پنجاب آپریشن پر رسہ کشی


21 حکومت اور فوج کے درمیان پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر رسہ کشی کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبے اور ملک کی سیاسی قیادت اور فوج کے سربراہ جنر ل راحیل شریف کے درمیان تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ کل ہی آرمی چیف نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ بھی موجود تھے۔ تاہم ان معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ابھی تک سیاستدانوں اور فوجی لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا کیوں کہ ملاقات کے متن کے بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ اصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ فوج کو بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ صوبائی حکومت کا استحقاق ہے لیکن عام آدمی ان باریکیوں کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ اپنے جان و مال کا تحفظ چاہتا ہے اور ملک میں امن کا خواہاں ہے۔

یوں بھی پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب پولیس بھی دیگر صوبوں کی طرح انتہا پسند اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملک کے باقی تین صوبوں میں رینجرز یا ایف سی فورس نے کسی حد تک کامیابی سے ان عناصر کو دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کیا ہے۔ اس لئے ملک کے عوام اور اپوزیشن سیاست دان اس بات پر متفق ہیں کہ پنجاب میں بھی رینجرز کی کارروائی کے خاطر خواہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ البتہ پنجاب حکومت کو بھی وہی خدشات لاحق ہیں جو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو لاحق تھے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں برسر اقتدار طبقے کے بعض بااثر لوگوں پر بھی گرفت ہو سکتی ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ میاں نواز شریف کراچی اور سندھ میں اس معاملہ پر فوج کے مؤقف کی حمایت کرتے تھے لیکن پنجاب میں مسلسل فوج کے اقدامات کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ حکومت کا مؤقف کسی اصول پر استوار نہیں ہے اور نہ ہی اسے پنجاب حکومت کے آئینی حق کی فکر ہے۔ اس کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں بھی سندھ کی طرح بعض بااثر لوگوں کا نام ایسی مالی بدعنوانی میں سامنے نہ آجائے جو بالواسطہ طور سے دہشت گردوں کی مالی اور عملی اعانت کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ رویہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے ناقابل قبول ہے۔ اسی لئے عوام کو فوج کی بات زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آتی ہے اور سیاستدانوں کی پیچیدہ اور مشکل وضاحتوں سے انہیں وحشت ہونے لگتی ہے۔

فوج کافی عرصہ سے پنجاب میں آپریشن کرتے ہوئے یہاں سے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ٹھکانے ختم کرنا چاہتی تھی۔ تاہم گزشتہ اتوار کو لاہور کے گلشن اقبال پارک میں خود کش حملہ کے بعد اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور آرمی چیف نے فوری طور سے آپریشن شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی اور وفاقی حکومت اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور فوج کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس آپریشن کو بند کردے۔ فوج کی قیادت دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اس کارروائی کو ضروری سمجھتی ہے۔ عام شہری کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر فوج دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہتی ہے اور پوری قوم اس پر متفق ہے تو پنجاب اور وفاق کی حکومت اس کی راہ میں کیوں روڑے اٹکا رہی ہے۔

یہ اصول اور آئینی معاملہ اپنی جگہ اہم ہے کہ فوج سول حکومت کے ماتحت ادارہ ہے اور اسے سیاسی حکم کے بغیر بیرکوں سے نہیں نکلنا چاہئے۔ لیکن اس اصول کو نافذکرنے کے لئے پہلے سیاسی حکومت اور سول انتظامی ڈھانچہ کو مستحکم اور قابل اعتبار بنانا ہوگا۔ ملک کے وسیع علاقوں میں فوج کے آپریشن پر تو سول حکومت کان لپیٹے فوج کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے لیکن پنجاب کے سوال پر مرنے مارنے پر آمادہ ہے۔ اس رویہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ فوج کے ساتھ آپریشن کی حدود اور مقاصد پر اتفاق کرکے اس کی باقاعدہ اجازت دی جائے۔ کیوں کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے بہترکون اس بات کو جانتا ہوگا کہ موجودہ حالات میں، جنہیں پیدا کرنے میں کچھ کردار میاں برادران کا بھی ہے، ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali