حقوق طلبا بل بھی آنا چاہئے


ساحر علی

sahir

کیا تم نے سفارش سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا یا کسی بڑی آسامی کو گھیرا تھا۔ جیسے ہی یہ الفاظ میری سماعت سے ٹکرائے میں نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ میرا دوست عمیر میرے سامنے سراپا سوال بنا کھڑا ہے۔ آنکھوں میں مایوسی، مرجھایا چہرہ اور پورا جسم یاسیت کی عکاسی کر رہا تھا۔ میرے دل میں فوری طور پر اپنے عزیز دوست کے لئے ہمدردی امڈ آئی۔ نہیں، نہیں، میری قابلیت اور میرے نمبر ہی میری سفارش بنے تھے میں نے کسی بھی سفارش کا سہارا نہیں لیا تھا۔ عمیر نے جواب دیا میرے تو نمبر تم سے بھی زیادہ تھے مجھے داخلہ کیوں نہیں مل سکا؟ میں نے اس کو تفصیل سے بتایا بھائی یونیورسٹی میں داخلے کے لئے سب سے پہلے% 70 انٹرمیڈیٹ اور انٹرنس ٹیسٹ کا 30% رزلٹ ملا کر ایگریگیٹ بنایا جاتا ہے اور پھر میرٹ کی بنیاد پر متعلقہ سیٹوں کا عمل وجود میں آتا ہے۔ میری بات پر عمیر نے عجیب سا قہقہہ لگایا۔ میں چونک اٹھا، وہ کہہ رہا تھا، “ہاں یہاں ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے۔” پنجاب کے ہر ادارے میں میرٹ کو مدنظر رکھا جاتا ہے بالخصوص پنجاب کے تعلیمی میدان میں میرٹ کا بول بالا سب کے سامنے ہے۔ اس سے قبل میں کچھ بولتا عمیر نے پوچھا کہ “ایک متعلقہ فیلڈ کے امیدوار پر دوسرے کو کیوں کر فوقیت دی جاتی ہے؟ جس نے محنت کی ہوتی ہے وہ دیکھتا رہ جاتا ہے اور دوسرا دھڑلے سے اس پر قابض ہو جاتا ہے۔ وہ بھی ایسا شعبہ جس کا اس کو قطعاََ علم نہیں ہوتا۔ ایک میڈیکل پڑھنے والا بزنس کی فیلڈ میں کیسے جگہ پاسکتا ہے۔ جبکہ مطلوبہ معیار کا امیدوار میسر بھی ہے آخر ایسا کیوں ہورہا ہے، اور کب تک ہوتا رہے گا؟ یہ تو حق تلفی ہو رہی ہے۔ سیاستدان، خواہ حکومت میں ہیں یا اس سے باہر اس پر کیوں نہیں کچھ کر  پا رہے۔ یہاں پروفیشنل کا خون ہورہا ہے۔ مایوسی کیوں نہ پھیلے”

اس نے مزید اپنا غصہ کم کرتے ہوئے میرے دل کی بات کہہ دی کہ “اگر کوئی طالب علم غلطی سے پڑھ لیتا ہے اور ان مراحل کو بمشکل طے کر ہی لیتا ہے تو اسے اپنی متعلقہ فیلڈ کے لئے در در کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ، آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا”۔

عمیر کی باتوں میں وزن تھا، میں خاموش ہو کر سوچتا رہا۔ کسی بھی شعبے میں یہ واردات بڑے خوبصورت انداز میں ڈالی جا رہی ہے۔ آپ کسی بھی شعبہ کو لے لیں، مثال کے طور پر کرکٹ کو دیکھ لیں تو اس میں کلیدی عہدوں پر ایسے افراد لگائے گئے ہیں جو کرکٹ کی الف ب نہیں جانتے۔ جبکہ ہمارے ملک میں ایسے کرکٹرز بھی موجود ہیں جنہیں جب اپنے ملک میں پذیرائی نہ ملی تو انہوں نے دوسرے ملکوں میں جاکر ٹریننگ لینا شروع کر دی اور دوسرے ممالک میں جاکر اپنا نام کمایا۔ پروفیشنل جس باریکی سے فیلڈ کو دیکھتا اور سمجھتا ہے وہ نان پروفیشنل کو نصیب نہیں ہوتی۔ جب کمانڈ نان پروفیشنل کو دی جاتی ہے تو وہ ایسی ایسی غلطیاں کرتا ہے جس کا مداوا ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں بہت سے شعبے نان پروفیشنل ازم کی بھینت چڑھ چکے ہیں۔ جس میں ہاکی جیسے روشن کھیل کا مقدر تاریکی کا حصہ بن گیا۔ فٹبال کا کھیل اٹھ ہی نہیں پایا۔ تعلیم کے شعبے پر نظر دوڑائیں تو اردو کی ترقی کے لئے کردار دبا دبا نظر آتا ہے۔ کیونکہ مخصوص فیلڈز کے لئے جہاں پروفیشنل کا انتخاب ضروری ہے وہاں فیصلے بھی پیشہ وارانہ امور پر ہی کئے جانے چاہئے ہیں۔ لیکن بھیڑ چال کا یہ دور اپنی اہم ضرورت کو نظر انداز کر چکا ہے اور ایک دوسرے کو نوازنے کے سلسلے نے پیشہ وارانہ سوچ، اہمیت کو بھی کچل دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دونوں خواب ”پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب” اور ” پنجاب میں ہرکام میرٹ پر” کی تعبیر سے محروم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments