ایتھیکل ہیکر رافع بلوچ: پاکستان کا روشن ستارہ


ملک سلمان

Malik Salman1
قرآن میں اللہ نے انسان کو تحقیقی رویے اپنانے پر زور دیا ہے۔ کبھی فرمایا کہ ” تم سوچتے کیوں نہیں” کبھی حکم ہوا کہ ” تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے” کبھی زمین و آسمان کی اشیاء پر غور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو کبھی انسانوں اور حیوانوں کی ساخت پر غور و فکر کی دعوت دی جاتی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمارا رویہ بالکل وہ ہے جو قرآن کا غیر مطلوب ترین رویہ ہے۔ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے کچھ خبر نہیں اور نہ ہی کچھ معلوم اور دریافت کرنے کا رویہ نظر آتا ہے۔
جس طرف دیکھو سائنسی کرشموں کے تحیر خیز نظارے انسان کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ صدیوں کے فاصلے سمٹ کر لمحوں کی دسترس میں آگئے ہیں اور دنیا ایک عالمی گاؤں کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اگر ایک واقعہ دنیا کے ایک کونے میں وقوع پزیر ہوتا ہے تو دوسرے لمحے اس کی خبر دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔وطن عزیز پاکستان کو جہاں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے وہاں دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردینے والے دماغ بھی عطا کئے ہیں۔ انسان اپنی جستجو اور ذہانت کی بدولت وہ کام کر جاتا ہے جو اس کی پہچان بنتا ہے اور رہتی دنیا تک اس کا نام زندہ رکھتا ہے ،دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں نے جو کارنامے سر انجام دیئے اور نام بنائے آج ہم انہیں ان کے کارناموں کی بدولت یاد رکھتے ہیں اور ان کے دیئے ہوئے علم و ایجادات اور لاتعداد آسائشوں سے استفادہ کر رہے ہیں جن میں کمپیوٹر جیسی جدید سہولت بھی شامل ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد اور بڑھتے ہوئے استعمال نے آنے والی نسلوں کو اپنی طرف مائل کیا اور بے شمار لوگوں نے کمپیوٹر کی دنیا میں قدم جمائے اور نام روشن کیے۔

کراچی کے جنرل سرجن ڈاکٹر قمر الدین بلوچ کے گھر 5 فروری 1993 کو پیدا ہونے والے ایسے ہی ایک پر عزم اور باہمت نوجوان رافع بلوچ نے وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیا جس سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ زمانہ طالب علمی جس میں نوجوان کھیل کود میں مشغول ہوتے ہیں، اس عمر میں رافع بلوچ نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر نا صرف توجہ دی بلکہ انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہم عصر طلبہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے کم عمر ‘ایتھیکل (با اخلاق) ہیکر’ بننے کا اعزاز حاصل کر کے پوری دنیا میں نہ صرف اپنا اور والدین کا بلکہ ملک و قوم کا نام بھی خوب روشن کیا۔

پاکستان کے باہمت بیٹے کی صلاحیتوں نے اسے اس مقام پر پہنچایا جہاں پوری دنیا اس کی خوبیوں سے واقف ہوئی، رافع بلوچ نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے کمپیوٹر پر عبور حاصل کر لیا تھا اور یہ عبور اس کی کامیابی کا باعث بنا۔ رافع بلوچ ٹیلنٹ کی علامت کے طور پر ابھرا، انیس برس کی عمر میں 2012 میں مشہور ویب سائٹ  Paypalکے نیٹ ورک سرور کی انتہائی اہم خامی رضاکارانہ حل کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ اس سے نہ صرف دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا بلکہ کمپنی سے دس ہزار ڈالرکا بیش قیمت انعام بھی حاصل کیا۔

Rafay Baloach

ابھی حال ہی میں رافع بلوچ نے ایتھیکل (با اخلاق) ہیکنگ اینڈ سیکیورٹی کے حوالے سے 31 مارچ 2016 کو سنگا پور میں دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس’’بلیک ہیٹ کانفرنس”میں BYPASSING BROWSER SECURITY POLICIES FOR FUN AND PROFIT” پر انتہائی جاندار اور حیران کن معلومات پر مبنی لیکچر دے کر دنیا بھر کے ماہرین کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ “بلیک ہیٹ” کی تازہ ترین ابتدائی درجہ بندی میں ابھی تک وہ دنیا کے ہزاروں ہیکرز میں سر فہرست ہیں۔ اس سے قبل رومانیہ میں ہونے والی Defcamp کانفرنس میں بھی انکا مقالہ شامل کیا گیا تھا۔

دنیا کے کم عمر ترین ہیکر رافع بلوچ کا شمار پاکستان کے انتہائی قابل فخر نوجوانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کیلئے استعمال کر کے نہ صرف خود نام کمایا بلکہ دنیا بھر میں ملک کا نام بھی روشن کیا ہے۔ خدا داد اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال رافع بلوچ کو اس سے قبل سکیورٹی انفارمیشن شائع کرنے والی کمپنی چیک مارکس (Chekmarx) سال 2014 میں دنیا کے پانچ سرِ فہرست وائٹ ہیکرز میں شامل کر چکی ہے۔ رافع بلوچ کو یہ اعزاز اینڈرائیڈ اوپن سورس پلیٹ فارم براؤزر 4.3 کے ورژن میں ایک سیکیورٹی خامی دریافت کرنے پر ملا۔ وائٹ ہیکرز کو بااخلاق ہیکرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی سرور یا نیٹ ورک میں داخل ہو کر اس کے مالکان کو اس سرور نیٹ ورک کے سیکیورٹی کی خامیوں کے بارے میں بتاتے ہیں یا ان سیکیورٹی کی خامیوں کو دور کرتے ہیں۔
رافع بلوچ ایتھیکل (با اخلاق) ہیکنگ کے حوالے سے ایک کتاب Ethical hacking and penetration testing guide بھی لکھ چکے ہیں۔ نوجوان پاکستانی مصنف کی اس کتاب کو دنیا بھر میں بہترین پزیرائی ملی، جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جان ایم عارتز نے ایتھیکل (با اخلاق) ہیکنگ کے طلبہ کے لئے اس کتاب کے مطالعہ کو بنیادی خزانہ قرار دیا۔

گزشتہ سات برسوں میں رضاکارانہ طور پرنمایاں کارنامے سر انجام دینے پرایتھیکل (با اخلاق) ہیکر رافع بلوچ کو مائیکروسافٹ اور ایپل سمیت بیسیوں ویب سائٹ کی “Hall of Fame Google” میں شامل کیا گیا ہے جو کہ وطن عزیز کی مثبت پہچان ثابت ہو رہی ہے۔

دنیا بھر کی آن لائن سیکیورٹی کمپنیز کی طرف سے لاکھوں روپے کی آفرز کے باوجود پاکستان کے لئے اپنی خدمات دینے کے خواہاں اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار رافع بلوچ بیرونی کمپنیز کی آفرز کو ٹھکرا کر پاکستان ٹیلی کمیونیشن کے ساتھ وابستہ ہیں اور پی ٹی سی ایل کو سائبر خطرات سے بچانے کیلئے نیٹ ورک انفارمیشن سکیورٹی کے ایگزیکٹو نائب صدر مہزاد ساحر کے ساتھ مینجر نیٹ ورک انفارمیشن سکیورٹی کے طور پر انتہائی مستعدی اور احسن انداز سے اپنے فرائض ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں اور محب وطن پاکستانی ہونے کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
میڈیا اور حکومتی ارباب اختیار کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کے اس ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے مزید اعزازت حاصل کرنے کے لئے بھرپور ساتھ دیں تا کہ دنیا بھر میں پاکستان کا یہ مثبت چہرہ وطن عزیز کی عزت و تکریم اور فخر کا باعث بنے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ایتھیکل ہیکر رافع بلوچ: پاکستان کا روشن ستارہ

  • 05-04-2016 at 10:59 pm
    Permalink

    Feeling proud.

  • 07-04-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    ماشاءاللہ۔۔خدا استقامت بخشے اور اہل پاکستان کی خوشحالی کا ذریعہ بنائے-آمین

Comments are closed.