ایک ڈنر میں کتنے کنال ہوتے ہیں؟


jamal yasin

ائیر پورٹ سے صرف دس کلومیٹر دور مضافاتی سڑک پر ایک کچا سا راستہ نیچے کو اترتا ہے۔ جو ایک خوب صورت سے فارم ہاؤس پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس کے آگے لہلہاتے ہوئے ہرے بھرے کھیت شروع ہو جاتے ہیں، جن کا منظر دل کو بہت لبھاتا ہے۔

یہ فارم ہاؤس ہمارے جگری دوست کے بہت اچھے ملنے والوں کا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں وہاں ایک پکنک کی دعوت دی گئی۔ جس میں ان ملنے والے صاحب کا خاندان اور دیگر دوستوں کی فیملیاں بھی شامل تھیں۔ دیسی لذیذ کھانے از قسم ساگ، مکھن، مکئی کی روٹی، لسی، دیسی گھی کے پراٹھے، دیسی مرغ کا سالن اور آخر میں گاجر کا حلوہ، ہر چیز اشتہا انگیز اور ذائقے دار اور وافر۔ پکنک کا صحیح معنوں میں لطف آ گیا۔
فارم ہاؤس سے منسلک قطعہ زمین پر ایک بڑا سا باغ موجود ہے، وہاں ہم سے ایک پودا بھی لگوایا گیا کہ جب کبھی آپ اس جگہ آئیں گے تو اس کو بڑھتا دیکھ کر خوش ہوں گے۔ اس جگہ کی خوبیاں بیان کی گئیں کہ شہر کی حدود پھیل رہی ہیں اور ہمیشہ زمین وہاں لینی چاہئیے جو شہری حدود سے باہر ہو۔ کیوں کہ، جب شہر وسیع ہونے لگتے ہیں تو ایسی جگہوں کی قیمتیں خود بہ خود بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر یہ کہ شہر کا شہر، گاؤں کا گاؤں، ہر چیز خالص ملے گی، دودھ، دہی، گھی، انڈہ، گندم سب دیسی، سب خالص۔ اگر یہاں گھر بنا لیا جائے تو ہوا بھی تازہ میسر آئے گی اور صحت بھی اچھی رہے گی۔

غرض یہ کہ جب صاحب خانہ اس علاقے کی خوبیوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ رطب اللسان ہونے لگے تو ہمیں شک سا ہوا کہ یہ دام کہیں ہمارے لیے تو بروبر نہیں بچھایا جا رہا۔ ہم ٹھہرے آپ کی طرح شریف آدمی، بقول بیگم، ’آپ کے تو ماتھے پر یہ لکھا ہے کہ آؤ مجھے بے وقوف بناؤ‘۔ بھلا بتائیے اگر ایک کلو اسٹرابیری میں چار دانے گلے ہوئے نکل آئیں یا دو کلو آلو میں سے دو خراب نکل آئیں تو کیا اس فقرے کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ خربوزہ اور امرود تو ویسے بھی قسمت والوں کا ٹھیک نکلتا ہے، دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف کیجیے گا!

خیر، سوچنے لگے کہ کیوں نہ ریٹائرمنٹ کے پیسوں سے تھوڑی سی سرمایہ کاری کر لی جائے۔ پھر ہماری عقل کے تابوت میں آخری کیل انتہائی مہنگے ہوٹل میں ڈنر کروا کے ٹھونکا گیا کہ مزید سوچنے کا موقع نہ ملے۔ حالانکہ ہم اپنی طرف سے بڑے ہوشیار بنتے ہوئے باقاعدہ ان جگہوں کا معائنہ بھی کر آئے تھے جہاں ہماری مجوزہ زمین کا ٹکڑا تھا۔

کیا ہی خوب سنہری باغ دکھلائے گئے کہ یہاں کالونی بنے گی، جو صرف فن کار کالونی ہو گی۔ جس میں سب پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ اور آرٹسٹ ٹائپ کے لوگ ہوں گے، ایسے کہ جن کا اوڑھنا بچھونا ہی ادب ہو گا، کسی بے ادب کا دور دور تک گزر نہیں ہو گا۔ اس پوری زمین کے دس حصہ دار بتلائے گئے اور کہا گیا کہ سب کے سب اپنی زمین بیچنے پر تیار ہیں۔

بس ایک بابا ہے جو نہیں مان کے دے رہا، مگر اس کو بھی منوا لیں گے۔ اصل میں اس کا رضا مند ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی زمین کا ٹکڑا درمیان میں ہے۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ بستے ہیں، ایک بے وقوف بنانے والے اور دوسرے بے وقوف بننے والے، آپ سے کیا پردہ، سمجھ تو گئے ہوں گے آپ کہ ہم کس قسم سے تعلق رکھنے والوں میں سے ہیں۔

بس اسی لیے ہم نے بغیر سوچے سمجھے حامی بھر لی اور شیخ چلی کی طرح خواب دیکھنا شروع کر دئیے۔ گھر والوں کو بلا کر مجوزہ پلاٹ دکھایا اور ادائیگی کر کے رجسٹری کے لامتناہی انتظار میں بیٹھ گئے۔ کچھ عرصہ بعد ہمیں ایک مشترکہ رجسٹری دکھائی گئی، اس میں ہمارا بھی حصہ دکھایا گیا۔ مگر تکمیل میں ابھی ایک اڑچن باقی تھی کہ وہ بابا کسی طرح مان کے نہیں دے رہا تھا۔ جب تک وہ نہ مانتا، الگ رجسٹری نہیں ہو سکتی تھی۔

کچھ عرصہ بعد خبر ملی کہ وہ مشترکہ رجسٹری منسوخ کر دی گئی ہے، اور دبے لفظوں میں بتایا گیا کہ بابا کافی بیمار ہے، چل چلاو لگ رہا ہے، بس عنقریب آپ کو اپنے پلاٹ کی رجسٹری مل جائے گی۔

صاحبو، اس بات کو پانچ سال گزر گئے، بابا شاید عمر خضر لے کر آیا ہے۔ ویسے ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ بابا اصلی تھا یا فرضی۔ کچھ فیصلہ نہیں ہو پایا۔ اور تو اور اب تو ان صاحب سے ملاقات بھی شاذونادر ہوتی ہے جو پیسے وصول گئے۔

نہ کسی سے شکایت کر سکتے ہیں، نہ ہی دھونس دھمکی دے یا دلا سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں ایسے دوست بہت اثر رسوخ والے ہوتے ہیں۔

اس قصے کو پڑھنے والوں میں سے دس فیصد لوگ تو یقینا انہی حالات سے گزر چکے ہوں گے مگر ہماری طرح نصیب کا لکھا سمجھ کر خاموش بیٹھ گئے ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments