پاکستانی سیاستدان: ہمیشہ نشانے پر، مسلسل امتحان میں


ibarhim kunbhar

سرد ہواؤں کا زور ٹوٹتے ہی سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئیاں زوروں پر ہیں، اسلام آباد کی سیاسی ہواؤں میں ایک عجب سی گھٹن محسوس ہو رہی ہے، ایسے لگتا ہے کہ جڑواں شہر سے چلتی ہوائیں دارالحکومت کے اقتداری ایوانوں کے درو بام کو ہلا رہی ہیں۔ کچھ دانشمند حضرات ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ بات خطرے کی نہ بھی ہو لیکن برسوں سے پلتا خوف تو کچھ چہروں سے عیاں ہے، غیر یقینی اپنی جگہ لیکن بے بس کی ریکھائیں کچھ ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔

اقتدار، اختیار، نظریہ اور پالیسی سازی کے حوالے سے یہ چلتی کشمکش بھی اب کی بار تو نہیں، سالہا سال کا یہ قصہ ہے صاحب۔ وقتی اطمینان، پھر بے اطمینانی، گھڑی پل کا ا عتماد اور پھر بے اعتمادی، معمولی سی ہم آہنگی پھرخاتمہ، لمحوں کے لئے ایک پیج پر ٹھہرنا، پھر دور چلے جانا۔ یہ ہی برسوں کے اس سفر کی کہانی ہے۔ اور اب کی بار بھی خبریں وہ ہی پرانی کہ سول اور عسکری قیادت میں معاملات بگڑنے کو چلے ہیں۔ اور یہ بے یقینی پرانی کہ کوئی پتا نہیں کہ کیا ہو جاوے۔

کہنے کو تو یہ صرف ایک بات ہی لیکن کیا کہا جائے اگر کچھ حلقے یہ کہہ دیں کہ پرانے اور نئے سب دھرنے بھی تو حکومت کو ان کی حیثیت یاد دلانے کے لئے تھے۔ ہمارے ایک شاعر دوست اس صورتحال پر فٹ تبصرہ کرتے ہیں کہ؛

‘یہ دھرنا تو ایک بہانا ہے

بے اعتمادی کا سلسلہ پرانا ہے

کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ان جمہوری حکومتوں کی میراث بھی تو بے بسی، بے اختیاری اور مجبوری ہی ہے۔ اس کے باوجود ان حکومتوں اور سیاستدانوں کو بدنامی کے سوا کیا ملا ہے؟ پہلے وزیراعظم جناب لیاقت خان سے لے کر میاں نواز شریف تک اختیارات کی رسہ کشی اور چھینا جھپٹی کی ایک تاریخ پر کئی کتابیں لکھیں جا چکی ہیں۔ اور پھر سیاستدانوں کے لئے نرم گوشہ بھی کون رکھتا ہے؟

میاں نواز شرف بحیثیت وزیراعظم ہی تو نشانے پر نہیں وہ ہدف اس لئے بھی ہیں کہ وہ ایک عدد سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کی پارٹی جمہوریت کا نعرہ لگا کر انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔ یہ ہی تو بڑا قصور ہے؟ سیاستدانوں پر الزام تراشیاں، بہتان بازیاں ان کا میڈیا ٹرائل ان سے بیزاری کی داستانیں اس ملک کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہیں۔ سیاستدانوں پر طعنہ زنی سے لیکر انتقامی کارروایوں تک تمام کوششوں کا اصل ہدف بھی تو سیاست ہی ہے نا۔

جمہوریتوں کے اس دور جدید میں پاکستان اب بھی وہی ملک ہے جہاں با اثر مقتد اور با اختیار قوتوں کی نظرمیں دنیا کی بدترین مخلوق ملکی سیاستدان ہی ہیں۔ انہی سیاستدانوں کے فون ٹیپ کرنے سے لیکر میڈیا ٹرائل تک، ایبڈو قانون سے لیکر احتساب ایکٹ تک ہر حربہ استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ان تمام کوششوں کا مقصد ان کو عوام کی نظروں میں نیچا دکھانا یا پھر ان کے لئے بدگمانیاں پیدا کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ اس لئے تا کہ عوام کی دلوں میں ان کے لئے اتنی نفرت پیدا کی جاسکے کہ وہ ہر بار اور بار بار ان کو ناکام بنا دیں۔ اس طرح ہی یہ سیاسی نظام ناکام ہو سکتا ہے۔

سیاست میں جھوٹ کا عمل دخل رہا ہے۔ یہ بحث الگ ہے کہ سیاستدان جھوٹ بولتے ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں ساری دنیا میں اس طرح ہوتا ہے۔ امریکا میں اب کی انتخابی مہم اور اس پر میڈیا میں چلتی بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کس امیدوار نے کتنے فیصد جھوٹ بولا ہے۔ انجی ڈرابنک ہولک نامی ایک صحافی کی 13 دسمبر 2015 میں نیویارک ٹائیمز میں شائع ہوئی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ” ڈونلڈ ٹرمپ، بین کریسن، ڈک چینی، کلنٹن، ہیلری کلنٹن، مارٹن او میلی، بارک اوباما، جوزف بائڈن اور رین پال و دیگر سیاستدانوں نے کئی جھوٹ بولے، کئی نے تو آدھا سچ بھی نہیں بولا، لیکن انتخابی مہم میں سیاستدان جھوٹ سچ بولتے رہتے ہیں” اسی رپورٹ میں تو ان سیاستدانوں کی جھوٹ سچ کی شرح بھی دی گئی ہے۔

لیکن ہمارے ملک میں صرف جھوٹ ہی نہیں سیاستدانوں کو، کبھی چور، کبھی مفاد پرست، کبھی لٹیرا، کبھی ڈاکو، کبھی سوداگر، کبھی بیوپاری کہا گیا اور تو اور ملک دشمن اور غدار بھی یہ سیاستدان ہی کہلائے ہیں اور اس کی ایک تاریخ ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکنا ان کی پالیسیوں کے برعکس نہ سہی لیکن اپنی مرضی تھوپنا بھی پرانا قصہ ہے۔ ان سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے نفرت اور پھر اپنی پارٹیوں کی تخلیق کرکے کام چلانا بھی تو ہمارے ہی ملک میں شیوا رہا ہے۔

جنرل ایوب خان ملک بننے کے ٹھیک 11 سال بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اس نوزائیدہ ملک کے سیاستدان مکار، جھوٹے، اخلاقی طور پر پست، دھوکہ باز اور لسانی سوچ رکھنے والے ہیں۔ سیاستدانوں کے خلاف یہ سرکاری فتویٰ ملک کے پہلے مارشل لا کے موقع پر سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے نشر کی گئی تقریر میں دیا گیا۔ 8 اکتوبر 1958  میں اپنی پہلی تقریر میں جنرل ایوب خان فرماتے ہیں کہ ”قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد اس ملک کے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے خلاف لڑائی جھگڑے شروع کردیے، وہ لوگ صرف اپنی ذاتی بھوک اور سیاسی عزائم پورے کرنا چاہتے ہیں، ان کی اخلاقی پستی، جھوٹ اور دھوکے کی کوئی حد نہیں، مجھے یقین ہے کہ عوام ان بے اصول سیاستدانوں سے تنگ آ چکے ہیں”۔ (بحوالہ پاکستان میں مارشل لا کی تاریخ مرتب کردہ ڈاکٹر مبارک علی خان صفحہ نمبر 252 سے 255۔) اندر ہی اندر جو کچھڑی پک رہی تھی اس کا ایک انجام لیاقت علی خان کے قتل پر ہو ا، اس کے بعد آئین ساز اسمبلی کا دھڑن  تختہ کر کر کے سیاسی نظام کی بنیاد کھوکھلی کرنے کی پہلی سازش کامیاب ہوئی۔ اسی زمانہ میں صرف فاطمہ جناح کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مشرقی پاکستان میں اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی کے ساتھ بھی تو اچھا نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے والے اس فوجی آمر کو ا یک دن سیاست کی ہی ضرورت پڑ گئی اور کنویشن مسلم لیگ وجود میں آ گئی جس کی سربراہی جنرل ایوب خان نے سنبھال لی۔

جنرل ایوب جس نے سیاست، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے ان کو پانی دے کر۔ ملکی تاریخ کے دوسرے مطلق العنان نے شیخ مجیب الرحمٰن سے دھوکہ بازی کرکے کیا کچھ نہیں کیا۔ رٹائرڈ ائیرمارشل اصغر خان نے اپنی کتاب ”تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا”میں جنرل یحییٰ خان کے جنوری 1971 میں ڈھاکا کے دورے اور مجیب الرحمٰن سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” مجیب الرحمٰن نے یحییٰ خان کو بتایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے بعد وہ اجلاس میں اپنے چھ نکات پر نرمی کر دیں گے۔ اس اجلاس میں مجیب نے یحییٰ خان کو نئے آئین کے تحت صدر بنانے کی پیشکش کی اور ڈھاکا سے واپسی پر یحییٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ مستقبل کے وزیراعظم سے بڑی اچھی ملاقات رہی”۔ ہوسکتا ہے کہ اصغر خان ذوالفقار علی بھٹو کو نیچا دکھانے کے لئے یحییٰ خان کو اچھا کر کے پیش کررہا ہو۔ لیکن اس بات کا ذکر کئی کتابوں میں ہے کہ جنرل یحییٰ خان نے ملٹری انٹلیجنس کی اس رپورٹ کے بنیاد پر 1970 میں الیکشن کرائے جس میں ایجنسی نے کسی پارٹی کو اکثریت نہ ملنے اور اقتدار کو طول دینے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن جب انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل صاحب نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لئے ہر وہ کام کرکے دکھایا جس کا نتیجہ ایک ملک کا دولخت ہونا ہی نکلا۔ اس سے پہلے مجیب الرحمان کی گرفتاری، اگرتلہ سازش کیس اور دوسرے بنگالی سیاستدانوں کو مقدمات میں گھسیٹنا وغیرہ سب اسی دور کی کارستانیاں ہوں۔ ملک ٹوٹ چکا لیکن سیاستدانوں کو بے اعتبار، بدگمان، عیب دار کہنے والا یحییٰ خان تب تک اقتدار کی کرسی چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا جب تک وہی قوتیں سامنے نہیں آئیں جن کو استعمال کرکے ایوب خان کو اقتدار سے الگ کیا گیا۔

سانحہ بنگال کے بعد آدھے ادھورے ملک میں اقتدار کی باگ ڈور پیپلز پارٹی نے سنبھالی لیکن پس پردہ وہی قوتیں کام کرتی رہیں جن کے لئے سیاستدان، سیاست اور عوام کی سیاست میں شراکت ناقابل قبول تھی۔ ان کو یہ ان کی ہی مہربانی اور محنت تھی کہ نو ستارے وجود میں آئے۔ ایک بار پھر ملک کو غیر مستحکم ہونے کی سازشیں تیار ہوئیں اور ایک دن پھر جنرل ایوب کی تاریخ جنرل ضیاالحق نے دہرائی، عوام کی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔ وزیراعظم کو گرفتار کر لیا گیا، سرکاری ٹیلی وژن پر جنرل ضیاالحق کا مارشل لا کا اعلان اور نوے دن کے اندر ملک میں عام انتخابات کا وعدہ سب کچھ ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی مضبوطی کے نام پر ہوا۔ پھر سے سیاسی جماعتوں، آزاد صحافت اور طلبا تنظیموں پر بندشیں لگیں اور عدلیہ جو کبھی آزاد نہیں رہی لیکن رہی سہی عدالت کو گھر کی غلام بنانے کے لئے ججوں سے حلف وفاداری کے قصے بھی کل کا سچ ہے۔ انہی عدالتوں سے ملک کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی لگوا کر سیاست میں نفرتوں کی  بنیاد ڈالی گئی۔ تیسرے مطلق العنان کی طرف سے سیاست پر پابندی، خود کو منتخب کرنے کے لئے ریفرنڈم اور غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی الیکشن اور پھر عام انتخابات کے حربے اپنے اقتدارکو طول دینے کے سوا کچھ بھی نہیں تھ ۔ لیکن ایک موڑ ایسا آ گیا کہ غیر جماعتی بنیاد پر کامیاب گروپ کو سیاسی شکل دینا پڑ ہی گئی اور محمد خان جونیجو کی سربراہی میں اس کو مسلم لیگ کا نام دے دیا گیا۔

اس قسم کا آخری تجربہ جنرل پرویز مشرف نے کیا جس نے فضاؤں میں بیٹھے بیٹھے ایک سیاسی حکومت کو ختم کردیا۔ آئین کو معطل کیا عدلیہ کو زیر کیا خود کو آئین میں ترامیم کا حقدار قرار دیا اور پھر حقیقی جمہوریت کا نعرہ دے کر سیاسی سربراہان کی سیاست پر پابندی لگا دی اور مخالف سیاستدانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں لیکن ساتھ ساتھ ان سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کو گلے لگا لیا جو اس غیر آئینی قدم میں ان کی حمایت میں کھڑے ہوئے تھے۔ جب ریفرنڈم اور غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی الیکشن کے مراحل مکمل ہوگئے تو جنرل پرویز مشرف کو بھی ایسی جماعت کی ضرورت پڑگئی جس کے ذریعے اپنے اقتدار کو دوام بخش سکے۔ اس لئے کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کے لئے بنائے گئے احتساب کمیشن کو حرکت میں لاکر سیاسی وفاداریوں کی خریداری شروع کردی گئی۔ پہلے مسلم لیگ قائداعظم بنوا کر ایوب خان کا ادھورا مشن مکمل کرنے کی کوشش کی پھر پیپلز پارٹی کے کچھ ممبران کو محب وطنی کی سندیں دے کر پی پی پیٹریاٹ بنوائی۔ اسی اثنٰی میں ایل ایف او کو آئین کا حصہ بنانے کے لئے وردی اتارنے یعنی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا ایسا وعدہ بھی کر لیا جو وفا نہیں ہو سکا۔ جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف میں کئی باتیں مشترک تھیں۔ ان میں اہم بات یہ بھی تھی کہ تینوں نے جلدی انتخابات کروا کر اقتدار عوام کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سیاستدانوں سے نفرت کرنے والے آخری مطلق العنان پرویز مشرف خود تمام معاملات کو سیاسی انداز میں یہاں تک چلاتے رہے کہ کرسی سے براجمان رہنے کے لئے ان پارٹیوں سے بھی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے جن کی زندہ قیادت کو ملک کے اندر داخلہ دینے سے انکار کرتے رہے۔ اث قیادت کو برے الفاظ میں یاد کرتے رہے۔ اس لئے این آر او دراصل ایک مطلق العنان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کیا تھا۔
اور یہ جو کچھ ہوا وہ سب ٹھیک ہوا، آمروں پرسیاست کبھی حرام نہیں ہوئی۔ ان کے بازو بنے سب اداروں نے جو کیا وہ معاف۔ جو ہوا ملک کے وسیع مفاد میں ہوا، بس یہاں جو برا ہوا وہ سیاستدانوں نے کیا کیونکہ وہ برے، جھوٹے، مکار فریبی ہیں۔۔۔ سندھ کے باغی شاعرحلیم باغی نے پاکستانی سیاستدانوں کے لئے ہی شاید نظم میں لکھا کہ

ہم جیسے بھلا کوئی جی کر دیکھے اس جہان میں

ہمیشہ ہی رہے ہدف پے، ہمیشہ امتحان میں۔


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 18 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

