تبلیغ کا رخ موڑیے!


naseer nasirمیری بیٹی یونیورسٹی بس سے آتی جاتی ہے۔ بس کا پوائنٹ یا سٹاپ گھر سے کچھ فاصلے پر ہے جہاں تک میں اسےچھوڑنے اور لینے جاتا ہوں۔ ایک روز بس معمول کے وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئی اور مجھے بیٹی کا فون آیا کہ وہ بس اسٹاپ پہ انتظار کر رہی ہے۔ میں اسے لینے کے لیے گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں پہلے ہی گیٹ کھولنے جا رہا تھا۔ دیکھا تو سامنے تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ گلی کے ایک بزرگ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ کچھ وقت دیجیے ہمیں آپ سے بات چیت کرنی ہے۔ میں نے نرمی اور شستگی سے جواب دیا کہ میری بیٹی بس اسٹاپ پہ انتطار کر رہی ہے اور میں اسے لینے جا رہا ہوں، اس وقت جلدی میں ہوں آپ پھر کسی وقت تشریف لائیے گا۔ میرے جواب کو سنا ان سنا کرتے ہوئے یا ممکن ہے  بہانہ سمجھتے ہوئے انھوں نے اصرار کیا کہ میں بس پانچ منٹس انھیں دے دوں۔ مجھے ان کی یہ بات بہت عجیب لگی اور سچ بتاؤں تو غصہ بھی آیا کہ  عجیب لوگ ہیں، میری بیٹی بس اسٹاپ پہ اکیلی کھڑی ہے اور انھیں تبلیغ کی پڑی ہے۔ میں نے تیزی سے معذرت کرتے ہوئے گاڑی نکالی اور بیٹی کو لینے چلا گیا۔ یہ بد اخلاقی تو لگی لیکن مجبوری تھی۔ نتیجتاً گلی کے وہ بزرگ جو ان لوگوں کو ساتھ لائے تھے مجھ سے ناراض ہو گئے اور اب سلام دعا بھی نہیں کرتے۔

میں سوچتا ہوں یہ کیسی تبلیغ ہے جو صرف ظاہری عبادات پر زور دیتی ہے اور انسانی زندگی اور مسائل کا حقیقی ادراک نہیں رکھتی۔ مجھے کالج کا زمانہ یاد آ گیا جب کئی بار میں بھی تبلیغی جماعت کے ساتھ قریبی شہر میں ایک رات مسجد میں شب بسری کے لیے جایا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب درس و وعظ کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو کچھ طالبعلم  چپکے چپکے کھسک کر فلم کا آخری شو دیکھنے سنیما چلے جاتے تھے اور فلم دیکھ کر مسجد میں آ کر سو جاتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے جو ہم جماعت دعوتِ تبلیغ میں پیش پیش ہوتے تھے وہ امتحان کے دنوں میں نقل مارنے میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ باقاعدہ ہاتھوں اور ٹانگوں پہ جوابات لکھ کر اور کپڑوں میں کاغذ جنھیں “بوٹی” کہا جاتا تھا چھپا کر لے جاتے تھے۔ جب کہ مجھ جیسے “بے تبلیغیے” نقل کرنا بہت بڑا اخلاقی جرم سمجھتے تھے اور نقل کرنا تو دور کی بات امتحان میں آگے پیچھے بیٹھے ہوئے ہم جماعتوں کو نقل لگوانے سے بھی ڈرتے تھے۔ میں اکثر ان دوستوں سے کہتا تھا کہ آپ لوگ جو اتنے شد و مد سے تبلیغ دین کرتے ہو تو آپ کو تو بالکل نقل نہیں کرنی چاہیئے۔ لیکن ظاہر ہے تبلیغ کا رخ مسجد میں عبادات کی طرف زیادہ اور عملی اصلاح کی طرف کم تھا ورنہ وہ نقل نہ مارتے اور مسجد سے اٹھ کر سنیما دیکھنے نہ چلے جاتے۔ مجھے لگتا ہے تبلیغ کا طریقِ کار آج بھی وہی ہے یعنی ہنوز روزِ اول است۔ اس کو نہیں بدلا گیا ورنہ آج اِن بظاہر پڑھے لکھے، خوش اخلاق اور پر امن لوگوں کے خلاف اتنی ناپسندیگی نہ ہوتی  اور رائے عامہ ان کے خلاف نہ ہوتی۔

جتنی پرانی انسان کی تاریخ ہے، تبلیغ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ اگر ڈارون کا نظریہ ارتقا ایک طرف رکھ دیا جائے تو ہابیل، قابیل کے زمانے سے ہی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے عیسائیت، ہندو مت اور دیگر مذاہب کے پرچار کی روایات پختہ ہو چکی تھیں۔ تبلیغ کی کئی قسمیں ہیں اور ہر مذہب کے پرچارکوں کے مختلف طرق ہائے کار ہیں لیکن زیادہ تر اسلامی مبلغ حیات ما بعد موت اور تصوراتی عبادات پر ہی زور دیتے ہیں۔ جبکہ بعض دیگر مذاہب کے مبلغین اور مشنری درسی تبلیغ کے علاوہ عملی فلاحی کاموں کے ذریعے بھی عام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدوں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں شروع ہی سے تبلیغ کا زور فلاح و بہبود، تعلیم، علم و دانش اور تطہیرِ معاشرت کے بجائے الوہیت، الہامات، ظاہری عبادات اور قوتِ یزدانی پر رہا ہے۔ اگر تبلیغ کا رخ زندگی اور زندگی کی اعلیٰ اقدار، حقیقی روحانیت، دیانتداری اور صحیح معنوں میں دل و ذہن کی پاکی اور بالیدگی کی طرف موڑا جاتا تو آج ہمیں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، بنیاد پرستی اور عدم رواداری کی جو صورتِ حال درپیش ہے وہ نہ ہوتی۔ جس معاشرے میں جہالت اور ذہنی پس ماندگی ہو،  ناخواندگی ہو، رسوم و رواج ہوں، لا قانونیت ہو، معاشی ناہمواری ہو، سیاسی ابتری اور بے یقینی ہو، منافقت، جھوٹ، خیانت، رشوت، ملاوٹ اور بد عنوانی کی انتہا ہو وہاں تبلیغ کا محور و مرکز حقوق اللہ کے بجائے حقوق العباد ہوں، جو عین مذہب کی روح ہیں، تو اس کے نتائج مثبت اور صحت مند مذہبی معاشرے کی صورت میں ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔

ذرا اپنے ارد گرد کی زندگی پر نظر دوڑائیے اور دیکھیے کہ خدا کے احکامات پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔ کیا ہم روز مرہ زندگی میں جھوٹ نہیں بولتے اور جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے؟ کیا ہمارے تاجر اور کارخانہ دار ناجائز منافع خوری اور ٹیکس چوری کے مرتکب نہیں ہوتے؟ کیا ہم لوگ اپنی منصبی ذمہ داریاں دیانت داری سے انجام دیتے ہیں؟ کیا ہم ڈیوٹی پر اور دفتروں میں وقت کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہم رشوت نہیں لیتے؟ کیا ہمارے ہاں صحت و صفائی کا انتطام بہترین ہے؟ کیا ہم کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ نہیں کرتے؟ کیا ہم اقربا پروری نہیں کرتے؟ کیا ہم عہدوں اور اختیارات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے؟ کیا ہم حقداروں کو ان کا حق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم بے جا اسراف نہیں کرتے؟ کیا ہم جائداد کی تقسیم اور دیگر خانگی معاملات میں ناانصافی نہیں کرتے؟ کیا ہم عورتوں پر تشدد نہیں کرتے؟ یہ ہمارے اخلاقی، معاشرتی اور معاشی جرائم کا محض اجمالی تذکرہ ہے۔ ان خرابیوں اور برائیوں کی فہرست طویل ہے جو ہمارے کلچر کا حصہ ہیں اور جو ہماری معاشرت میں یوں رچ بس گئی ہیں کہ کوئی قانون بھی انھیں درست نہیں کر سکتا۔ کیا اسلام یا کسی بھی مذہب میں ان خرابیوں اور برائیوں کی اجازت ہے؟ کیا ان کے ہوتے ہوئے معاشرہ اسلامی ہو سکتا ہے؟ کیا دین دین پکارنے سے ہم دین دار بن سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ان سب کی طرف تبلیغ کا رخ کیوں نہیں موڑا جاتا؟ تبلیغی گروہ ایسے رضاکار، ایسے مبلغ، ایسے سوشل ورکر کیوں تیار نہیں کرتے جو جگہ جگہ گلی محلوں، نالوں، سڑکوں پر پڑے گندگی کے ڈھیروں کے خلاف مہم چلائیں، مسجدوں میں راتیں گزارنے کے بجائے خدا کی اس زمین کو صاف ستھرا رکھنے کی تبلیغ اور عملی اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟ متعلقہ اداروں اور ان کے افسروں اور عملے کے اراکین کو اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنے کی طرف کیوں راغب نہیں کرتے؟ پولیس تھانوں، کچہریوں میں جا کر تبلیغ کیوں نہیں کرتے؟ رشوت لینے اور دینے والوں اور ناجائز آمدنی کمانے والوں کو بری نگاہ سے دیکھنے کی سوچ کیوں پیدا نہیں کرتے؟ لوگوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی اور دیگر ملکی قوانین پر عمل پیرا ہونے کا شعور کیوں نہیں دیتے؟ طالبعلموں کو تبلیغی دوروں کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کرنے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کیوں نہیں کرتے؟ کچی آبادیوں، دیہاتوں اور پسماندہ ترین علاقوں میں جا کر لوگوں کے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کی سبیل کیوں نہیں کرتے؟ ملک میں معاشی اور سماجی عدم مساوات ختم کرنے پر زور کیوں نہیں دیتے؟ یورپ اور امریکہ جا کر مزید مسلمان بنانے کے بجائے سب سے پہلے اپنے لوگوں کو اسلام کی صحیح روح کے مطابق مسلمان کیوں نہیں کرتے؟ اگر معاشرے کی اصلاح محض حقوق اللہ سے ممکن ہوتی تو حقوق العباد پر اتنا زور کیوں دیا جاتا؟ اس لیے تبلیغ کا رخ موڑنے اور فرض و نفلی عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی بھلائی اور معاشرتی فلاح کو تبلیغ کا حصہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ نہ دینی نہ دنیوی ترقی کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

22 thoughts on “تبلیغ کا رخ موڑیے!

  • 05-04-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    آپ کی بات دل کو لگتی ہے۔

    شاید ہم عبادات کو ہی اصل اسلام سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کو اہم سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک جزو ہے جس کا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے۔ انسانوں کے آپس کے تعلقات ہمارے خود اختیار کردہ اسلام میں اتنی اہمیت نہیں رکھتے ورنہ جو حال ہمارے معاشرے کا ایسا ہر گز نہ ہوتا۔

    فرشتہ سے بہتر ہے انسان بننا
    مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

  • 05-04-2016 at 5:04 pm
    Permalink

    موصوف کو یہ کون سی تبلیغی جماعت والے مل گئے کیونکہ یہ بات ہدایات میں اوّل دن سے شامل ہے کہ اگر کوئی فوری ضرورت کا عزر کرے تو اُسے فوراََ رخصت دی جائے۔ میرا خیال ہے کہ یا تووہ جماعت والے ان واضح ہدایات سے نابلد تھے یا موصوف کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ تبلیغ والے اس سے کہیں درشت رویوں کہ عادی ہوتے ہیں وہ کبھی کسی کے سخت رویہ پر نہ ناراض ہوتے ہیں نہ بات چیت ختم کرتے ہیں کیونکہ اس بات میں اُن کا اپنا اُخروی مفاد ہوتا ہے ورنہ جنرل جاوید ناصر حاضر سروس ہوکر بھی موچی کی لات نہ کھاتے اور مولانا طارق جمیل زمیندار ہوکر ہاریوں سے نہ پٹتے۔ تیسری بات جسے میں بہت معذرت کے ساتھ کھلی دروغ گوئی سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوں کہ موصوف زمانہ طالب علمی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے اورچپکے سے فلم کے لیئے چلے جاتے، ایسا ناممکن ہے کیونکہ اگر کسی کو کوئی ضرورت بھی پیش آجائے تو جماعت کا ذمہ دار کسی ذمہ دار ساتھی کے ساتھ صرف اُس ضرورت مند کو روانہ کرتا ہے اور جب تک وہ نہ آجائیں جماعت کا ذمہ دار نہیں سوتا حتّہ کہ اگر دیر ہونے لگے تو دو اور ذمہ دار ساتھی اُن کی خبر گیری کے لیئے روانہ کیئے جاتے ہیں۔ چوتھی اہم بات یہ کہ موصوف کا یہ صریحاََ ذاتی خیال ہے کہ تبلیغ صرف ظاہری عبادت پر زور دیتی ہے کیونکہ تبیلغ کا چھ نکاتی ایجنڈا ہر خاص و عام کے علم میں ہے جس میں معاملات اور حسن اخلاق بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جن کے بغیر تبلیغ ہی نامکمل ہے۔ گو تبلیغ کرنے والوں میں کمی اور خرابیاں ضرور ممکن ہیں مگر اس کا یہ مطلب کیسے ازخود اخذ کرلیا جائے کہ یہی تبلیغ میں سکھایا جاتا ہے؟ کیا جو ڈاکٹر کھلے عام پیشہ ورانہ بدعنوانیاں کررہے ہیں یا جو جج، وکیل، صحافی ایسا کررہے ہیں تو کیا یہی ان پیشوں کا خاصہ ہے؟؟

    • 05-04-2016 at 10:15 pm
      Permalink

      Jazak ALLAH Bhuut Achay

    • 06-04-2016 at 2:08 pm
      Permalink

      You forgot to mention what God’s directive is for Tabligh. It says that stop evil and proting virtue is what group of Tablighis be doing but they do not stop evil and just promote Namaz, they never said a word against Taliban because they are NAMAZI.. It also mentions a ‘group’ merly consisting of 200 to 500 people but TJ is ONE CRORE strong. That means that one crore adult workers are taken out of workforce of the country by TJ which is alarming and a big damage to country. All leave for Tabligh is readily granted Govt must probe deeply into TJ to know their actual agenda before it is too late

  • 05-04-2016 at 5:43 pm
    Permalink

    سفید بال اور اتنی دروغ گوئ..
    “کچه نه سمجهین خدا کری کوئ”.

