پاکستانی مسیحی خواتین کے لئے احترام کا حق


جنوری 2018 میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے، سنگل بنچ کی جانب سے مسیحی تنسیخِ نکاح 1869 کے قانون کی شق 7 کو بحال کرنے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کا آغاز کیا۔ اگرچہ یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے تاہم یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ سیکشن 7 کی منطق کو سمجھا جائے۔

 مسیحی تنسیخِ نکاح 1869 کے قانون کی شق7 کی بحالی کے ذریعے پاکستانی عدالتیں مسیحی جوڑوں سے متعلق تنسیخِ نکاح کے معاملات پر، برطانیہ میں لاگو قانون کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں رائج مسیحی تنسیخِ نکاح کے سیکشن 7 کو جنرل ضیا الحق نے 1981 میں ایک آرڈینیس کے ذریعے منسوخ کر دیا تھا۔ اس شق کی منسوخی کے بعد پاکستانی مسیحی برادری کے پاس تنسیخِ نکاح سے متعلق معاملات کے حل کے لیے اس قانون کی شق 10 کا ذریعہ ہی رہ گیا، جس کے تحت کسی ایک فریق کو زنا کار ثابت کرنے پر ہی نکاح کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

شق 10 کے تحت خاوند صرف زنا کاری کی بنا پر ہی تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے اور بیوی زنا کاری کے الزام کے علاوہ تبدیلیِ مذہب، دوسری شادی یا دیگر ظالمانہ جرائم مثلاً آبرو ریزی، ہم جنس پرستی یا حیوانیت کے ارتکاب کی بنا پر تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائرکر سکتی ہے۔ لیکن بیوی اگر تنسیخِ نکاح کا دعویٰ شوہر پر زنا کاالزام عائد کیے بغیردائر کرے تو عدالت mensa et thoro  طلاق کا فیصلہ جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ جس کے تحت گو کہ وہ جوڑا علیحدہ رہ سکتا ہے لیکن اُن کی میاں بیوی کی قانونی حیثیت قائم رہتی ہے۔ یہ اقدام ایک طرف تو جبری طور پر اُس جوڑے کو ایسے بندھن میں باندھے رکھتا ہے، جو کہ بنیادی طور پر اپنی اساس کھو چُکا ہوتا ہے اور دوسری جانب دونوں افراد کی نئی زندگی کے آغاز میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

1981ء میں مسیحی تنسیخِ نکاح کے سیکشن 7 کے منسوخ کیے جانے کے بعد، مسیحی جوڑے نا قابلِ ایفا شادی کی صورت میں ایک دوسرے کی عزتِ نفس کو نقصان پہنچائے بغیربا وقار طریقے سے” طلاق بغیر تہمت” لگائے حاصل نہیں کر سکتے اور بحالتِ مجبوری یا تو زنا اور دیگر ظالمانہ افعال کے ارتکاب جیسے جھوٹے الزامات لگا کر ایک دوسرے کے انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں، یا تبدیلیِ مذہب اور دوسری شادی جیسے اقدامات عمل میں لاتے ہیں۔ مسیحی تنسیخِ نکاح کے سیکشن 7 کی منسوخی کے بعد مسیحی برادری میں نا قابلِ ایفا ازدواجی بندھن کو باآسانی ختم کرنے اور زنا جیسے الزام سے بچنے کے لیے تبدیلی ِ مذہب کا رحجان بھی دیکھنے میں آیا۔

شق نمبر 10 کے ذریعے تنسیخِ نکاح کے بعد مسیحی خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جیسا کہ ایک پدرسری معاشرے میں زنا کے الزام پر روایتی اور متعصبانہ سماجی رویے، جو کہ اُن کے انسانی وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ سماجی رویے تنسیخِ نکاح کے بعد مسیحی خواتین کے باوقار زندگی کے آغاز کے امکانات کو معدوم کرتے ہیں تو دوسری جانب اُس خاتون اور اُس کے خاندان کے نفسیاتی و جذباتی دباو میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ صورتِ حال مسیحی خواتین کی سماجی پسماندگی میں اضافہ کرتی ہے جو کہ پہلے سے ہی ایک پدرسری معاشرے میں بطور خاتون اور بطورِ خاص ایک اقلیتی خاتون ہونے کے ناتے پسماندگی کا شکار ہوتی ہیں۔

مندرجہ بالا حقائق کے ضمن میں یہ جاننا نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ ایسے تمام ممالک میں جہاں مسیحی آبادی اکثریت میں ہے، گو کہ سماجی سطح پر طلاق کو سراہا نہیں جاتا بلکہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، لیکن اگر شادی ناقابلِ ایفا صورتِ حال اختیار کر لے تو حکومت کی جانب سے طلاق پر ممانعت نہیں۔ بیشتر یورپی ممالک میں 1950 سے قبل ہی ناقابلِ ایفا شادی کی صورت میں طلاق بغیر تہمت لگائے حاصل کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔ مسیحی اکثریت والے کئی ممالک بشمول امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ اور آسٹریلیا میں 1970 سے” طلاق بلا تہمت” کا قانون رائج ہے۔ حتیٰ کہ 2001 میں بھارت میں بھی مسیحی تنسیخِ نکاح کے قانون میں ترمیم کے ذریعے طلاق بلا تہمت کی شق شامل کی گئی۔

مندرجہ بالا حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مسیحی اکثریت والے ممالک میں ناقابلِ ایفا شادی کی بنا پر طلاق بلا تہمت کا قانون اور رواج موجود ہے۔ جبکہ پاکستانی مسیحی جوڑے نا قابلِ ایفا شادی کی صورت میں طلاق بلا تہمت کے ذریعے باعزت طریقے سے انسانی وقار کو قائم رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔ جس کا مطلب یہ ہو ا کہ اگر کسی سے شادی دھوکے اور غلط بیانی کی بنا پر کی گئی ہے یا شادی کے بعد دیگر ناگزیر وجوہات مثلاً گھریلو تشدد وغیرہ کے ارتکاب کی صورت میں یا تو وہ جوڑے ایک دوسرے پر زنا کا الزام لگائیں اور اُسے ثابت کریں یا پھر اس غلاظت سے بچنے کے لیے تبدیلیِ مذہب اور دیگراقدام اُٹھائیں۔

ہمیں یقیناً سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسیحی تنسیخِ نکاح 1869 ریاستی قانون ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ برابری اور غیر متعصب اصولوں کی بنیاد پر وضع کیے گئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے نیز ملکی قوانین کے ذریعے بغیر کسی تعصب کے اپنے شہریوں کے مابین برابری کو یقینی بنائے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 اور26 بطورِ خاص خواتین کے لیے بلا امتیازاورمساویانہ بنیادوں پر اقدامات کی یقین دہانی کرواتا ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی انسانی وقار کو خصوصی اہمیت دیتا۔ ریاستِ پاکستان پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق،بطورِ خاص عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیازات کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے (CEDAW)  کے تحت یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کے خلاف امتیازات کی ہر شکل کا خاتمہ کرے نیز تمام شہریوں کے معاشی، سماجی، ثقافتی، سیاسی اور شہری حقوق کو بلا امتیاز یقینی بنائے۔

دورِ حاضر کے حقائق اور تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، مسیحی عائلی قوانین میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے۔ مثلاً 145 سالوں سے زائد پرانے عائلی قوانین 13سال کی بچی اور 16 سال کے بچے کی شادی کی اجازت دیتے ہیں، جو کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل بیشتر نکاح غروبِ آفتاب کے بعد انجام پاتے ہیں، جبکہ موجودہ مسیحی نکاح کے قانون کے مطابق نکاح غروبِ آفتاب سے قبل انجام پانا چاہیے۔

اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ مسیحی برادری، پارلیمانی نمائندے اور حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اس موضوع پر وسیع تر مکالمے کا آغاز کریں، تاکہ اس معاملے کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور وسیع پیمانے پر اس کے حل کے لیے اتفاقِ رائے پیدا ہو سکے۔ اس ضمن میں غور و فکر کے دوران مسیحی برادری کی بطورِ خاص یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سماجی انصاف کے اصولوں کو مدِ نظر رکھیں جس کے حصول کے لیے مسیحی برادری دیگر مثبت اندازِ فکر رکھنے والے افراد اور اداروں کے ساتھ مل کر گذشتہ کئی دہائیوں سے کوشاں ہے۔ یہ بھی ضروری ہو گا کہ اس بحث میں مختلف آرا رکھنے والی سماجی، سیاسی اور مذہبی نمائندگی شامل ہو اور سب سے بڑھ کر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مسیحی خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نعمانہ سلیمان

نعمانہ سلیمان، انسانی حقوق، تعمیرِ امن نیزتنازعات کے تجزیے اور حل سے متعلق تحقیق اور تربیت کاری کا کام کرتی ہیں۔وہ ادارہ برائے سماجی انصاف سے وابستہ ہیں اور اُن سے درج ذیل ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے:[email protected]

naumana-suleman has 4 posts and counting.See all posts by naumana-suleman