نون لیگ کی جیت اور شاہ محمود قریشی کی مٹھائی


سکول کے زمانے میں خرگوش اور کچھوے کی کہانی پڑھی تھی۔ یہ کہانی تو ہم کب کے بھول چکے تھے کہ 12 فروری 2018 کو حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے نتیجہ نے بھولی بسری کہانی کو یاد کروا دیا۔ یادش بخیر ہم نے انہی کالموں میں آپ سے عرض کیا تھا کہ این اے 154 کے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی یقینی ہے۔ اس کی وجہ بڑی سیدھی سادی تھی کہ جہانگیر ترین نے جب خود ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو تب سے لے کر ان کی نااہلی تک ان کا جانشین علی ترین حلقہ میں سرگرم تھا۔

جب عدالت نے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا تو وہ اپنے حلقہ میں بیٹے علی ترین کو اس لیے لے آئے کہ علی ترین کے لیے حلقہ کے لوگ اور مخالف دھڑے نئے نہیں تھے۔ جب تحریکِ انصاف نے جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس ٹکٹ کی مخالفت میں بھی کوئی مؤثر آواز بلند نہ ہوئی کہ پارٹی کے اندر جہانگیر ترین کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خود عمران خان بھی پسند نہیں کرتے۔ بہرحال علی ترین کو ٹکٹ ملتے ہی تحریکِ انصاف لودھراں کا ”مال کماؤ گروپ“ سرگرم ہو گیا۔ تجوریوں کے منہ کھل گئے لیکن اس مرتبہ جہانگیر ترین کو بھی یقین تھا کہ ان کے بیٹے کی جیت یقینی ہے کہ گزشتہ ضمنی انتخاب کے فیض یافتہ تمام لوگ مزید ”فیض“ حاصل کرنے کے لیے ”آستانہ عالیہ جہانگیر ترین“ پر جمع ہو چکے تھے۔ لالچی اور خوشامدی ٹولے سرگرم ہو کر جہانگیر ترین کو سہانے خواب دکھانے لگے۔ اور تو اور گزشتہ انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ سے بری طرح ہارنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ کو چھوڑ کر لودھراں کو اپنا مسکن بنایا اور ایک ایسے علاقے میں انتخابی مہم شروع کی جہاں کی زبان اور لوگ دونوں ہی ان کے لیے نئے تھے۔ لیکن ان کے بیانات اور تصاویر جب ہم پڑھتے اور دیکھتے تو حیران ہوتے کہ جہانگیر ترین اپنے بیٹے کی انتخابی مہم خراب کرنے کے لیے ان کو اتنی دور سے لودھراں کیوں بلایا۔ اس کام کے لیے ملتان سے بھی خواتین عہدےداروں کو زحمت دی جا سکتی تھی۔

انتخابی مہم سے پہلے اس حلقہ میں ن لیگ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اچھے اُمیدوار کا انتخاب تھا۔ سابق ایم این اے اور سابق اُمیدوار صدیق خان بلوچ تو ن لیگ سے اتنے دلبرداشتہ تھے کہ انہوں نے ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا۔ درونِ خانہ یہ خبریں بھی آ رہی تھیں کہ صدیق بلوق نے جہانگیر ترین کے ہاتھوں بیعت کرلی ہے کہ اب وہ اپنے بیٹے کو جہانگیر ترین کے ساتھ ایم پی اے کا انتخاب لڑانا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کا رویہ بھی آغاز میں کچھ ایسا ہی تھا کہ جو نشست تحریکِ انصاف کی ہے وہاں پر اتنی محنت کیوں کی جائے۔ ایسے میں صدیق بلوچ میدان چھوڑ گئے تو وفاقی وزیر ملک عبدالرحمٰن کانجو کی نظرِ انتخاب پیر اقبال شاہ جیسے درویش پر جا ٹھہری۔ صدیق بلوچ کی جگہ مبصرین نے جب ن لیگ کی طرف سے اقبال شاہ کا نام سنا تو نوے فیصد تجزیہ کار یہ کہہ اٹھے کہ حلقہ این اے 154 کی سیٹ ایک مرتبہ پھر جہانگیر ترین لے جائیں گے۔ عبدالرحمن کانجو نے اس حلقے میں بڑے جلسے کرنے کی بجائے گھر گھر جا کر ووٹ مانگنے شروع کیے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی پیر اقبال شاہ کے لیے ووٹ مانگتے نظر آئے جو صدیق بلوچ کے مخالف تھے۔ دوسری جانب جہانگیر ترین اس بات پر خوش تھے کہ عمران خان ایک جلسہ کر ے ان کی کامیابی کو یقینی بنا گئے ہیں۔ علی ترین اپنے والد کے ہیلی کاپٹر پر انتخابی مہم چلا رہے تھے یعنی ایک طرف بوریا نشین پیر اقبال شاہ تو دوسری جانب ہیلی کاپٹر پر سوار علی ترین۔

