پاناما دستاویزات۔۔ عالمی لیڈروں کی بدعنوانی


mujahid ali

عالمی صحافیوں کا ایک گروپ پاناما کی ایک لا فرم موزیک فونسیکا کی 11ملین کے لگ بھگ دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے ۔ ان دستاویزات کو پاناما پیپرز کا نام دیا گیا ہے۔ ابھی تک جو معلومات سامنے آئی ہیں ان میں دنیا کے کئی بااختیار حکمرانوں، سابق سربراہان مملکت یا حکومت اور ان کے خاندانوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں دیگر لوگوں کے علاوہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے تین بچوں مریم ، حسن اور حسین کا نام بھی شامل ہے ۔ یہ تینوں مبینہ طور پر کئی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جو کروڑوں ڈالر کا لین دین کرنے میں ملوث ہیں۔ حسین نواز نے کوئی بھی ناجائز کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم دنیا کے ایک سو سے زائد میڈیا ہاؤسز کے 300 صحافی ان دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔

پاناما کی لا فرم کے ذریعے جو دستاویزات سامنے لائی گئی ہیں ، ان کی تعداد وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی دستاویزات سے بھی ذیادہ ہے۔ یہ ڈاکومنٹس سب سے پہلے جرمن اخبار سودیشے زیتنگ SUDDEUTSCHE ZEITUNG کوحاصل ہوئے تھے۔ تاہم دستاویزات کی تعداد اور ان میں شامل معلومات کے پیش نظر دنیا کے ایک سو کے لگ بھگ میڈیا ہاؤسز نے مل کر ایک انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس ICIJ قائم کیا ہے ، جس میں اس وقت تین سو صحافی ان دستاویزات کا جائزہ لینے اور معلومات سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ دستا ویزات پاناما کی ایک ایڈووکیٹ فرم موزیک فونسیکا MOSSACK FONSECAکے گزشتہ چالیس سالہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ کمپنی بیرون ملک افراد اور کمپنیوں کو آف شور کمپنیاں قائم کرنے ، کالے دھن کو سفید کرنے اور ٹیکس چوری کرنے میں مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ تاہم دستاویزات سامنے آنے کے بعد کمپنی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ وہ کبھی کسی غیر قانونی دھندے میں ملوث نہیں رہے۔

panama-papers

آف شور بزنس کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ کوئی آف شور کمپنی قائم کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ اس کے مالکان کسی غیر قانونی دھندے میں ملوث ہیں۔ تاہم عام طور سے دنیا کے سرمایہ دار اور غیر قانونی دولت کمانے والے حکمران ایسی کمپنیوں کے ذریعے اپنے کالے دھن کوچھپانے اور ٹیکس چوری کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔

دنیا کے ایک سو سے زائد میڈیا ہاؤسز نے ایک کروڑسے زائد دستاویزات کا جائزہ لینے کے لئے 300 صحافی متعین کئے ہیں۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں ، ہفتوں اور مہینوں میں عالمی لیڈروں کی غیر قانونی اور ناجائز حرکتوں اور مالی بدعنوانیوں کے بارے میں متعدد معلومات سامنے آئیں گی۔ اس وقت تک جن لوگوں کا نام سامنے آیا ہے، ان میں نواز شریف کے تین بچوں کے علاوہ، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، سعودی بادشاہ، سابق مصری آمر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی، شام کے صدر بشارالاسد ، روس کے صدر پیوٹن کے معاونین اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اہل خاندان کا نام بھی شامل ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali