میں نہیں مَروں گی


laiba zainab میں کوئی بہت معصوم یا شریف النفس انسان نہیں ہوں۔ شرارتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے مجھے لیکن کوشش کرتی ہوں کہ میری شرارت سے کسی کا دل نہ دُکھے۔ جُگتیں مارنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور سب کو ہنسانا مجھے اچھا لگتا ہے۔ لیکن یہاں سب کو ہنسانے والے کو بھانڈ کہتے ہیں اور اس معاشرے کے اصولوں کے مطابق میں بھانڈ نہیں بن سکتی کیونکہ یہ “عزت دار” لوگوں کا پیشہ نہیں ہے۔ اب یہ عزت دار لوگ کون ہوتے ہیں مجھے نہیں معلوم کیونکہ میں ایسے بہت سے شریفوں کو جانتی ہوں جو بےغیرتی کی آخری حد تک بےغیرت ہیں مگر ہیں وہ عزت دار۔

مجھے بچپن سے ہی رقص بہت پسند ہے۔ میرے گھر والے مذاق میں ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو خبرنامے پر بھی ناچ سکتی ہے۔ میں پیروں میں گھنگرو باندھ کر ایسے ناچنا چاہتی ہوں جیسے کوئی مجھے دیکھ ہی نہیں رہا۔ موسیقی کی ہر دُھن کے ساتھ جسم کے ہر حصے کی تال ملانا چاہتی ہوں۔ لیکن میں ایک رقاصہ نہیں بن سکتی کیونکہ انہیں یہاں “مراسن” کہا جاتا ہے اور “عزت دار” لوگ اس پیشے میں نہیں جاتے۔ اب یہ لوگ ہوتے کون ہیں اس کا مجھے علم نہیں۔ عورت ہوں نا تو عقل بھی ناقص ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ ایسی بہت سے عزت داروں کی ویڈیوز ان مراسنوں کے ساتھ دیکھی ہیں جو بیچاریاں اپنی محنت سے پیسے کما رہی ہوتی ہیں اور دن میں انکے خلاف گالیاں بکنے والے راتیں انہی کے پاس گزارتے ہیں

میں ایک صحافی بننا چاہتی ہوں۔ بکنے (زیر یا زبر اپنی مرضی کے مطابق لگا لیں) والی نہیں بلکہ سکرین پر وہ کام کرنے والی جس میں بھرپور ایڈوینچر ہو۔ مجھے مختلف قسم کا کام کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ ابھی بہت کم لوگ جانتے ہیں مجھے لیکن کبھی کبھار جب کوئی کہتا ہے کہ سکرین پر آپ کا انتظار صرف اس لئے کرتے ہیں کہ کچھ انوکھا دیکھنے کو ملے گا تو ایک عجیب سی خوشی ہوتی ہے کہ جو سنا ہے وہ اچھا لگا ہے۔ نزاکت سے بولنا مجھ میں شاید ہے ہی نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ایک لاؤڈ سپیکر فٹ ہے میرے گلے میں جس سے آواز نکلتی ہی اونچی ہے۔ اب کام سب سے ہٹ کے کرنا ہے تو رسک بھی لینا پڑتا ہے لیکن رسک لینے والے کو یہاں “شوخا، جاہل، بے غیرت، لبرل، توجہ حاصل کرنے والا، والی، وغیرہ وغیرہ (ماں بہن کی گالیاں لکھنے سے گریز ذاتی وجوہات کی بنا پر کیا ہے، ویسے باپ بھائی کی گالیاں بھی ہوسکتی تھیں) کہا جاتا ہے اور اچھی لڑکیوں کے بارے میں ایسے الفاظ سن کر انہیں واجب القتل قرار دیا جاتا ہے (معلوم نہیں غیرت یا بے غیرت کے نام پر قتل) اور میں ابھی مرنا نہیں چاہتی تو یہ شعبہ اپنانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی “عزت دار” لوگوں کی طرح سوچنا پڑے گا۔ اب یہ لوگ آخر ہیں کون میں نہیں جانتی کیونکہ میں تو ایسے عزت داروں کو بھی جانتی ہوں جن کی بہنیں سات پردوں میں رہیں اور دوسروں کی بہنوں کو وہ سڑکوں پر چھیڑیں ( یہ چھیڑ چھاڑ لفظوں سے لے کر ہاتھوں تک ہو تو بھی انہیں مسئلہ نہیں)