اس موقع پر ہمیں ملتان کے سدابہار سیاست دان شیخ خلیل احمد مرحوم یاد آ گئے۔ شیخ خلیل احمد ساری زندگی نوابزادہ نصراﷲ خان کی تانگہ پارٹی سے ایم اپی اے منتخب ہوئے۔ پھر پی پی میں چلے گئے پی پی سے اختلافات ہوئے تو ن لیگ سے الیکشن لڑا اور کامیاب بھی ہوئے۔ مرنے سے پہلے انہوں نے آخری الیکشن ن لیگ سے لڑا۔ شیخ خلیل احمد جس حلقے سے ہمیشہ جیت کر اسمبلی میں جاتے تھے اس حلقہ کا زیادہ تر حصہ ان کا اپنا رقبہ تھا جہاں وہ کپاس کاشت کراتے تھے۔ چونکہ خود بڑے زمیندار تھے اس لیے ہزاروں کی تعداد میں کاشتکار انہی کی زمین کے ذریعے اپنا گزر اوقات کرتے تھے۔ آخری الیکشن میں شیخ خلیل احمد بری طرح ہار گئے تو ایک دن ہم بیٹھے ہارنے کی وجوہات تلاش کر رہے تھے۔ شیخ خلیل احمد کہنے لگے شاکر بھائی میرے حلقے کے لوگ اب بہت باشعور ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں میں ووٹ ڈالنے آ جاتے تھے۔ اس مرتبہ جب میں ان کے پاس ووٹ مانگنے گیا ہوں تو اکثریت نے مجھے کہا شیخ صاحب اگر آپ نے ہم سے ووٹ لینا ہے تو ٹریکٹر ٹرالی کی بجائے وہی گاڑی ہمیں بھجوانی ہے جس پر آپ خود سواری کرتے ہیں۔ یاد رہے یہ اس دور کی بات ہے کہ جب جنوبی پنجاب کا ہر سیاستدان پجارو پر چڑھا ہوا تھا۔

کوئی اسی قسم کی صورتِ حال بھی جہانگیر ترین کے ساتھ ہوئی۔ ایک طرف ہیلی کاپٹر کی سیر تھی تو دوسری طرف پیر اقبال شاہ کی درویشی۔ آخر علی ترین مختصر سی انتخابی مہم میں کتنے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کی سیر کروا سکتے تھے۔ عبدالرحمن کانجو کچھوے کی رفتار سے چلتے رہے اور علی ترین خرگوش کی رفتار سے۔ لوگوں نے ہیلی کاپٹر پر سیر کی لیکن ووٹ پیر اقبال شاہ کو دیئے۔ جہانگیر ترین کے لیے یہ سال اچھا نہیں ہے کہ پہلے سپریم کورٹ نے نااہل کیا۔ اب بیٹا کروڑوں روپے لگا کر بھی اسمبلی نہ پہنچ سکا۔ حلف اٹھانے والا سوٹ اب وہ کسی اور جگہ پہنیں گے۔ جبکہ بوریا نشین پیر اقبال شاہ اسمبلی میں جا کر پیرنی کے خاوند عمران خان کا منہ چڑائے گا۔ این اے 154 کے نتائج کے بعد معلوم ہوا کہ پی پی کا ووٹ بینک ابھی تک اُسی جگہ پر کھڑا ہوا ہے جہاں پر یہ پارٹی 2013 میں کھڑی تھی۔ اگرچہ پی پی کے اُمیدوار کی انتخابی مہم کے لیے کوئی بڑا لیڈر لودھراں نہیں آیا۔ البتہ اس انتخاب کے ذریعے پی پی کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مرزا ناصر بیگ ن لیگ چھوڑ کر پی پی میں واپس آ گئے۔ یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔

مرزا ناصر بیگ پی پی چھوڑ کر ن لیگ میں گئے کہ وہاں پر کچھ عزت و احترام ملے گا لیکن جب ن لیگ نے نو لفٹ کا بورڈ دکھایا تو پی پی میں آ گئے۔ ان کے بیٹے علی ناصر بیگ کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اب ان کو پچھتاوا ہو رہا ہو گا کہ کاش ن لیگ میں رہتے تو کم از کم وہ رقم تو بچ جاتی جو انہیں ضمانت ضبط کرانے کے لیے این اے 154 میں پی پی کی ٹکٹ پر لگائی۔ ضلع لودھراں میں این اے 154 کے نتائج کے بعد اب سب سے مضبوط رہنما عبدالرحمن کانجو ثابت ہوئے جس نے ن لیگ کی ڈولتی نیّا کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔ جہانگیر ترین سوچ رہے ہوں گے کاش وہ اپنے بیٹے کی بجائے پارٹی کے کسی کارکن کو ٹکٹ دیتے تو اتنا خرچہ نہ ہوتا۔ وہ پچھتاوے کے ہائی وے پر سفر کر رہے ہیں۔ صدیق بلوچ کا پچھتاوا سب سے زیادہ ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل پیر اقبال شاہ چھین کر لے گئے۔ جنرل انتخابات میں صدیق بلوچ یا ان کے بیٹے کو ن لیگ ٹکٹ دیتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی نوجوان عبدالرحمن کانجو کے ہاتھ میں ہے۔

جہانگیر ترین اگر یہ انتخاب جیت جاتے تووہ تحریکِ انصاف میں مضبوط گروپ بنا جاتے۔ اب ان کی رائے کو عمران خان کتنی اہمیت دیتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اس نتیجہ کے بعد مخدوم شاہ محمود قریشی تحریکِ انصاف میں اچھی پوزیشن میں آگئے کہ پارٹی میں ان کی مخالفت تو جہانگیر ترین گروپ ہی کر رہا تھا۔ اس رزلٹ کے بعد شاہ محمود قریشی کو کھل کھیلنے کا موقعہ ملے گا۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے ہمراہ لودھراں کے جلسہ عام میں شرکت تو کی تھی لیکن ان کے جہانگیر ترین سے اختلافات کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ اس لیے تو شاہ محمود قریشی گروپ بھی درونِ خانہ خوش دکھائی دے رہا ہے۔ ن لیگ کی کامیابی اگرچہ متوقع ہے لیکن اس کے باوجود ن لیگ نے پیر اقبال شاہ کی صورت میں عمر رسیدہ اُمیدوار نامزد کیا۔ اس نے دو نوجوانوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لودھراں کے عوام نے ایک بزرگ کو منتخب کروا کر یہ پیغام دیا کہ ان کے دلوں میں آج بھی بزرگوں کا احترام موجود ہے۔ ن لیگ نے بڑے جلسوں کی بجائے یونین کونسل کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا جس میں انہیں کامیابی ملی۔ الیکشن ڈے پر ن لیگ پلاننگ کے تحت ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں پر لائی۔ حتیٰ کہ ن لیگ کے حامی تحریکِ انصاف کی مہیا کردہ سواری کے ذریعے ووٹ ڈالنے آئے۔

دوسری طرف تحریکِ انصاف کے ورکرز اس مرتبہ سیٹ بچانے کی بجائے لاکھوں روپے کمانے میں مصروف ہے۔ مڈل مین نے تمام پیسے خود رکھ لیے جس کے بعد 50 ہزار ووٹ کی لیڈ کا خواب دیکھنے والے علی ترین، بدترین شکست سے دوچار ہو گئے۔ اگر تحریک لبیک یارسول اﷲ کا اُمیدوار نہ کھڑا ہوتا تو وہ 10275 ووٹ بھی پیر اقبال شاہ کو ملتے۔ یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ پیر اقبال شاہ اور ان کی ٹیم نے اس الیکشن میں بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ پیر اقبال شاہ کی فتح میں لودھراں شہر کے میونسپل سربراہ نے بھی تحریکِ انصاف کو ہر یونین کونسل میں شکست سے دوچار کیا۔ اس کی وجہ سے جہانگیر ترین اپنے گھر کی یونین کونسل سے بھی ہارے۔ دوسری جان پیر اقبال شاہ کے بیٹے عامر شاہ جس حلقے سے ایم پی اے ہیں وہاں پر بھی پی ٹی آئی کے مضبوط اُمیدوار شفیق ارائیں اور آصف اعوان مل کر بھی جیت کا سامان پیدا نہ کر سکے۔ اس مرتبہ ایم پی اے حلقہ 211 احمد خان بلوچ اور سابق ایم پی اے رفیع الدین بخاری نے بھی کھل کر پیر اقبال شاہ کا انتخابی اقبال بلند کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ ان دونوں اصحاب نے گزشتہ انتخاب میں صدیق بلوچ کی اندرون خانہ مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ ن لیگ نے تمام ناراض دھڑوں کو رام کیا اور آخرکار کامیابی نے پیر اقبال شاہ کے قدم چوم لیے۔

آخر پیر اقبال شاہ کامیاب کیوں ہوئے؟ یہ سوال پورے ملک کے سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ پیر اقبال شاہ کی کامیابی کیا نواز شریف کی کامیابی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں این اے 154 میں ن لیگ کی کامیابی بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ کیا آنے والے انتخابات میں بھی ن لیگ کلین سویپ کرنے جا رہی ہے۔ حلقہ 154 میں فاتح قرار پانے کے بعد ن لیگ کو مجموعی طور پر یہ بھی فائدہ ہوا ہے کہ اس سے ہوا کے رُخ کا اندازہ ہو گیا۔ ن لیگ کے وہ ایم پی اے و ایم این اے اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد تحریکِ انصاف میں اپنے معاملات طے کر چکے تھے۔ وہ بھی اب پارٹی چھوڑنے کے متعلق سوچیں گے۔ اس انتخاب نے تحریکِ انصاف کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کو نئی زندگی ملی جبکہ پی پی کے بارے میں ہمارے دوست ڈاکٹر عباس برمانی کا جملہ پڑھ لیں اور لطف اٹھائیں کہ پی پی پنجاب میں اپنے اُمیدواروں سے کیسا سلوک کر رہی ہے۔

”پیپلز پارٹی پنجاب کے الیکشنز میں کمپین نہیں کرتی صرف ٹکٹ ہولڈرز کو بے عزت کرتی ہے“

آخر میں ن لیگ کے پیر اقبال شاہ کو چند ہفتوں کے لیے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد۔ اس کے ساتھ ساتھ مخدوم شاہ محمود قریشی کو مبارک دینا چاہیں گے۔ اس موقع پر آپ یہ مت پوچھیں کہ ہم شاہ محمود قریشی سے مٹھائی کا تقاضا کیوں کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے پیر اقبال شاہ سے ہماری راہ و رسم نہیں البتہ پیر شاہ محمود قریشی ہمارے ملتان کے ہیں۔ ہمیں تو بس پیر کے جیتنے کی خوشی میں مٹھائی کھانی ہے اس لیے ملتانی پیر سے مطالبہ مٹھائی کا کر دیا ہے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں