یا تصوراتی دکھ لئے یہ آنسو بہاتی رہتی ہیں اور آپ سے اپنی تمام محرومیوں کا ازالہ چاہتی ہیں۔ ہر روز، ہر موقعہ پر، ہر جگہ یہ آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ کی ذاتی زندگی آپ کی ذاتی نہیں رہتی۔ انہیں اپنے ایک ایک لمحے کی خبر آپ کو دینا پڑتی ہے۔ ٹیکسٹرا، واٹس ایپ، وائبر، ٹوئٹر یا فیس بک آپ کی کوئی شناخت ان سے چھپی نہیں رہتی۔ آپ کا کوئی دوست، دشمن، باس، کولیگ ایسا نہیں ہوتا جس سے یہ واقف نہ ہوں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے بالآخر جب عاشق ان کی رفاقت میں اپنا دم گھٹتا محسوس کرتا ہے،کیونکہ یہ اپنے محبوب کے گلے گلے تک آجاتی ہیں۔ ان کا اور شارکوں کا طریقہ واردات ایک سا ہوتا ہے اس لئے اس کا ذکر آگے آئے گا۔ ان کی ٹیگ لائن ہوتی ہے۔” جانو میں آپ کے بنا اک پل بھی نہیں رہ سکتی۔”

(2) شارکس:
جونکیں اگر پیکرِ تسلیم و رضا ہوتی ہیں یا کم از کم ایسا ظاہر کرتی ہیں، تو شارکس control freak ہوا کرتی ہیں۔ یہ اپنے عاشق کو ٹینٹوے سے پکڑ کر رکھتی ہیں۔ (ٹینٹوا سے مراد حلقوم، غلط معنی اخذ کر کے گناہگار مت ہوں)۔ ہماری پنجابی میں کہتے ہیں کہ جو ماؤں سے زیادہ پیار جتائے وہ ڈائن ہوا کرتی ہے اور یہ ڈائن ہی ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کی تمام تر سرگرمیوں سے آگاہی چاہتی ہیں بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر یہ آپ کی تمام تر سرگرمیوں کو اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق ڈھالنا بھی چاہتی ہیں۔ آپ کے وسائل، آپ کے وقت، آپ کی توجہ، آپ کی محبتوں کا مرکز صرف اور صرف ان کی ذات ہونی چاہئے۔ انگریز دوست انہیں Bit*h type کہتے ہیں اور شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ ان کا اور جونکوں کا موڈس آپرینڈی البتہ یکساں ہوا کرتا ہے، دونوں مظلومیت کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔ جونک اگر آپ کی جانب سے کسی بھی بات پہ انکار سن کر ایک سرد آہ بھرے گی اور ڈبڈبائی آنکھوں سے آپ کو دیکھتی رہ جائے گی، تو شارک انکار سن کر ایک طوفان اٹھا دے گی، یہ ایک سیکنڈ کے نوٹس پہ اتنا ہسٹیریا دکھا سکتی ہیں جتنا آپ نے کسی انڈین سوپ کی نو سو اقساط میں بھی نہ دیکھا ہو۔ ارتقاء کے مدارج میں یہ دونوں الگ الگ نوع سے تعلق رکھتی ہیں مگر جونک شارک بننے کی اور شارک جونک میں ڈھل جانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہیں۔ ” آپ ایسا نہیں کرسکتے…” یہ ان کی ٹیگ لائن ہوا کرتی ہے۔

(3) اجتماعی محبوبہ:
ہر محلے میں ایک آدھ ایسی نیکدل عفیفہ پائی جاتی ہے اور اس کا وجود ناکام عاشقوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ انکار کا لفظ ان کی سرشت میں نہیں، آپ ان سے دس برس چھوٹے ہوں، یا بیس برس بڑے، گورے ہوں یا کالے، نیک یا بد، کسی ولیء کامل کی طرح ان کا در ہر ایک کیلئے کھلا ہوتا ہے۔ البتہ یہ وفاداری بشرطِ استواری کی قائل ہوتی ہیں، اور آپ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ پچاس کے ایزی لوڈ پہ آپ کو فارورڈڈ میسج ملتے ہیں تو جناح پارک میں ڈیٹ پر آپ ایک عدد پپی کی توقع بھی رکھ سکتے ہیں۔ عید، شب براءت پہ اگر آپ ان کو یاد رکھیں گے تو یہ بھی اپنے بزی شیڈول میں سے آپ کیلئے گنجائش نکالتی رہیں گی۔ ان کی سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ یہ واقعی، سچ میں دل کی بہت اچھی ہوتی ہیں۔ ایسا بہت دیکھا ہے اور اسے سمجھ نہیں پایا کہ محلے کی سب سے فلرٹ لڑکی ہی عموما محلے کی سب سے نیک لڑکی ہوا کرتی ہے جو بڑی بوڑھیوں کے کام آتی ہے، بزرگوں کی عزت کرتی ہے، چھوٹوں سے پیار کرتی ہے۔ سب کو ان کی حرکتوں کا پتہ ہوتا ہے مگر ان کی ہم عمر لڑکیوں کے علاوہ کوئی اور انہیں ناپسند نہیں کرتا۔ پتہ نہیں ایسا کیوں ہے؟ ان کی ٹیگ لائن ہوتی ہے….”ہم صرف اچھے دوست ہیں۔”

(4) مذہبی محبوبہ:
الھدٰی کی کامیابی اور اس کی دیکھا دیکھی کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے بے شمار مدارس للبنات کی بدولت اب یہ وکھری ٹائپ بھی اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کا دین پہ عبور اور جس ذوق و شوق سے یہ اس پہ عمل پیرا ہوتی ہیں وہ آپ کو بہت متاثر کرتا ہے۔ اخلاص اپنی ہر شکل میں انسانوں کو متاثر کرتا ہے مگر جب یہ آپ کے سینے پہ سر ٹکائے رام لیلا دیکھتے ہوئے آپ کو پردے کے فوائد اور غضِ بصر کی فضیلتوں سے آگاہ فرماتی ہیں تو آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ انہیں کیا جواب دیا جائے۔ یہ محبت ناکام ہونے پہ زیادہ ٹینشن نہیں لیتی ہیں کیونکہ ان کی ٹیگ لائن ہے…..”ہر چیز من جانب اللہ ہے۔” گڈ فار دیم اینڈ گڈ فار یو ٹُو۔

(5) دلیر محبوبہ:
محبوباؤں کا یہ سلطان راہی ایڈیشن بہت خطرناک ہوتا ہے۔ ان سے اظہارِ محبت کر کے آپ بہت سے خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں کیونکہ یہ پیار کیا تو ڈرنا کیا کی قائل ہوتی ہیں۔ یہ سرِراہ آپ کو روک کر کال اٹینڈ نہ کرنے کا شکوہ کریں گی۔ اپنے ابا کے آفس کے سامنے والے پارک میں آپ کو ملنے کیلئے بلائیں گی۔ آپ کے ابا سے آپ کی خیر خیریت دریافت کریں گی۔ آپ سے سرِ عام بے تکلفی کا مظاہرہ کریں گی اور پھر آپ کی بوکھلاہٹ سے محظوظ ہوں گی۔ ان کی ٹیگ لائن ہے… میں تمہیں پانے کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہوں…کچھ بھی۔ اور یقین کیجئے یہ سچ ہے۔

(6) چھوئی موئی:
یہ بلاوجہ اور بے موقع شرماتی رہتی ہیں۔ آپ کے نارمل سے کمپلیمنٹ سے بھی وہ خطرناک نتائج اخذ کرتی ہیں جو آپ کے تصور میں بھی نہیں ہوتے۔ یہ ہر وقت سمجھتی ہیں کہ آپ ان کی عزت کے درپے ہیں۔ یہ شک ہے یا آرزو…. یہ آپ کبھی سمجھ نہیں پاتے، مگر آپ سے ملنا یہ ترک نہیں کرتیں۔ بس یہ کہ آپ انہیں ملنے کیلئے پبلک پارک میں بھی بلائیں تو یہ ازاربند کو دس گرہیں لگا کر آتی ہیں۔ “اللہ….کیا کرتے ہیں” ان کی ٹیگ لائن ہے۔

(7) ان چھوئی:
یہ آپ کو اپنی عفت و پاکیزگی کا اتنا یقین دلاتی ہیں کہ آپ کو خواہ مخواہ ہی شک ہونے لگتا ہے۔ آپ ان کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو یہ کہتی ہیں آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا، آپ انہیں سینے سے لگا لیں تو بھی یہی سننے کو ملتا ہے۔ آپ جیسے جیسے جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے چلے جائیں یہ ویسے ویسے سپردگی کا مظاہرہ کرتی چلی جاتی ہیں اور آخر میں کہتی ہیں تم نے مجھے برباد کر دیا۔ اخبارِ جہاں کا لافانی سلسلہ تین عورتیں تین کہانیاں ایسی ہی خواتین کے دم قدم سے چل رہا ہے۔ ان کی ٹیگ لائن ہوتی ہے۔ “مجھے ہوش آیا تو میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی تھی۔” مسئلہ فقط یہ کہ انہیں ہوش ہر بار سب کچھ گنوانے کے بعد ہی آتا ہے۔

(8) عشقِ ممنوع:
یہ وہ شادی شدہ خواتین ہیں جنہیں چھ بچوں کے بعد بھی سچے پیار کی تلاش رہتی ہے۔ اور ان کی تعداد میں خوفناک حد تک تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے ہر فعل کا ہم میں سے ہر ایک جواز گھڑ لیتا ہے۔ ان کے پاس بھی بہت سے جواز ہوتے ہیں۔ ایک بار قاری صاحب نے ایک خاتون کی پوسٹ شئیر کی جن کا فرمانا تھا کہ اگر ہم یعنی شادی شدہ خواتین کسی کا دل رکھنے کو اس سے پیار محبت کی باتیں کر لیا کریں تو امید ہے اللہ پاک اس کا اجر دے گا۔ ان کی یہ نیکی بالآخر ایک دن ان کا گھر اجاڑ دیتی ہے۔ “مجھے صرف تمہارا پیار چاہئے” یہ ان کا نعرہ مستانہ ہوا کرتا ہے۔
اس نوع کے خواتین و حضرات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ شادی کو پارٹ ٹائم کمٹمنٹ سمجھتے ہیں۔ مردوں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی بچوں کے اخراجات پورے کر رہے ہیں، گھر چلا رہے ہیں ان کی فرمائشیں پوری کر رہے ہیں اس لئے انہیں باہر ہر طرح کی چَول مارنا روا ہے۔ خواتین بھی صدقِ دل سے یہی سمجھتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کے بچے سنبھال رہی ہیں، اس کا گھر چلا رہی ہیں، اس کے ازدواجی حقوق اسے دے رہی ہیں اور اسے کیا چاہئے۔ نتیجہ یہ کہ خاندان کے خاندان اجڑ رہے ہیں اور یہ خواتین و حضرات نیکیاں کمانے میں مصروف ہیں۔ عاشقوں اور محبوباؤں کی سب سے گھٹیا ترین قسم یہی ہے۔ اگر آپ شادی کو لائف لانگ کمٹمنٹ نہیں سمجھتے تو بہتر ہے کہ سنگل ہی رہئے۔


Comments

FB Login Required - comments