بالی وڈ کا بال ٹھاکرے


ممبئی گھومے پھرے بغیر آپ بال ٹھاکرے کے ’’کریکٹر‘‘ کو سمجھ نہیں سکتے۔

آج آپ کو بال ٹھاکرے اور بالی وڈ کی کہانی سناتا ہوں۔ میں نے بال ٹھاکرے المعروف بالا صاحب کا ’’دیدار‘‘ جولائی2001 میں کیا تھا۔ میں اپنے دوست گلوکار پرویز مہدی کے ہمراہ ممبئی میں تھا۔ اس ٹور میں، میں نے دلیپ کمار‘ لتا منگیشکر، امیتابھ بچن، گلزار، یش چوپڑہ، شیلپا سیٹھی، سنیل دت، سنجے دت، دیو آنند، ودھو ونود چوپڑہ، ریتک روشن، سلمان خان، کرینہ کپور اور شاہ رخ خان سمیت دیگر فلم اسٹارز کے انٹرویو کیے تھے۔ ایک دن پرویز مہدی اور مجھے بھارتی گلو کار بھوپندر، ان کی اہلیہ گلوکارہ متالی نے لنچ پربلایا۔

ہم وقت مقررہ پر جوہو کے ساحل سمندر پر واقع ’ہالیڈے ان ہوٹل‘ پہنچے تو وہاں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دکھائی دیے۔ اپنے میزبانوں سے جب میں نے اس قدر سخت سیکیورٹی کے حوالے سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ بالا صاحب ( بال ٹھاکرے) یہاں کسی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مہاراشٹر میں حکومت کسی کی بھی ہو وہ بالا صاحب کو پروٹوکول دینا بھولتی نہیں۔ ہوٹل کی لابی میں کچھ دور ہدایتکار راکیشن روشن، اداکار جتندر، ساون کمار، سبھاش گھئی، پریم چوپڑہ اور رشی کپور بھی براجمان تھے۔ ایک جانب اداکار راجیش کھنہ اور ٹوینکل کی بیٹی رینکی کھنہ کسی پروڈیوسر سے محو ِگفتگو تھی۔
چند لمحوں بعد بال ٹھاکرے اپنے ساتھیوں اور محافظوں کے ہمراہ لابی میں داخل ہوئے تو وہاں موجود سبھی لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔ بال ٹھاکرے سب کو پرنام کر رہے تھے مگر وہاں موجود لگ بھگ سبھی ان کے قدموں کو چھو رہے تھے۔ یہ وہ دن تھا جب میں نے پہلی اور آخری بار بال ٹھاکرے کو ’’کلوز سرکٹ‘‘ کیمروں کے ساتھ براہ راست دیکھا تھا۔

بال ٹھاکرے کا اصل نام بال کشیو سیتا رام ٹھاکرے تھا۔ وہ 23 جنوری 1926 کو مہاراشٹریہ کے ایک برہمن، لیکن انتہا پسند خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی میں وہ چھوٹے موٹے کاروبارکے بعد ممبئی کے ایک انگریزی روزنامہ ’’دی فری پریس جرنل‘‘ سے بطور کارٹونسٹ وابستہ ہوئے مگر تنخواہ کے معاملے پر جھگڑے کے باعث علیحدہ ہو گئے۔ اگست 1960 میںانھوں نے مراٹھی زبان میں اپنا ذاتی پرچہ MARMIK (دل کو ہلا دینے والی افسوسناک بات) کا اجرا ء کیا۔ انھوں نے1966 ’’شیو سینا‘‘ قائم کی۔

ٹھاکرے نے اپنی لسانی ہندو جماعت کو مراٹھی ہندو راجہ شیوا جی کے نام سے منسوب کیا جسے ہندو قوم پرست مغلوں کے خلاف جدوجہد کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ شیو سینا کے بارے میں ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم صرف مراٹھیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے بنائی گئی، غیر مراٹھیوں سے اس کو کوئی سروکار نہیں۔ ٹھاکرے کے نزدیک ہندوستان صرف ہندووں کاہے‘ کسی دوسری قوم اور مذہب کے پیروکاروں کو رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بابری مسجد کو مسمار کرنے اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتل عام میں بال ٹھاکرے اور شیوسینا کا نام لیا جاتا رہا ہے۔

وہ پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ میچوں کے بھی خلاف تھے۔ ایک مرتبہ جب پاکستانی ٹیم بھارت کے دورے پر تھی تو شیوسینا کے انتہا پسندوں نے گراونڈ کو کھود ڈالا تھا۔ استاد نصرت فتح علی خان سے لے کر کرکٹر اور اداکار محسن خان سمیت عدنان سمیع خان، کامیڈین شکیل صدیقی کو بال ٹھاکرے کی دھمکیوں اور غنڈوں کا سامنا رہا۔ ممبئی کے صحافی بتاتے ہیں کہ بالی وڈ میں بال ٹھاکرے کا اتنا اثر و رسوخ تھا کہ ایکٹرز اور ایکٹریسز شادیاں کرتے ہوئے بھی یہ خیال رکھتے تھے کہ بالا جی کہیں ناراض تو نہیں ہو جائیں گے؟

بالا صاحب بالی وڈ کے مسلمان اسٹار سلمان خان اور ہندو مس ورلڈ ایشوریا رائے کے رومانس سے خوش نہیں تھے اسی لیے ان کی شادی بھی نہ ہو سکی۔ شاہ رخ خان کی شادی گوری سے شاید اس لیے ہو گئی تھی کہ خان اور گوری دونوں گمنام تھے وگرنہ ’’کنگ کنوارا رہ سکتا تھا۔ ‘‘ سیف علی خان اور کرینہ کپور کی شادی آسانی سے شاید اس لیے ہو گئی کہ بال ٹھاکرے اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہے تھے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے بالی وڈ کی اصطلاح 70ء میں استعمال کی گئی یہی وہ دہائی تھی جب ممبئی میں بال ٹھاکرے بھی ایک سیاسی قوت بن کر ابھرا تھا۔

حیرت انگیز اتفاق ہے کہ جوں جوں بالی وڈ معاشی طور پر مظبوط ہوا بال ٹھاکرے کا اسٹارڈم بھی ’’میگا ‘‘ ہوتا گیا۔ بال ٹھاکرے ممبئی کے ہندو انڈر ورلڈ نیٹ ورک پر اپنا گہرا اثر رکھتے تھے تاہم داؤد ابراہیم اور مسلم انڈر ورلڈ نیٹ ورک اس کی دسترس سے باہر تھا۔

ممبئی کی سڑکیں، چوک اور گلی محلے بالا صاحب کی بسنتی شال اوڑھے تصویر سے سجے پوسٹروں اور بینروں سے بھرے رہتے تھے۔ بالی وڈ کا ہر بڑا اسٹار چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بالا صاحب سے ’’آشیر باد‘‘ لینے ضرور چلا جاتا تھا۔ بھارت سمیت برصغیر کے لیجنڈ دلیپ کمار صاحب کو جب میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم پاکستان ’’نشان امیتاز‘‘ دیا تھا تو شیو سینا کے انتہا پسندوں نے ان کے گھر کے سامنے جلاؤ گھیراؤ کرنے ساتھ یہ ایوارڈ واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بد تہذیبی پر دلیپ کمار بڑے رنجیدہ تھے۔

بال ٹھاکرے کا چھوٹا بیٹا بندو راج ٹھاکرے جو ایک ایکسی ڈنٹ میں چل بسا تھا، اس کی بیوہ ’’بالا جی فلمز‘‘ کے نام سے فلم پروڈکشن ہاوس چلا رہی ہے۔ بالا جی فلمز کے لیے اسٹارز اور میگا اسٹارز کی ’’ڈیٹس‘‘کبھی مسئلہ نہیں بنتیں حالانکہ دوسرے پروڈکشنز ہاوسز اور پروڈیوسرز کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ بالا جی فلمز کے زیر اہتمام بڑے، بڑے کلچرل ایونٹس بھی ہوتے ہیں۔ اسٹارز خاص طور پر کنگ شاہ رخ خان کئی ایک سال سے ان شوز میں ڈانس کر کے اور لطیفے سنا کر ’’خراج ‘‘ ادا کر رہا ہے۔ ممبئی میں ہونے والی محفلیں اور پارٹیاں جب گپ شپ سیشن میں بدل جاتیں تو میں بال ٹھاکرے کا کریکٹر سمجھنے کے لیے ان کا ذکر کر دیا کرتا تھا۔

بالا جی کی زندگی کی فلم کے مرکزی خیال کو بیان کروں تو یہ اسکیچ کچھ یوں بنتا ہے کہ جس شہر کے ساحل سمندر پر بالی وڈ جیسی دنیا کی بڑی فلم انڈسٹری آباد ہوتی ہے وہاں ایک بال ٹھاکرے ضرور ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہالی وڈ میں انڈر ورلڈ ڈان ویٹو کارلیونی کا راج رہا ہے۔ ہالی وڈ کی فلم ’’گاڈ فادر‘‘ میں ڈان کارلیونی کا کریکٹر مارلن برانڈو نے کیا تھا۔ مارلن برانڈو نے ڈان کارلیونی کا جو کردار پوٹرے کیا تھا اس میں یہ ’’تنوع‘‘ بھی پایا جاتا ہے کہ موصوف ایک ہی وقت میں چرچ اور ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری کے ’’والد گرامی‘‘ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ بال ٹھاکرے اور ڈان کارلیونی کے کرداروں میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔

فرانسس کی طرح بال ٹھاکرے بالی وڈ کے اباجی تھے۔ آنجہانی کے لیے سُروں کی دیوی لتا منگیشکر نے کہا ہے کہ بالا جی کی موت سے مہاراشٹریہ یتیم ہو گیا۔ بالا جی ہٹلر کو اپنا گرو مانتے تھے۔ ان کے نزدیک ظلم ڈھانا ایک آرٹ ہے۔ بال ٹھاکرے کا کریکٹر جو میں سمجھ سکا ہوں وہ ’’ڈھیلا‘‘ ہی تھا۔ آنجہانی ہندو دھرم کے قوم پرست لیڈر کے روپ میں ایک ڈان تھے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں