برسی ، سازش اور ہتھ جوڑی


bhutto-sma

آج 4 اپریل ہے۔ 1971 کی خانہ جنگی اور ملک کی تقسیم کے بعد برسر اقتدار آنے والے پہلے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا یوم وفات۔ انہیں 37 برس قبل آج کے دن تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ ایک سفاک آمر کے ہاتھوں ایک مقبول عوامی رہنما کے قتل کا جرم اپنے طور پر ایک مکمل موضوع ہے۔ پاکستان کی سیاست اور اس حوالے سے اس کے ماضی قریب کا مطالعہ ملک کی نئی نسل کے لئے بے حد اہم ہے۔ لیکن سال رواں کی اس تاریخ کو دنیا بھر میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ انہیں نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ آج ہی پاناما پیپرز کی ایک کروڑ سے زائد دستاویزات میں وزیراعظم نواز شریف سمیت ملک کے متعدد زعما کے نام سامنے آئے ہیں جو بیرون ملک مختلف طریقوں سے اپنی دولت کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے سارے جمہوری ملک اپنے لیڈروں یا سرمایہ داروں کے بارے میں سامنے آنے والے ان انکشافات کی تحقیقات کا آغاز کرنے کا اعلان کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں ان معلومات میں عالمی سازش اور ملک دشمنوں کی بدنیتی کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سعودی شاہ سلمان نے ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دیا ہے اور دو طرفہ تجارتی اور دفاعی تعلقات کو وسیع کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

ملک کی سیاست پر ذوالفقار علی بھٹو کے قتل ناحق کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ درحقیقت پاکستان کا معاشرہ اب تک ان اثرات سے نبرد آزما ہونے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے قابل نہیں ہو سکا ہے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو عدالتی قتل قرار دئیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ اب تک نظر ثانی کی اپیل پر بات کو آگے بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ کسی ایک جماعت ، کسی ادارے یا ایک فیصلے پر بات کئے بغیر یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ ناانصافی کے علی الاعلان اعتراف کے بعد جو قوم بھی اس کی تلافی کرنے سے قاصر رہتی ہے، وہ مستقبل کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے لازمی طور سے ٹھوکر کھاتی ہے۔ اس لئے نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ اس ملک کے برسر اقتدار طبقہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی سزائے موت اور اس حوالے سے کئے گئے عدالتی فیصلہ کو ری وزٹ Revisit کرتے ہوئے اس دلدل سے قوم کو نکالنے کا فریضہ ادا کرے۔
ذوالفقار علی بھٹو ایک بلند قامت سیاستدان ہونے کے باوجود بہرحال ایک انسان تھے۔ ان سے بشری اور سیاسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی۔ لیکن کسی سیاستدان کو سیاسی غلطیوں کی بنا پر موت کی سزا دینا ظلم ہی کہلائے گا۔ اور کہ یہ حقائق و واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ کن حالات میں کن ججوں نے، کیوں اس قسم کا غیر منصفانہ ، ناعاقبت اندیشی پر مبنی فیصلہ لکھا تھا۔ اور یہ کہ جنرل (ر) ضیاءالحق اپنے اقتدار کے لئے بھٹو کی زندگی کو مسلسل ایک خطرہ سمجھتا تھا۔ اسی لئے اس نے متعدد عالمی لیڈروں کی طرف سے پھانسی کی سزا معطل کرنے اور بھٹو کو ملک بدر کرکے ان کے ملک میں بھیجنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ لیکن ایک مکروہ اور سفاک آمر یہ جانتا تھا کہ عوام کے دلوں میں دھڑکنے والا لیڈر جہاں بھی ہو گا، اس کے اختیار و اقتدار کے لئے خطرہ ہو گا۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ اس کو موت کی نیند سلانے کا اہتمام کیا گیا بلکہ سیاسی طور پر بھٹو کو بدنام کرنے اور ان کے خیالات و نظریات کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی ، عقیدہ اور نیک نیتی کے بارے میں پروپیگنڈا کے ذریعے شبہات پیدا کرنے کی سرتوڑ کوشش کی گئی۔ لیکن جونہی وقت کا پہیہ گھوما یہ حقیقت سب پر آشکار تھی کہ بھٹو کے صرف جسم کو زمین میں دفن کیا گیا ہے، وہ تو اب بھی اس ملک کے ہر ذی شعور آدمی کے احساس میں زندہ ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسا روشن خیال، بلند ہمت اور قوم پرست لیڈر تھا، جس نے ٹوٹے ہوئے ملک کی تعمیر کے لئے ایسے دشمن سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ کیا تھا جو انکار سننے کا عادی نہیں ہے اور جس کی اعانت لئے طاقتور حلقوں میں بااثر لوگ پر ہردم چاق و چوبند رہتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست پر مکمل گفتگو کرنے کی بجائے ہم صرف یہ خواہش اور امید کرتے ہیں کہ ملک کی عدالت عظمیٰ اور اسلام آباد کے برسر اقتدار لوگ یہ احساس کریں گے کہ بھٹو کے مقدمہ پر نظر ثانی اور اس میں شواہد اور ثبوتوں میں تحریف سے لے کر گواہوں کو خریدنے اور ڈرانے دھمکانے کے سارے معاملہ کا مکمل طور سے احاطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ اس قوم کی ماضی میں ہونے والی ناانصافی کے اندھیرے سے نکال کر روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کی جا سکے۔ اگر ہمارے حکمران اور ادارے یہ فرض ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو چند دہائی بعد ہمارے کردار اور افعال کا تجزیہ کرنے والا مبصر اسے صرف ہماری سستی یا نظام کی خرابی پر محمول نہیں کرے گا بلکہ اسے اہل پاکستان کے زوال اور بربادی کے عوامل میں شامل کرے گا۔ ابھی وقت پوری طرح ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلا ہے۔ اب بھی اصلاح احوال کے لئے قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور یہ چیلنج ان سب کے لئے ہے جو اس ملک میں انصاف نافذ کرنے کا درس دیتے رہتے ہیں۔ اور ان سب کے لئے بھی جو اس ملک میں آمریت کا راستہ روکنے اور جمہوریت کو فروغ دینے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ جب تک ایک آمر کی ناانصافی عدالت کے حکم کے طور پر اس قوم کے ضمیر پر مسلط رہے گی، اس وقت تک نہ انصاف عام ہو گا اور نہ جمہوریت پروان چڑھے گی۔
آج 4 اپریل ہے۔ آج ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ، بے نظیر بھٹو کا بیٹا اور تیزی سے محدود ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا دلارا بلاول بھٹو زرداری گڑھی خدا بخش میں سوگواران بھٹو سے مخاطب تھا۔ بجا طور سے انہوں نے کہا کہ بھٹو کی موت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ لیکن اس اعتراف حقیقت کے بعد بلاول سمیت پیپلز پارٹی کی ساری قیادت یہ جاننے کی زحمت گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ بھٹو پر جان نچھاور کرنے والے لوگ اب بیلٹ بکس میں اس کے وارثوں کے لئے ووٹ کیوں نہیں ڈالتے۔ بلاول بھٹو زرداری آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ذہین نوجوان ہیں۔ کیا وہ یہ غور کرنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مرحوم بھٹو کے انداز میں تقریر کر کے اور ماں اور نانا کی شہادت کے قصے سنا کر کب تک لوگوں کو متوجہ کیا جا سکے گا؟ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ اگر بلاول اور ان کے رفقا نے جلد ہی یہ نہ جان لیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو صرف نعرے لگانے ، برسیاں منانے ، الزام تراشی کرنے اور دوسروں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دینے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور بے نظیر دونوں نے فوجی آمروں کا مقابلہ کرتے ہوئے نہایت نامساعد حالات میں اپنے لئے راستہ تراشا تھا اور عوام کے لئے امید کی شمع روشن کی تھی۔ بلاول اگر اپنی ماں اور نانا کی سنت پوری کرنے کا حوصلہ نہ کر پائے تو 2018 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کا جھنڈا صرف 27 دسمبر اور 4 اپریل کو بھٹو اور بے نظیر کے مقبروں کے باہر ہی نظر آیا کرے گا۔
اس قوم کی تاریخ کا یہ المناک دن آج اپنے دامن میں یہ حیران کن خبر بھی لے کر آیا ہے کہ دنیا بھر کے لیڈر اور رہنما ، تاجر اور سرمایہ دار ، کھلاڑی اور فنکار کس طرح اپنے کالے دھن کو آف شور کمپنیوں کے دھندے میں لگا کر اپنے لوگوں سے چھپانے اور خود اپنی دولت کے انبار میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ 300 صحافیوں کے گروہ نے ابھی 11 ملین دستاویزات میں سے چند معلومات عام کی ہیں۔ ابھی ان کی تہوں میں بہت سے راز اور جرائم کی تفصیلات درج ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کا انکشاف ہوتا رہے گا۔ قوم و ملک کی دولت چوری کرنے والوں میں صرف غریب اور پسماندہ ملکوں کے رہنما اور آمر ہی شامل نہیں ہیں بلکہ بعض جمہوری ملکوں کے بزرجمہر بھی ان میں شامل ہیں۔ پاکستان سے وزیراعظم کے خاندان کے علاوہ بعض دیگر لوگوں کے نام بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ لیکن حسب روایت ہمارے ملک میں ان معلومات کو سازش قرار دینے اور الزام تراشی کے نقطہ نظر سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ برطانیہ ، فرانس، آسٹریلیا اور دیگر کئی ملکوں نے فوری طور سے متعلقہ لوگوں کے معاملات کی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں یہ فکر دامن گیر نہیں ہے کہ کسی دشمن ملک نے سازش کے ذریعے یہ جعلی معلومات عام کر دی ہیں اور ان کا نشانہ افراد نہیں بلکہ  ملک اور اس کے مفادات ہیں۔
ظاہر ہے اس قسم کے چشم کشا انکشافات کرنے کی خداداد صلاحیت پاکستان جیسے ملکوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان معلومات ، ان کی حقیقت اور الزامات کی سچائی پر بات کئے بغیر یہ سوال تو کیا جا سکتا ہے کہ جو لیڈر اس قوم کو زوال سے ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ذریعے سرمایہ پاکستان لانے کے لئے مہم جوئی کرتے رہتے ہیں، وہ خود اپنی دولت کو اپنے ملک میں صرف کر کے روزگار اور ترقی کے مواقع کیوں پیدا نہیں کرتے۔ وزیراعظم اکثر بیرون ملک سفر پر روانہ رہتے ہیں اور میزبان ملکوں کے تاجروں اور صنعتکاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی حسن نواز کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ میں ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرنے کی بجائے وہ محنت سے کمایا ہوا سرمایہ پاکستان لے کر آئے اور عوام کی خدمت اور حکومت کے عزائم کی تکمیل کا سبب بنے۔ آئندہ دورہ پر اگر نواز شریف ، اسحاق ڈار کو ساتھ لے جائیں تو شاید وہ اپنی بے پایاں صلاحیتوں کی بنیاد پر بھتیجے کو اس بات پر آمادہ کر سکیں۔
اس دوران بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے قریب ترین حلیف اور نواز شریف کے ممدوح ملک کا دورہ روزہ دورہ مکمل کیا۔ اس دورہ میں شاہ سلمان نے بھارتی مہمان کو اعلیٰ ترین ملکی اعزاز دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو 39 ارب ڈالر سالانہ سے بڑھانے کے لئے متعدد معاہدے کئے۔ مشترکہ فوجی مشقیں کرنے، دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ خبر ہے کہ بھارت اس وقت دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور وہ اپنی 19 فیصد ضرورت سعودی عرب سے پوری کرتا ہے۔ سعودی شاہ نے نریندر مودی سے کہا ہے کہ وہ اس مقدار میں اضافہ کریں۔ ایران سے رجوع کرنے کی بجائے سعودی عرب کی دوستی اور تیل پیدا کرنے کی صلاحیت پر بھروسہ کریں۔
دونوں لیڈروں کی گرمجوشی اور باہمی پسندیدگی کا اندازہ ان تصویروں سے بھی ہو سکتا ہے جو سب کے ملاحظہ کے لئے جاری ہوئی ہیں۔ بس ایک سوال ہے کہ کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی (اگر وہ پائی جاتی ہے) کی ناکامی ہے یا ہم یوں ہی دنیا کو اپنے مفادات پر سودے بازی کرتے دیکھ کر حال مست رہیں گے کہ ہم نے اپنے معاملات اس ذات باری تعالیٰ پر چھوڑ رکھے ہیں کہ جس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali