ہمارا سماج  غیر تخلیقی کیوں ہے؟


zeeshan hashimہر صحت مند معاشرہ محنت ، اعتماد اور تعاون کی اساس پر قائم ہوتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ ان بنیادی اجزا سے محروم ہو جائے تو اس کا سلامت رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں استحکام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

خاکسار نے اپنے دیسی معاشرہ میں ایک عجیب مشاہدہ کیا ہے۔ ہر وہ شخص جو ترقی کے زینے چڑھ رہا ہے وہ سب سے بڑا خطرہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے محسوس کرتا ہے۔ میرے ایک قریبی رشتہ دار کی سمندر پار جاب ہوئی ہے ، اس کے والد مجھے بار بار نصیحت کر چکے ہیں کہ کسی کو بتانا نہیں ، اس طرح دشمنوں کو موقع مل جائے گا۔ میں نے بار بار پوچھا کہ جس کمپنی میں آپ کے بیٹے کی جاب ہوئی ہے اس کی انتظامیہ کو تو کوئی جانتا ہی نہیں، پھر جاب میں رکاوٹ کیسے پیدا کی جا سکتی ہے ؟ جواب ملا … آپ ان حقائق سے واقف نہیں۔

اور وہ لوگ جو ناکام ہیں یا ترقی کے زینے تلاش کر رہے ہیں ان کا شکوہ ہے کہ اب تک کی ناکامی کی بنیادی وجہ بھی ان کے قریبی رشتہ دار اور عزیز و اقارب ہیں۔

ہمارا معاشرہ ابھی تک ترقی اور محنت کے باہمی تعلق کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہم بدقسمتی سے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ معاشی سرگرمیاں دراصل روٹی چھیننے کی کسی مشق کا نام ہے۔ جن کے نوالے لذید اور زائد از ضرورت ہیں وہ اس ڈر میں مبتلا ہیں کہ کہیں کوئی ان سے یہ نوالے چھین نہ لیں۔ اور جن کے دسترخوان انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے محروم ہیں وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یقینا ان کے قریبی عزیز و اقارب ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

یوں ایک غیر فطری معرکہ آرائی جاری ہے جو ہمارے سماج کی تخلیقی و پیداواری قابلیت کو کمزور کر رہی ہے۔ دیکھئے… مقابلہ قانون فطرت ہے، قابلیت کو اعزاز ملنا اور ناکارہ کا تباہ ہو جانا کائنات کے تکوینی قوانین کا لازمی جزو ہے۔ انسانی سماج کی سب سے بڑی خوبی باشعور اور تخلیقی محنت ہے۔ رضاکارانہ تعاون اور باہمی اعتماد کے بغیر سماجی بندھن وجود میں نہیں آ سکتے۔ جب تک ہم محنت کی اساس پر قائم مقابلہ کی فضا قائم نہیں کرتے اس وقت تک تخلیقی صلاحیتوں کو مثبت رخ ملنا ناممکن ہے۔ ہمارا سماجی ڈھانچہ اس لئے بھی کمزور ہے، کیونکہ سازش پر یقین کی نفسیات اتنی مضبوط ہے کہ ہم ہر وقت دوسروں کی نیت پر شک کرتے رہتے ہیں، ناکامی کی صورت میں ناکامی کی وجوہات پر غور کرنے اور ازسر نو بہتر قدم اٹھانے کے بجائے غیر تعمیری سرگرمیوں میں اپنی توانائیاں ضائع کر بیٹھتے ہیں۔

اس نفسیاتی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہماری تاریخ ہے۔ ہندوستان کا طبقاتی نظام محنت کی بجائے اجارہ داری پر قائم رہا ہے۔ ہندو ذات پات کا نظام ہند میں انگریزوں کی آمد تک یہاں کا ہندو سماجی قانون رہا ہے جس کی بنیاد محنت اور قابلیت کے بجائے خاندانی یا نسلی اجارہ داری پر تھی۔ مسلمان فاتحین اور امراء جن کی بڑی اکثریت ایران افغانستان ترکی اور عرب ممالک سے تھی انہوں نے بھی دیسی مسلمانوں کو ہمیشہ خود سے کمتر سمجھا۔ ایرانی افغانی ترک اور عرب نسل کی بنیاد پر بڑے عہدے حاصل کرنا نسلی اجارہ داری ہی تھی۔ محنت و قابلیت کی اساس پر قائم آزاد معاشی، سیاسی اور سماجی نظام اجارہ داری کی نفی کرتا ہے۔ پیدائش کا مسکن قابلیت کا معیار نہیں، معیار تخلیقی صلاحیت اور پیداواری قوت ہے۔

انگریزوں کی طرف سے نافذالعمل برطانوی کامن لاء یقیناً محنت، قابلیت اور ذہانت کو سماجی نشوونما میں ایک بڑی دلیل مانتا ہے مگر استعمار نے اپنے مفادات کے تحت یہاں وفاداری کو قابلیت پر فوقیت دی اور نوزائیدہ پاکستان کے حصے میں امراء کی جو سیاسی قیادت آئی ان کی اکثریت انگریز نواز جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، اور مخدوموں پر مشتمل تھی۔ یوں پاکستان میں جو معاشی نظام بالعمل وجود میں آیا اس میں آزاد منڈی اور تخلیق و پیداوار کی دوڑ کے بجائے اجارہ داری اور استحقاق کے بنیاد پر قبضہ کی نفسییات کا غلبہ رہا ہے۔ جسے توڑنا ازحد ضروری ہے وگرنہ ہمارا سماجی ڈھانچہ صحت مند خطوط پر استوار نہیں ہو سکتا۔

