یہ ہاتھ مجھے دے دو!


mujahid aliپاکستان میں ایسی بات کہنے پر گردن کاٹی جا سکتی ہے لیکن اس کا اظہار نہ کیا جائے تو خود اپنی نظر میں گر جانے کا یقین ہے۔ یہ بات بہرحال کہنا ہو گی۔ اس کا تعلق نہ عقیدے سے ہے اور نہ اسلام کی حقانیت یا رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قدر و منزلت سے …. بلکہ یہ معاملہ جہالت ، عقیدے کے نام پر جھوٹ اور مذہب کے ٹھیکیداروں کو دئیے گئے اس حق و اختیار سے ہے، جس نے پاکستان میں لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اس کا ایک اظہار قومی اسمبلی میں ہوا ہے جہاں حکمران جماعت کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے عائلی قوانین میں ترمیم کی ایک تجویز واپس لے لی ہے۔ اس تجویز کے تحت کم عمری کی شادی کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں یہ تجویز غور کے لئے پیش ہوئی تو اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔ اسی رویہ کا ایک المناک مظاہرہ چند روز پہلے لاہور کے قریب ایک گاﺅں میں دیکھنے میں آیا۔ جہاں ایک پندرہ سالہ لڑکے نے پنچگانہ نماز میں غفلت کے سوال پر سماعت میں نا دانستہ کوتاہی کو توہین رسالت سمجھتے ہوئے اپنا ہاتھ خود ہی قلم کر کے امام مسجد کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اب گاﺅں کے لوگ اس نوجوان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ماں باپ فخر سے سر اٹھا کر چلتے ہیں۔

درحقیقت ان والدین کو جو اپنے بیٹے کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے اور اس امام کو جس کے غیر دانشمندانہ طریق خطاب سے اس لاعلم اور معصوم لڑکے کو اس انتہائی اقدام پر مجبور ہونا پڑا، شرم سے پانی پانی ہونا چاہئے اور مرنے کے بعد رسول خدا کے دربار میں مجرم کے طور پر پیش ہونے سے قبل اپنی جہالت اور گمراہی کی معافی مانگنی چاہئے۔ لیکن پاکستان میں اسلام اور لوازمات کے حوالے سے اس قدر گمراہ کن جذبات عام کر دئیے گئے ہیں کہ ان معاملات میں دلیل اور حجت ، عقل و علم اور تحقیق و جستجو کے سارے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ ملک کے حکمرانوں ، علما و زعما ، شیوخ اور سجادہ نشینوں نے جان بوجھ کر اس رجحان اور رویہ کو فروغ دیا کیوں کہ اس طرح دین اور عقیدے کا نام لے کوئی جاہل سے جاہل مولوی بھی ہجوم سے کوئی بھی کام کروا سکتا ہے۔ پھر نہ ملک کا قانون اس کی روک تھام کر سکتا ہے، نہ عدالتیں اس پر سزا دے سکتی ہیں، نہ پولیس دست درازی کرنے والوں کو پکڑ سکتی ہے اور نہ زبان دراز ملا سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تمہیں کس نے انسانوں کی زندگی سے کھیلنے کا حق اور اختیار دیا ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے عالمگیر بحث میں اس وقت مسلمانوں کے رویوں اور طرز عمل پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ مغرب میں آباد کروڑوں مسلمان دہشت گردی اور اسلام کی تعلیمات میں فرق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عام طور سے دلیل دی جاتی ہے کہ قرآن کا فرمان ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اس لئے اسلام کیوں کر قتل اور ظلم ، تباہی و بربادی اور انسان دشمنی کی تعلیم دے سکتا ہے۔ یہ حکم بجا مگر جب یو ٹیوب پر جاری ہونے والی پروپیگنڈا ویڈیو میں منہ ڈھانپے دہشت گرد انسانوں کو صرف اس لئے ذبح کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کا عقیدہ یا مسلک یا سیاسی نظریہ و سوچ مختلف ہے تو دلیل اور جواز کی بات کرنے والا ہر شخص کہے گا کہ میرا سچ تو یہ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ سچ جو قرآن نے بیان کیا ہے اس کی تعبیر کہاں ملتی ہے۔ جب قومی اسمبلی میں بیٹھے جغادری ملا ایک روشن خیال خاتون رکن کی ایک اہم تجویز کو مسترد کرتے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کا سہارا لے کر یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ خبردار اگر بچوں کی شادی روکنے کی بات کی۔ یہ خلاف اسلام ہے اور اس سلسلہ میں دلیل دینے والا توہین رسالت کا مرتکب ہو گا۔ تو ایک کمزور عورت خواہ وہ قومی اسمبلی کی رکن ہی کیوں نہ ہو …. خواہ اس کا تعلق حکمران پارٹی سے ہی ہو۔ بہر طور یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ: ” شادی کے لئے کم سے کم عمر 18 برس مقرر کرنے پر اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ یہ غیر اسلامی ہے اور یہ توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے تو ایسے میں پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے کیوں کہ پھر بات کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔“

اگر حکمران جماعت ہی اپنی ایک روشن خیال رکن کو تنہا چھوڑ دے گی۔ اگر نظریاتی کونسل جیسے آئینی ادارے کی سربراہی محمد خان شیرانی جیسے بے بصیرت مولوی کے حوالے کی جائے گی کیونکہ اسی میں حکمرانوں کے سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔ جب اسلامی نظریاتی کونسل کے سفید ریش ملا کو کم سن بچیوں کی شادیاں کروانے میں ہی اسلام کی سربلندی دکھائی دیتی ہو۔ جب وہ جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی خواتین کو انصاف دلوانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو خلاف شریعت قرار دینے پر مصر ہوں۔ جب اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ اپنے عقیدے کے سوا دوسرے عقائد کے بارے میں یہ حکم نامہ جاری کروانے کا آرزو مند ہو کہ وہ سب قابل گردن زنی ہیں۔ جب یہ مولوی کونسل کے اجلاس کے دوران اختلاف رائے پر دوسرے ارکان سے دست و گریبان ہونے میں شرم محسوس نہ کرتا ہو اور جب یہی سربراہ اس ملک کی ایک اقلیت کو مرتد قرار دے کر صفحہ ہستی سے مٹا دینے کو عین اسلامی فریضہ سمجھتا ہو۔ تو اس اسلامی نظریاتی کونسل کے جبر کو کیوں اور کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ انصاف ، مساوات ، رحمت اور خوشحالی کا پیغام لانے والے دین کو اگر خوں ریزی اور افتراق و نفاق پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ اور یہ کام کہیں دوسری جگہ نہیں بلکہ ملک میں آئین کے تحت قائم ہونے والے ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہو گا، تو مسلمان غیروں کو کس طرح قائل کریں گے کہ ان کا عقیدہ انسانوں کو مارنے کا نہیں زندگی دینے کا پیغام دیتا ہے۔ کہیں تو کوئی گڑبڑ ہوئی ہے کہ پیغام حیات کو موت اور دہشت کے رویہ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کوئی تو ہے جو اس کج فہمی کا ذمہ دار ہو گا۔ وہی جو قصور وار ہے۔ جو گناہ گار اور گمراہ ہے لیکن ہماری کمزوریوں نے اس کے ہاتھ میں دین کا علم دےکر اسے رہنما بنا دیا ہے۔ ان میں سے ایک محمد خان شیرانی ہے۔ دوسرا وہ امام ہے جو ایک پندرہ سال کے بچے کو اپنا ہاتھ قلم کر کے پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور ان دونوں کے بیچ میں وہ لاتعداد ملاّ ہیں جنہوں نے اسلام کو ذاتی طاقت کا ذریعہ بنانے کے لئے گمراہی اور انتہا پسندی عام کرنے کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔

جنرل راحیل شریف کہتے ہیں 2016 ءدہشت گردی کے خاتمے کا سال ہو گا۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ملک میں انتہا پسندی اور عقیدے کے نام پر ظلم و ستم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وہ دونوں جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں شاید یہ دونوں باتیں ممکن ہوں۔ لیکن جس ملک و معاشرہ کی ذمہ داری ان کے سپرد ہے، وہاں ایسا ہونا ممکن نہیں تاآنکہ وہ دین کا نام لے کر قتل کرنے والے ہر ہاتھ کو روکنے اور عقیدہ کے نام پر مار دینے کی تبلیغ کرنے والے ہر مبلغ اور امام مسجد کی گرفت کرنے کا حوصلہ و ہمت نہ کر سکیں۔ یہ دونوں باتیں قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں مگر ریاستی قوت کے سب نمائندوں کو مل کر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ایک باغی دہشت گرد ملاّ کو پکڑنا مناسب ہو گا یا نہیں۔ جب ایک کالعدم تنظیم کے مجرم سربراہ کی نظر بندی کا اعلان کرنے کا حوصلہ نہ سرکاری بیورو کریٹ میں ہو، نہ پولیس افسر میں اور نہ سیاستدان میں۔ اور بالآخر سارے حالات کا جائزہ لینے کے بعد نظر بند ملاّ کو اعتماد میں لے کر رانا ثنا اللہ کے ذریعے اعلان کروایا جائے تو ریاستی طاقت پر عائد حدود کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہو تا۔
ایسے میں ہزا ر بحث کیجئے کہ داعش پاکستان میں قدم جما چکی ہے یا نہیں۔ یا یہ کہ داعش کیا ہے؟ ایک ایسا گمراہ گروہ جو لوگوں کو قتل کر کے اپنا پیغام عام کرنا چاہتا ہے یا ایک نظریہ جس کے تار و پود اسلامی معاشروں کے رویوں ، طرز عمل اور سوچ بچار میں تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ اس کا جواب ماروی میمن سے پوچھ لیجئے جو توہین رسالت کے فتوے سے بچنے کے لئے ایک مناسب مسودہ قانون واپس لینے پر مجبور ہے۔ اس کا جواب اس ہاتھ سے پوچھئے جسے توہین رسالت کے ‘جرم‘ میں قلم کر دیا گیا۔ پھر پلیٹ میں سجا کر ایک ملاّ کی ضیافت طبع کے لئے پیش کیا گیا۔

کون کہتا ہے کہ عالمان دین جدید طرز عمل سے تہی دست ہیں۔ کل تک وہ کفر کے فتوے جاری کرتے تھے۔ اب یہ ہتھیار پرانا اور ناکارہ ہوا تو ان کی طبع زیرک نے توہین رسالت کا نیا مہلک ہتھیار تلاش کر لیا ہے۔ کون ہے جو ان فتویٰ بازوں سے کہے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور حرمت رسول کی توجیہہ کرتے ہوئے دراصل تم فرقہ بندی ، منافرت اور گروہی تقسیم میں اضافہ کرنا چاہتے ہو کیونکہ اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔ لاکھ سپریم کورٹ کہے کہ ممتاز قادری قاتل ہے۔ وہ ملک کے قانون اور شرعی روایت کا مجرم ہے۔ ملک کا ملاّ تو اس کا محافظ ہے۔ وہ تو سینے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ کسی نے اسے میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ قیامت بپا کر دے گا۔ ڈرے سہمے لیڈر اپنے ایوانوں میں خاموش ہیں۔ ان میں تو ماروی میمن جتنا حوصلہ بھی نہیں ہے کہ اعتراف کر سکیں۔ ہاں جب بات فتویٰ کی ہے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ ملک کے بچوں کی حفاظت کے لئے قانون میں ترمیم توہین رسالت قرار دی جائے تو پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔

سرتاج عزیز بلا وجہ صدر اوباما کی اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان میں کئی دہائیوں تک عدم استحکام رہے گا اور اس کے علاقوں میں دہشت گرد پرورش پاتے رہیں گے۔ جب تک اس ملک کے نوجوانوں کو اپنے ہاتھ قلم کرنے اور عورتوں کو جائز بات پر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک اس ملک میں دہشت گردوں کی فصلیں کاشت ہوتی رہیں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “یہ ہاتھ مجھے دے دو!

  • 18-01-2016 at 4:59 am
    Permalink

    Sir it is one hundred percent true and it is call of the time to speak like this . Not once, not twice but till the time our opinion is not taken as tantamount to the blasphamy.

Comments are closed.