ایسرا اور کنیسرا نے چوریوں سے مال بنایا


ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے۔ ایسرا ہندو تھا اور کنیسرا مسلمان۔ یہ دونوں ساجھے داری میں کاروبار کرتے تھے۔ کسی زمانے میں وہ بہت امیر تھے لیکن اب وقت نے پلٹا کھایا تو وہ غربت کا شکار ہو گئے تھے۔

کنیسرا ایک دن ایسرا کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ”مجھے کچھ پیسے ادھار دو، یا کچھ غلہ یا روٹی۔ ہمارے گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے“۔
ایسرا نے جواب دیا ”ادھر بھی یہی حال ہے“۔

کنیسرا کے جانے کے بعد ایسرا نے اپنی بیوی کو کہا ”ہمارے پاس صرف ایک پیتل کی پلیٹ اور گلاس بچا ہے جس کی کوئی قیمت لگ سکتی ہے۔ حفاظت کے لئے اسے ہمارے بستر کے اوپر لگے چھینکے میں لٹکا دو اور پلیٹ کو پانی سے بھر دو۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے سونے کے بعد کنیسرا اسے چرانے کی کوشش کرے گا۔ پلیٹ میں سے پانی نیچے گرے گا تو ہم جاگ جائیں گے“۔

واقعی ایسا ہوا۔ رات کو کنیسرا یہ پلیٹ چرانے آیا۔ مدہم چاندنی میں اس نے دیکھا کہ پلیٹ بستر کے اوپر چھینکے میں رکھی ہے۔ لیکن وہ ایک چالاک شخص تھا اور جانتا تھا کہ ایسرا نے ضرور کوئی چکر چلایا ہو گا۔ اس نے پلیٹ میں ایک انگلی ڈال کر دیکھا تو اس میں پانی تھا۔ وہ باہر گیا اور کچھ ریت لے کر آیا اور اسے آہستگی سے پلیٹ میں ڈال دیا۔

ریت نے سارا پانی چوس لیا۔ کنیسرا نے پلیٹ کو اٹھا کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور اپنے گھر کی طرف چلا۔ راستے میں اس نے سوچا کہ پلیٹ بیچنے سے پہلے چند دن اسے چھپا کر مناسب موقعے کا انتظار کرنا چاہیے۔

وہ ایک تالاب کے پاس پہنچا تو اسے یہ جگہ مناسب لگی۔ وہ تالاب کے اندر چند قدم اترا اور پلیٹ کو کیچڑ میں دفن کر دیا۔ ایک سرکنڈے کو اس جگہ لگا کر اس نے نشانی مقرر کی اور اپنے گھر جا کر سو گیا۔

اگلی صبح ایسرا جاگا تو پلیٹ غائب دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ چیخا ”کنیسرا یہاں آیا تھا، وہ پلیٹ لے گیا ہے“۔ وہ فوراً کنیسرا کے گھر پہنچا مگر اسے پلیٹ کا کوئی نشان نہ ملا۔ وہ تھک ہار کر اپنے گھر واپس چلا تو راستے میں تالاب کے پاس سستانے کے لئے بیٹھ گیا۔ اس کی نظر سرکنڈے پر پڑی اور وہ سوچنے لگا ”یہ کل تو یہاں نہیں تھا۔ اچانک کیسے اگ آیا ہے؟ یہ ضرور کنیسرا کا چلایا ہوا کوئی چکر ہے“۔ یہ سوچ کر وہ پانی میں اترا اور سرکنڈے کے نیچے اپنی پلیٹ پا کر خوش ہو گیا۔ اس نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور سرکنڈے کو دوبارہ ویسے ہی لگا کر اپنے گھر چلا گیا۔

دو دن بعد کنیسرا پلیٹ نکالنے گیا تو اسے غائب پایا۔ ”ایسرا نے اسے ڈھونڈ نکالا“، اس نے اداس ہو کر سوچا۔ وہ ایسرا کے گھر گیا اور اسے کہنے لگا ”میرے دوست ایسرا، ہماری حالت بہت بری ہو چکی ہے۔ چلو اکٹھے مل کر کسی دوسرے علاقے چلتے ہیں اور کسی جائز ناجائز طریقے سے پیسے کماتے ہیں۔ “

ایسرا مان گیا اور دونوں نے سفر شروع کیا۔ وہ ایک شہر میں پہنچے جہاں بھنوشا نامی ایک امیر تاجر نے ایک دن پہلے ہی وفات پائی تھی اور اسے شمشان گھاٹ پر جلایا گیا تھا۔ ایسرا نے اپنے ساتھ لائے ہوئے بہی کھاتوں میں رد و بدل کیا اور اس تاجر کے نام کے آگے چالیس ہزار کی رقم کا اندراج کر دیا۔

جب رات ہوئی تو دونوں دوست شمشان گھاٹ گئے اور انہوں نے تاجر کی چتا کے نیچے گڑھا کھود کر چھپنے کی جگہ بنا لی۔ اس گڑھے میں کنیسرا چھپ گیا اور ایسرا نے مٹی اور لکڑیاں ڈال کر اس کا نشان ختم کر دیا۔

اب ایسرا اپنے کھاتے لے کر بھنوشا کے گھر پہنچا اور اس کے بیٹوں کو کہنے لگا ”تمہارے سورگ باشی دادا اور پتا کا ہم لوگوں سے حساب چل رہا تھا۔ ان کی طرف کل چالیس ہزار اشرفیاں نکلتی ہیں اور اب ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ ہمیں ادائیگی کی جائے“۔

بھنوشا کے بیٹوں نے پہلے پہل تو انکار کیا۔ ”ہماری طرف ایک دھیلہ بھی نہیں نکلتا۔ تم اتنا بڑا حساب پہلے کبھی کیوں نہیں لائے جب پتا جی زندہ تھے؟ “
ایسرا نے جواب دیا ”حساب بالکل سچا ہے۔ میں تمہارے سورگ باشی پتا جی کی آتما سے سوال کرتا ہوں کہ انصاف کریں۔ ان کی چتا پر چل کر پوچھ لیتے ہیں کہ ان کی آتما کیا فیصلہ کرتی ہے“۔
بھنوشا کے بیٹوں کو لگا کہ یہ ایسرا سے جان چھڑانے کا بہترین طریقہ ہے۔ ارتھی کہاں سے جواب دے گی۔ سب شمشان گھاٹ پہنچ گئے۔

ایسرا ادھر پہنچ کر بلند آواز میں بولا ”بھنوشا، تم ستیہ کے نشان تھے اور زبان دے کر کبھی نہ پھرتے تھے۔ کیا تم نے ہمارا چالیس ہزار اشرفیوں کا قرض دینا ہے یا نہیں؟ “ کوئی جواب نہیں آیا۔ بھنوشا کے بیٹے خوش ہو گئے۔ ایسرا نے دوسری مرتبہ یہی آواز دی مگر جواب نہیں آیا۔ تاجر کے بیٹے واپس پلٹنے کا سوچ رہے تھے کہ ایسرا نے تیسری مرتبہ آواز دی۔

اس مرتبہ جلی ہوئی چتا سے ایک گھٹی گھٹی آواز آئی ”میں نے تمہارے چالیس ہزار دینے ہیں ایسرا۔ میرے بیٹو، تم نے میری آتما کو مکتی دلانی ہے تو ایسرا کا حساب چکتا کر دو ورنہ میری آتما سنسار میں بھٹکتی رہے گی اور خود حساب چکتا کرے گی“۔

بھنوشا کے بیٹوں کا دہشت سے برا حال ہو گیا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر گئے اور قرض ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ اپنے گھر لے جا کر انہوں نے ایسرا کو گن کر چالیس ہزار اشرفیاں دے دیں۔

ایسرا اپنے منصوبے کی کامیابی پر اتنا زیادہ خوش ہوا کہ اسے کنیسرا کو گڑھے سے نکالنا یاد ہی نہ رہا اور وہ فوراً اپنے خچر پر سوار ہو کر شہر سے نکل گیا۔ اب تک کنیسرا گڑھے میں چھپے چھپے تھک چکا تھا۔ اس نے سوچا ”حیرت ہے کہ ابھی تک ایسرا کیوں نہیں آیا۔ کہیں کوئی گڑبڑ لگتی ہے“۔ یہ سوچ کر اس نے گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کی اور کچھ دیر میں نکل آیا۔

بھنوشا کے گھر جا کر اس نے ایسرا کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ اپنا قرضہ لے کر شہر سے چلا گیا ہے۔ ”وہ دیکھو وہ دور پہاڑی پر ایسرا اپنے خچر پر جا رہا ہے“۔ بیٹوں نے اشارہ کیا۔

کنیسرا اس راستے پر ایسرا کا تعاقب کرنے لگا۔ ادھر ایسرا کو راستے میں ایک سونے کے کام والا جوتا پڑا دکھائی دیا۔ لیکن وہ اپنے خزانے پر اتنا خوش تھا کہ اس نے اس زریں جوتے کے لئے رکنے کی زحمت اٹھانی مناسب نہ سمجھی۔

لیکن جب کنیسرا وہاں پہنچا تو اس نے جوتا اٹھا لیا۔ اسے پہاڑی موڑوں پر کچھ آگے ایسرا جاتا دکھائی دیا۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ آیا اور اس نے راستہ چھوڑ کر سیدھی ڈھلانیں اترتے ہوئے شارٹ کٹ لگائی اور ایسرا سے کچھ آگے پہنچ گیا اور جوتا راستے پر ڈال کر خود ایک طرف چھپ گیا۔

ایسرا جب وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک دوسرا سنہرا جوتا پڑا ہوا ہے۔ ”یہ تو اس جوتے کا دوسرا پیر ہے جو مجھے پیچھے دکھائی دیا تھا۔ “ یہ کہہ کر وہ نیچے اترا اور جوتا اٹھا کر اپنے خچر کو ایک درخت سے باندھ دیا اور دوسرا پیر اٹھانے کو پیدل واپس دوڑا۔

جیسے ہی ایسرا نظروں سے اوجھل ہوا تو کنیسرا اپنی کمیں گاہ سے باہر نکلا اور خچر پر بیٹھ کر تیزی سے آگے چل پڑا۔ ایسرا کو جوتا نہیں ملا تو واپس پلٹا اور خچر کو غائب دیکھ کر کہنے لگا ”کنیسرا یہاں پہنچ گیا“۔ وہ تیزی سے اپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔

کنیسرا آدھی رات کو اپنے گاؤں پہنچا اور اندھیرے میں چھپ کر اپنے گھر میں داخل ہوا۔ اس نے خچر سے سامان اتارا اور اسے باہر جنگل میں چھوڑ آیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کی مدد سے گڑھا کھود کر پیسے اس میں دبا دیے اور اوپر سے لپائی کر دی۔ اس کے بعد وہ گھر سے چلا گیا اور اپنی بیوی کو منع کیا کہ اس کی آمد کے بارے میں کسی کو نہ بتائے۔

دوسری طرف ایسرا اپنے گھر پہنچا اور اپنی بیوی کو ساری بات بتائی۔ اس کا بھی یہی خیال تھا کہ پیسے کنیسرا کے پاس ہیں۔ ”اس نے ضرور پیسے اپنے گھر میں ہی کہیں دفن کیے ہوں گے“ ایسرا نے کہا۔

اگلی رات ایسرا کی بیوی نے کنیسرا کی بیوی کو رات کے کھانے کی دعوت دی۔ اس دوران ایسرا اس کے خالی گھر میں پہنچا اور ایک جگہ فرش پر تازہ لپائی کے نشان دیکھ کر کھودا تو ادھر پیسے نکل آئے۔ اس کے بعد اس نے گڑھے کو دوبارہ برابر کر کے پلستر کیا اور اپنے گھر کے پاس چھپ گیا۔ جب اس نے کنیسرا کی بیوی کو واپس جاتے دیکھا تو اپنے گھر میں گڑھا کھود کر پیسے وہاں دبائے اور خود ایک خشک کنویں میں چھپ گیا۔ اس نے اپنی بیوی کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اسے روز کھانا پانی پہنچایا کرے۔ (جاری ہے)۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

اس سیریز کے دیگر حصےایسرا اور کنیسرا نے ڈاکوؤں کو لوٹا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1057 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar