مخنث، لوطی اور تصوف


salim javed اس حساس موضوع پر،محترمہ ڈاکٹر لبنی مرزا نے “ہم سب” میں مفید سطور تحریر فرمائی ہیں۔ خاکسار بھی اپنا زاویہ نظر بیان کرنا چاہتا ہے۔

 

خدا نے مرد اور عورت کے جوڑے سے کائنات کو چلایا۔ تاہم ہر مرد میں کچھ نہ کچھ نسوانیت اور ہر عورت میں تھوڑا بہت مردانہ پن ہوا کرتا ہے۔ جسمانی بھی اور روحانی بھی (جسے آپ نفسیاتی کہہ لیں)۔ کامل یعنی سوفیصد مرد و عورت بہت کمیاب ہیں۔ اگر کوئ کامل مرد ہو یا کامل عورت تو وہ عمر کے کسی حصے میں بھی اپنی جنس مخالف سے نہیں اکتائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ انبیاء کرام، کامل مرد ہوا کرتے ہیں۔

جسمانی یا فزیکل لحاظ سے، مذکر اور مونث کی درمیانی صنٖف کو انگریزی میں شی میل اور عربی میں مخنث کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ان کو خواجہ سرا کہا جاتاہے۔ اگر یہ تخلیط نفسیاتی ہو تو اسے انگریزی میں “گے” کہا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں، قوم لوط کے نام پر، انہیں لوطی کہتے ہیں۔

ہمارے عرف میں ایسے لوگوں کے لئے کچھ خاص اصطلاحات ہیں۔ جسمانی معذروں میں خسرے اور نامرد ہوا کرتے ہیں  جبکہ نفسیاتی معذورین میں ہیجڑا اور لوطی ہوا کرتے ہیں۔

پہلے ہم مخنث کی بات کریں گے جن کا معاملہ ڈاکٹر حضرات کے ساتھ ہے۔

ہیجڑا یا کھسرا، وہ فیزیکل ابنارمل ہوتا ہے جو نامکمل مرد یا عورت پیدا ہوتا ہے جیسےصرف تین انگلیوں والا بچہ پیدا ہوجائے۔ نامکمل مرد، کھسرا اور نامکمل عورت، کھسری کہلاتی ہے۔ ان میں جذبات تو ہوتے ہیں مگر جسمانی معذوری آڑے آتی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ بیچارے اپنی جسمانی ساخت نہیں چھپا سکتے۔

قدرت کی ستم ظریفی کی ماری ہوئی یہ مخلوق، کرہ ارض میں ہر جگہ پائی جاتی ہے لیکن جس قدر راندہ درگاہ، بےکس و مجبور یہ مسلم دنیا میں ہے، شاید ہی کہیں اور ہوگی۔ کیا بے کسی ہے کہ کسی بچے کو اپنے سگے والدین بھی اپنانے سے انکاری ہوجائیں۔ وہ بھی ایک ایسے جرم میں جس میں اس بچے کا کوئی ہاتھ نہیں۔

یادش بخیر!  پاکستان میں “نادرا ” والے، خواجہ سراؤں کو کمپیوٹرایزڈ شناختی کارڈ نہیں ایشو کر رہے تھے  تو اس پر سپریم کورٹ نے سرزنش کی تھی۔ جسکے جواب میں نادرا والوں نے یہ مجبوری ظاہر کی تھی کہ ان کی ولدیت کے خانے میں کیا لکھا جائے؟ اس وقت کے صدر پاکستان ،آصف زرداری صاحب  کا یہ بیان آیا تھا کہ ان کے والد کے طور پر آصف زرداری لکھ دیا جائے۔ ۔گمان کرتا ہوں، شاید یہی بیان، زرداری کی مغفرت کو کافی ہو جائے۔ کہ رحمتِ حق” بہا” نہ می جوئد،” بہانہ” می جوئد۔

تبلیغی جماعت کی نصابی کتاب “فضائل صدقات ” میں سلف صالحین  سے ایک واقعہ منقول ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ایک بار رات  کے وقت یہ دیکھا کہ ایک جنازہ جا رہا ہے جس کو تین کونوں سے مرد حضرات نے جب کہ ایک پائے کو ایک عورت نے سہار رکھا تھا۔ جنازے کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میرے استفسار پہ عورت نے بتایا کہ مرنے والا میرا بیٹا ہے جو کہ  مخنث تھا، پس لوگ اسکے جنازے میں شرکت سے گریزاں ہیں۔ راوی کہتے، مجھے بڑا ترس آیا، اور عورت کی جگہ میں نے کندھا دیا۔ اگلی رات میں  سویا تو  خواب میں دیکھا کہ ، جنت میں ایک تخت پہ ایک بہت حسین نوجوان بیٹھا ہے، جسنے بتایا کہ وہی خواجہ سرا ہوں۔ میں نے پوچھاکہ تمہیں یہ اعزاز کس عمل پہ ملا؟ تو اس نے کہا کہ خدا نے مجھے اسی پہ بخش دیا کہ دنیا میں لوگ مجھے حقیر سمجھتے تھے۔

سوسائٹی کا مزاج تبدیل کرنا، علماء کا کام ہے۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ معاشرے کے ان راندہ طبقات پہ کسی این جی او یا کسی قومی لیڈر نے نہیں، بلکہ تبلیغی جماعت نے شفقت کا ہاتھ رکھا، ان کو سوسائٹی کے مین سٹیریم دائرے میں لائے اور سنا ہے، کراچی میں ایک مدرسہ صرف، ان لوگوں کے واسطے ہے۔

مگر یہ کافی نہیں۔ ان کے لئے اسباب معاش کا سوچنا بھی دینی ذمہ داری ہے۔ علمائے سلف کی نصائح کے مطابق، پرانے سلاطین (اور پھر ان کی اتباع میں ،امراء بھی)، زنان خانے کی پیغام رسانی پر ان کی ڈیوٹی لگاتے جو ان کے لئے باعزت روزگار کا سبب ہوتا۔

ضرورت ہے کہ سالانہ نفلی حج کرنے والےمقتدر شیوخ، اپنی آخرت کی خاطر، ان درماندہ طبقات کے درد کا مداوا کریں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی تبدیلی جنس کرائی جاسکتی ہو گی۔ باقیوں کے باعزت روزگار کے ذرائع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔

اسی ضمن میں ،جسمانی محرومی کا دوسرا مظہر ” نامردی” ہے۔

نامرد، بھی ایک الگ کیٹیگری ہے۔ اس میں مرد کے شہوانی جذبات تو ہوتے ہیں پر اس کا عضو تناسل کام نہیں کرتا۔ یہ مرض پیدائشی بھی ہوسکتا ہے اور بعد میں، ذہنی اضطراب یا ٹینشن بھی ایک  وجہ ہوسکتی ہے۔ یہ قابل علاج مرض ہے۔ ( البتہ، اردو ادب میں، لفظ”نامرد” اس آدمی کےلئے استعمال ہوتا ہے جو بار بار اپنی زبان سے پھر جاتا ہو۔ یہ جنسی نامردی سے زیادہ بڑی بیماری ہے چاہے ایسا “نامرد”، 6 فٹ کا کسرتی بدن رکھنے والا، وجیہ صورت مرد ہی کیوں نہ ہو۔ )

اب ہم نفسیاتی معذورین کی بات کریں گے یعنی لوطی اور ہیجڑا(یہ الگ الگ اصناف ہیں)

انسان ایک ایسا کمپویٹر ہے جسکا ہارڈویئر پیچیدہ ہے تو سافٹ وئر پیچیدہ تر ہے۔ جسمانی معذورین سب کو نظر آتے ہیں مگر نفسیاتی معذورین کی پہچان ہر ایک کو نہیں ہوتی۔

یوں تو  سب انسان دنیا بھر میں ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں مگر اسی دنیا میں نہ صرف مردہ  کھانے والے انسان موجود ہیں بلکہ  غلاظت کھانے کی شدید رغبت رکھنے والے بھی اسی دنیا میں موجود ہیں ، جن کی ذوق طبع کی خاطر”شِٹ ڈاٹ کام” بنائی گئی۔ رئیس امروہی مرحوم نے پاکستانی معاشرے میں بعض ایسے عجیب نفسیاتی امراض کی نشاندہی کی ہے کہ آپ پڑھ کر دنگ رہ جائیں گے۔ بہرکیف، عوام کی بات اور ہے مگر کوئی معالج، کسی معذور سے نفرت نہیں کرسکتا۔

نفسیاتی گرہ بندی کو سمجھنے کےلئے، ایک منظر ملاحظہ فرمائیے۔

ایک محفل میں ایک معزز شخص، چرمی صوفے کی نرم ہتھی پہ ہاتھ رکھے، ایک خاص انداز سے ہولے ہولے دبا رہا ہے۔ اسکے تصّور میں ایک نسوانی عضو ہے جو اسکے شعور پہ گرفت پاتا جا رہا ہے۔ اس محفل میں شریک نارمل لوگ، اس بات کو نوٹ نہیں کر رہے۔ اگر اہل محفل کو اس آدمی کی اس ذہنی کیفیت کا اندازہ ہو جائے تو اس سے کس قدر نفرت کریں گے؟

اس محفل میں ایک سائکاٹرسٹ بھی موجود ہے۔ اپنے علم اور تجربے کی رو سے وہ اس حرکت کو نہ صرف نوٹ کر رہا ہے بلکہ اسکے پیچھے موجود نفسیاتی محرّک کو بھی سمجھ رہا ہے۔ وہ اس آدمی سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اسے ایک مریض سمجھ کر اس پر ترس کھاتا ہے (بعینہ جیسے ہم کسی جسمانی معذور کو دیکھ کر، ترس کھاتے ہیں۔ )

کچھ اورنفسیاتی کیسز کی مثال لیجئے۔

آپ نے ایسے شکّی مزاج شوہر دیکھے ہونگے جو اپنی بیوی کی زندگی اجیرن کر رکھتے ہیں۔ دستانوں سے ڈھانپنے کے باوجود ان کو ہر لمحہ خدشہ لگا رہتا کہ کوئ میری بیوی کو یا میری بیوی کسی کو تاڑ نہ رہی ہو۔ یہ چونکہ عام کیس ہے، اس لئے سب کو معلوم ہے۔ مگر اسکے الٹ بعض کیس ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خاوند کی شدید تمنا ہوتی کہ اسکے سامنے کوئ اجنبی ،اس کی بیوی سے ہمبستری کرے؟چونکہ یہ روایت سے بہت ہٹا کیس ہوتا ہے لہذا عام طور پر مخفی رہتا ہے لیکن ایسے “مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ” بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح، ایک ابنارمل کیس “گے” اور” لیسبئین” بھی ہے۔ یہ بھی قدرتی طور پر، نفسیاتی الٹ پھیر کا شاخسانہ ہے۔

ایک بات ذہن نشین کرلیں۔ لوطی وہ نہیں ہوتا جو ، ہم جنس پرستی “بھی” کرتا ہو، بلکہ لوطی وہ ہے جو  ہم جنس پرستی “ہی” کرتا ہے۔ یعنی جس کو جنس مخالف سے کامل کراہت ہو اور صرف ہم جنس کی طرف رغبت وہی” گے ” کہلاتا ہے۔ وگرنہ، ہم جنسی کی کم وبیش رغبت، ایک نارمل چیز ہے۔

لواطت، ماحول کے جبر سے بھی ابھرتی ہے جیسے اقامتی درس گاہوں، فوجی کیمپوں اور جیل میں اور بعض ماشروں میں عادتاً بھی ہوتی ہے۔ عجیب بات یہ کہ جنگجو نسل (مارشل ریسز) میں یہ عادت زیادہ پائی جاتی ہے۔ شاید غلبے کی بےپناہ خواہش کا ایک مظہر ہو۔

جملہ معترضہ کے طورپر عرض ہے کہ  لوطی کے لئے ہمارے بعض فقہا کی تجویز کردہ سزا کہ ان کو پہاڑی سے گرا کر مار دیا جائے، اس کا قرآن و حدیث سے کوئ تعلق نہیں۔ یہ اسی مریض ذہنیت کا فتوی ہے جس کی زندہ مثال ،کراچی کا ایک میاں مٹھو “فقیہ” ہے۔ موصوف نے اپنے مریدوں کو “مدنی تکیہ” کا پراڈکٹ متعارف کرایا ہے، جسے دو موٹرسائکل سوار، اپنے درمیان میں رکھ کر شیطانی حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

برسبیل تذکرہ، یورپ میں “گے رایٹس” کا غلغلہ مچا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کیفیت چونکہ قدرت کی پیدا کردہ ہے تو ایسے لوگوں کو قانونی آزادی دی جائے۔

خاکسار بھی “گے رائٹس” کا حامی ہے لیکن “گے” کا رائٹ، اس کو آزادی دینا نہیں بلکہ اس کا علاج مہیا کرنا ہے ۔ دیکھئے،اگر کسی شخص کو قدرت نے وحشی پیدا کیا اور اسکو خون بہانے میں مزہ آتا ہے تو اس کے حقوق یہ نہیں کہ اسکو قتل کرنے کی اجازت دی جائے بلکہ اس کا حق ہے کہ نارمل دنیا اس کے علاج معالجہ کا بندوبست کرے۔

بعض دوستوں کے ذوق لطیف کے پیش نظر، ایک حجاب مانع ہے ورنہ اس موضوع پر مزید تفصیل سے لکھتا۔

دسرا نفسیاتی یا روحانی ٹیڑھ پن وہ ہے جسے ہجڑا یا زنخا کہا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ “گے” ہو۔ یہ فزیکلی مرد ہی ہوتا ہےمگر نفسیاتی طور پر خود کو عورت سمجھتا ہے۔ عورتوں جیسے انداز واطوار اپنانا پسند کرتا ہے۔ یہ پرابلم پیدایشی بھی ہوسکتا ہے اور عورتوں کے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ اسکی لیول بھی مختلف ہیں۔ کچھ معززین، نجی محفلوں میں زنانہ لباس پہن کر، اس پیاس کی تسکین کرتے ہیں، جس میں سندھ کے ایک سابق بااثر وزیر اعلی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔

بعض عورتوں میں بھی یہ الٹا پن ہوتا ہے پر، معاشرتی شرم کی وجہ سے ہمارے ہاں اس کا کوئ اصطلاحی نام نہیں ہے۔

اور اسی طرح، ایک اور اصطلاح “دیوث” بھی ہے۔ یہ بالکل الگ معاملہ ہے جسکا تذکرہ بوجوہ، چھوڑ دیتے ہیں۔

بہرحال،کوئ مرض ایسا نہیں کہ خدا نے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو۔ مریض ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ اپنے مرض کا علاج نہ کرانا عیب ہے۔ پھر اپنے مرض پہ فخر کرنا تو گویا ایک اور دماغی خلل ہے۔

ایسے امراض کا علاج وقت مانگتا ہے۔ اس لئے کہ سرجن اگر ایک جسمانی آپریشن گھنٹوں میں مکمل کرلیتا ہے تو فیزیشن کا علاج کئ ہفتے لے لیتا ہے اور سائکاٹرسٹ، شاید کئی ماہ لےلے۔

عرض یہ ہے کہ “سائکالوجی” کو تصوف اور”سائیکوتھراپی” کو تزکیہ کہا جاتا ہے۔ ہمارا خانقاہی نظام دراصل، نفسیاتی گتھیاں سلجھانے کا نظام ہے ۔ شیخِ طریقت، نفسیات داں ہی ہوتے ہیں۔

دیکھئے، صحیح ڈاکٹر تک پہنچنا مریض کا کام ہے اور شفا من جانب اللہ ہے۔ ڈاکٹر تک پہنچنے کی اس کوشش کو “مجاہدہ” کہا جاتا ہے اور مجاہدہ کرنے والوں کو راستہ ضرور سجھایا جاتا ہے۔

 اگرچہ خاکسار کو موجودہ تصوف پہ چند بنیادی اعترضات ہیں جن کا تذکرہ پھر کبھی مگر فی الحال اتنا عرض کرتا ہوں کہ تصوف میں ہی نفسیاتی الجھنوں کا کامل علاج موجود ہے۔

اب یہ الگ بات ہے کہ ہر شعبہ میں زوال آیا ہے اور کو بکو پھیلے عطائیوں نے وہ کالک پھیلائی ہے کہ اصلی مسیحا بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

11 thoughts on “مخنث، لوطی اور تصوف

  • 05-04-2016 at 1:21 pm
    Permalink

    ایک ایسا شخص ایک ماہر “اینڈوکرائینولوجسٹ” کے مضمون کے جواب لکھ رہا ہے جسے یہ تک معلوم نہیں کہ “شی میل” انگریزی کا کوئی لفظ نہیں۔ یہ ان جیسے نابلد شخص کا ایجاد کردہ لفظ ہے۔ دراصل وہ نہیں جاتے کہ اصل الفاظ ” ہرمیفروڈائٹ” اور “یونک” ہیں۔
    لوطی بھی حضرت لوط کی قوم کے رویے کی مناسبت سے گھڑی ہوئی بازاری اصطلاح ہے۔ ہم جنس میں کشش اور ہم جنس کے ساتھ جنسی تعلق کا چلن حضرت لوط کے عہد سے بھی بہت پہلے سے ہے۔
    آدمی اس موضوع پر بات کرے جو اس کا میدان ہو۔ یہ میدان ماہرین نفسیات، ماہرین عمرانیات اور ماہرین طب کا ہے جبکہ سلیم جاوید صاحب لگتا ہے، ان میں سے کسی بھی میدان کے کھلاڑی نہیں ہیں۔

    • 05-04-2016 at 3:33 pm
      Permalink

      آغائے محترم۔۔آپ نے ڈاکٹر صاحبہ کا نام پڑھتے ہی فرض کرلیا کہ انکے مقابلے میں مضمون لکھا گیا ہے-محترم، ڈاکٹر صاحبہ نے موضوع کے میڈیکل پہلوؤں پہ روشنی ڈالی تھی اورمیرا سارا مقدمہ ہی دوسرے زاویہ نظر پر ہے-میں نے بات علماء اور عوام تک پہنچانی تھی تو عوامی اصطلاحات ہی استعمال کرنا تھیں جناب!کاش کہ آپ کمنٹ کرنے سے پہلے پڑھ لیتے کہ کیا عرض کیا گیا ہے-
      آپ درست فرماتے ہیں کہ خاکسار کسی فن میں تخصص میں رکھتا-اب آپ جیسے نابغہ لوگ کم ہی رہ گئے ہیں جو اپنے موضوع پر اتھارٹی ہوتے ہیں۔ باقی تو ہم جیسے عوامی لوگ ہیں جو فقط اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ابلاغ کےلئے تخصص شرط نہیں ، البتہ تعلیم کےلئے ضروری ہے-امید ہے آپ ابلاغ اور تعلیم کے فرق سے بخوبی واقف ہوں گے-

  • 05-04-2016 at 2:32 pm
    Permalink

    محترم سلیم جاوید صاحب ۔۔ بہت خوب لکھا آپ نے ۔

    • 05-04-2016 at 3:34 pm
      Permalink

      وقار احمد ملک بھائ۔۔تشکر۔۔ذرہ نوازی ہے-

  • 05-04-2016 at 3:35 pm
    Permalink

    بجا فرمایا محترم وقار ملک۔ تاہم سلیم جاوید صاحب کی اس رائے پر بحث کی گنجائش موجود ہے کہ ہم جنسیت یا ٹرانس جینڈر میلانات کو ایک مرض سمجھ کر اس کا علاج کیا جائے۔

  • 05-04-2016 at 8:34 pm
    Permalink

    محترم سلیم صاحب، بہت عمدہ اور فکر انگیز تحریر ھے۔ البتہ ایک پہلو کے حوالے سے تشنگی رہ گئی کہ علما مزھب کے نزدیک ھم جنس پرستی یا لواطت کے باب میں گناہ اور پھر اس سے بھی بڑھ کر جرم کا تصور کیسے آیا اور آیا یہ تصور صحیح ھے؟ اگر ھاں تو کیسے اور اگر نہیں تو کیونکر نہیں؟ ان سوالوں کا جواب ھمیں اس حل کی طرف لے جائے گا یعنی علاج، سزا یا ان رجحانات (ترجیحات) کو من و عن قبول کرنا۔

  • 05-04-2016 at 10:47 pm
    Permalink

    Welcome back Salim sb, missed you a for while, kindly keep writing.

  • 05-04-2016 at 11:25 pm
    Permalink

    اگرچہ صاحب مضمون ہم جنسی میلانات کو قابل تعزیر نہیں مانتے لیکن اس کے علاج میں دلچسپی رکھتے ہیں. لیکن جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں غیرمعمولی جنسی میلانات کسی بھی شخص کو ” نفسیاتی معزور ” نہیں بناتے ، جدید نفسیاتی تحقیق اور امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن کے نفسیاتی امراض کے تشخیص و شماریاتی مجلے
    (Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders of the American Psychiatric Association) کے مطابق ہم جنس پرستی کو مرض شمار نہیں کیا جاتا. مزید یہ کہ جنسی میلانات ایک تسلسل کی طرح ہیں اور کسی بھی میلان کو صرف سیاہ و سفید کی طرح بیان نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے کچھ لوگ اپنی جنسی شناخت کو کسی ایک لفظ میں مقید نہیں کرتے . جیلوں اور دوسرے مذکورہ حالات میں ایسا رویہ صرف اس لیے دیکھنے کو ملتا ہے کیوںکہ جنسی آسودگی کے دوسرے زرایع موجود نہیں ہوتے اور ایسے افراد معاشرے کا حصّہ بننے کے بعد مروجہ جنسی میلانات کی طرف لوٹ جاتے ہیں . جنسی تنوع فطری مظہر ہے اور انسانی طبع اس معاملے میں آزاد ہے ، کبھی بھی کوئی اپنی ر اے یا علاج سے جنسی میلان کو تبدیل نہیں کر سکتا . اور ایسا نہ سمجھنا صرف تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے .
    ہمارے معاشرے میں جنسی تعلیم کو ٹھیک نہیں سمجھا جاتا جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں . اس کی ایک مثال کنوار پن کا صرف عورتوں کے لیے طے کردہ معیار ہے ، جدید سائنسی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ پردہ بکارت دخول کے بغیر بھی ضائع ہو سکتا ہے،اس بات کا تذکرہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ حال ہی میں حیدر آباد میں ایک ١٧ سالہ دوشیزہ کو شادی کی پہلی ہی رات میں موت کے گھاٹ اتر دیا گیا ، ایسا کرنا صرف لا علمی کا ہی نتیجہ ہے ، کیونکہ کوئی بھی مشقتی کام اس نازک عضو کے تار ہو جانے کی وجہ بن سکتا ہے، اس بیکار عضو کا کوئی خاص کام نہیں ہے اور اس کا پیداشی یا حادثاتی طور پر نہ ہونا ایک عفیفہ کی زندگی کو اجیرن بنا سکتا ہے یا پھر اسکی زندگی کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے، سائیکل ، موٹر سائکل چلانا ، گھوڑے کی سواری یا پھر اتھلیٹک کھیلوں میں حصہ لینا بھی اس کے زائل ہونے کا سبب بن سکتا ہے ، غرضیکہ ہر نئی بات جان کر بجاے سیخ پا ہونے کہ حقیقت کا ساتھ دینا چاہئیے اور اپنی لاعلمی کے اظہار کا کوئی اور بہتر طریقہ ڈھونڈھنا چاہئیے .

    اول الذکر موضوع کے لیے مندرجہ زیل سائنسی اشاعا ت سے مزید معلومات لی جا سکتی ہیں اور اس مضمون کے لیے بھی انہی اشاعات سے مدد لی گئی ہے .

    American Psychiatric Association. (2013). Diagnostic and statistical manual of mental disorders (5th ed.). Washington, D.C.: Author.

    Cohen, K. M. (Feb 2002). Relationships among childhood sex-atypical behavior, spatial ability, handedness, and sexual orientation in men. Archives of Sexual Behavior31.1: 129-43.

    Diamond, L. M., (2008). Female bisexuality from adolescence to adulthood: Results from a 10-year longitudinal study. Developmental Psychology, (44), 1, pp. 5–14.
    Lisa M.

    James, W. H. (2005). Biological and psychosocial determinants of male and female human sexual orientation. Journal of Biosociological Science. (37, 555-567).