  • 05-04-2016 at 7:27 pm
    Permalink

    میں تبلیغ کو کوئی منفی کام نہیں سمجھتا، یہ ایک نیک اور احسن عمل ہے۔ طریق کار اور ترجیحات کا رخ نئے سرے سے متعین کرنے کی بات کی ہے۔ مجھے دروغ گوئی کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بات بھی تبلیغ کا حصہ ہونا چاہیئے کہ بلاوجہ اور مکمل جانے بغیر کسی پر دروغ گوئی کا الزام نہیں لگانا چاہیئے۔ ایک معمولی کالم کے لیے میں جھوٹ کیوں بولوں گا؟ بیٹی والا واقعہ بالکل درست ہے، بتانے کے باوجود انہوں نے، دھیمے لہجے میں سہی، اصرار کیا اور مجھے ایک بد اخلاقی کا مرتکب ہونے پر شرمندگی سے دوچار کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دن کے بعد سے ان صاحب سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی حالانکہ کئی بار گلی میں آمنا سامنا ہوا اور میرا ان سے گفتگو کرنے کو جی بھی چاہا تا کہ اس دن ان کی بات نہ سن سکنے کی ایک بار پھر معذرت کر سکوں لیکن وہ بے نیازی سے گزر جاتے ہیں۔ یقیناً کوئی کمی مجھ میں ہی ہو گی۔ البتہ کالج کے واقعات میں ممکن ہے میں کچھ بھول رہا ہوں کیونکہ وہ زمانہ گزرے اب چالیس سال ہو چکے ہیں۔ لیکن نقل مارنے اور رات کو فلم دیکھ کر مسجد میں سونے کے مشاہدات بالکل درست ہیں۔ یہی تو میرا نقطہ ء نظر ہے کہ معاشرے میں جو لوگ کھلے عام بد عنوانیاں کر رہے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی پیشے اور شعبے سے ہو، تبلیغ کا رخ ان کی اصلاح کی طرف موڑنا چاہیئے۔ یہ تحریر کسی منفی تنقید کی غرض سے نہیں بلکہ مثبت سوچ کے تحت لکھی گئی ہے۔ پیچیدہ فلسفے اور اصطلاحات سے دانستہ گریز کرتے ہوئے سادہ اندازِ بیان اختیار کیا گیا ہے۔ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے۔

  • 05-04-2016 at 8:25 pm
    Permalink

    تاریخ میں لکھا جائے گا ک جب اسلام ک نام پی لوگوں کا قتل ہو رہا تھا تو ہمارے تبلیغی بھائ لوگوں کو ٥ وقت نماز اور عقیدہ توحید سکھ رہی تھے ؟ اتنے لوگ تبلیخ سے دین میں اندر نہیں آ رہی جتنے مسلمانوں کو اسلام کے نام پی قتل کر کے ہمارے علما ے دین کی خاموشی کو فتویٰ سمجھ کے دین سے دور ہو رھے ہیں. میرا ایک سوال ہی مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف تو کرو گے ؟ صرف ایک بار کہ دو تحریک ا طالبان فضل اللہ دہشت گرد ہیں! جو آدمی لاہور ک پارک میں پھٹتا وو جہنمی ہی بس !!! ہے کسی میں اتنی اخلاقی جرات ؟

  • 05-04-2016 at 8:35 pm
    Permalink

    نصیر احمد ناصر صاحب ان مبلغین کا ایک رنگ آپ نے دکھایا. دوسرا رنگ وجاہت اور اختر سعید نے دکھا دیا.
    ممکن ہے سب ان جیسے نہ ہوں لیکن سامنے آنے والوں دونوں صاحبان نے منفی تاثر ہی پیدا کیا.

  • 05-04-2016 at 8:36 pm
    Permalink

    مکرم نصیر احمد ناصر صاحب۔
    آپ کسی بھول میں ہیں۔ اس زمانے میں تبلیغی جماعت گویا اسلام کی نشاة ثانیہ ہے اور مولانا طارق جمیل اس زمانے کے حکم عدل ہیں اور چھ نکات اس دور کی ٹین کمانڈ منٹس ہیں۔اور آپ چلے ہیں اپنے مشاہدات بتانے اور آداب سکھانے۔۔۔۔
    سادگی کی بھی حد ہوتی ہے۔۔۔۔اب تو آپ جیسے شیو بنانے والے جو مرضی کہتے پھریں۔۔داڑھی لائیے جناب داڑھی اور عمامہ اور تسبیح کہاں ہے آپ کی۔ اور سنئے جناب۔۔
    ٹخنوں سے اوپر شلوار باندھ کر جھوٹ بولئے۔ اس گیٹ اپ میں ہم آپ کی باتوں کو صریح دروغ گوئی اور عمدا” اتہام طرازی کہیں گے۔
    امید ہے آئیندہ احتیاط کریں گے۔
    نہ صاحبان جنوں ہیں نہ اہل کشف و کمال
    ہمارے عہد میں آئیں کثافتیں کیسی۔۔۔

  • 05-04-2016 at 9:37 pm
    Permalink

    ھمیشہ کی طرح فکر انگیز ۔ بہت خوب
    میری شاپ پرایک دفعہ تبلیغ جماعت کے حلیے میں چند خوبرو جوان تشریف لاۓ ۔ چہرے پر نور چمک دمک رہا تھا ۔ با ہمی تعارف سے آگے بات بڑھی تو دنیاوی کاموں اور دین کے کاموں پر ایک صاحب روشنی ڈالنے لگے ۔ وہ صاحب پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور پاکستان سے برطانیہ (لندن) تبلیغی سرگرمیوں کے لیے تشریف لاۓ تھے ۔ میں نے بڑے ادب سے ان کی باتیں سنتا رہا، حالانکہ ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ھوا کہ شاید مجھے دین کے حوالے سے تعلیم اور تربیت ان لوگوں سے بہتر ملی ہے الحمد اللہ ۔ خیر میں نے ان صاحب سے عرض کیا کہ اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں آپ کی توجہ آپ کے پیشے کی مناسبت سے حالات جاضرہ کی طرف کروانا چاہتا ھوں کہ ان دنوں سوات میں پاکستان افواج دھشت گردوں کے خلاف آپریشن راۂ نجات کر رہی ہے ۔ اور اس وقت تقریبا سوات کی ساری آبادی بچے خواتین بوڑھے مال مویشی سب اپنے گھروں سے دور ایک ویران جگہ پرشدید گرمی میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں حکومت پاکستان اور پاکستان کے رفاعی ادارے حسب نوفیق متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں ۔ اور وہاں پر بہت سی خواتین اور بجے بیماری کی حالت میں تڑپ رہے ہیں۔ اور آپ جیسے پیشہ ور ڈاکٹروں کے پاس اتنا وقت اور سرمایہ تو ہے کہ آپ لندن تبلیغ کرنے کے لیے تشریف لے آۓ ہیں مگر اپنے ملک کے حالات سے آپ کیسے بے خبر اور بے حس رہ سکتے ہیں ۔۔ ابھی میری بات مکمل ہی نہیں ھوئی تھی وہ صاحب اتنا کہہ کر چلتے بنے کہ کل مغرب نماز کے بعد قریب مسجد میں ھمارا بیان ہے ضرور تشریف لاۓ گا ۔۔

  • 06-04-2016 at 12:33 am
    Permalink

    ناصر صاحب، آپ کی حلیم طبع کو سلام۔ کچھ داعیانِ دین کو بھی ایسا ظرف میسّر نہیں، حالانکہ یہ دعوت و تبلیغ کا پہلا سبق ہے۔ جس ضرورت کی طرف آپ نے توجہ دِلائی، وہ انشاءاللّٰہ ضرور پوری ہوگی۔ اب تک تو دین کا تانگہ آخرت کی جانب کچھ زیادہ ہی اُلار رہا، لیکن اب بہت سے دوست آپ کی طرح “فِی الدُّنیا حَسَنَہ” کو بھی دین کا حصہ سمجھنے اور سمجھانے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ مجھے بہت خوش گمانی ہے، بہتری آئے گی۔ کچھ دوستوں کے نا مناسب ریمارکس پر شرمندہ ہوں۔ ہمارے دلوں میں تو آپ کا احترام اور بڑھا ہے۔

  • 06-04-2016 at 1:03 am
    Permalink

    ناصر صاحب آپ کی کارگزاری میں فلم والی بات ناممکن ہے اس لیئے دروغ گوئی جیسا رکیک لفظ نادانستگی میں زبان پر آگیا جسے نہ صرف واپس لیتا ہوں بلکہ صدق دل سے معذرت خواہ بھی ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ جیسا وضع دار آدمی معاف کرنے میں دقیقہ بھی فروگزاشت نہیں کرے گا۔ مزید یہ عرض ہے کہ تبلیغ میں ہر بیرونی عمل کے لیئے ہدایات اور کارگزاری در کارگزاری کا ایک خودکار نظام ہے جو ہر غیر موزوں عمل کی تصحیح اور درستگی کوہمہ وقت جاری رکھتا ہے اس لیئے آپ سے مودبانہ درخواست ہے کہ اس عمر میں کچھ وقت تبلیغ کو عنایت فرمائیے اور پھر اپنے موجودہ فہم و وجدان کی بدولت رہنمائی فرمائیے کیونکہ اصلاح کی گنجائش بہر حال ہر بات میں ہر وقت رہتی ہے

  • 06-04-2016 at 1:06 pm
    Permalink

    شاہد عثمان اور وجاہت صاحب، ذرہ نوازی کا بہت شکریہ۔ معذرت کی چنداں ضرورت نہیں تھی کہ میں ایسی باتوں سے ناراض نہیں ہوتا بلکہ میں تو کسی ذی روح سے ناراض نہیں ہوتا۔ بے فکر ہو جائیے میں ناراض نہیں ہوں۔ البتہ میری کسی بات سے اگر آپ کا یا کسی اور کا دل دکھا ہو تو میں معافی کا طلبگار ہوں۔ لکھنے کا مقصود و مطلوب کسی کی دل آزاری نہیں، مذید غور و فکر کی دعوت ہے۔ آپ نے فلم کی بات کو خوامخواہ اتنی اہمیت دی ہے، کالج کے زمانے میں ہم سب ایسے ہی ہوتے ہیں جب اذہان اور عقیدے ابھی تشکیلی مراحل میں ہوتے ہیں۔ ایک بار ہم کئی دوست مل کر عید کی چھٹیوں پہ ہاسٹل سے گھر جا رہے تھے۔ رش کی وجہ سے بسوں میں جگہ نہیں مل رہی تھی تو ہم سب ایک بس کی چھت پر سوار ہو گئے۔ چھت پر لوگوں کے سامان میں کھانے کی کئی اشیا تھیں۔ ہم سارا رستہ وہ نکال نکال کر کھاتے رہے یعنی چوری کے مرتکب ہوتے رہے۔ ہم میں جمیعت کے دوست بھی تھے، تبلیغی جماعت کے بھی، ترقی پسند جماعتوں کے بھی اور مجھ جیسے بھی جو کسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔ یقین کیجیے اس وقت کسی کے ذہن میں بھی نہیں آیا کہ اس طرح چوری کر کے کھانا گناہ ہے۔ وہ عمر ہی ایسی تھی، عمر کے تقاضے اور حقیقتیں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں، اس لیے اگر کوئی تبلیغی دوست بھی فلم دیکھنے چلا گیا تھا تو اس میں تبلیغ یا تبلیغی جماعت کا کوئی دوش نہیں ۔۔۔۔۔۔ جہاں تک دروغ گوئی کا تعلق ہے تو یہ ہماری قومی پہچان بن چکی ہے، ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بولتے رہتے ہیں چنانچہ اس جھوٹ کی ثقافت کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عدالتوں میں مقدس حلف پربھی آرام سے جھوٹ بولتے ہیں۔ یورپین حیران ہوتے ہیں کہ ہم لوگ بلاضرورت اتنے جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔ کیا ہمیں اس بات کی تبلیغ نہیں کرنی چاہیئے کہ روزمرہ زندگی اور سماجیات سے جھوت کی لعنت ختم ہونی چاہیے؟ ہمارے ہاں روزانہ ہزاروں جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ صاحب دفتر میں بیٹھے ہوں تو پی اے کہہ دیتے ہیں صاحب میٹنگ میں ہیں۔ ہم نے مہیں نہ جانا ہو یا بروقت کہیں نہ پہنچ پائیں تو کوئی نہ کوئی جھوٹا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ یہ خوامخواہ کے جھوٹ ہیں اور ایسے بیسیوں جھوٹ ہیں جنہیں ہم برائی نہیں سمجھتے۔ آپ اسے معمولی یا چھوٹی بات کہہ کر رد نہیں کر سکتے۔ یہ ایک خرابی ختم کرا دیجیے تو دیکھیے بہتری اور سچائی کے کتنے در کھل جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے تبلیغ کا مشورہ دیا ہے تو میرے خیال میں سب سے اچھی تبلیغ انسان کا عمل اور اس کی عملی زندگی ہے، اپنے اپنے شعبے میں ہر ایک کو تبلیغ کردہ باتوں کے عملی نمونے پیش کرنے چاہییں۔ آپ نے موچی سے لات کھانے اور ہاریوں سے پٹنے کی بات کی ہے۔ جب آپ کسی بڑے مقام و مرتبے، عہدے اور شہرت کی بلندیوں پر ہوں تو یہ باتیں آج کے باشعور انسان اور ترقی یافتہ ذہن کو متاثر نہیں کرتی۔ جنرل صاحب کے لیے تبلیغ کا سب سے بہترین طریقہ اور عملی نمونہ دیانداری سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ آپ ہی بتائیے کیا جنرل صاحب کا اردلی اور ڈرائیور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں؟ اور کیا ہاریوں کے مسائل حل کر لیے گئے ہیں، کیا ان کا معیارِ زندگی بہتر ہو گیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر تبلیغ کا رخ عملی طور پر انسانوں اور انسانوں کی بھلائی اور برابری کی طرف موڑیے، لوگ خود جوق در جوق آپ کی طرف آئیں گے۔

  • 06-04-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    ٹائپنگ کی غلطیوں کی معذرت ۔۔۔۔۔۔

  • 06-04-2016 at 1:43 pm
    Permalink

    محترم نصیراحمد ناصر صاحب

    آپ کا مثالی حِلم ہمارے لیے یقینا قابلِ تقلید ہے اور سیرت مبارک کے اتّباع کا عملی نمونہ ہے۔ اِن حضرات کا طرزِعمل قابلِ اصلاح ہے۔ آپ نے بالکل صحیح نشادہی فرمائی ہے۔

    “آپ ہی بتائیے کیا جنرل صاحب کا اردلی اور ڈرائیور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں؟”

    محترم نصیراحمد ناصر صاحب

    اس راستے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مالک، ملازم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنرل، اردلی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب، ڈرائیور کے ایک دسترخوان پر کھانا کھانے کا میں بذاتِ خود چشم دید گواہ ہوں۔ بارہا دیکھا ہے۔

    یقین نہ آۓ تو کسی بھی آنے جانے والے سے تصدیق کر لیں۔

  • 06-04-2016 at 3:56 pm
    Permalink

    م ز اسلم صاحب، میں ایک معمولی آدمی ہوں، میرے لیے آپ کے نیک کلمات سراسر آپ کی محبت ہے۔ آپ نے درست فرمایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تبلیغی دوروں اور اجتماعات سے ہٹ کر یا کبھی کبھار کسی خاص موقعے کے علاوہ بھی ہماری عملی زندگی، کام کی جگہوں، دفتروں، ملازمتوں، کاروبار اور دیگر روزمرہ کے معاملات میں یہی اصول کارفرما ہیں؟ یوں تو نماز کے وقت مسجدوں میں بھی سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن مسجد سے باہر کی زندگی اور معاشرت میں بھی کیا ایسا ہی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جوانوں اور آفیسرز کے دستر خوان (میس اورلنگر) الگ الگ نہ ہوتے، اسپتالوں میں وی آئی پی اور آفیسرز وارڈز الگ نہ ہوتے۔ اپنی اپنی جگہ پہ انسانی جان ایک ہی جیسی اہم اور قیمتی ہوتی ہے۔ آپ ہی بتائیے کہ اگر آفیسر اور جوان ایک ہی جگہ کھانا کھا لیں اور میرے جیسے عامی اور ایک وزیر کا علاج ایک ہی وارڈ میں ہو جائے تو اس میں کون سی بات غیر اسلامی ہے؟ یہی تو اسلامی معاشرت کے بنیادی اصول ہیں۔ اب مجھ پہ ترقی پسندی (روایتی معنوں میں) کا الزام لگا کر بات کو رد نہ کر دیجیے گا۔ اسلام میں مساوات اور سنہری اصولوں اور اسلامی طرزِ حیات کی باتیں کرنا آسان ہے لیکن حقیقی زندگی میں، نطامِ معاشرت میں ان پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ جب مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے تو اس میں صرف نماز روزہ نہیں آتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تبلیغ کو عملی معاشرت پر منطبق نہیں کریں گے نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔ اگر دروغ گوئی کا الزام نہ لگے تو میں یہاں ایک سچا مشاہدہ درج کرتا ہوں۔ پہلی خلیجی جنگ کے دوران میں مشرق وسطیٰ کے ایک دفاعی نوعیت کے منصوبے پہ ایک امریکی کمپنی میں کام کرتا تھا اور ہمارا دفتر ایک فوجی ہوائی اڈے کے اندر واقع تھا جو اس وقت عملاً امریکی فوج اور ایئر فورس کے زیرِ استعمال تھا۔ انہی دنوں کچھ امریکیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد ان میں سے چند ایک نے (مجھے تعداد اب یاد نہیں) اسلام چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی ان کو اپنے ارد گرد کے مسلمانوں میں اور ایک مسلم ملک میں جھوٹ، بد دیانتی اور قول و فعل میں جو تضاد نظر آیا اور جن تعلیمات اور سنہری اصولوں اور طرزِ زندگی کا وہ سن کر اور پڑھ کر اسلام کی طرف آئے تھے، بقول ان کے عملی طور پر اس کے برعکس پایا اور ان کے لیے بےعمل مسلمانوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا اور حقیقی اسلام پرفارم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ لوگ (مسلمان ملک کے شہری) قوانین کی پاسداری کیوں نہیں کرتے، اپنی ملازمت کے اوقات میں پابندی اور دیانتداری سے کام کیوں نہیں کرتے اور جھوٹ کیوں بولتے ہیں اور کرپشن پہ کیوں مائل کرتے ہیں جبکہ اسلام ان سب باتوں سے منع کرتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر کوئی ایسا کرتا تو شاید اسے زندہ جلا دیا جاتا اور پورے ملک میں اور میڈیا میں اور مسجدوں میں شور مچ جاتا لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک تو وہ امریکی تھے، بظاہر اس ملک کی مدد کو آئے تھے، ان کے زیرِ استعمال علاقے میں مقامی لوگوں کا آنا جانا اور انتطامیہ کا بھی عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا، اس لیے کسی نے ان سے کچھ بھی نہ کہا۔ انہوں نے آزادی سے اسلام قبول کیا اور ان میں سے چند نے اسی آزادی سے اسلام چھوڑ دیا۔ عملی زندگی سے مثالیں تو بہت سی ہیں، بہت سے حقائق ہیں جن کو جان کر سبق حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں سچ کہنا مشکل ہے۔ بات طویل ہو گئی، معذرت اور ایک بار پھر آپ تمام احباب کا شکریہ۔

  • 07-04-2016 at 9:34 am
    Permalink

    محترم نصیر احمر ناصر صاحب

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    آپ کی توجّہ کا بے حد شکریہ۔

    آپ نے اپنا قیمتی وقت نکال کر عاجز کی گزارشات کا مطالعہ فرمایا۔
    جزاک اللہ

    آپ کے خیالات بہت قابلِ قدر ہیں۔یہ بات اظہر من اشمس ہے کہ ہمارا معاشرہ تضادات سے بھرا پڑا ہے۔ ہمارے موجودہ سماجی رویّوں میں اور اسلام کی تعلیمات میں بعد المشرقین ہے۔

    علّامہ اقبال نے مسلمانوں کے سماجی رویّوں کے تضاد کو خوب انداز میں بیان کیا ہے

    تم ہو آپس میں غضب ناک، وہ آپس میں رحیم

    تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم

    چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم

    پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم

    ایک مثالی معاشرہ یقینا ایک خوب صورت منظر کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ لیکن اس کو وجود میں لانے کے لیے جِدّوجہد درکار ہے۔

    افراد کی اصلاح ہی سے معاشرے کی اصلاح ہو گی۔

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

    اصلاح کے میدان میں اہم ترین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر سے پہلے فرد کی تعمیر کا اہتمام کریں۔ دوسرے الفاظ میں نظام اور اداروں میں انقلاب سے پہلے فرد میں انقلاب لانا ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ اسے ہم قرآن کے الفاظ میں بیان کر دیں، جس نے فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ کوئی بھی انقلاب ہو اس کے لیے نفس کی تبدیلی ضروری ہے۔

    ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ (الرعد: ۱۱)۔

    مزید مطالعے کے لیے دیکھیے

    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D9%81%D8%B1%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.63930/

    توجّہ کا شکریہ
    والسّلام

  • 07-04-2016 at 5:24 pm
    Permalink

    ان کو بھی کسی کارِ محبت پہ لگا دو
    کچھ لوگ یہاں پھرتے ہیں بیکار نمایاں
    ( نصیر احمد ناصر )

  • 07-04-2016 at 5:27 pm
    Permalink

    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
    علامہ محمد اقبال رح
    فرد کی بہترین اصلاح رہبانیت میں نہیں معاشرے کے افراد میں رہ کرممکن ہے ۔

  • 07-04-2016 at 7:17 pm
    Permalink

    میرے خیال میں مصنف کی تحریر میں تبلیغ کی اہمیت سے انکار نہیں- چوٹ مبلغ کے کردار پہ ہے اور اچھی چوٹ ہے-
    ویسے بھی میرے خیال میں مبلغ وہ ہی بہترین ہے جس کو منہ سے تبلیغ کرنے کی ضرورت پیش ہی نا آۓ، کردار چلتے پھرتے تبلیغ ہو-
    عمدہ تحریر !!!

  • 16-04-2016 at 4:40 am
    Permalink

    چلتے پھرتے کردار کا عملی نمونہ بہترین تبلیغ ہے
    اور یقین کیجئے اکثر ایسے کردار اسی معاشرے میں نظر بھی آجاتے ہیں جو اپنے نیک عمل سے کبھی تو سامنے والے کی زندگی ہی بدل دیتے ہیں
    ہاں ایسے مبلغ ہیں منہ سے کچھ نہیں بولتے بس کر دکھاتے ہیں

  • 02-05-2016 at 11:24 am
    Permalink

    اصلاح کے میدان میں اہم ترین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر سے پہلے فرد کی تعمیر کا اہتمام کریں۔ دوسرے الفاظ میں نظام اور اداروں میں انقلاب سے پہلے فرد میں انقلاب لانا ہوگا۔

    تبلیغ دین کے لیے ہمارے کردار و اعمال ہی دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سرکار دو عالم کی ذات اعلیٰ کردار کا نمونہ ہے۔ جس کردار کے دشمنان اسلام اور دشمنان رسول بھی معترف تھے۔

    چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم

    پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم

    مکہ مکرّمہ میں دارارقم اپنی ذمہ داری انجام دے رہا تھا۔

    اور قرآن پاک جو رسول اللہﷺ پر واقعات اور حالات کے مطابق تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہو رہا تھا… تاکہ وہ اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کے پڑھ کر سنائیں، اس پر ان کا دل بھی جما رہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس پر ایمان لاچکے ہیں، اور اس کے ذریعے مشرکین کے ان سوالات کا جواب دیں اور ان کے خیالات پر تنقید کریں…

    وہ بھی اس مومن جماعت کی تربیت اور اس کے حسن کردار اور پختگی رفتار میں اپنا عظیم کردار ادا کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے، تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سنائو، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اُتارا ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل: ۱۰۶)
    ’’منکرین کہتے ہیں، اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟‘‘ (الفرقان: ۳۲۔۳۳)

Comments are closed.