ہے ہوا میں شراب کی تاثیر….


nasir malik وطنِ عزیز میں موسمِ بہار بھی کسی غریب کی جوانی کی مانند آتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے۔ایک تو موسمِ سرما اور گرما میں گھرے اس موسم کا عرصہ چند ایام میں محدود ہوتا ہے اور دوسرے آج کی مصروف زندگی اور خاص طور پر چند حقیقی اور زیادہ تر خود ساختہ مسائل و تفکرات کے انبار کی موجودگی میں کسے فُرصت ہے کہ وہ موسمِ بہار کی لطافتوں اور رنگینیوں سے لُطف اندوز ہو سکے۔ بیزار طبعوں کو تو ویسے بھی موسمِ گُل کی اٹھکیلیاں کب راس آتی ہیں۔ جمالیاتی ذوق مفقود ہی نہیں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ جن احباب نے انگریزی ادب کے کلاسیکی شاعر ورڈز ورتھ کو پڑھ رکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ نیچر کتنی خوبصورت ہے ، یہ انسان کو کیا پیغام دیتی ہے اور یہ کتنی بڑی ٹیچر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دنیا ہمارے حواس پر چھا گئی ہے ، اور ہم نیچر کے بارے میں بہت کم غوروخوض کرتے ہیں جو کہ ہماری اپنی ہے۔حضرتِ غالب کو بھی یہی گلہ رہا ۔۔فرماتے ہیں :

                   فُرصتِ کاروبارِ شوق کسے                ذوقِ نظارہ جمال کہاں

بہرطور ! ان دنوں یہاں موسمِ گُل ، پھر اک بار ، خوب چھَب دکھا رہا ہے۔ بہار کی جوانی و جوبن کے دن ہیں۔ لگتا ہے بہار پر بہار آئی ہوئی ہے۔ جدھر نظر اُٹھائیے سبزہ و ہریالی تازگی کا ساماں مہیا کرتے نظر آتے ہیں۔ ’ہر ے پات ‘ اور ’ کھِلے پھول ‘ دیکھنے کے لئے ، بقولِ میر، چمن کو چلنا بھی اتنا ضروری نہیں ہے کہ بہاراں کے یہ نظّارے آس پاس ہی مل جاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ واحد موسم ہے جو کسی حد تک اندر کے موسم پر بھی حاوی ہو جاتا ہے۔اس بہار رُت میں چند دن اپنے گاﺅں میں گزارنا برسوں سے میری عادت ہے۔صبح دم اگر باہر نکلیں تو گاﺅں کے آس پاس کھُلے کھُلے کھِلتے کھیت بے پناہ کشش کا ساماں لئے دعوتِ نظّارہ دے رہے ہوتے ہیں۔ سبزے کا ایک سمندر اور اُس پر مستیاں کرتی ساحر ہوا کی موجیں۔۔خوشبوﺅں سے بھری خمار آور بادِ نسیم مزاج میں عجب کیفیت پیدا کرتی ہے۔غالب نے ایسی کیفیت میں ہوا خوری کو ہی بادہ نوشی سے تعبیر کیا ہے۔ فرماتے ہیں :

                   ہے ہوا میں شراب کی تاثیر                         بادہ نوشی ہے باد پیمائی

میرا تجربہ ہے کہ ایسی رُت اور ایسے ماحول میں چند گھنٹے گزارنے سے اگلے کئی روز بلکہ کئی ہفتوں کے لئے ذہن اور بدن میں توانائی جمع ہو جاتی ہے۔طبیعت میں ایسی بشاشت، ایسی تازگی کسی اور موسم میں نصیب نہیں ہوتی۔ تخلیقی کام سے منسلک لوگوں کے لئے موسمِ گُل اک نعمت بے پایاں ہے۔ ”غیب سے مضامین یوں خیال“ میں آتے ہیں کہ تانتا سا بندھ جاتا ہے۔ چراغِ لا لہ سے جیسے ہی کوہ و دمن روشن ہوتے ہیں تو شاعر کو مُرغِ چمن نغموں پر اُکسانے لگتا ہے۔ سخن وروں کو تو خیر! فطری حُسن کی ہر شکل ہی متاثر کرتی ہے۔ فیض صاحب سے ایامِ اسیری کے دوران اُن کے ایک رفیقِ زنداںنے پوچھا، ” حضرت! یہ آپ صبح سحری کے وقت اُٹھ کر کیوں بیٹھ جاتے ہیں۔؟ “ فیض صاحب خاموش رہے اور اگلے دن سحری کے وقت سوال کرنے والے کو اُٹھایا اور زنداں کے ایک طرف سلاخوں کے پاس لے گئے۔ دور صحرا میں کہیں اونٹوں کا کوئی قافلہ رواں تھا اور اُن کے گلے سے بندھی گھنٹیوں کی مترنّم ، مدھر آواز فیض اور اُن کے ساتھی کی سماعتوں تک آ رہی تھیں۔ فیض کہنے لگے، ”یہ آواز مجھے سونے نہیں دیتی اور ہر صبح میں اسے سننے اُٹھ جاتا ہوں“۔ فطرت کے مناظر، پھول، پتّے اور کلیاں باقاعدہ گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ جنہیں ان کو سُننے کا دماغ ہو وہ سُنتے بھی ہیں۔ جوش ملیح آبادی ایسی ہی ایک واردات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی

جھُک کے یہ میں نے کہا ، ”مُجھ سے کُچھ ارشاد کیا؟

فطرت اک بہترین اُستاد کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ فطرتی حسن کے ماحول میں تخلیقی صلاحیتیں جِلا پاتی ہیں۔ تخیّل کو بلند پروازی نصیب ہوتی ہے۔ شاعرِ فطرت نے کہا تھا کہ موسمِ گُل میں کسی جنگل کا ایک نظارہ آپ کو انسان اور اخلاقیات کے متعلق ایسی تعلیم دے سکتا ہے جو شاید آپ کو دانشوارانِ عالم نہ دے سکیں۔ میرے نزدیک زندگی، تازگی اور خوشبوﺅں بھرے اس رنگا رنگ موسم کے دو پیغامات ہیں! پہلا یہ کہ اس کے لئے وقت نکالا جائے۔ اس موسم کو ساتھ لئے اپنے آپ کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی جائے ۔یہ امر یقینی ہے کہ اپنے آپ سے ملاقات کے لئے اس سے بہتر موسم کوئی اور نہیں۔ اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ موسمِ گُل کی خصوصیات اپنے اندر پیدا کی جائیں۔ اگر اس سے منسوب لطافت ، اپنائیت، خوشبو، محبت اور دوسروں کو خوش کرنے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا ہو جائے تو پھر کسی کو اس موسم کی محتاجی نہیں رہے گی۔ پھر سارا سال بہار رہے گی…. کیوں کہ…. محبت ایسا جذبہ ہے…. کہ بہار نہ بھی ہو تو…. خوشبو کم نہیں ہوتی !


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ہے ہوا میں شراب کی تاثیر….

  • 05-04-2016 at 10:51 pm
    Permalink

    Good piece, we have stopped relishing our seasons

Comments are closed.