منظور پشتین۔۔۔ پختونوں کا جوشویا وانگ


کچھ تین ہفتے پہلے ہانگ کانگ کے اکیس سالہ جوشویا وانگ کو امریکہ کی کانگریس نے نوبل امن پرائز کے لئے نامزد کیا۔ اس سے پہلے کہ قارئین کو انسانی حقوق کے دنیا میں سب سے معتبر انعام کے لئے اکیس سالہ جوشویا وانگ کی نامزدگی کی وجوہات بتائی جائیں، کچھ پسِ منظر جان لینا ضروری ہے۔

ہانگ کانگ دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ملک ہے جسے سب سے آخر میں برطانوی سامراج سے آزادی ملی اور اسے برطانیہ اور چین کے مابین “سینو-برٹش جوائنٹ ڈکلئیر یشن“ کے تحت 1997 میں چین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب “ایک ریاست، دو نظام” کے تحت ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے ، جہاں ہر سال جمہوری طریقے سے انتخابات ہوتے ہیں مگر جمہوری انتخابات صرف ان امیدواروں کے درمیان ہوتے ہیں جنہیں چینی سرکار خود نامزد کرتی ہے جو ہانگ کانگ کے مقامی باشندوں کے مطابق جمہوری اصولوں کے برخلاف ہے ۔چونکہ 1997 کے معاہدے کے مطابق دفاعی امور اور خارجہ امور کے علاوہ ہانگ کانگ کو اپنے سیاسی فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ہے تو اس واسطے چینی سرکار کا ہانگ کانگ کے لئے صدارتی امیدواروں کو نامزد کرنا نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بے توقیری بھی۔

26 ستمبر 2014 کو معاملات اس وقت سنگین ہوئے جب ہانگ کانگ کی مختلف جامعات کے چند ہزار طلبا نے جوشویا وانگ کی پیشوائی میں، جس کی عمر اس وقت محض سترہ برس تھی ،چینی سرکار کے خلاف تحریکِ سول نافرمانی کا آغاز کیا۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ چینی سرکار 1997 کے معاہدے کے مطابق انھیں عالمگیر متادکار (Universal Suffrage) یعنی چینی سرکار ہانگ کانگرز کو ووٹ کے ذریعے اپنا صدارتی امیدوار خود نامزد کرنے کی مکمل آزادی دے اور ان کے سیاسی اور معاشی نظام میں اپنی مداخلت بند کرے کیونکہ ہانگ کانگ دنیا کا سب سے زیادہ آزاد اور سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا حامل ملک ہے جبکہ چین ایک سوشلسٹ سٹیٹ ہے اور یوں وہاں “ایک ریاست ، دو نظام‘‘ کا چلنا نا ممکن ہے۔ پہلے تو چینی سرکار کے کان پر جوں تک نہ پھری اور انہوں نے پر امن احتجاج کو طاقت کے زور پر مسلنے کی کوشش کی مگر تب چینی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے جب بیس ہزار طلبا نے ہانگ کانگ کے مشہور سِوک سکوائر ( Civil Square) پر قبضہ کرنے اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔

چینی سرکار نے اپنے پاؤں پہ خود وار تب کیا جب پولیس نے سترہ سالہ جوشویا وانگ کو گرفتار کیا۔ ہانگ کانگ کے ایک ایک سکول اور ایک ایک یونیورسٹی سے بچہ بچہ سِوک سکوائر جمع ہوا۔ بڑھتے برھتے طلبا مظاہرین کی تعداد بیس ہزار سے ایک لاکھ تک جا پہنچی جس نے چینی حکومت کو جوشویا کو رہا کرنے پر مجبور کردیا۔ رہا ہوتے ہی جوشویا نے تب تک دھرنا دینے کا اعلان کر دیا جب تک چینی سرکار اس بات کی اجازت نہ دے کہ ہانگ کانگ کو ووٹ کے ذریعے اپنے صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ دھرنا 79 دن تک جاری رہا ۔ ایک لاکھ لڑکوں نے دنیا کے سب سے بڑے معاشی مرکز کو مکمل سیل کر کے رکھ دیا۔ شروع میں چائنا اور ہانگ کانگ کے کسی بھی میڈیا نے کوئی کوریج نہ دی مگر بات جب سوشل میڈیا تک پہنچی تو دنیا کے کونے کونے سے میڈیا جوشیویا وانگ کی آواز بنا۔ جوشویا نے پوری دنیا کے سامنے چین سے ہانگ کانگ کی مکمل خود مختاری اورجمہوری آزادی کا حق مانگا، ہانگ کانگ کی توجہ ان کے ساتھ ہونے والے جمہوری اور معاشی استحصال کی طرف دلائی۔ اس نے ہانگ گانگ کے شہریوں کو باور کرایا کہ ان کے اس چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کی بقا آزاد اور سرمایہ دارانہ معیشت کی صورت میں ہے جو چین جیسی سوشلسٹ سٹیٹ کی مداخلت میں ممکن نہیں۔ جوشویا ہانگ کانگ کے لاکھوں نوجوانوں کے لئے امید بن کے ابھرا۔ جوشویا نے اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2017 کے الیکشن میں جوشویا کی پارٹی سے ہانگ کانگ کی تاریخ کا کم عمر ترین نوجوان ہانک گانگ کے Legislature تک جاپہنچا۔ پر امن طریقے سے اپنی آواز جمہوری قدروں کے لئے بلند کرنے کے عوض امریکہ کی کانگریس نے جوشویا کو 2018 کے نوبل امن پرائز کے لئے نامزد کیا۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ نقیب اللہ محسود کا ماورائے عدالت خون بہا۔ فرعون بن کر خدا کے لہجے میں بات کرنے والے راؤ انوار نے پوری کوشش کی وطن کارڈ کی آڑ میں نقیب اللہ کو دشت گرد ثابت کرے مگر تفتیش سے پتا چلا کہ نقیب بے گناہ ہے اور صرف نقیب ہی نہیں بلکہ راؤ انوار کی بندوقیں اور بھی سینکڑوں پختونوں کے ماورائے عدالت خون سے ڈوبی ہیں۔ ستم ڈھانے والے کیا جانتے تھے کہ نقیب کا خون پختوتوں کے سارے حساب یکبار پورا کرنے کا وسیلہ بنے گا مگر اس بار وہ حساب کسی قبیلے کا کوئی مشر یا ملک نہیں لے گا بلکہ گومل یونیورینورسٹی کا نوجوان طالب علم مانگے گا اور وہ تھا منظور پشتین ۔

جوشویا اور منظور کی کہانی میں ایک بات جو مشترک ہے وہ یہ ہے کہ دونوں نوجوان ہیں۔ نہ ہی ہانگ کانگ کے باشندوں نےسوچاتھا کہ نیتھن لا، ایلکس چو اور جوشویا وانگ جیسے نوجوان کبھی ان کی شخصی آزادی کی آواز اٹھائیں گے اور نہ ہی کبھی پختوتوں نے سوچا تھا کہ وہ ایک دن دیکھیں گے جب ان کا حق کسی قبیلے کا کوئی عمائد یا مشر نہیں بلکہ سمرینہ وزیر، وحید محسود، شہریارخان، محسن داوڑ، عبدالرحمان اور منظور پشتین جیسے نوجوان مانگیں گے۔

نقیب کا قتل کراچی میں ہوا مگر منظور اور اس کے دوستوں نے پڑاؤ پنڈی کے قریب ڈالا کیونکہ منظور کے سارے شکوے تو پنڈی کے مکینوں سے تھے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ جو شکوہ منظور نے کیا وہ اس سے پہلے کرنے کی جرات کسی نے کی نہیں مگر ہر بار قبائلیوں کے سارے مطالبات سارے شکوے وطن کارڈ کے محتاج ہوجایا کرتے تھے مگر اس بار منظور نے وہ وطن کارڈ ہی پھاڑ ڈالا جس کے وجود کا ڈر منظور کے مطالبات کے درمیان حائل تھا۔ منظور نے یکے بعد دیگرے وہ ساری باتیں من وعن کہہ ڈالیں جن کی قیمت منظور کو جان کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی تھی۔ جوشویا اور منظور میں بس فرق اتنا ہے کہ جوشویا سے جب اپنے میڈیا نے بے اعتنائی برتی تو پوری دنیا کے کیمروں نے اس کی آواز کو اجاگر کیا مگر منظور اور اس کے چند پختون دوست اپنے حق کی اس لڑائی میں تن تنہا تھے جن کے پاس ہزاروں بس پختونوں اور قبائلیوں کی فریادیں تھیں۔ جو شویا کے پاس احتجاج کے لئے آخری دن تک ایک لاکھ سے زائد نوجوان تھے اور منظور کے پاس فقط پہاڑ سا حوصلہ۔

جوشویا ایک ایسے ملک کا باشندہ تھا جہاں اپنے حق کی آواز اٹھاتے وقت کسی ڈر کا خطرہ نہیں مگر منظور تو ایسے قبیلے کا فرزند تھا جسے کے آبا اس وطن کے لئے ہزاروں قربانیوں کے باوجود غدار ٹھہرے۔ کہانی راؤ انوار اور اس کے حواریوں کو گرفتار کرنے کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ پھر اس کے بعد منظور نے یکے بعد دیگرے اس ریاست اور ریاستی اداروں سے ان نشنانات کا حساب مانگا جو فوجی بارود پھٹنے کی صورت میں پختونوں کے بچوں کے گالوں پر ثبت تھے۔ معصوم پختونوں کے جسموں میں گولیاں اتار کر ان کے نام دہشت گردوں کی فہرستوں میں درج کرانے کی وجہ طلب کی۔ ان کے گھر اور چار دیواریاں پامال کرنے کا جواب مانگا۔ وطن کارڈ کی آڑ میں سینکڑوں پختونوں کو لاہور اور کراچی کے عقوبت خانوں میں قید کرنے کا حساب پوچھا۔ ریاست کے ایوانوں سے پختونوں کی شناخت اور ان کا وجود بے نام کرنے کا جواب مانگا۔ منظور کی آواز ان پختونوں کی ترجمان تھی جو مذہبی شدت پسندی اور ریاستی دہشت گردی کے درمیان پِس کر دور کہیں سسک رہی تھی۔

احتجاج کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں میں جاتی گئی۔ منظور کی آواز نے ہر قبیلے کے پختونوں کو جمع کیا۔ قبیلے، رنگ، عقیدے اور نسل کا امتیاز کم سے کم ہوتا گیا۔ حوصلہ تب بڑھا جب کچھ مفاد پرست عمائد و مشران اپنا ضمیر بیچے درمیان میں بھاگ گئے جس نے باقی مانندہ پختونوں کو تنہا کرنے کی بجائے اور متحد کردیا۔ پختونوں نے دس دن پر امن طریقے سے اسلام آباد کا بسیرا کیا اور اس تحریری وعدے کے ساتھ اٹھے کہ سرکار اور ریاستی ادارے ایک مہینے میں ان کے سارے مطالبات پورے کریں گے، راؤ انوار کو پکڑیں گے، ان کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ اٹھتے وقت بھی منظور کی آنکھوں میں پختونوں کا درد تھا اور ان کی محرمیوں کا احساس تھا اور ناامیدی بھی کہ سرکار اور ریاستی ادارے اپنی بات سے پھر جائیں گے ۔ وہی وطن کارڈ جسے منظور نے پھاڑ ڈالا تھا اسی کے بارے میجر جنرل آصف غفور نے تین دن پہلے ٹوئیٹ کیا کے اب قبائلیوں کو اس وطن کارڈ کی ضرورت نہیں اور ان کی شناخت کے لئے پاکستان کا شناختی کارڈ کافی ہے۔ یہ پختون لانگ مارچ کی پہلی جیت ہے۔ یہ سمرینہ وزیر کی جیت ہے۔ یہ محسن داوڑ کی جیت ہے۔ یہ شہریار خان کی جیت ہے۔ یہ عبدالرحمان کی جیت ہے۔ یہ وحید محسود کی جیت ہے۔ یہ گومل یونیورسٹی کے نوجوانوں کی جیت ہے۔ محسود تحفظ موومنٹ کی جیت ہے اور سب سے بڑھ کر منظور پشتین کی جیت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نعیم محی الدین کی دیگر تحریریں
نعیم محی الدین کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں