لاہوری ناشتے اور ادبی بیٹھک


توقیر ساجد تقی

\"nasta2\"

یو ایم ٹی پریس فورم کے تحت ہر ماہ کی پہلی اتوار کو لاہوری ناشتہ اور ادبی بیٹھک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے اس ادبی بیٹھک کا بیڑہ اٹھایا۔ اکیڈمی آف لیٹرز پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے لکھنے والوں کی قومی کانفرنس کے لیے میزبانی کا کہا تو نہ صرف یہ کانفرنس یونیورسٹی میں منعقد ہوئی بلکہ اس سے ایک نئی روایت کا آغاز ہوا اور7 جون 2015 کو لاہور میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام منعقد ہوا۔ یہ لاہوری ناشتہ تھا جس میں لاہور کے اہل علم و ادب کو دعوت دی گئی تھی۔ وہیں اعلان کیا گیا کہ لاہوری ناشتہ باقاعدگی سے ہوگا۔ لیکن رمضان المبارک، موسم گرما کی تعطیلات اور پھر محرم الحرام کے احترام میں اس کا انعقاد نہ ہو سکا گزشتہ دن اپریل کے پہلے اتوار کو آٹھویں ادبی بیٹھک میں مستنصر حسین تارڑکو مدعو کیا گیا تھا۔ مستنصر حسین پاکستان کے شہر گجرات میں یکم مارچ 1939 میں پیداہوئے۔ پاکستان میں اردو ادب میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔ سفیر اردو ،ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کہا تھا ہم اردو ادب میں صرف تین حسین کو مانتے ہیں، عبدا للہ حسین ،انتظار حسین اور مستنصر حسین تارڑ۔

\"tarrar3\"ادبی بیٹھک کا آغاز ناشتہ سے ہوتا ہے۔ لاہوری ناشتے میں بونگ، پائے، نان چنے، حلوہ پوری، آملیٹ اور ڈبل روٹی کے ساتھ ساتھ چائے اور کافی کا بھی اہتمام کیا جاتاہے۔ پر تکلف ناشتے کے بعد پروگرام شروع کیا جاتا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر مارننگ شو سے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے والے آج کی نوجوان نسل کے معروف چاچا جی مستنصر حسین تارڑ کو پہلی بار یو ایم ٹی کے زیر اہتمام ادبی بیٹھک میں دیکھا تو چاچا جی کی بجائے دادا جی کا گماں ہونے لگا۔ بڑھاپے کی تمام خصوصیات نے ان کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ بالوں میں چاندنی اور قوت سماعت میں بائیں کان سے کم سننے کے باوجود وہ آج بھی حاضرین کے دلوں کو ہمیشہ کی طرح اپنی خوبصورت باتوں سے لبھاتے رہے۔ شرکاء کی طرف سے سوالات کا آغاز ہوا تھا تو ایک خاتون نے دریافت کیا کہ آپکا نام مشکل کیوں اور کس نے رکھا ہے؟ تو حس مزاح برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ کاش آپ پڑھی لکھی ہوتی تو مشکل نہ ہوتی۔ نام مشکل نہیں لیکن میڈیا کی تکرار کہ مستنصر حسین تارڑ مشکل نام ہے عوامی رائے بن چکی ہے۔ میڈیا لوگوں کے مذاہب بدل دیتا ہے پاکستانی لڑکیوں نے ماتھے پر بندیاں لگانے شروع کی ہوئی ہیں اور نام رکھنے \"Nashta\"کی بات ہے تو میرے دادی جان میرا نام لال دین رکھنا چاہتی تھی لیکن میرے ماموں چونکہ فارسی کی گردانیں جانتے تھے تو اس وجہ سے انہوں نے میرا نام مستنصر حسین رکھا۔ پھر میری دادی نے میرا نام تسبیح پر یاد کیا اور یہی وجہ ہے مجھ پر خدا کا اتنا کرم ہے کہ دادی نے نام تسبیح پر یاد کیا۔ لاہور سانحہ گلشن اقبال اور سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے تناظر میں اپنے کالم کا ذکر کیا تو پنڈال میں موجود سبھی حاضرین اشکبار ہوگئے۔ شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ میں ملبوس تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ یہ لباس میری پاکستانی ہونے کی نشانی ہے۔ جب پی ٹی وی میں مارننگ شو کی ابتداء کی تو پروگرام میں پاکستانی لباس کو زیب تن کیا جانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ پہلے میرا حلیہ انگریزوں جیسا تھا، سالوں کے گزرنے کے باوجود پاکستانی ہونے کی یہ عادت جاتی نہیں۔ محب وطن پاکستانی تارڑ صاحب نے 8 سال کی عمر میں پاکستان بنتے دیکھا تھا۔ پاکستانیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اپنے ملک میں رہ کر دوسرے ممالک سے محبت کرتے ہیں اگر ہم سچے محب وطن اور بہترین ناول نگار بننا چاہتے ہیں تو ملک کے گوش و کنار، وطن کے تمام موسموں اور اس زمین پر اگنے والی ہر چیز سے آگاہی ضروری ہے۔

اسی بارے میں: ۔  گل رعنا: قسط وار مایوسی

شرکاء ادبی بیٹھک میں مجیب الرحمن شامی صاحب اور ایاز میر صاحب بھی شامل تھے۔ ادبی بیٹھک جہاں اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد پروگرام بن چکا ہے وہاں یہ اہل لاہور کے لئے ایک ادبی فیسٹول کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔ لاہور بھر سے ادب سے وابستہ سینکڑوں خواتین و حضرات ادبا، صحافی، دانشور ،شاعر ،کالم نگار اور اینکر پرسن کو ہر ماہ ایک جگہ اکٹھے ہونے کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “لاہوری ناشتے اور ادبی بیٹھک

  • 07-04-2016 at 6:11 am
    Permalink

    ’’ ادبی بیٹھک ‘‘ کی اس روایت کے متعلق جان کر خوشی ہوئی ۔ خدا ایسی محفلیں سجانے اور علم و ادب کی شمعیں جلائے رکھنے کی مزید استطاعت دے اور ایسی بیٹھکوں سے ہر کوئی مستفید ہو۔
    جناب مستنصر حسین تارڑ ، کچھ عرصہ ہوا یہاں ہمارے ہاں کوپن ہیگن بھی تشریف لائے تھے، ویسے تو وہ اُن دنوں یہاں پہلے بھی آ چکے ہوئے تھے جب پاکستان میں بہت کم لوگ ہی کوپن ہیگن کو جانتے ہوں گے ۔ یہ شاید سنہ انیس سو اسی یا اکیاسی کی بات ہے ۔ ان کے سفر نامہ ’’ نکلے تیتی تلاش میں ‘‘ اس کا مفصل ذکر ہے ۔ اس لحاظ سے اردو سفر نامہ نگاروں میں مستنصر حسین پہلے ہیں جنہوں نے کوپن ہیگن دریافت کیا اور بچوں کے لیے طلسماتی کہانیاں تخلیق کرنے والے مشہور زمانہ ڈینش ادیب و شاعر ایچ سی آنڈرسن کے دیس کو اردو ادب میں روشناس کرایا ۔ پچھلے سال جب وہ یہاں آئے تو ان کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں مجھے بھی ان کی علمی ادبی شخصیت کے حوالے سے کچھ کہنے کا موقع ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اکیلا ہی تھا جس ںے اس موضوع پر کچھ کہا ۔ شاید آپ کے لیے دلچسپ ہو، اس لیے اپنے مضمون کا ’’ لنک ‘‘ دے رہا ہوں ۔ اور آپ کی رائے کا منتظر ہوں ۔
    http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Articles&article=326
    والسلام

  • 25-04-2016 at 4:45 pm
    Permalink

    اگر کوئی اس “لاہوری ناشتے اور ادبی بیٹھک” میں شرکت کرنا چاہے تو کیا طریقہ کار ہے۔

Comments are closed.