میں جب یہ سب دیکھتی ہوں تو میرا اندر چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ایسی گھٹن زدہ زندگی سے بہتر ہے کہ مر جاؤ۔ اکثر مجھے ڈپریشن اَٹیکس ہوتے ہیں اس سب کی وجہ سے کہ آخر جو میں ہوں اور کرنا چاہتی ہوں اس سب کے لئے اتنی لڑائی کیوں کرنی پڑ رہی ہے اس معاشرے سے بھی اور خود سے بھی۔ کبھی کبھی تو اس جنگ سے تھک جاتی ہوں اور دل کرتا ہے کہ واقعی مر جاؤں۔ مگر پھر سوچتی ہوں کہ اگر میں یہ کروں گی تو وہ خواب کوئی پورے نہیں کرے گا جو میرے ہیں۔ آخر جو میرے ہیں وہ خواب کوئی اور پورے کرے ہی کیوں۔ ابھی تو مجھے وہ سب حاصل کرنا ہے جو میں چاہتی ہوں۔ وہ بن کے دکھاؤں گی جو میں بننا چاہتی ہوں۔ اور یہ سب میں کسی کے لئے نہیں اپنے لئے کروں گی۔

اسی لئے

انتظار کریں

کیونکہ

…ابھی

میں نہیں مروں گی


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “میں نہیں مَروں گی

  • 05-04-2016 at 1:36 pm
    Permalink

    لوگوں کا کام ہے کہنا، آپ اپنی زندگی جیو۔ البتہ مرد عورت کی بحث سے نکل جاؤ تو اچھا ہے، یہ فضول کی بات ہے۔ اپنی عورت ہونے کی طاقت کو پہچانو، اور اس سے کام لو۔

  • 05-04-2016 at 1:37 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر ہے، میرے سامنے میری بیٹی کا پورا عکس گھوم گیا، سب بچیوں کا ایسا ماحول اور پرورش ملے کہ جو وہ بننا چاہیں، جو کرنا چاہیں، انہیں اگر مگر، چوں کہ، چنانچہ کے کی لڑائیاں نہ لڑنی پڑیں، مگر یہ لڑائی تو رہے گی اور لڑنے والے جیتتے جائیں گے۔
    ترقی پسندی اور روشن خیالی کو زبانوں کی تقسیم کی تناظر میں بیان کرنے والے ایک ایسی تحریر انگلش میں لادیں جو ان دنوں پاکستان میں لکھی گئی ہوشکریہ وجاہت مسعود اینڈ ہم سب

  • 05-04-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    االله آپ کو زندگی اور لمبی عمر عطا کریں، آپ کی ساری خواهشات پوری هوں آمین،آپ نے بهت اچها لکها هے مگر انسان اسی لیے اشرف المخلوقات هے که اس کے پاس سوچنے سمجهنے کی صلاحیت هے اور وه رشتوں اور معاشره کےبندهنوں میں جی رها هے.الله نے مرد اور عورت کی جو تفریق اور حدود بنائی هیں ان کو توڑا نهیں جا سکتا مگر آپ پهر بهی اپنی بهت ساری خواهشات پوری کر لیں گی انشاءالله. بس آپ اپنا وقار بنائے رکهیں اور محنت کرتی رهیں

    • 05-04-2016 at 7:45 pm
      Permalink

      Jeeti rahoo kartii rahii jo man ma aae…

  • 05-04-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    جو مر نہیں سکتا وہ جی بھی نہیں سکتا ۔ اسی طرح انسان لمجہ لمحہ مرتا رہے تو ہر زمانے میں زندہ رہتا ہے ۔ اچھا لکھتی ہیں اسے جاری رکھیں ۔

Comments are closed.