تاریخ کی آتشیں دیوار میں گڑے سنگ سیاہ کے کتبے


phbn

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اپنے خاندان کے مالی معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ایک عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں امید ہو گی کہ اس طرح پاناما پیپرز یا پاناما لیکس نامی دستاویزات کے ذریعے جو معلومات اور الزامات سامنے آئے ہیں، اس اعلان سے وہ گرد بیٹھ جائے گی۔ تاہم یہ امید خام خیالی ثابت ہو گی۔ ملک کے سیاستدانوں اور میڈیا کو ان دستاویزات میں شریف فیملی کے ناموں کی موجودگی نے بحث کرنے اور الزام لگانے کا نایاب موقع عطا کیا ہے۔ اس لئے یہ سلسلہ ابھی چند روز یا ہفتے جاری رہے گا اور لوگ اپنی اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق تبصروں پر رائے قائم کرتے رہیں گے۔ اس ہنگام میں البتہ دنیا میں معاملات کی رفتار اس بات کا انتظار نہیں کرے گی کہ اہل پاکستان دست و گریبان ہونے سے فارغ ہوں تو نئے سانحات کا پیغام عام کیا جائے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارت 2015 میں دفاعی شعبہ پر خرچ کرنے والا چھٹا بڑا ملک تھا۔ اور اس دوران واشنگٹن سے اطلاع آئی ہے کہ اوباما حکومت کانگریس سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کے لئے کام کر رہی ہے جو بھارت کو مساوی حیثیت عطا کرے گا۔

اس پس منظر میں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جنگی تیاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سلامتی اور خطے کے امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس علاقے میں امن کے قیام کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن بعض اہم ممالک اسلحہ کی خریداری اور دوسرے شعبوں میں بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ امتیازی رویہ برتتے ہوئے اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ قومی سلامتی مشیر کا یہ تبصرہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ SIPRI کی اس تازہ رپورٹ کی روشنی میں سامنے آیا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں دفاع پر سب سے زیادہ وسائل صرف کرنے والے پندرہ ملکوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔ 2015 میں بھارت نے اس مد میں 51,3 ارب ڈالر صرف کئے تھے جبکہ اس مدت میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 10,5 ارب ڈالر تھے۔ جنرل جنجوعہ اس فرق کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی تفاوت کی وجہ سے برصغیر میں کشیدگی اور بے چینی موجود ہے۔ اسی لئے وہ عالمی لیڈروں سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ بھارت کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے، پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات کو پیش نظر رکھیں اور بھارت کو اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تنازعات حل کرنے پر زور دیں۔ وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی نے یہ رائے اس تجزیے کی بنیاد پر قائم کی ہو گی کہ پاکستان بھی جوہری طاقت ہے اور اگر کنونشنل ہتھیاروں میں نہیں تو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں وہ ضرور بھارت کو مات دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے دنیا کے اہم ملک جن میں امریکہ اور بااثر مغربی ممالک شامل ہیں، پاکستان کو بھی بھارت جیسی اہمیت دینے پر مجبور ہوں گے۔

حکومت پاکستان بلکہ پاکستان میں برسر اقتدار ہر طبقہ کو بدستور یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی پوزیشن اور ایٹمی صلاحیت کی بنیاد پر اہم ملک ہے۔ اسے بھی بھارت کے مساوی ملک سمجھا جائے۔ یہ تجزیے اور اندازے قائم کرتے ہوئے یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ بھارت اگر اپنے دفاع پر پاکستان سے 5 گنا وسائل صرف کرتا ہے تو اس کا حجم اور آبادی بھی پاکستان سے اتنی ہی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ نئی دہلی کے حکمران گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مغرب کے لیڈروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ اس کی فوجی تیاری اپنے سے کئی گنا چھوٹے ملک پاکستان کے مقابلے میں نہیں ہے بلکہ وہ اپنے سے زیادہ بڑے اور طاقتور ہمسائے چین سے حفاظت کے لئے یہ مصارف برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ بھارت امریکہ سمیت چین کی اقتصادی قوت سے ہراساں سب ملکوں کو یہ یقین دلانے میں بھی کامیاب ہوا ہے کہ بھارت، چین کی اقتصادی یلغار کو روک سکتا ہے اور مغرب کی مناسب سرپرستی ، امداد اور تعاون کے ذریعے وہ ان امیدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جو چین کے بڑھتے ہوئے مالی اور سیاسی اثر و رسوخ کے تدارک کے لئے قائم کی جاتی ہیں۔ 20 برس کے دوران چلائی گئی سفارتکاری کی یہ مہم اب بارآور ہو چکی ہے۔ امریکہ اور یورپ نے بھارت سے یہ امید باندھ رکھی ہے کہ وہ ان کی صنعتوں اور سرمایہ دارانہ نظام کی سلامتی اور فروغ کے لئے اہم قلعہ ثابت ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سارے ملک اور ان کی ملٹی نیشنل کمپنیاں دھڑا دھڑ بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور چین کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لئے بھارت میں معاشی احیا کے ذریعے ایک اہم اقتصادی حصار تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔

گزشتہ چند برس میں بھارت کی قومی پیداوار بھی قابل ذکر رہی ہے اور معاشی ترقی کے ثمرات کے سبب ایک طاقتور اور مستحکم متوسط طبقہ جنم لے چکا ہے جو کسی بھی اہم اور ابھرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ طبقہ ایک طرف اپنے مالی وسائل کے سبب معاشرے میں اقتصادی تحریک پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت کے سبب ٹیکنیکل اور شعبہ جاتی مہارت کی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ اور یورپ کے بیشتر ملک بھارت کی فنی صلاحیتوں اور سروسز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بھارت کے ماہرین کو اپنے ملکوں میں مدعو کیا جاتا ہے یا سرمایہ کاری کے ذریعے بھارت کی ماہر لیبر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس طرح دو طرفہ مفاد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

پاکستان اس ضروری اور اہم تعاون کے بیچ اپنی سیاسی اور جغرافیائی پوزیشن کے ذریعے مراعات حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر کی باتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مساوات کے جس اصول کی بات کر رہے ہیں وہ کم از کم ربع صدی پرانا ہو چکا ہے۔ اب عالمی سیاست ہر ملک کی اقتصادی ضرورتوں کی محتاج ہو چکی ہے۔ بھارت چین کا مدمقابل ہونے کے علاوہ ایک طرف ایک ایسا ساتھی ثابت ہو رہا ہے جو فنی اور ماہرانہ شعبوں میں ترقی یافتہ ملکوں کی برابری کر رہا ہے تو دوسری طرف کثیر آبادی اور قابل ذکر متوسط طبقہ کی وجہ سے وہ امریکی اور یورپی مصنوعات کے لئے ایک اہم منڈی بھی ثابت ہو رہا ہے۔ بھارت نے جو برس ترقی کی یہ منزل طے کرنے میں صرف کئے ہیں، وہی سال پاکستان نے دہشت گردی کو کاشت کرنے ، اسے برآمد کرنے یا اب اس سے نمٹنے کے لئے ضائع کئے ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی غیر جانبدار مبصر یہی کہے گا کہ بھارت عالمی قوتوں کے لئے اہم اور پیش قیمت اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے بارے میں قریب ترین دوست ملک بھی یہ دعویٰ نہیں کریں گے۔ چین اس وقت پاکستان پر بھروسہ کرنے والا قابل ذکر اور اہم ملک ہے۔ لیکن اسے بھی پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر میں نت نئی مشکلات کا سامنا ہے۔ کبھی اس کے روٹ پر تنقید ہوتی ہے، کبھی بلتستان کی آئینی حیثیت کا سوال اٹھتا ہے اور سب سے بڑھ کر شدت پسندی اور دہشت گردی کا عفریت مسلسل ہر قسم کی اقتصادی نمو اور سیاسی استحکام کے لئے خطرہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ ملک کے تمام لیڈر، تمام تر دعوﺅں کے باوجود ان حالات کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

تو حیرانی کی کیا بات ہے کہ پاکستان کا اہم ترین عہدیدار جب بھارت کی بڑھتی ہوئی قوت پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ سے مساوی سلوک کی اپیل کر رہا تھا تو اس دوران واشنگٹن میں اوباما انتظامیہ کے ذمہ دار کانگریس کے ارکان کو ایک قانون منظور کرنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ اس قانون کے تحت بھارت کو اہم حصہ دار اور مساوی پارٹنر قرار دیا جائے گا۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے علاوہ دفاعی اور فوجی تعلقات کے حوالے سے رہی سہی رکاوٹیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ دنیا کے اہم ترین دارالحکومت میں ہونے والی اس اہم پیشرفت پر غور کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پالیسی اختیار کرنے کی بجائے پاکستان کے وزیراعظم اپنے دو بیٹوں کی آف شور کمپنیوں پر اٹھنے والے تنقید کے طوفان پر قابو پانے کے لئے قوم سے خطاب کرنے پر مجبور تھے۔ یا وہ فوج سے یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے پنجاب میں علانیہ فوجی آپریشن کرنے سے باز رہے۔

قومی معاملات لیڈروں کی بصیرت اور ترجیحات کی وجہ سے آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اہل پاکستان لمحہ بہ لمحہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لیڈروں کے پاس ان اندیشوں اور خطرات سے نمٹنے کے لئے نہ وقت ہے اور نہ ہی صلاحیت…. جو اس وقت ملک کو درپیش ہیں۔ پاکستان بدستور دو تین دہائی پرانی روش اختیار کرتے ہوئے تصور کر رہا ہے کہ دنیا اس کی بات کو سننے اور سمجھنے پر مجبورہو گی۔ یہ قیاس کر لینا وقت کی پہیے کو الٹا گھمانے کی خواہش کرنے کے مترادف ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “تاریخ کی آتشیں دیوار میں گڑے سنگ سیاہ کے کتبے

  • 06-04-2016 at 2:07 pm
    Permalink

    مجاہد صاحب آپ نے اس ضمن میں تجزیہ کاری کا یقینی طور پر حق ادا کردیا

    • 06-04-2016 at 6:04 pm
      Permalink

      شکریہ وجاہت بھائی

  • 06-04-2016 at 7:42 pm
    Permalink

    5 جولائی 1977 سےجاری بحران سے باہر دیکھ سکنے کی طاقت ہر لمحہ زوال پذیر ہے حضور!

Comments are closed.