ذوالفقار علی بھٹو : یہ تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو


asif Mehmood ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی برسی پر ایک بنیادی سوال دامن گیر ہے: سوال یہ نہیں آ پ بھٹو سے مریضانہ نفرت کرتے ہیں یا مجنونانہ عقیدت رکھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ جس طریقے سے ان کی جان لی گئی کیا وہ درست، جائز اور منصفانہ طریقہ تھا؟بھٹو کے بارے میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس میں وفاق کے معاون وکیل کی حیثیت سے جو میرے مشاہدات ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

لیکن آغاز ان نفسیاتی گرہوں سے جن کے ساتھ میں جوان ہوا۔ میرا تعلق اس نسل سے ہے جسے بھٹو نفرت کا زہر فکری وراثت میں دیا گیا۔ بھٹو کا ذکر چلے تواپنے بچپن کے دن یاد آ جاتے ہیں۔ کس شرح صدر کے ساتھ ہم کندھے اچکا کر کہہ دیا کرتے تھے: بھٹو تو اسلام کا دشمن تھا۔ شاید اس لیے کہ گاﺅں میں ہمارے خاندان کے مفادات مذہبی سیاست سے وابستہ تھے۔ چنانچہ دین کی تعبیر کے جملہ حقوق ہمارے نام محفوظ تھے اور ہمارا خاندان اپنی ساری’ ہم نصابی سر گرمیوں ‘کے باوجود اس بات کا استحقاق رکھتا تھا کہ کھڑے کھڑے کسی کی بھی اسلام دوستی کا آ ملیٹ بنا دے۔ چنانچہ جب قبلہ امیر المومنین بقلم خود نے ریفرنڈم میں سوال پوچھا: اسلام چاہتے ہو؟ اور شرح یہ رکھی کہ چاہتے ہو تو پھر میں اگلے پانچ برس کے لیے نفاذ شریعت کے لیے صدر بن رہا ہوں تو مردِ مومن مردِ حق کے لیے نعرے لگا لگا کر ہمارے گلے بیٹھ گئے۔ ہمارے گاﺅں میں صرف تین ووٹ نکلے جنہوں نے مردِ مومن کی اصل واردات کو سمجھا اور کہا؛ نہیں چاہتے۔ بس پھر کیا تھا، ہم شریف سائیکلوں والے اور ڈاکٹر پھینا کی دکانوں کے آگے سے گزرتے تو نفرت سے تھوک دیتے۔ کم بختوں نے اسلام دشمنی میں حد ہی کر دی تھی۔ ہم سب راسخ العقیدہ مسلمان تھے ،تھوڑی دیر بعد منہ اٹھاتے اور چیختے: مردِ مومن مردِ حق۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج سوچتا ہوں جہالت کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ ہم کتنے آسودہ تھے۔

za-bhutto1-640x480جب میں نے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کی کلاس میں داخلہ لیا تو ملک معراج خالد یہاں کے ریکٹر تھے۔ ان کا تعلق پی پی پی سے تھا اور میں صالحین کے گاﺅں سے آیا اپنی ذات میں ایک چھوٹا سا امیر المومنین تھا۔ پہلا سوال ہی امیر المومنین صاحب نے یہ سوچا:  اسلامک یونیورسٹی میں ملک معراج خالد کا کیا کام؟میری گستاخیاں بڑھتی گئیں، خبر ملک معراج خالد تک پہنچ گئی۔ ایک روز میری طلبی ہوئی۔ شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر ایس ایم اے رﺅف نے حکم دیا جاﺅ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ جل تو جلال تو کا ورد کرتے حاضر ہوا تو یہاں کا منظر ہی اور تھا۔ چند منٹ کی ملاقات کے بعد جب میں باہر آیا تو محسوس ہوا دل وہیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ تعلق بڑھتا گیا۔ ایک شام میں اورافتخار سید ملک معراج خالد کے گھر گئے تو اندر سے قرآن کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔ ملک صاحب کے سارے احترام کے باوجود میں نے حیرت سے پوچھا: افتخار یار یہ تو مذہبی آدمی ہیں۔ افتخار نے طنزیہ کہا: امیر المومنین صاحب کسی اور کو بھی مسلمان سمجھ لیا کرو۔۔۔ ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ تب پہلی دفعہ میں نے سوچا ،جہالت کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ ہم اپنی خیالی دنیا میں کتنے آسودہ تھے۔

meraj khalidایک روز ملک معراج خالد نے مجھے ایک کتاب دی اور کہا: اسے ضرور پڑھنا۔ کتاب کا نام تھا”The Myth of Independence”۔ یہ ایک نئے بھٹو سے میرا تعارف تھا۔ اس بھٹو کو تو میں جانتا ہی نہ تھا۔ فیصل مسجد کے شمال میں ایک درخت تلے بیٹھ کر ایس ایم اے روﺅف صاحب کی کلاس بنک کر کے میں نے یہ ساری کتاب پڑھ ڈالی۔ بار بار یہ خیال آتا رہا: اگر یہ کتاب بھٹو کی ہے تو بھٹو سے نفرت کیسے کی جا سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا گاﺅں یاد آیا۔ ساتھ وہی خیال پھر آیا:جہالت کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔

شریعہ اکیڈیمی کی لائبریری کھنگالتے کھنگالتے ایک روز یہ انکشاف ہوا کہ اس ملک میں شراب پر پابندی اسی اسلام دشمن بھٹو نے لگائی تھی تو میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ایک روز میرے ہاتھ پارلیمنٹ کی وہ ساری کارروائی لگ گئی جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ پہلی بار مجھے علم ہوا یہ کام بھی بھٹو کے دور میں ہوا تھا۔ اب کے میں نے بھٹو کو اپنی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ فکری اور نظری بیساکھیاں میں نے ایک طرف پھینک دیں اور اللہ کا شکر ہے آج تک ان کا سہارا نہیں لیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ نے اعتراض کیا تو بطور وزیر اعظم پاکستان بھٹو نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی وہ ہمت حوصلہ اور ویژن کا شاہکار ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی اپوزیشن رہنما بھی اس لہجے میں امریکہ کا ذکر نہیں کر سکتا۔ اتنی جرات اور اتنا ویژن۔ احمد نوید نے ٹھیک ہی تو کہا تھا:

 کبھی تو سوچنا یہ تم نے کیا کیا لوگو

 یہ تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو

وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا اور ایک وقت آیا صدر پاکستان نے سپریم کورٹ میں بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت کے وزیرقانون ڈاکٹر بابر اعوان نے اس کیس میں مجھے بھی معاون وکیل کے طور پر منتخب کرنے کا عندیہ دیا۔ انکار کی گنجائش ہی نہ تھی ،میرا تو یہ دلچسپی کا موضوع تھا۔ بطور معاون وکیل جب میں نے اس کیس کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو حیرتوں کے جہاں مجھ پر وا ہوتے گئے۔ اتنا تو مجھے اندازہ تھا کہ بھٹو کے ساتھ نا انصافی ہوئی لیکن اس ناانصافی کا انداز اتنا شرمناک ہو گا اس کا میںنے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس جج کو بھٹو نے ترقی نہیں دی تھی وہ ناراض ہو کر رخصت پر بیرون ملک چلا جاتا ہے، اس دوران ملک میں مارشل لاء لگتا ہے۔ اسی جج کو بلا کر چیف جسٹس بنا دیا جاتا ہے۔ وہ جج نجی محفلوں میں کہتا ہے بھٹو کو چھوڑوں گا نہیں۔ بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کرتا ہے تو کہتا ہے سوچ کر ووٹ دیا کرو ورنہ تم پر بھٹو جیسے لوگ مسلط ہوتے رہیں گے۔ تعصب اور نفرت صاف عیاں ہے۔ بھٹو درخواست کرتے ہیں آپ متعصب ہیں اس لیے یہ کیس نہ سنیں، جواب آتا ہے آپ کی درخواست مل گئی پہلے کیس کا فیصلہ کر لیں پھر آپ کی درخواست کو بھی دیکھ لیں گے۔ بار بار منصب انصاف سے ارشاد ہوتا ہے تم سمجھتے کیا ہو خود کو؟ سیلن زدہ کوٹھری میں بھٹو کو سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے۔ درخواست آتی ہے سماعت ملتوی کر دی جائے، سرکاری ڈاکٹر بھی کہتا ہے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ، اس کے باوجود شنوائی نہیں ہوتی۔ جو جج بھٹو کی ضمانت لیتے ہیں ان کا وہ حشر کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے راستے ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔ جس نے شراب پر پابندی لگائی، جس نے احمدیوں کو کافر قرار دیا اسے عدالت نام کا مسلمان کہتی ہے۔ بھٹو اس پر احتجاج کرتے ہیں لیکن عدالت اپنے الفاظ پر نادم نہیں ہوتی۔ قتل کے بعد اس کی لاش کو برہنہ کر کے تصویر اتار کر ضیا الحق کو دکھائی جاتی ہے تا کہ وہ تسلی کر سکے بھٹو کافر تھا یا مسلمان۔ امیر المومنین کی تسلی تو ہوئی یا نہیں معلوم نہیں لیکن تقدیر کا جبر دیکھیے مردہ بھٹو بھی ضیاءکے ساتھ کیا کر گیا۔ بھٹو کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی ایک معمہ ہے۔ اس پر چار اپریل کی بجائے تین اپریل کی تاریخ ڈلی ہے۔ پھر ایک جگہ پر کاٹ کر کچھ ٹھیک کیا گیا ہے۔ ڈیتھ سترٹیفکیٹ پر ڈاکٹر کے دستخط ہی موجود نہیں۔ ( یہ سارا ریکارڈ میں نے برادر مکرم وجاہت مسعود کو دے دیا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں میرے پاس شاید ضائع ہو جاتا ۔ وجاہت کا علمی ذوق اسے محفوظ رکھے گا۔ وجاہت اگر بھٹو کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ شیئر کر دیں تویہ چیز ملاحظہ کی جا سکتی ہے ) یہ سب کیا کہانی بیان کر رہے ہیں؟

ہمارا المیہ یہ ہے ہم خانوں میں بٹ چکے ہیں۔ ہمارے دکھ بھی سانجھے نہیں رہے۔ ہمارے اپنے اپنے مظلوم ہیں اور ہم صرف اپنے مظلوموں پر ہونے والے ظلم کی مذ مت کرتے ہیں۔ بھٹو صرف پی پی پی کا نہیں تھا۔ اپنے مزاج کی ساری خامیوں کے باوجود وہ ایک قومی لیڈر تھا۔ وہ ہم سب کا تھا۔ دکھ صرف پی پی پی کا نہیں کہ بھٹو میرا بھی تو تھا۔ تعصب کی بات الگ ورنہ یہ برائے وزنِ بیت نہیں ایک حقیقت ہے کہ بھٹو زندہ ہوتا تو آج ہم ایک قوم ہوتے۔ شناخت کے بحران میں ٹامک ٹوئیاں نہ مار رہے ہوتے۔ شاید اسے مارا ہی اس لیے گیا تھا کہ ایک قوم پرست رہنما پرائی جنگوں کا ایندھن بننے کو تیار نہ ہوتا۔ اس کے بعد ہمارے ساتھ جو ضیاءالحقیاں ہوئیں ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

(برادر عزیز آصف محمود کی عنایت سے بھٹو کیس کے تاریخی کاغذات محفوظ کر لئے گئے ہیں۔ یہ دستاویزات قوم کی امانت ہیں۔ ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں گھر پر رکھنے کی بجائے ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کا ڈیتھ وارنٹ حسب حکم چند روز میں ہم سب کے قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔)


Comments

FB Login Required - comments

16 thoughts on “ذوالفقار علی بھٹو : یہ تم نے کس کو سر دار کھو دیا لوگو

  • 04-04-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    محترم آصف محمود صاحب نےعمدہ اصطلاح استعمال کی “مریضانہ نفرت کرتے ہیں یا مجنونانہ عقیدت رکھتے ہیں” بالکل درست بات ہے کہ کسی بھی شخصیت یا معاملہ کا جائزہ معروضی انداز میں لینا چاہئے۔
    بھٹو ایک بڑے سیاسی رہنما تھے اس میں شک کی گنجائش نہیں لیکن ایک انسان تھے ان سے بھی سیاسی غلطیاں ہوئیں۔انہی میں سے ایک احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا معاملہ بھی ہے۔اس اقدام کے نتیجے میں معاشرہ میں مذہبی تقسیم گہری ہوئی ۔تکفیریوں کا استدلا ل مضبوط ہوا۔
    سادہ بات ہے کہ ریاست کا کام نہیں ہے کہ کسی فرد کے مذہبی معتقدات پر فیصلہ کرے۔ریاست اور مذہب کو الگ ہونا چاہئے ۔احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر کیا حاصل ہوا۔؟؟؟ ضرور سوچئے۔یہ بھی کہ جس مذہبی طبقے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بھٹو صاحب نے یہ قدم اٹھایا کیا وہ مذہبی طبقہ ان سے واقعی خوش ہو گیا تھا۔تحریک نفاذ نظام مصطفے یاد کر لیں

    • 05-04-2016 at 12:51 am
      Permalink

      Mohtram, he was not Bhutto Sahib , who have declared Ahmadie nob muslims, it waz Mirza G Ahmad Sahib and his son Mirza Bashiruddin Sahib , who have declared all non ahmadys non muslims..
      U people have no knowledge about Ahmadyyat but want to hammer Bhutto Sahib.
      Pls revisit and remove personal Jahalat with knowledge.
      In parliament session Mirza Nasir uddin clearly declared non Ahmadies as a non muslim.

  • 04-04-2016 at 10:13 pm
    Permalink

    ]’’ایک روز میرے ہاتھ پارلیمنٹ کی وہ ساری کارروائی لگ گئی جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا‘‘ جناب من معذرت کے ساتھ لیکن یہ کون سا ’’کارنامہ‘‘ تھا جسے آپ بھٹو سے منسوب کررہے ہیں۔کلمہ گو کو کافر قرار دینا کسی کے عقیدہ کا فیصلہ کرنا،اسے آپ کارنامہ کہہ رہے ہیں؟یہ ایک شرمناک حرکت تھی جو تا قیامت بھٹو کے سر رہی گی

    • 05-04-2016 at 12:53 am
      Permalink

      From where u have collected that copy?
      It is classified, it must be published.
      Because this will expose the Qadiyanyat

  • 04-04-2016 at 10:31 pm
    Permalink

    احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کو جس طرح کارنامے کے طور مصنف نے بیان کیا ہے ،میرا خیال ہے یہ ایک مظلوم کمیونٹی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انصاف پسند سوچ رکھنے والے اہل قلم جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاسی فیصلہ تھا جو مولویوں کو خوش کرنے کیلیے اور عالم اسلام کی قیادت حاصل کرنے کیلیے کیا گیا تھا۔ کیا کسی پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی کے ایمان کا فیصلہ صادر کرے؟ بحثیت قانون پسند شہری احمدیوں نے اس فیصلے کو دل سے غلط سمجھتے ہوئے بھی کسی قسم کا احتجاج یا قانون شکنی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے بعد رہی سہی کثر ضیاالحق کی ترامیم نے پوری کردی،جس کے بعد احمدیوں پر ظلم بڑھ گیا،معاشرے میں ان کے خلاف نفرت پروان چڑھی اور ہر سطح پر امتیازات کا سامنا ہوا۔ یہ فیصلہ پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی طرف پہلا بڑا قدم ثابت ہوا۔

    • 05-04-2016 at 12:55 am
      Permalink

      How. They are Mazlums?
      They have aqeeda that all non Ahmadies are non muslims.

  • 04-04-2016 at 10:48 pm
    Permalink

    بھٹو صاحب ایک ذہین اور قابل لیڈر تھے،جماعت احمدیہ نے بھی انتخابات میں انکا بھرپور منظم ساتھ دیا تھا۔ان کے ساتھ ملک کے روشن خیال اور لبرل لوگ تھے(یہاں لبرل سے مراد مذہب بیزار نہیں)۔اقتدار کے بعد بھٹو نے ایک خاص طبقہ کو خوش کرنے کیلیے جس طرح اپنے منشور سے یو ٹرن لیا ،سیاسیات کا ایک ادنی طالب علم بھی اس یوٹرن کو سپورٹ نہیں کرسکتا۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں جن بنیادی اصولوں یا منشور کی بنا پر عوام سے ووٹ لیکر اسمبلی میں پہنچتی ہیں ،انہی روایات کی روشنی میں حکومتی فیصلے کرتی ہیں۔افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ جن کو خوش کرنے کیلیے یہ یوٹرن لیا گیا تھا،انہی کی وجہ سے بھٹو کی حکومت ختم ہوئی جو بعد میں ان کے غیرمنصفانہ عدالتی قتل کی وجہ بھی بنی۔ افسوس کہ ایک ایسا لیڈر جس میں صلاحتیں بھی تھیں،انقلاب کا رنگ بھی تھا وہ اپنے غلط فیصلوں اور ضیا جیسے ظالم شخص کی وجہ سے قوم سے جلدی دور ہوگیا۔

  • 05-04-2016 at 2:04 am
    Permalink

    میڈے چن دے قاتلو !
    کر گھنو پریڈ
    ذلت, رسوائی, بربادی تہاڈا مقدر ہے
    شالا برباد رہوو
    شالا نا شاد رہوو
    عزیز شاہد

  • 05-04-2016 at 2:12 am
    Permalink

    Murshid Wajahat SaiN

    Kindly make the record available in electronic format. . I would highly appreciate if you can share online. I know it is very laboring task. I can try to get some volunteers to scan all that.

  • 05-04-2016 at 4:18 am
    Permalink

    آصف محمود صاحب نے نہایت دیانت داری کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کیا ہے۔۔۔ قادیانوں کے بارے میں انہوں نے جو ذکر کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ بیشتر پاکستانی ان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں ۔( میں بذات خود پیپلز پارٹی کا بانی کارکن ہوتے ہوئے بھٹو صاحب کے اس فیصلے سے اختلاف رکھتا ہوں) لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس بات کو لے کر قادیانی حضرات جس طرح بھٹو صاحب کے تمام اچھے کاموں کی بھی نفی کرتے ہیں اسے بغض معاویہ ہی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ یہ واقعی ایک سیاسی فیصلہ تھا اوربھٹو صاحب کو اس کا بخوبی احساس بھی تھا ۔۔۔۔ ابو ظہبی میں اپنے قیام کے دوراں ان کے سابقہ ملٹری سیکریٹری امتیاز علی (جن کے ساتہ میں لگ بھگ 25 سال رہا) نے کئی بار مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب نے بارہا اس فیصلے پر تاسف کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ احمدی بھائیوں سے میری گزارش ہے کہ وہ اب اس ایشو کو موت اور زندگی کا مسلہ نہ بنائیں ۔۔ اگر وہ واقعی مسلمان ہیں تو اللہ میاں بھٹو صاحب یا حکومت کے فیصلے پر ان کو کافر نہیں قرار دے گا ۔۔ اس فیصلے سے ان کا جو نقصان ہوا اس پر ہر ذی شعور انسان کو افسوس ہے ۔۔۔ اور اس فیصلے کے بعد احمدیوں کو غیر ممالک میں جانے کے جو مواقع ملے اس پر ان کو بھٹو صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے۔۔

    • 05-04-2016 at 11:14 am
      Permalink

      جناب سعید صاحب,اس کا نہ صرف احمدیوں کو نقصان ہوا بلکہ ملک کا بیڑہ بھی غرق ہوگیا. اس فیصلہ کے بعد پاکستان وہ رہا ہی نہیں جو پاکستان ہوا کرتا تھا۔ بھٹو صاحب نے انتہا پسندی کے جن کو بوتل سے باہر نکالا تھا.اگر بھٹو کے ایک شرپسندانہ فیصلہ کے نتیجے سے اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کے لئے خیر پیدا کیا تو ہم خدا کے شکرگزار ہیں نہ کہ بھٹو کے.باقی جہاں تک بھٹو کے دیگر “کارناموں “کی بات ہے تو اس میں سے جو جو اچھے کارنامے تھے جماعت احمدیہ انکی تعریف کرتی ہے۔ اور آپ جانتے ہوں شاید کہ اس فیصلے سے قبل جماعت احمدیہ کے امام بھٹو صاحب کے ذاتی دوست تھے,مگر جب ملاں کو خوش کرنے کے لئے یہ ملک دشمن فیصلہ ہوا تب راہیں جدا ہو ئیں.

      • 05-04-2016 at 6:51 pm
        Permalink

        فیس بک پر میں نے اس آرٹیکل کو شیر کیا ہے ۔۔وہاں اس پر بہت لوگ اپنی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں ۔۔۔مناسب سمجھیں تو وہاں یہ کمنٹ پوسٹ کر دیں۔
        https://www.facebook.com/profile.php?id=100000285552187

  • 05-04-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    بھٹو ھم سب کا تھا اور ھے

  • 05-04-2016 at 3:16 pm
    Permalink

    بھـٹو صاحب نے احمدیوں کو پارلیامنٹ سے کافر قرار دلایا تو تھا لیکن یہ سب انہوں نے ان ملاؤں کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا جو بھٹو صاحب کو کہتے پھرتے تھے کہ اگلے جہاں میں آپ کی مغفرت ھوگی ـ حوروں کے جلوس میں بہت میں وارد ھوں گے آپ ـ وغیرہ وغیرہ عبدالحفیظ پیرزادہ جو بھٹو صاحب کے دست راست تھے وہ آن رکارڈ کہہ چکے ھیں کہ احمدیوں کو کافر قرار دینا سیاسی فیصلہ تھا ـ معلوم نہیں پیرزادہ یہ بات کس تناظر میں کہہ گئے تھے. اس کے بعد وھی مولوی حضرات بھٹو کے پیچھے ھاتھ دھو کر پڑ گئے ـ اور ضیاء اَلحق کو رات کو دیکھے گئے مکی ـ مدنی خواب اور بشارتیں سنانے لگ گئے ـ وھی ملا حضرات ضیاءالحق کے “پھٹنے ” کے بعد یہ کہنے لگے کہ ضیاء الحق حوروں کے جلوس میں بہشت میں داخل ھوں گے ـ میں یہ سمجھتا ھوں کہ اس ملک میں پھیلی ملائیت کا پہلا جسمانی شکار بھی بھٹو ھی تھا ـ کیونکہ ان کو “مولوی مشتاق ” نے پھانسی کا حکم سنایا تھا ـ ـ

  • 05-04-2016 at 5:43 pm
    Permalink

    بھٹو کی غلطی احمدیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوانےسے زیادہ ضیاالحق کو آرمی چیف بنانا تھا میری معلومات کے مطابق بھٹو نے ضیا الحق کو دوسرئے کئی جرنلوں کو کراس کر بنوایا تھا۔
    جس قانون کی وجہ سے احمدیوں کو کافرکہا جاتا ہے وہ ایک اصول ہے کہ مسلمان ہونے کےلئے حضرت محمد ص کو آخری نبی قرار دیا گیا ہے اور تمام مسلمانوں میں تمام ترفروعی اختلافات کے باوجود اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ ص کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے وحی کا سلسلہ بھی منقطع ہے۔اگر یہی عقیدہ احمدیوں کا ہے تو پوری دنیا مل کے بھی انہیں قرار نہیں دے سکتی اگر صورتحال اس کے برعکس ہے ساری دینا مل کے انہیں مسلمان نہیں بنا سکتی لہذا اس قانون میں برائی کیا ہے آج تک سمجھ نہیں سکا۔ تاہم آصف محمود صاحب کے اس مضموں کا حیران کن نکتہ یہ ہے کہ بھٹوکے دین کی شناخت کےلے اس کے قتل کے بعد ان کی لاش کو برہنہ کر کے تصویر اتار کر ضیا الحق کو دکھانے والی بات ہے۔ یہ کون سا اسلام تھا مزید اہم سوال یہ ہے کیا یہ بھی احمدیوں کو کافر قرار دینے کی وجہ سے ہوا تھا؟