پاکستان ہنوز ایوب، بھٹو، اور ضیا عہد کی وراثتوں سے نکل نہیں پایا۔ ایوب دور میں ریاست نے حب الوطنی اور ریاست سے قریبی تعلق کی بنیاد پر چند خاندانوں کی معیشت میں خاص طور پر سرپرستی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند خاندانوں کی اجارہ داری مستحکم ہوئی۔ خاکسار کی رائے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بڑا سبب معاشی تھا جب وہاں کے لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ ریاست دراصل مغربی پاکستان کےچند لوگوں کی معیشت و سیاست میں اجارہ داری قائم کئے بیٹھی ہے۔ اگر ہمارا معاشی و سیاسی ڈھانچہ تخلیقی محنت کی اساس پر قائم ہوتا تو صحت مند مقابلہ کی فضا ہمیں مستحکم ترقی کے نئے امکانات سے روشناس کرواتی۔

بھٹو دور میں ریاست نے تمام معیشت کو اپنی تحویل میں لے لیا یوں محنت بے فائدہ ٹھہری جس کا حاصل (ذاتی جائداد) ریاست کبھی بھی چھین سکتی تھی۔ دیکھئے بقول جان لاک “جائیداد اس لئے ہر فرد کا بنیادی حق ہے کہ ہر فرد اپنی محنت،شوق،اور فطری استعداد کو استعمال کر کے اسے حاصل کرتا یا کماتا ہے۔ آپ کی محنت، آپ کا شوق، اور آپ کی ذہنی استعداد آپ کی پراپرٹی ہے اور یقینا ان تینوں سے حاصل شدہ نتیجہ بھی آپ کی پراپرٹی ہے۔ اسی طرح محنت اپنے ساتھ سرمایہ، ٹیکنالوجی یا کوئی اور “ان پٹ” بھی اگر شامل کرتی ہے تو اس سے حاصل نتیجہ بھی آپ کی ذاتی جائیداد ہے اور اس پر آپ کا فطری حق مسلم ہے”۔ جائیداد کا حق ہی محنت کی ترغیب پیدا کرتا ہے۔

ضیاء دور کا تو ہم سب کو پتا ہے جب ہیئت مقتدرہ نے سیاست ، معیشت ،اور سماج میں محنت و قابلیت کے بجائے مفروضہ حب الوطنی اور عقیدہ کو معیار بنایا اور اس کی سرپرستی کی۔ ضیاء طیارہ حادثہ میں ہلاک ہوا مگر اس کی روح اسٹیبلشمنٹ کے مزموم مقاصد کی صورت میں ہنوز زندہ ہے اور اس کا ہمارے فرد اور سیاسی سماجی و معاشی نظام پر تسلط قائم ہے۔

اب جب تک ہم اپنے ہر فرد کو ہر بیرونی تسلط سے آزاد نہیں کروا لیتے، سیاست معیشت اور ثقافت آزاد نہیں ہوتی اس وقت تک نہ تخلیقی و پیداواری محنت کا بول بالا ممکن ہے اور نہ سماجی تعاون و اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ یہاں ریاست شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے تو شہری ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔ ہر صوبہ دوسرے صوبوں کا شکوہ کرتا ہے۔ ہر قومیت خود کو ستم زدہ سمجھتی ہے۔ ہر ایک سمجھتا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں مل رہا، دوسروں نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آپ استحقاق و اجارہ داری کی ثقافت کا خاتمہ کر دیں اور تخلیقی و پیداواری محنت کو آزاد کر دیں ، جنم لینے والی سیاست معیشت اور سماج ، رضاکارانہ تعاون اور باہمی اعتماد کی فطری فضا میں ، صحت مند سماجی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

5 thoughts on “ہمارا سماج  غیر تخلیقی کیوں ہے؟

  • 04-04-2016 at 9:38 pm
    Permalink

    ہم اس لیے بھی سازشیں تلاش کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہم اپنی ناکامیوں کا تجزیہ اور نااہلیت کا اعتراف کرنے سے گریزاں ہیں.. اچھا لکھا

  • 04-04-2016 at 10:39 pm
    Permalink

    khoooobbbb!!!!!

  • 05-04-2016 at 1:09 am
    Permalink

    بے خوف صحت مند مکالمہ کی آزادی بھی ہونی چاہیے کیوں کے تخلیقی سوچ کبھی کبھی blasphemous بھی ہوتی ہے

  • 05-04-2016 at 2:06 am
    Permalink

    یہ مضمون گہرے تجزئیے سے خالی ہے اور آخری پیرا یہ گواہی دیتا ہے کہ مضمون نگار فکری الجھاؤ کا شکار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ذیشان حسین تھیسز بنانے میں بہت ناکام رہے ہیں۔

  • 07-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    بہت سادہ اور آسان بات کو الفاظ کا لحاف اُڑھا کر غیر ضروری طوالت اور ادوار کی بے محل حوالوں سے گنجلک بنانے کی آخر ضرورت کیا تھی، یہ منطق کم سے کم میری سمجھ میں نہیں آئی۔ سیدھی اورواضح بات ہے کہ جب تک حقیقی اور بلا امتیاز عدل کا وجود ناپید ہے تب تک کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کی مثبت تخلیقی ارتقاء کا تصور ہی عبث ہے

    مضمون کے ضمن میں بس ایک بات گوش گزار کرنی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں سازش کو خوف اور شک ان باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ عدل ناپید ہونے کے باعث ہم کامیابی کے لیئے سازش کو ناگزیر سمجھتے ہیں اس سے پہلے کہ کوئی ہمیں سازش کا شکار بنائے ہم انفرادی طور پر بھی دوسروں کے خلاف سازش کے لیئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

Comments are closed.