ہمارا پولیس کے بارے میں تصور


naseer ahmad nasirنصیر احمد ناصر

انسان جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے اور پروان چڑھتا ہے اسی کے مطابق اس کے ذہن میں چیزوں، لوگوں، اداروں اور مَظاہرِ گونا گوں کے متعلق اچھے یا برے تصورات بنتے جاتے ہیں۔ ان تصورات کے بننے اور ختم ہونے میں بعض اوقات عمریں لگ جاتی ہیں بعض اوقات ایک لمحہ۔ بسا اوقات یہ زندگی بھر نہیں بدلتے۔ تعلیم، معاشی ترقی، نطام حکومت اور دیگر کئی سماجی، ثقافتی اور سیاسی عوامل ان میں مثبت یا منفی تبدیلی لانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مہذب معاشروں کے برعکس، جہاں پولیس تحفظ کی عملی مثال ہے اور کسی بھی قسم کی صورتِ حال میں ہمہ وقت مدد کے لیے تیار رہتی ہے، ہمارے ملک و معاشرے میں پولیس کا تصور آتے ہی دل میں ایک خوف سا پیدا ہونے لگتا ہے۔ شہریوں کی حفاطت اور مدد کرنے اور قانون کی پاسداری کے بجائے پولیس بذاتِ خود ظلم، دہشت، لاقانونیت، طاقت و اختیار کے غلط استعمال اور ریاستی جبر کی علامت سمجھی جاتی ہے جس سے ہر شریف شہری حتی الوسع بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

مجھے یاد ہے میں جب میٹرک کا طالب علم تھا تو میرا ایک دوست سرکاری ہسپتال کے رہائشی کوارٹر میں رہتا تھا۔ ہسپتال کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی اور ہم اکثر اس پر بیٹھا کرتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات چائے بھی وہیں پیتے اور کھانا بھی اسی دیوارکو ڈائنگ ٹیبل بنا کر کھا لیتے تھے۔ ہسپتال سے ملحق گلی میں ایک غریب پکوڑے فروش اپنی جوان اور خوبصورت بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ جیسا کہ گلی محلوں میں ہوتا تھا اس لڑکی اور گلی کے ایک لڑکے کے درمیان عشق کا چکر چل رہا تھا جس کا مظاہرہ ہم نے کئی بار دیکھا۔ اتفاق سے پولیس تھانے کے نئے ایس ایچ او بھی ا±سی گلی میں کرائے کے ایک مکان میں اپنے دو نوجوان لڑکوں کے ساتھ آ بسے۔ وہ دونوں بھائی بھی ا±س لڑکی پر عاشق ہو گئے اور نہ صرف پہلے عاشق کے بلکہ خود آپس میں بھی ایک دوسرے کے رقیب بن گئے۔ ایک دن میں اور میرا دوست حسبِ معمول ہسپتال کی دیوار پر بیٹھے ہوئے تھے کہ سامنے ایک خوفناک منظر دکھائی دیا۔ ایس ایچ او گلی کے ا±س لڑکے کو، جسے لڑکی بھی پسند کرتی تھی، پٹخنیاں دے رہا تھا اور گالیاں بک رہا تھا۔ غصے، طاقت اور اختیار کے جوش میں اس نے اپنی سرکاری بیلٹ اتاری اور کوڑوں کی طرح لڑکے پر برسانے لگا۔ جب تھک گیا تو دونوں بیٹوں سے کہا کہ اس ’ماں کے عاشق‘کو جی بھر کے پھینٹی لگاو۔ انھوں نے بھی رقابت کا خوب بدلہ لیا۔ کچھ لوگوں نے بیچ بچاو¿ کی کوشش کی لیکن ایس ایچ او کا غصہ دیکھ کر اور گالیاں سن کر ایک طرف ہو گئے۔ ہم دونوں دوست بھی آدرشی بزدلوں کی طرح خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے۔ لیکن دل میں پولیس کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی جو آج بھی باقی ہے۔ جب وہ لڑکا نیم بے ہوش ہو گیا تو ایس ایچ او اور اس کے بیٹے وہاں سے چلے گئے۔ میں نے دیکھا کہ لڑکی اور اس کا باپ چھت پر کھڑے ہماری طرح بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور میری طرح اس لڑکی کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے جنھیں وہ بار بار بوڑھے باپ سے منہ چھپا کر دوپٹے سے پونچھتی تھی۔

ایک زمانہ تھا کہ پولیس اہلکار جب چھٹیوں پر یا ذاتی سفر پر جاتے تھے تو دانستہ وردی پہن کر بسوں میں سوار ہوتے تھے تا کہ ٹکٹ نہ لینا پڑے۔ ایک دفعہ میں راولپنڈی جا رہا تھا تو بس میں ایک اے ایس آئی سوار ہو گیا۔ کنڈکٹر کوئی بڑا ہی “ڈشکرا” قسم کا تھا، اے ایس آئی سے بار بار کرایہ طلب کرتا تھا، دو دفعہ اسے سیٹ سے اٹھا کر اِدھر ادھر بٹھایا کہ لیڈی سواری بٹھانی ہے، باتوں میں بے عزت بھی کیا لیکن مجال ہے کہ اسے ذرا بھی غیرت آئی ہو۔ زچ ہو کر کہنے لگا کہ میں سرکاری ڈیوٹی پر ہوں۔ اس بات پر سب مسافر ہنس پڑے۔ غرض یہ تماشا سارے راستے لگا رہا نہ پولیس اہلکار نے کرایہ دیا نہ کنڈکٹر کی چھیڑ چھاڑ ختم ہوئی۔ آخری عمر میں ابا جی کو ڈمینشیا ہو گیا تھا۔ ایک بار گھر سے گئے اور کئی دن تک واپس نہ آئے۔ ظاہر ہے ان کی گمشدگی بڑی اذیت ناک تھی۔ میں پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کرانے گیا تو ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ سر جی یہ بڈھے جان ہی نہیں چھوڑتے اس عمر میں بھی چین سے نہیں بیٹھتے۔ پھر کہنے لگا محرر موجود نہیں، ایس ایچ او صاحب بھی نہیں، آپ کل آئیے گا۔ اگلے روز میں سیاسی و سماجی رہنما قسم کے ایک دوست کو ساتھ لے کر گیا تو وہی اہلکار مسکراتے ہوئے ہمیں دفتر سے ملحقہ ایک مختفی سے کمرے میں لے گیا جہاں ایس ایچ او دو تین خدمت گزاروں کے ساتھ موجود تھے۔ کس حالت میں یہ الگ بحث ہے۔ مختصر یہ کہ مجھے ایف آئی آر کی نقل تو مل گئی لیکن باہر نکلتے ہوئے وہی اہلکار جو ہمیں اندر لے کر گیا تھا چائے پانی کے پیسے لینا نہ بھولا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ بوڑھے کو ڈھونڈنا پولیس کا کام نہیں ہمارے پاس نہ بندے ہیں نہ گاڑی اور پھر ہمیں کیا پتا کہ آپ نے خود ہی اسے غائب کر دیا ہو، سر جی کوئی جائیداد وغیرہ کا تو چکر نہیں۔ ان تمسخرانہ باتوں سے میری جو ذہنی کیفیت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ میرے ایک کزن پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ایک بار وہ کسی مارکیٹ میں تھے کہ دو بندے آپس میں لڑ پڑے۔ غلطی سے وہ بیچ بچاو¿ کرانے لگے۔ اس دوران پولیس آگئی اور انھیں بھی تھانے لے گئی۔ انھوں نے بہت کہا کہ میرا اس جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پولیس والے نہ مانے۔ تھانے میں کئی گھنٹے گزر گئے وہ جب بھی اجازت مانگیں پولیس اہلکار کہیں ابھی ایس ایچ او صاحب نہیں آئے وہ آئیں گے تو مک مکا ہو گا۔ آخر ایس ایچ او تشریف لے آئے۔ میرے کزن نے ان سے کہا کہ پلیز میرا بیان لے لیں میں پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں مجھے جانے دیں۔ ایس ایچ او نے ہنستے ہوئے کانسٹیبل سے کہا کہ یہ کسے پکڑ لائے ہو، پہلے بتانا تھا کہ آپ ماسٹر ہیں، جائیں۔ ایک اہلکار نے جاتے جاتے بھی ان سے چائے کے نام پر سو روپیہ لے لیا۔ کچھ عرصہ پہلے میں ایک ویگن میں سفر کر رہا تھا۔ ڈرائیور نے سگرٹ سلگا لیا۔ میں نے کہا یہ قانوناً منع ہے، اِس کی سزا ہے تو وہ ہنس پڑا کیونکہ اسی ویگن میں بیٹھا ہوا ایک باوردی پولیس والا بھی سگریٹ پی رہا تھا۔

یہ ایک عام پڑھے لکھے آدمی کے عمومی مشاہدات و تجربات ہیں، کوئی دانشورانہ تجزیہ نہیں۔ نہ یہ بڑے کالم نگاروں اور بڑے پولیس افسروں کے باہمی تعلقات کی باتیں ہیں جن میں فخریہ کسی نہ کسی غیر قانونی معاملے اور سفارشوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ایسے بے شمار حقیقی واقعات ہیں۔ لیکن پولیس کا اصل انسانیت سوز اور قابل نفرت کردار ان سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ چوریوں، ڈاکوں، قتل اور اغوا کی وارداتوں میں خود پولیس کا ملوث ہونا روزمرہ کی بات ہے۔ رشوت، جعلی پولیس مقابلے، بے گناہوں کے خلاف جھوٹے مقدمے، اصل مجرموں کو کھلی چھوٹ اور سیاستدانوں حکمرانوں کے اشاروں پر انسانی جانوں سے کھیلنا معمول کا قصہ ہے۔ تھانوں میں غیر قانونی حراستیں، تشدد، خواتین کی بے حرمتی پولیس کا وتیرہ ہے۔ اب ذرا ترقی یافتہ ملکوں کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھیں۔ میرا بھائی جن دنوں تعلیم کے لیے جرمنی میں تھا تو وہاں کی ایک خاتون جج اس کی دوست تھی۔ وہاں کے جج ہمارے ججوں کی طرح نہیں ہوتے۔ عام آدمیوں کی طرح اپنے کام خود کرتے ہیں، بسوں ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں اور مارکیٹوں میں سودا سلف خریدنے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ گھروں کا پینٹ بھی خود کرتے ہیں۔ دورانِ قیام میرے بھائی نے فلیٹ بدلا تو سامان شفٹ کرنے کے وقت اس کی جج دوست رضاکارانہ طور پر مدد کے لیے آ گئی اور جوتے اتار کر سارا گھر سیٹ کروایا۔ شفٹنگ کے دوران بھائی نے کوئی چیز زور سے پھینکی تو اس نے فوراً ٹوکا کہ مبادا کھٹ پٹ کی آوازیں عمارت کے دوسرے مکینوں کو ڈسٹرب کریں۔ اسے ڈر تھا کہ کسی نے شکایت کر دی تو فوراً پولیس آ جائے گی اور یہ نہیں دیکھے گی کہ وہ جج ہے بلکہ ملکی قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ یہ ہے مہذب معاشرے میں پولیس کا صحیح تصور۔ معلوم نہیں ہماری پولیس اور ہمارا “تصورِ شرطگی” یعنی پولیس کے بارے میں تصور کب بدلے گا!


Comments

FB Login Required - comments