اخلاقیات کا پیکج بھی چاہئے


 حماد گیلانی 

hamadفطرت کا یہ ایک آفاقی اصول رہا ہے کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ یکھو کیا کہہ رہا ہے۔

لہٰذا میرے لیے کسی بھی ادارے، شخصیت یا تنظیم پر تنقید کرنے کے باوجود بھی اسکی خوبیوں، اچھائیوں اور مثبت اقدامات سے انکار ممکن نہیں ہوتا۔ کوئی شخص اگر ساری زندگی معاشرے کے ناسور کے طور پر موجود رہا ہے اور ایک بار اس نے کسی کی جان بچائی ہے تو اسکا یہ عمل قابل تعریف ہو گا۔ اور اگر کوئی نیک معاشرے کے دل کی دھڑکن بھی ہو اور اس سے غلطی سرزد ہو جائے تو اس فرشتہ صفت انسان کی غلطی کو بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے رب اور محبوب رب کائنات ﷺ کے کیا اصول ہیں ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ آقاﷺ نے فرمایا کہ ایک نیک اور پرہیزگار عورت کو اس لئے دامن رحمت سے نکال کر جہنم میں بھیج دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو بھوکا پیاسا رکھا اور ایک گنہگار عورت کو اس لئے بخشش کا پروانہ تھما دیا گیا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ جو سمجھنا چاہے اس کے لئے یہ دو واقعات بہترین سبق اور جو نہ سمجھے اس کا اپنا قصور۔

اس تمہید کا مقصد صرف اتنا بتانا تھا کہ معاشرے صرف محبت یا نفرت سے تعمیر نہیں کیے جا سکتے۔ کچھ لوگ صرف گالیاں دے سکتے ہیں تو وہ دیں۔ جو ان کی تربیت ہے وہ اس کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر افسوس ہوتا ہے کہ معاشرے کے عام افراد تو ایک طرف، ہمارے ملک کے دانشور، کرسی پر براجمان افراد اور مذہبی و سماجی شخصیات بھی اپنی اپنی پسند یا نفرت کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو انسانی نفسیات و انسانی ضروریات کی سمجھ بوجھ اور اپنے معاشرتی شعور میں اضافہ کرنا چاہئے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ لسانی اکائیوں سے بھرپور آگہی حاصل کرنی چاہئے۔ اپنے لہجے میں شائستگی و بردباری لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جس سے ثابت ہو کہ وہ عوام کے حقیقی لیڈر ہیں۔

آج کل صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن والوں کو پاکستان بشمول آزاد کشمیر میں اقربا پروری، میرٹ کی پامالی اور مال و دولت سے بے پناہ محبت پر تنقید کی جائے تو وہ لٹھ لے کر پیچھے پڑھ جاتے ہیں۔ جبکہ اس بات پر تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس کے لوگ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے سوال کیا جائے کہ ایسی کون سی گیدڑ سینگی ہاتھ میں آئی کی زرداری صاحب اپنے دور حکومت میں مبینہ طور پر پاکستان کے دوسرے امیر ترین آدمی بن گئے اور کشمیر میں حکومتی عہدیداروں سے پوچھا جائے کہ بظاہر آپ کے وزیر بھی ہیں مشیر بھی مگر عملاً حکومت کون چلا رہا ہے تو پیپلز پارٹی والوں کو غیر جانبداری پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ اس طرح تحریک انصاف کی ٹیم کو کشمیر میں کئی سال سے منظم نہ ہونے کی وجوہات کا پوچھا جائے یا نئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور سپیکر کو قریبی رشتے داروں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ لفافہ پکڑنے کا الزام دھر دیتے ہیں۔ جبکہ وہی کالم نگار  ن لیگ والوں کو کالم سچا لگنے لگتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر کی درویشی، محنت، عوام دوستی اور مہذب لہجے کی تعریف کی جائے تو راجہ فاروق حیدر صاحب کے ہمنوا ناراض۔ ریاستی حقوق کے حوالے سے راجہ صاحب کی چپ کا رونا رویا جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کی جانب سے تعریفی القابات اور ن لیگ والوں کی طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ!

ایم کیو ایم کو مڈل کلاس لوگوں کی نمائیندہ جماعت کہا جائے تو وہ خوش اور ان کے رویوں پر قلم اٹھایا جائے تو وہ اپنا مخالف گرداننا شروع کر دیتے ہیں۔ لال مسجد کی سر عام دہشتگردی، مخلوط سیکیورٹی اور ملک مخالف اقدامات کو حدف تنقید بنایا جائے تو ایک پورا طبقہ فکر گلی کوچوں میں مذہب کا دشمن کہتا نظر آئے گا۔ ممتاز قادری کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے اقدام کو صحیح عمل کہا جائے تو سوشلسٹ تنگ نظری کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے جبکہ بڑے بڑے علماء کرام، پیران عظام اور مذہبی لیڈر سچا عاشق رسول قرار دیتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ بحیثیت فرد، ادارے یا معاشرے کے ہم اپنے رویوں میں انتہا پسند ہو چکے ہیں۔ نفرت ہے تو نفرت ہے محبت ہے تو محبت ہے۔ عقیدت ہے تو بے حد ہے۔ نہیں ہے تو ذرا بھی نہیں ہے۔ اعلی ٰتعلیم، مذہبی، سیاسی و سماجی شعور کے باوجود جہالت کی یخ بختہ ہواؤں نے ہمیں گھیرا ہوا ہے۔

دلیل کے بجائے ہٹ دھرمی ہمارا شعار ہو گئی ہے۔ عقل و شعور کی بات سات پردوں میں چلی جاتی ہے اور ہم صحیح باقی سب غلط کا رویہ سر عام پھیلتا رہتا ہے۔ اعتدال کا راستہ اپنی منزل کا پتہ بھول گیا۔ شدت، نفرت اور غیض و غضب کے کانٹے چار سو پھیلے ہیں۔ محبت برداشت اور قرآن و سنت کے پھول مرجھا چکے ہیں۔ ٹی وی، اخبارات، سوشل میڈیا اور موبائل فون پر مباحثوں، پیغامات اور مضامین میں سب ایک دوسرے کے دل چھلنی کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ ننگی گالیاں دے کر خوش ہوتے ہیں۔ ماؤں، بہنوں کو گالیاں دے کر خوش ہوتے ہیں ۔ مگر اس احساس سے عاری ہیں کہ یہ سب نفرتیں، عقیدتیں اور محبتیں حقوق العباد کے خلاف ہیں اور ہم اپنا راستہ خود جہنم کی طرف موڑ رہے ہیں۔ میں تمام پارٹیوں کے مخلص لیڈران، کارکنان اور قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ سب مل کر معاشرے کے سدھار کا اخلاقی پیکج بھی ترتیب دیں۔ آئیندہ نسلیں آپ کی ممنون رہیں گی۔ اگر ایسا نہیں تو غربت، بھوک، افلاس کے مارے عوام کا اگلا بحران اخلاقی انحطاط ہو جائے گا۔ پھر ہونٹوں میں رقصاں گالیاں اور دل کی نفرت کے علاوہ کچھ نہ ہو گا۔ یا تو ہم خود کو سدھار لیں یا اسی گندے نظام کا حصہ بن جائیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments