سعودی مہربان اور داعش کا عذاب ….


muhammad Shahzadپچپن میں جب ہم ایک ٹوٹے پھوٹے سکول میں پڑھا کرتے تھے تو ایک استاد نے ایک مسیحی طالب علم کو زبردستی کلمہ رٹا کر مسلمان کر دیا اور ’عبدالرحمان‘ نام بھی دے دیا۔ اپنی طرف سے ان صاحب نے اسلام کا نام روشن کیا۔ کالج میں حیاتیات کے ایک انتہائی محنتی اور قابل استاد تھے ۔ واحد صاحب واحد صاحب کہتے تھے ہم سب۔ بہت پیار سے پڑھاتے تھے۔ اچھی حسِ مزاح بھی تھی۔ گورنمنٹ کے خرچے پر فرانس بھی بھیجے گئے پی ایچ ڈی کے لئے۔ ہمیں بہت پسند تھے مگر ایک دن دل سے اتر گئے جب موصوف دورانِ لیکچر یہ بھاشن جھاڑنے لگے کہ ’یاد رکھیں! ساری دنیا آپ کی دوست ہو سکتی ہے مگر ہندو ہرگز دوست نہیں ہو سکتا‘۔

ہمارے والدین دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ والد صاحب کی عمر اس وقت گیارہ برس تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن دروازے پہ دستک ہوئی۔ محلے کے ہندو ہمسائے تھے۔ یہ اطلاع دینے آئے تھے کہ آج رات سکھ اور ہندو بلوائی ہر مسلمان کے گھر پر حملہ کریں گے۔ یہ ہمدرد انسان ہمارے پورے خاندان کو اسی وقت اپنے ساتھ لے گیا۔ رات کو حملہ ہوا۔ والد صاحب نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں مسلمانوں کی لاشیں گلی میں دیکھیں۔ ایک کشمیری مسلمان کی تین انتہائی حسین بیٹیاں تھیں۔ تینوں کی برہنہ لاشیں گلی میں پڑی تھیں۔ اگر وہ نیک ہندو ہمسایہ ہمارے ساتھ نیکی نہ کرتا تو ہمارا پورا خاندان نیست و نابود ہو چکا ہوتا۔

ہم 2004ء میں انڈین ائر لائن سے دہلی جا رہے تھے۔ ائر ہوسٹس تھیں نیرا ٹھاکر۔ انہیں جب یہ پتہ چلا کہ ہم پاکستانی ہیں اور صحافی بھی تو بہت خوش ہوئیں۔ اپنا نمبر دیا۔ یہ بھی پوچھا کہ کہاں قیام ہے۔ ہم دہلی جم خانے میں ٹھہرے تھے۔ چیک اِن ہورہے تھے کہ ان کا فون آگیا۔ پوچھا کہ سب خیریت ہے۔ ہم نے کہا سب ٹھیک ہے۔ لیکن اگلے ہی دن سب کچھ ٹھیک نہیں رہا۔ ہمیں شدید بخار نے گھیر لیا۔ ہم کمرے میں پڑے ہوئے تھے۔ نیرا جی کا فون آیا۔ بے چین ہو گئیں ہماری طبعیت کا سن کر۔ تھوڑی دیر میں جم خانے پہنچ گئیں اپنے خاندانی ڈاکٹر کے ہمراہ۔ صبج سے رات گئے ہمارے سرہانے بیٹھی رہیں اور تیمارداری کی۔

دہلی ائرپورٹ پر ہمیشہ سامان مقرر کردہ حد سے زیادہ ہوا کرتا تھا ہمار ے پاس۔ لیکن کبھی کسی نے اضافی سامان کے پیسے نہیں لئے۔ جب پتہ چلتا تھا کہ ہم پاکستانی ہیں تو پھر پالیسی کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا۔ ہمارا ٹکٹ اکانومی کا ہوتا لیکن ہمیں جگہ ملتی فرسٹ کلاس میں۔ کیونکہ ہم پاکستانی تھے بھارت میں۔ ہم کیسے واحد صاحب کی بات مان لیتے کہ ہندو مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ملک میں تو مسلمان مسلمان کا گلہ کاٹتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے پھرتے ہیں۔