    Ridley, M. (2003). Nature via nurture: Genes, experience, & what makes us human. (pages 103, 159-63, 243, 280)

    Wright, R. (1994). The moral animal: Why we are the way we are: The new science of Evolutionary Psychology. (pages 384-365)

  • 06-04-2016 at 12:37 am
    Permalink

    سلیم صاحب بہت کمال لکھا ہے جناب۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    مجاہد مرزا صاحب نے زیادتی کی ہے اپنے کمنٹ میں۔ایک ایسا شخص مضمون پر رائے دے رہا ہے جو اس فیلڈ کا نہیں لیکن بہت علمی اور وقیع رائے دی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے نہ کہ طعنے دیئے جائیں۔

  • 06-04-2016 at 10:14 am
    Permalink

    Perhaps, Mujahid Mirza has commented without reading the actual write-up. I think Salim Sb has presented his views in simple terminology so that everyone can understand (although am surprised on his grip on the subject.. -D). Other people are now moving it towards more technical information, which should be presented in separate articles. For me, various aspects of this topic is like a disease so it should be cure in that way. Whatever said by American Association is based on their own research.

  • 09-04-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    سلیم جاوید صاحب اپنے مضمون: “مخنث’ لوطی اور تصوف’ میں لکھتے ہیں: ‘ جبکہ ہمارے ہاں، قوم لوط کے نام پر، انہیں لوطی کہتے ہیں۔”
    قرآن کے مطابق اس فعل شنیع کی ابتدا اہل سدوم نے کی’ جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔
    لیکن افسوسناک حد تک حیرت کی یہ با ت ہے کہ ھمارے قدیم مفسرین قرآن سے لے کر عہد حاضر کے مفسرین حضرات (بادنی استثنا) تک عمل قوم لوط کو’لواطت’ اوراس فعل کے مرتکب کو ‘ لوطی’ لکھتے آ رہے ہیں۔ اور کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ دونوں الفاظ لفظ لوط سےمشتق ہیں جوکہ پیغمبر کا اسم گرامی ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قوم کے برے عمل کا نام پیغمبر کےنام پر رکھ دیا جائے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ حالانکہ اردو میں اس مفہوم کے لیے امرد پرستی ایسی بامعنی ترکیب صدیوں سے مستعمل ہے۔ یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اہل مغرب نے نہایت سوجھ بوجھ اورمعقولیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ چنانچہ انگریزی میں’ اہل سدوم کی رعایت سے ان کے اس فعل شنیع کو’ بجا طور پرانہی سے منسوب کرتے ہوے’ sodomy سے موسوم کیا گیا ہے۔ اسی طرح قبل مسیح یونان کی ایک شاعرہ سیفو نے عورت کی عورت سے ہم جنس پرستی کی ابتدا کی تھی۔ اہل علم نے اسی کی نسبت سے اس عمل سیفو کو سیفو ازم کا نام دیا ہے۔ امید ہے ہمارے مفسرین قرآن اوراہل مذہب اس طرف توجہ دیں گے۔
    سلیم جاوید صاحب سے چند ایک گزارشات ان کے ان جملوں کے حوالے سے: “سائکالوجی” کو تصوف اور”سائیکوتھراپی” کو تزکیہ کہا جاتا ہے۔ ہمارا خانقاہی نظام دراصل، نفسیاتی گتھیاں سلجھانے کا نظام ہے۔ شیخِ طریقت، نفسیات داں ہی ہوتے ہیں۔” نمبر1۔ ‘علت مشائخ’ کی تاریخ خانقاہ سے جڑی ہوئ ہے۔ اور آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ: ‘لواطت، ماحول کے جبر سے بھی ابھرتی ہے جیسے اقامتی درس گاہوں،۔ آپ کے علم میں یقینا یہ بھی ہوگا کہ راہبوں نے تزکیہ نفس کے لیے ہی خا نقاہیں قائم کی تھیں اور پھر ان اقامتی تزکیہ گاہوں میں ولدالزنا بچے پیدا ہو ے۔
    نمبر 2۔ مسیحی رہبانیت’ کے بارے میں خود قرآن کیا کہتا ہے(سورہ الحدید آیت نمبر 27 – نصف آخر) اس کا جاننا بہت ضروری ہے۔ نمبر3۔ اسلام میں خانقاہیت کا کوئ تصور موجود نہیں ہے۔ یہ مسیحی رہبانیت کا چربہ ہے۔ ہے۔

Comments are closed.