تاریخ کا آخری جنم


naseer nasirتم مجھے کہاں رکھو گی؟
دل میں، آنکھوں میں
دھنک رنگ ہونٹوں کی نیم وا قوسوں میں
دودھیا پھولوں سے بھری گھاٹیوں میں
آدھی ادھوری نظموں میں
یا کسی بےنام کہانی کے لفظوں میں؟
مَیں تمھاری نیندوں کی گزرگاہوں میں
جاگتا ہوا
صدیوں پرانا اَن دیکھا خواب ہوں
خواب ہمیشہ صدیوں پرانے ہی ہوتے ہیں
ہم گزرے زمانوں میں مِلتے ہیں
یا آنے والے وقتوں میں
حال، جس میں ہم زندہ ہیں
محض ایک قوسی پُل ہے
دو انتہاؤں کو ملاتا اور جدا کرتا ہوا
جسے پار کرتے ہوئے
ہم چلنا بھول جاتے ہیں
خواب لکھنے اور پوسٹ کرنے کا
کوئی سمے نہیں ہوتا
میں ہر عہد میں تمھاری راہ دیکھتا رہا ہوں
وقت کا ڈاکیا روز گزرتا ہے
کسی یگ، کسی جنم، کسی عمر، کسی صدی میں
تم جب بھی خود کو پوسٹ کرو گی
میں تمھیں وصول کر لوں گا
جنم دن کے تحفے کی طرح
لیکن تاریخ اور محبت کا کوئی جنم دن نہیں ہوتا
یہ تو خود دنوں کو جنم دیتی ہیں!

کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملاقات کی طلب
مہرباں لفطوں کو چھونے کی خواہش
کیا خواب میں دَم گھٹنے کی اذیت سے بہتر نہیں؟
رونا ہی برحق ہے
تو پھر آؤ
مِل کر ایک ہی بار رو لیں
سارے جنموں کا رونا
اپنے منزہ و مقدس آنسوؤں کی شبنم
میری پلکوں پر گرنے دو
مجھے اپنی آنکھوں سے رونے دو
کائنات بھی ایک آنسو ہے
خدا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
مجھے اجازت دو
میں تمھارا ہاتھ تھامے ہوئے
پل صراط سے گزرنا چاہتا ہوں
مرنے سے پہلے مر کر
خدا کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں
تم میرے اندر کا صحرا نہیں پاٹ سکتیں
میں تمھاری آنکھوں کا جنگل عبور نہیں کر سکتا
میرا سفر اتنا طویل مت کرو
کہ میں تمھارے پاس بھی رکنا بھول جاؤں
مجھے ٹھہرنے کا اذن دو!

ہم لاعلمی کی چادر اوڑھے
علم کے جوتے پہنے چل رہے ہیں
تم جانتی ہو
درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے
مجھے معلوم ہے
اسے کہاں سے تلاشنا ہے
اس گنجلتا میں
کون کہاں الجھا ہے
ہم کو پتا ہے
لیکن پاؤں کے جوتے تنگ ہو جاتے ہیں
ڈرائنگ روم میں بچھے فاصلے طے کرنے میں
عمریں کم پڑ جاتی ہیں
خود سے لپٹ کر بیٹھے
ہم اپنی اپنی اصل کو دور سے دیکھتے رہتے ہیں
محبت اور دانش میں
ایک ادھوری نظم کا فاصلہ حائل رہتا ہے!

گزرے وقتوں میں
فرمانِ شاہی سے
لوگ اپنا قبیلہ، حسب نسب بدل سکتے تھے
مجھے حکم دو
کہ میں اپنے جسم کا چوغہ بدل کر
تمھاری روح، تمھاری اصل میں شامل ہو جاؤں
مجھے ہجر میں پروانہء وصل دو
تا کہ جب کبھی میرا یہ متروک بدن
ناکردہ وفاوں کی پاداش میں قتل کیا جائے
تو میں تمھاری محبت کا فرمان دکھا کر
اپنی اصل کی امان پاؤں
اور تم خود پر رونے سے بچ سکو!!


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “تاریخ کا آخری جنم

  • 04-04-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    ڈرائنگ روم میں بچھے فاصلے طے کرنے میں
    عمریں کم پڑ جاتی ہیں
    خود سے لپٹ کر بیٹھے
    ہم اپنی اپنی اصل کو دور سے دیکھتے رہتے ہیں
    محبت اور دانش میں
    ایک ادھوری نظم کا فاصلہ حائل رہتا ہے!

    آپ سجن ہیں اپنے سر!

  • 04-04-2016 at 11:34 pm
    Permalink

    خواب ہمیشہ صدیوں پرانے ہی ہوتے ہیں

    تم میرے اندر کا صحرا نہیں پاٹ سکتیں
    میں تمہاری آنکھوں کا جنگل عبور نہیں کر سکتا

  • 05-04-2016 at 11:53 am
    Permalink

    عورت کے وجود کو کایناتی استعارہ کیسے بنایا جاسکتا ہے‘ اس کا اظہار آپ کی نظم سے بہتر کہیں نہیں دیکھا جناب

  • 05-04-2016 at 2:26 pm
    Permalink

    اپنے منزہ و مقدس آنسوؤں کی شبنم
    میری پلکوں پر گرنے دو
    مجھے اپنی آنکھوں سے رونے دو
    کائنات بھی ایک آنسو ہے
    خدا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
    مجھے اجازت دو
    میں تمھارا ہاتھ تھامے ہوئے
    پل صراط سے گزرنا چاہتا ہوں
    مرنے سے پہلے مر کر
    خدا کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں
    تم میرے اندر کا صحرا نہیں پاٹ سکتیں
    میں تمھاری آنکھوں کا جنگل عبور نہیں کر سکتا
    میرا سفر اتنا طویل مت کرو
    کہ میں تمھارے پاس بھی رکنا بھول جاؤں
    مجھے ٹھہرنے کا اذن دو!

  • 05-04-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    ہم لاعلمی کی چادر اوڑھے
    علم کے جوتے پہنے چل رہے ہیں…. کیا ہی کمال کی نظم۔۔۔۔ایک ایک سطر پر گرفت

  • 05-04-2016 at 3:40 pm
    Permalink

    کیا شاندار نطم ہے نصیر بھائی۔ آپ کی نظموں میں کچھ ایسا ہے کہ پڑھتے ہوئے میں بے چین ہو جاتا ہوں۔ نظم کےبیچوں بیچ کہیں سرسراتا ہوا درد میرے اندر اترنے لگتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ایک اور بہت عمدہ نطم۔ کیا کہنے

  • 05-04-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    ہم لاعلمی کی چادر اوڑھے
    علم کے جوتے پہنے چل رہے ہیں…. کیا ہی کمال کی نظم۔۔۔۔ایک ایک سطر پر گرفت…..

  • 05-04-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    ہم چلنا بھول جاتے ہیں
    خواب لکھنے اور پوسٹ کرنے کا
    کوئی سمے نہیں ہوتا
    میں ہر عہد میں تمھاری راہ دیکھتا رہا ہوں
    وقت کا ڈاکیا روز گزرتا ہے
    کسی یگ، کسی جنم، کسی عمر، کسی صدی میں
    تم جب بھی خود کو پوسٹ کرو گی
    میں تمھیں وصول کر لوں گا
    جنم دن کے تحفے کی طرح
    لیکن تاریخ اور محبت کا کوئی جنم دن نہیں ہوتا
    یہ تو خود دنوں کو جنم دیتی ہیں!
    واہ بہت خوب

  • 05-04-2016 at 5:08 pm
    Permalink

    نوں کو جنم دیتی ہیں!

    کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملاقات کی طلب
    مہرباں لفطوں کو چھونے کی خواہش
    کیا خواب میں دَم گھٹنے کی اذیت سے بہتر نہیں؟
    رونا ہی برحق ہے
    تو پھر آؤ
    مِل کر ایک ہی بار رو لیں
    سارے جنموں کا رونا
    اپنے منزہ و مقدس آنسوؤں کی شبنم
    میری پلکوں پر گرنے دو
    مجھے اپنی آنکھوں سے رونے دو
    کائنات بھی ایک آنسو ہے
    خدا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
    مجھے اجازت دو
    میں تمھارا ہاتھ تھامے ہوئے
    پل صراط سے گزرنا چاہتا ہوں
    مرنے سے پہلے مر کر
    خدا کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں
    تم میرے اندر کا صحرا نہیں پاٹ سکتیں
    میں تمھاری آنکھوں کا جنگل عبور نہیں کر سکتا
    میرا سفر اتنا طویل مت کرو
    کہ میں تمھارے پاس بھی رکنا بھول جاؤں
    مجھے ٹھہرنے کا اذن دو!
    بہت عمدہ

  • 20-04-2016 at 12:02 pm
    Permalink

    Khuub he Surat!

Comments are closed.