Suffer ہم نے کیا


rashid-ahmad-2w

وہ حسیں زمانے خواب و خیال ہوئے جب سفر وسیلئہ ظفر ہوا کرتا تھا اور مسافر حضرات “سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے” کا راگ الاپتے منزلیں طے کرتے تھے۔ کچھ اہل دل مسافر تو باقاعدہ اس طرح کے نعرے بھی لگاتے تھے کہ
اے حسینو نہ راستہ روکو

ہم فقیروں کو بہت دورجانا ہے

مرور زمانہ کے ساتھ سفر نے بھی ارتقائی منازل طے کی ہیں اور اب سفر suffer ہوگیا ہے۔ ہمارا روئے سخن مملکتِ خداداد میں کئے جانے والے سفروں کی جانب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا دل دکھانا قطعاً ہمارا مقصود نہیں، بلکہ دل کے داغ دکھانا اصل مدعا ہے۔ خدا آپ پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔

سوئے سب سنسار جاگے پروردگار۔ راویانِ روایت اور حاکیان حکایت یعنی یہ فقیر پر تقصیر عفی عنہ قصہ کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ چھٹیوں جیسی نعمت غیر مترقبہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے جنم بھومی یعنی وادی مہران، سندھ دھرتی کے طوفانی سفر کا پروگرام بنایا اور ساتھ میں چند عاقبت نا اندیش دوستوں کو بھی ملایا جن کے متعلق غالب نے کہا تھا، ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو، تو ہمارے دوست بھی وہ ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے، مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ۔ خیر سفر کی وحشت سے بچنے کے لئے دوستوں کو ساتھ لے جانا پڑا۔

فیصل آباد ریلوے اسٹیشن سے پیشگی ریزرویشن کروائی تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ آخر وہ حسین دن مطلع عالم پر نمودار ہوا جس دن ہم نے عازم سفر ہونا تھا۔ دختر شب نے چادر سیاہ سے رخِ انور کا پردہ کیا۔ شاہ خاور کی آمد آمد ہوئی۔ کائنات جھوم اٹھی۔ ہر طرف خوشی و مسرت کے بادل رقصاں نظر آتے تھے۔ ہم بصد شوق وقت مقررہ پر ریلوے اسٹیشن پہنچے مگر اسٹیشن والی گہما گہمی کا دور دور تک نام نہیں تھا۔ بے وجہ اداسی تھی اور بقول غالب چچا ایسی ویرانی جسے دیکھ کر گھر یاد آئے۔ یوں لگا کہ کسی غلط جگہ آن نازل ہوئے ہیں۔ تصدیق کروائی تو پتہ چلا کہ صحیح جگہ ہی قدم رنجہ فرمایا ہے مگر اک ریل گاڑی تھی کہ جس کا دور دور تک نام و نشان تک نہیں تھا۔ تاحد نگاہ بے قرار نگاہوں کو ریل گاڑی کی تلاش میں دوڑایا مگر نگاہ ہر بار تھکی ہاری نامراد لوٹ آئی۔ لوہے کی پٹڑیوں پر کان لگا کر سن گن لینے کا ارادہ کیا مگر پٹڑیوں کی صفائی کی “معیاری” حالت دیکھ کر اپنے ارادے کو عمل کا جامہ پہنانے سے احتراز ہی مناسب معلوم ہوا۔ بقول کسے دنیا کا طویل ترین بیت الخلا پاکستان ریلوے کی پٹڑیاں ہیں۔

وقت کا گھوڑا بگٹٹ بھاگے چلا جارہا تھا مگر ریل گاڑی کا ابھی تک کوئی پتہ نہ تھا۔ شام کے پانچ بجے ہماری گاڑی نے فیصل آباد کو الوداع کہنا تھا مگر الوادعی لمحات آتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آخر شاہباز نجوم نے آفتاب پر جال پھینک کر اس کا شکار کیا، سپاہِ انوار کو شکست ہوئی، دختر شب نے اپنی سیاہ زلفیں کھول دیں، یعنی رات ہوگئی۔ رات کے دس بج گئے مگر قسمت یاوری کرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ تھکن اوربھوک کے مارے برا حال تھا۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ کوئی معلومات دینے والا نہیں تھا۔ کوئی یقین دہانی کرانے والا نہیں تھا۔ طبیعت کی ساری لطافت دیکھتے دیکھتے کثافت میں بدل گئی اور خواجہ سعد رفیق کے محکمہ کے خلاف دل میں ایسے ہولناک خیالات سر اٹھانے لگے کہ جن کا تذکرہ خوف فساد خلق سے خالی نہ ہوگا۔ رات آدھی اِدھر اور آدھی اُدھر ہوگئی مگر دلِ بے قرار کے قرار کا کوئی سامان ہوتا نظر نہ آیا۔ ہم تو خیر بے فکرے نوجوان تھے، خواتین اور بچوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی اور ستم بالائے ستم یہ کہ نہ کھانے پینے کا کوئی بندوبست، نہ آرام کی جگہ اور طرہ یہ کہ برقی رو بھی منقطع۔

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ آخر کار رات کے دو بجے حرماں نصیبوں کی شنوائی ہوئی اور ہماری مطلوبہ ٹرین خراماں خراماں اسٹیشن پر آلگی۔ ٹرین میں سوار ہونا بھی ایک معرکہ سے کم نہ تھا۔ اتنے مسافر نہیں تھے جتنے انہیں الوادع کہنے آئے ہوئے تھے اور یہ الوداعی ٹرین میں سوار ہونا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دھکم پیل کا معرکہ سر کرنے کے بعد ریل میں سوار ہوئے تو ریل کسی غریب کی کٹیا کی طرح اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مسافر اپنی نشستوں کی تلاش میں سوگوار پھر رہے تھے۔ خیر جب اپنی مطلوبہ سیٹ پر پہنچے تو مارے تھکن کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ایک بھولا بسرا شعر ذہن کے نہاں خانوں سے دریچوں پر دستک دینے لگا۔

بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں پساریں پاؤں

نیند سی نیند ہمیں اب نہ اٹھانا لوگو

دل میں نیک ارادے باندھے اور سونے سے قبل حسب روایت گھوڑے بیچے اور ان تصوارت میں نیند کی دیوی کی گود میں سر رکھ دیا کہ صبح دم جب بیدار ہوں گے تو ریل گاڑی سندھ کی مردم خیز دھرتی میں کوک کوک کرتی چلی جارہی ہوگی اور اٹھکیلیاں کرتی نسیم سحری کے جھونکے ہمارا استقبال کریں گے۔۔۔ مگر وائے ری قسمت۔ جب آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ کہ ٹرین فیصل آباد سے چنداں دور نہیں کہ اگر چاہیں تو ناشتہ کرنے الٹے پاؤں فیصل آباد جاسکتے ہیں۔ قصہ کوتاہ صاحبو کہ جن اہل ستم کو صبح دم حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر “لینڈ” کرنا تھا وہ رات کے کسی پہر منزل مقصود بلکہ اسٹیشنِ مقصود پہ اترے۔ تاحد نظر روشنیوں کا سیلاب آنکھیں فرش راہ کئے ہوئے تھا۔ گرتے پڑتے ایک کھٹارہ سی بس میں بیٹھے جسے بس کہنا شاید تہمت ہو، مگر ہمیں اسی واحد ذریعہ سفر پر اکتفا کرنا تھا کہ یہ وہ واحد بس تھی جو صدیوں سے زمین کے سینے پر مونگ دلتی ہمارے گاؤں تک جاتی تھی۔ ہمارا تعلق چونکہ صحرا سے ہے اسلئے حیدرآباد سے گاوں پہنچتے پہنچتے پھر اگلی شام پڑ گئی۔ گاؤں کی گلیوں میں پھرتے “آوارہ بے کار” کتوں نے ہمارا “شاندار” استقبال کیا۔ پطرس بخاری کے مضمون “کتے” کے صدقہ ان کی اس گستاخی کو معاف کیا ورنہ خوب خبر لینے کا ارادہ تھا۔

thar13

فطرت کا میوزیم تھر پارکر جس کی رعنائیوں کو کوئی باکمال شاعر ہی بیان کرسکتا ہے، میں ایک ہفتہ قیام تھا۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں ایک دوسرے سے کئی سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ ہم بھی دو سو کلومیٹر کا مزید  sufferکر کے ایک دوست کے ہاں جا فروکش ہوئے۔ صحرا کے اس نہ ختم ہوتے فاصلہ پر پھر غالب چچا یاد آئے۔

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

خیر بیاباں میں بھاگتے بھاگتے آخر کار منزل مقصود کو پا ہی لیا۔ دوست نے مرغِ مسلم سے ہماری تواضع کی اور ہم نے بھی خوب داد دی۔ داد دیتے دیتے ذہن میں پھر غالب چاچا کا خیال آنے لگا۔ سوچا کہ اگر غالب چاچا قرض کی مے نہ پیتے اور یوں مرغ مسلم سے ان کی بھی آؤ بھگت ہوتی تو کبھی نہ کہتے کہ،

صحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے

واپسی کا سفر اک اور داستان کا متقاضی ہے۔ رہے نام اللہ کا۔


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

One thought on “Suffer ہم نے کیا

  • 07-04-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    واہ کیا بات ہے میاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (y)

Comments are closed.