  • 05-04-2016 at 7:33 pm
    Permalink

    No no people like me since 1967 been following him …he was a big feudal lord most people would bend before him kissing hands and touching feet was a routine and so he would never like and tolerate an iota of opposition…so many people joined his party were thrown out for asking about party election etc even president Lahore PPP Raza Kasuri became his prey when he was sitting on hunger strike in Lahore July 1969 with working Journalists who were demanding for better conditions of work and reasonable wages…When Bhutto visited the camp he addressed the striking intellectuals urging them to go back to work and try to do negotiation…people every morning wait for newspapers to know what “Bhutto has said today” and if you are striking they will become hopeless so don’t discourage people…this made Ahamd Raza Kasuri his lieutenant since Dec 1967 observe that Sir they (strikers) have exhausted all judicial avenue available to them under the Labour Law and when they are illegally fired of the job they go to Labour Court and court give verdict in their favour which Rs25 fining the owner for illegal firing of the worker which the owner instantly put before the court on table and return with a great pride that he is the owner nobody can show him down…better you support them and urge for the changes in legislations making the find Rs50,000 or more so owner will not be doing it…This angered Bhutto and he said I know ….I know international Law I went to International Courts you don’t tell me what is happening…And then he pulled out his pen from the front pocket of his Italian tailor coat started writing on a piece of paper the way newspapers owners do and handed the page to Raza Kasuri written “I Zulfiqar Ali Bhutto PPP hereby expel you Ahmed Raza Kasuri from PPP for disciplinary reasons…Raza Khan Kasuri a young advocate reading this started shouting on microphone that Bhutto has expelled me from PPP they way newspapers own fire their workers but I am the PPP Punjab President and this is my jurisdiction and do expel Bhutto from the party…Then Raza Kasuri founded his forward block in the Party and both became foe…. Later lossing East Paksitan under “Idher Hum Udher Tum” when Butto got power he was Martial Law administrator and President and PPP owner so he would do what he wished…till he becuame PM and then in Parliament Raza Kusuri became a contant opposition of Bhutto so he wanted to get rid of him …and FSF soldier instead thinking Raza Kasuri was coming in a car late in night opened fire on it killing his father …whereupon Kasuri lodged FIR balaming Bhutto the PM of Paksitan killing his father…But it was a Bhutto state now all Paksitan so nothing happened and police closed the case saying no clue of the killers was traceable…And Bhutto conitnued to rule with his traditional unique Lordship…When ziaul Haq came to take over…Now Raza Kusuri thought it better to ask the judiciary for reopening of father’s murder case where in FIR he had made Bhutto responsible…So it was done and a long judicial battle on all level of judiciary was fought that ending on sentencing Zulfiqar Ali Bhutto for the murder of Nawab Ahmad Khan Kusuri and so was Bhutto gallotinized under the law of land…Now people say Zia did it …Jimmy Carter did it …Qadyani did it …But wouldm’t say that common Law prevailed in adminstering the justice what for common people had created it….Even today on these pages great intellegensia would say all imaginary stuff who were never available at that time in the strikers camps at Regal Chowak Lahore when a young PPP worker was rebuffed by Bhutto for telling him what to do instead of worrying for the owners of newspapers so they would not balck out his news and he could stay in the limelight all the time over the suffering of the newspapers workers…It is sad to sacandaliz Judicary and Hisotry that people like this scribe witnessed in making at that very day….

Comments are closed.