3 thoughts on “پاکستانی سیاستدان: ہمیشہ نشانے پر، مسلسل امتحان میں

  • 05-04-2016 at 12:38 pm
    Permalink

    پاکستان میں ٹیلی وژن کا آغاز 1964ء میں ہوا۔ 1958ء میں عزیز ہم وطنوں سے خطاب فرمانے کے لیے صرف ریڈیو پاکستان کی خدمات دست یاب تھیں۔
    ازراہ کرم تصحیح فرما لیں۔

    • 05-04-2016 at 3:24 pm
      Permalink

      agreed

  • 05-04-2016 at 2:42 pm
    Permalink

    اچھا کالم ھے ـ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ایک جملہ میں بیان کیا جائے تو یہ ھوگا کہ ” یہ سیاست پر فوج کے تسلط کی تاریخ ھے ” بحوالہ ڈاکٹر سید جعفر حسین
    ایوب خان تو باھر کے دورے پر جاتے وھاں کے پرتعیش ھوٹل کے کمرے میں راتوں کو جاگ جاگ کر سیاسی لیڈروں کے پیچھے لگی اس” بدنصیب “قوم کے لیے سوچتے ـ کہ آخر قوم کو کیسے اس دلدل سے نکالنا ھے ـ
    پھر کیا ھوا؟
    بغیر کوئی جنگ جیتے خود ساختہ “فیلڈ مارشل ” نے ملک کو مارشل لا کے دوزخ میں دھکیل دیا ـ اس صاحب نے جب مارشل لا لگایا بھی نہیں تھا تب بھی سیاستدانوں کی کیریکٹر ایسے سینیشن کرتا پھرتا تھا ـ کابینہ کی میٹنگز میں گھس جاتا تھا ـ وھاں یہ شکست خوردہ فیلڈ مارشل منسٹرز سے بدتمیزیاں کرتا تھا ـ ـانہیں ڈراتا دھمکاتا تھا ـ پھر کیا ھوا ! خود کو نجات دھندہ ھونے کے وھم یا بیماری میں مبتلا اس جری ـ ڈھول سپاھیا نے اس ملک کو وھاں لاکر کھڑا کیا جہاں سے واپسی ناممکن تھی .بلآخر پاکستان کے “محمد شاہ رنگیلے ” کے مارشل لا میں ملک ٹوٹ گیا ـ ـ لیکن ٹوٹے ھوئے ملک کا ملبہ بھٹو کے اوپر گرا دیا گیا کیونکہ وہ سویلین تھے ـ ـ وقت کے شیخ رشیدوں ـ نورانیوں ـ ملا طفیلیوں نے بھی وھی بانسری بجائی ـ بھٹو بچے کھچے پاکستان کو بچانے والا بھی ٹھہرا تو مجیب کے ساتھ غدار وں میں نام بھی شامل ھوگیا ـ یہ سب کام جنرل شیر علی کے حوالے تھے ـ بس ایسا لگتا ھے کہ مقتدرہ بھٹو کو اقتدار میں لاکر تازہ دم ھونا چاھتی تھی ـ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزوں کے لیے مزید اقتدار میں رھنا دشوار تھا ویسے سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کے لیئے بھی اقتدار میں رھنا مشکل ھوگیا تھا ـ تازہ دم.ھو کر خوابوں میں بشارتیں لینے والے ـ الہام کے دعوے کرنے والے ضیاالحق نامی وہ شخص ملک پر لشکر لے کر چڑہ دوڑا ـ ـجو سعودی عرب سے بھی تنخواہ لیتا تھا ـ پھر کیا تھا؟ ؟ میرے خیال میں ضیاء کے آنے کے بعد ـــ وھی تھا جو اب ھے …. اب بھی سیاستدانوں کے خلاف اتنا پروپئگنڈہ کر کے ان کو ذلیل و خوار کیا گیا ھے کہ سارا ملک اس جھانسے میں ایسے آیا ھے کہ ابھی تک کسی کو پتہ ھی نہیں ھے کہ اس ملک کا ایک سویلین صدر جلاوطن ھے ـ ـ ـ اور دوسرے سویلین وزیر اعظم کے اختیارات کا جو حال بنا رکھا ھے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ھے …

Comments are closed.