جو دور کی کوڑی واحد صاحب لائے تھے اس قسم کے’اقوالِ زریں‘ سے ہماری درسی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ مثلاً ہمیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ سعودی ہمار ے بھائی ہیں۔ ہم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ہمیں تو ایسی کوئی بات سعودیوں میں نظر نہ آئی۔ عملی طور پر ہم نے سعودیوں کو انسانیت سے عاری ہی پایا ۔ ( یہ عاجز، مدیر اشاعت ہذا، ایسی تعمیمی اور گروہی رائے سے اختلاف کی جسارت کرتا ہے۔) جس قسم کا سلوک وہ پاکستانی ملازمین کے ساتھ کرتے ہیں ایسا تو آقا ہی کیا کرتے تھے غلاموں کے ساتھ ۔

سعودیوں کے’ حسن سلوک‘ کا کچا چھٹا کھلا جب سوشل میڈیا وجود میں آیا۔ کفارِ یورپ آپ کو پناہ دیتا ہے۔ شہریت دیتا ہے۔ برابر کے حقوق دیتا ہے۔ آپ ان کی عورتوں سے شادی کر کے شہریت کے اہل بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر آپ کا ’بھائی‘ سعودی عرب آپ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔اس کی نگاہ میں آپ ایک ’شودر‘ ہیں اور ایسے ہی رہیں گے۔

اکثر بیرون ملک سفر کرتے ہوئے سعودیوں سے بھی ملاقات ہوئی لیکن جی ہمیشہ کسی ہندو یا سکھ یا کسی گورے کے ساتھ لگا۔ وہ جو ایک ثقافتی رشتہ ہوتا ہے نا۔ وہ کبھی کسی سعودی کے ساتھ محسوس نہیں ہوا۔ زبان، لباس ، کھانا، کلچر …. اس حوالے سے ہم آہنگ پایا تو صرف ہندوستان کے لوگو ں کو۔ کبھی کسی سعودی کے ساتھ بھائی چارے والی کیفیت محسوس نہیں ہوئی۔

آجکل سعودی پاکستان کے چکر پر چکر لگا رہے ہیں۔ ہمارے جرنیلوں کی خوشامد بھی کر رہے ہیں۔ سعودیوں کو اپنا اقتدار ڈوبتا ہو نظر آ رہا ہے۔ خادمینِ حرمین شریف بنے پھرتے ہیں۔ اس قوم کے جہادی دن رات خلافت برپا کئے رہتے ہیں۔ کوئی انہیں بتائے کہ عثمانیہ خلافت کا خاتمہ ان سعودیوں ہی نے کیا برطانیہ کی مدد سے۔ یہ سعودی ان طاقتوں کے لئے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہیں جنہیں فتح کرنے کے خواب ہماری جہادی تنظیمیں دیکھتی رہتی ہیں۔ یہ موجودہ وقت کے فرعون ہیں۔ کوئی ان کے خلاف احتجاج کرے تو اس ’گستاخ‘ کا سر قلم کر دیتے ہیں۔ یہ ہے ان کا قانون۔ دنیا کو داعش کی درندگی نظر آتی ہے مگر سعودیوں کی نہیں جو بذاتِ خود’داعش‘ کے بھی گرو ہیں۔ اب وہ دور گیا جب مطلق العنان حکمران سچائی کو دھونس ، ظلم و جبر سے چھپا دیا کرتے تھے۔ سعودی عرب کی نو جوان نسل اس سچائی سے بہت تیزی سے آگاہ ہو رہی ہے کہ آلِ سعود اصل میں ظالموں کا ٹولہ ہے جو ان کے حقوق سلب کر کے ان پر حکمرانی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی نوجوان داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ عیاشی میں ڈوبے سعودیوں کا اس وقت عالم وہی ہے جو مغلیہ سلطنت کے شہزادوں کا تھا آخری وقت میں۔ لڑنے کی طاقت تو ہے نہیں ۔ اب کرائے کے فوجی ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ سعودی حکمران یہ شعر عربی میں ترجمہ کروا کر اپنے محلات کی دیواروں پر آویزاں کر دیں:

غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے

ابھی تک کی خبر اچھی ہے ۔ ابھی تک توہمارے حکمرانوں نے سعودیوں کو لال جھنڈی ہی دکھائی ہے۔ (لگتا ہے آگے بھی ایسا ہی ہو گا۔) لیکن ہم اتنے بے مروت بھی نہیں۔ وقت آنے پر سعودی حکمرانوں کوکم از کم سیاسی پناہ تو دے ہی دیں گے!


Comments

FB Login Required - comments