امرتا شیرگل سے لیڈی ہیرسن تک


ali abbasاس سال کے آغاز میں، جب میں نے لاہور کے کچھ قدیم گھروں کے بارے میں، جہاں کبھی عظیم فنکار رہائش پذیر تھے، تحقیق کا آغاز کیا تو میں ایک پنجابی فنکارہ امرتا شیرگل، جس نے اس شہر میں اپنی زندگی کے دن پورے کیے تھے، کے گھر تک پہنچ گیا۔ وہ 23۔ گنگا رام مینشن ،جو کبھی ایکسچینج مینشن کہلاتا تھا،میں رہتی تھی۔ آج کل یہاں ایک آٹو مکینک کا خاندان آباد ہے۔ جب میں اُن سے ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اس گھر کی تاریخی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ میں نے ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا اور اس گھر کی بہت سی تصاویر لیں۔ اتفاق سے مجھے پتہ چلا کہ تیس جنوری 2013، جسے پاکستانی، بلکہ ہندوستانی میڈیا نے بھی نظر انداز کر دیا تھا، امرتا شیرگل، جسے ’’انڈیا کی فریڈہ کاہلو‘‘ کہا جا سکتا ہے، کا سوواں یومِ پیدائش تھا۔ اس عظیم فنکارہ نے، جو اٹھائیس سال کی جوان عمر میں فوت ہوگئی، ہندوستانی عورت کے مصائب کا فن کے ذریعے اظہار کیا تھا۔

563908021ca30اسی دوران مجھے بھابیش چندرا سنیال کے، جو بی سی سنیال کے نام سے مشہورتھے اور جنھوں نے انڈین فنِ مصوری کو ایک نئی جہت بخشی، اسٹوڈیو کا بھی پتہ چلا۔ بائیس اپریل 1901 میں پیدا ہونے والے بی سی سنیال کو غیر منقسم ہندوستان کے آرٹ کا گرو قرار دیا جا سکتا ہے۔ 1937 میں اُنھوں نے ایف سی کالج کے احاطے میں اپنا اسٹوڈیو قائم کیا جو بعد میں آرٹ کا سکول بن گیا۔ اس کے بعد سنیال نے اس اسٹوڈیو کو گنگا رام مینشن کے بالمقابل واقع دیال سنگھ مینشن میں منتقل کر دیا۔ اس مینشن میں امرتا بھی کچھ ماہ تک رہ چکی تھیں۔ یہ میری خوش قسمتی کہہ لیں کہ میں بی سی سنیال کے قائم کردہ اسٹوڈیو کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا کہ اس کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی اور اس کے درودیوار سے ایسی کوئی جھلک نہیں ملتی تھی کہ یہاں کبھی کوئی عظیم فنکار کام کرتا تھا۔ چند ہفتے بعد، مجھے ایک مشہور مصور پروفیسر اعجاز انور کا انٹرویو لینے کا موقع ملا۔ جب میں نے اُنہیں اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اسی دوران اُنھوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ بی سی سنیا ل نے شہرکی اور بھی مختلف جگہوں پر اپنے اسٹوڈیو قائم کیے ہوئے تھے۔میں نے موقعہ پا کر ان کا بھی کھوج لگانے کی سعی شروع کردی ۔ میری محنت رنگ لائی اور میں میکلوڈ روڈ پر ان کا ایک اسٹوڈیو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کے بعد مجھے لاہور میں ایک اور مصور روپ کرشنا کا گھر بھی مل گیا۔ اس کو تلاش کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ یہ مال روڈ کی طرف سے انارکلی کے شروع میں ہی واقع تھا۔ یہ دراصل ایک کتابوں کی دکان تھی۔ کبھی یہ دکان روپ کرشنا خاندان کی ملکیت تھی۔ سابق بھارتی وزیرِ اعظم اندرکمار گجرال کے بھائی ستیش گجرال ،جو ایک مشہور مصور تھے ، نے بھی کچھ عرصہ لاہور میں گزارا۔ بنیادی طور پر اُن کا تعلق جہلم سے تھالیکن وہ فنِ مصوری میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے لاہور آگئے اور میوسکول آف آرٹس( موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی ملاقات امرتا شرگل اور روپ کرشنا جیسے عظیم فنکاروں سے ہوئی۔ اسی ضمن میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک ستیش گجرال روپ کرشنا سے ملنے گئے ۔ اُنھیں یہ دیکھ کر شدید صدمہ ہوا کہ امریتا شرگیل کی پینٹنگز گلی میں پڑی ہوئی ہیں۔ بعد میں اُنہیں پتا چلا کہ کرشنا نے امرتا سے کہا تھا کہ اُس میں فنکارانہ صلاحیتیں نہیں ہیں اور اُس کی تخلیقات Self-portraitبے کار ہیں۔ تاہم بعد میں روپ کرشنا کے خاندان نے اپنی دوکان فروخت کر دی اور لند ن چلے گئے۔ آج بہت کم لوگ روپ کرشنا کو جانتے ہیں جبکہ امریتا بہت بڑی فن کارہ کہلاتی ہے۔ میں ہچکچاتے ہوئے اس ویران سے گھر میں داخل ہوا۔ میں نے چلا کر پکارا کہ کوئی اندر ہے لیکن جواب ندارد۔ پھر میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک کمرے میں کام کررہے تھے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ میں ایک صحافی ہوں اور میں اس عمارت کی تصاویر لینا چاہتاہوں۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ اس کے لیے مجھے اس کے مالک کی اجازت درکار ہو گی۔ تاحال مجھے اس اجازت کا انتظار ہے۔

میرا شوق مجھے کالج روڈ پر اس چوک میں لے گیا جہاں سوبہا سنگھ کا اسٹوڈیو تھا۔ سوبہا سنگھ زیادہ تر سکھ گرووں کی تصاویر پینٹ کیا کرتا تھا۔ وہ تقسیمِ ھند سے ایک سال پہلے 1946 میں لاہور میں آیا تھا۔ میں اُس کا گھر تلاش نہ کر سکا کیونکہ بہت سی پرانی عمارتوں کو گرا دیا گیا تھا۔ میں وہاں موجود ایک ہوزری کی دوکان میں گیا اور دوکاندار سے سوبہا سنگھ کے اسٹوڈیو کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو وہ میری بات نہ سمجھ سکا۔ پھر میں نے اُسے بتایا کہ میں اس مصور کا اسٹوڈیو تلاش کررہا ہوں جس کی تمام پینٹنگز تقسیمِ ھند کے دوران ہونے والے فسادات میں جل گئی تھیں تو اُس نے مجھے کہا کہ میں قریبی ایک اور دوکان ’’محکم الدین اینڈ سنز ‘‘ پر جاؤں کیونکہ یہ دوکان تقسیم سے بھی پہلے کی ہے اور اسکے مالکان شاید میری مدد کرسکیں۔ یہ ایک بیکری کی دوکان تھی اور اس کے مالک مسٹر محکم نے میرا گرمجوشی سے استقبال کیا اور وعدہ کیا وہ سوبہا سنگھ کے اسٹوڈیو کی تلاش میں میری مدد کرے گا۔ تاہم کئی دن کے بعد بھی وہ کسی شخص کو تلاش نہیں کرسکا جو مجھے سوبہا سنگھ کے اسٹوڈیو کے مقام کے بارے میں بتا سکتا۔ میں کچھ پریشان تو تھا لیکن بیکری کے مالک مسٹر محکم کی مہمان نوازی نے میرا دل جیت لیا۔ پچاس سالہ محکم ایک زندہ دل شخص تھا ۔ اُس نے مجھے اپنی بیکری کی تاریخ بیان کرنا شروع کردی۔

مسٹر محکم نے مجھے بتایا کہ ’’سید محکم الدین اینڈ سنز ‘‘ بیکری ایک نوجوان نے، جس کا نام بھی محکم الدین تھا، قائم کی تھی۔ اس کا والد قمر الدین جالندھر کینٹ میں برطانوی راج کے دوران فوج کو چائے سپلائی کیا کرتا تھا۔ وہاں اس کے اُس وقت کے پنجاب کے گورنر سر 5208f8bb26cadچارلس ایچی سن (ایچی سن کالج کے بانی) سے اچھے تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ لیڈی ایچی سن بہت مہربان خاتون تھیں اور وہ انواع و اقسام کے کھانے پکانے میں مہارت رکھتی تھیں۔ سید قمر الدین کی درخواست پر لیڈی نے مہربانی کرتے ہوئے اس کے بیٹے، محکم الدین کو مغربی روایات کے مطابق پکانے کی تراکیب سکھائیں۔ اُس وقت اُس نوجوان کے ذہن میں لاہور میں بیکری کھولنے کا خیال پیداہوا۔ چناچہ اُس نے یکم جنوری 1879 کو لاہور میں یہ بیکری قائم کی۔ اس کے افتتاح کے موقع پر برطانوی حکومت کے بہت سے افسران اور شہرکی معزز شخصیات موجود تھیں جبکہ لیڈی ایچی سن نے افتتاح کرتے ہوئے فیتہ کاٹا۔ اُس وقت بیکری کی مصنوعات مہنگی ہوتی تھیں اور عام شہری اُنہیں خریدنے کی اسطاعت نہیں رکھتے تھے، چناچہ اُن کے گاہک زیادہ تربرطانوی شہری اور کچھ شہر کے نامور شہری، جن میں اہم علمی ادبی شخصیات ، جیسا کہ طفیل ہوشیار پوری، وقار انبالوی، محمد طفیل (ایڈیٹر نقوش)، آغا شورش کاشمیری،مولانا کوثر نیازی، پروفیسر غلام مصطفی تبسم، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر اجمل خان اور بہت سے دیگر اہم افراد ان کی بیکری کے باقاعدہ گاہک تھے۔ محکم الدین نے بتایا …’’مرزا غلام احمد (احمدیہ فرقے کے بانی)اور علامہ اقبال بھی یہاں آیا کرتے تھے اور میرے دادا کے ساتھ گھنٹوں مذہبی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ ‘‘کئی عشرے بعد نگینہ بیکری ادبی شخصیات کی توجہ کا مرکز بن گئی، 5208f8bbc464aتاہم حقیقت یہ تھی، محکم الدین نے بتایا، کہ نگینہ بیکری دراصل ایک چائے کی دوکان تھی۔ اس کا مالک ایک نوجوان سکھ تھا اور اس کو بیکری کی مصنوعات محکم بیکری سے ہی سپلائی کی جاتی تھیں۔ شروع میں بیکری کی مصنوعات کو زیادہ تر برطانوی افسران، عیسائی اور اینگلو اینڈین اور کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہی خریدتے تھے کیونکہ عام طورپر مقامی باشندے بیکری مصنوعات کو ’’غیر ملکی خوراک‘‘ سمجھ کر ناپسند کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد مال روڈ پر ایک اور بیکری قائم ہوئی لیکن وہ زیادہ نہ چل سکی۔ محکم بیکری نے آرڈر پر کیک بنانے کی روایت شروع کی۔ گزشتہ صدی کے آخری نصف حصے میں کرسمس اور عیسائیوں کی شادی بیاہ کے لیے کیک تیار کرنا محکم بیکری کا خاصا تھا۔ بعد میں مسلمانوں نے بھی عید میلاد البنی اور دیگر اسلامی تہواروں کے لیے کیک خریدنا شروع کر دیے۔

مجھے بتایا گیا کہ محکم بیکری ایک پاؤنڈ سے لے کر تین سو پاؤنڈ وزنی کیک تیار کرتی ہے۔ ان میں خشک میوہ جات استعمال کیے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے کیکس میں مختلف مشروبات کے ذائقے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ یہاں پانچ سو پچاس سے لے کر پچپن سو پچاس روپے فی پاؤنڈ کی مالیت کے کیکس بھی دستیاب ہیں۔ عام طورپر ان کے ہاں روزانہ پندرہ سے بیس کیک فروخت ہوتے ہیں لیکن خاص مواقع پر ان کی فروخت بڑھ جاتی ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ بہت سے لوگ یہاں سے کیک یادگار کے طو ر پر بھی خریدتے ہیں ۔ وہ اسے لاہور کی سیر کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ اہم افراد میں ذوالفقار علی بھٹو اور فاروق الغاری لاہور قیام کے دوران محکم بیکری کی مصنوعات استعمال کیا کرتے تھے۔ اس طرح یہ بیکری لاہور کے ثقافتی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ محکم الدین نے بتایا کہ وہ فروخت کم ہونے سے پریشان ہو کر کوالٹی کم نہیں کرتے ہیں۔ ان کے ہاں کام کرنے والے کئی عشروں سے کام کررہے ہیں، چناچہ وہ ذائقے اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں۔

انیسویں صدی کے آخری عشرے سے تعلق رکھنے والی مصورہ لیڈی ہیرسن تھیں۔ وہ میوسکول آف آرٹس میں تعلیم اور تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہیں تھیں۔ وہ سید محکم الدین کی بہت اچھی دوست تھیں۔ محکم الدین کے بیان کے مطابق اُن کی انگلیاں بہت خوبصورت تھیں۔ ایک دن ہیرسن نے محکم الدین سے کہا …’’کیا تم میری انگلیوں جیسے بسکٹ بنا سکتے ہو؟‘‘ اُس نے جواب دیا…’’کیوں نہیں‘‘ اور پھر ان کی انگلیوں سے مشابہت رکھنے والے بسکٹ بنادیے۔ وہ اُس وقت زیادہ مزیدار تو نہ بن سکے لیکن وہ مشہور ہوگئے ۔ اس کے بعد گاہک اُن سے نام لے طلب کرتے “Harrison’ Fingers” دے دو۔ اس طرح لیڈی ہیرسن آج بھی ان بسکٹوں کی وجہ سے یاد کی جاتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “امرتا شیرگل سے لیڈی ہیرسن تک

  • 07-04-2016 at 9:19 pm
    Permalink

    I really enjoyed this post.

Comments are closed.