وفاداری بشرط استواری۔۔۔


ناصر محمود (جرمنی) 

nasir mehmood 1 وعدہ اور عھد و پیماں ایسے الفاظ ہیں جو اپنی تمام تر پاکیزگی کے ساتھ سچائی اور خلوص کا مظہر ہونے کے باوجود اپنا مقام اور اہمیت کھوتے جا رہے ہیں۔ اول الذکر کو تو ہم نے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا اور ثانی الذکر کو اپنی رومانوی کہانیوں میں رنگ بھرنے اور دلربا حسیناؤں کو رام کرنے کے کام پر لگا رکھا ہے قطع نظر اس سے کہ یہی وہ چند الفاظ ہیں جو دنیا میں ہمارے کردار کا پتہ دیتے ہیں تو روزِ محشر ہمارے لئے وبالِ جان بھی بن سکتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں  بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں حکم دیا ہے کہ “وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا” (اپنے عہد (وعدہ) کو (ہر حال میں) پورا کرو کہ یقینا (روزِ قیامت) اس کے بارے میں پوچھا جائے گا) اور یہ بلکل منطقی بات ہے کے جہاں کہیں بھی یہ الفاظ اپنے حقیقی معنی و مفہوم سے محروم ہو جاتے ہیں وہاں فساد کی روانی اور جھوٹ کا بول بالا ہونا ایک لازمی اور حتمی امر بن جاتا ہے اب چاہے کوئی اس کو ثقافت کا نام دے یا عادت کا لباس پہنا کر حقیقت اور انجام کی تباہ کاریوں سے صرفِ نظر کرنے کی کوشش کرے انجام وہی ہو گا جو منطقی ہے اور قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے۔

عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ وعدہ اور عہد کا اطلاق اور حکم صرف ان عبارات و اقوال پر ہوتا ہے جن میں باقاعدہ طور پران الفاظ کا ذکر کیا گیا ہو یا بطور خاص اس چیز کا اہتمام کیا گیا ہو کہ یہ وعدہ اور عہد ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے لیکن اصولی موقف کے طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب ایک عاقل اور بالغ انسان اپنے ہوش و ہواس میں بنا کسی جبر کے کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اقرار کرتا ہے تو گویا وہ ایک وعدہ کر رہا ہے اور اگر بنا کسی معقول وجہ کہ وہ اس کی مخالفت کرتا ہے تو انسانیت کا مجرم ٹہرے گا اور اس پر اصرار اسکو دوسروں کی نظروں میں گرا کر اسکی عزت کو مٹی میں ملا دے گا اور اگر اکثریت کا یہی رویہ ہے تو معاشرے میں فساد تو پھیلے گا ہی الفاظ بھی اپنے معانی و وقار سے محروم ہو جائیں گے اور اگر وہ عاقل اور بالغ ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہے تو انسانی فطرت کے ساتھ ساتھ اسلام کا بھی مجرم قرار پائے گا کہ اسلام کسی بھی درجے میں ایسے امور کی اجازت نہیں دیتا جو کسی بھی طرح معاشرے میں فساد، بگاڑ یا افراتفری کا سبب بن سکتے ہوں اور جب انسانی عقل اس چیز کو تسلیم کرتی ہے کہ اقوال کی مخالفت اور وعود و عھود کی پاسداری نہ کرنے کا دوسرا نام جھوٹ ہے جو کسی بھی انسانی معاشرے کےلیئے سم قاتل کا درجہ رکھتا ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ کی جائے تو فساد، افراتفری، بے یقینی اور چور بازاری جیسی گھناؤنی آفتیں اس کا مقدر ہو جایا کرتی ہیں۔ اسلام جو دینِ فطرت ہے اور انسانیت  کے لیئے مشعلِ راہ کا کردار ادا کرتے ہوئے اسکو بامِ عروج تک پہنچا کر انسانیت کی معراج جیسے عظیم انعام سے نوازتا ہے اس بات کو کسی بھی درجہ میں کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کے نام کی مالا جپنے والے کسی بھی درجہ میں اس چیز سے روگردانی کرنے کی کوشش بھی کریں جو کسی بھی معاشرے کی تنظیم اور سچائی میں بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے۔

مثال کے طورپر ہمارے ہاں جب بھی کسی خوشی یا غمی کے موقع پر لوگوں کو اکھٹا کرنا مقصود ہوتا ہے تو جہاں دن اور جگہ کا تعین کیا جاتا ہے وہیں اوقات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسکی باقاعدہ اطلاع اسی اہتمام سے دی جاتی ہے جس طرح دن اور جگہ کی۔ تو اب جس طرح دن اور جگہ کی تبدیلی عموما محال تصور کی جاتی ہے بلکل اسی طرح یہ کلیہ وقت پر بھی لاگو ہوتا ہے اور یہ سارا عمل اپنی ذات میں ایک وعدہ ہوتا ہے جو مہمانوں سے کیا جاتا ہے اور دعوت قبول کرنے والا بھی، جس طرح مقررہ دن اورجگہ کا پابند ہوتا ہے بلکل اسی طرح  طے شدہ وقت کا بھی پابند ہوتا ہے اوراسی کے مطابق حاضری کا وعدہ کر رہا ہوتا ہے الا یہ کہ وہ میزبان کو پیشگی اطلاع کر دے اور کوئی اور وقت مقرر کر لے۔ میزبان بھی تمام امور کو انہیں اوقات میں پورا کرنے کا پابند ہے جن کا اس نے اطلاع کی شکل میں وعدہ کیا ہے، لیکن فی الواقع دن اور جگہ کا اہتمام تو دونوں اطراف سے کیا جاتا ہے لیکن وقت، جو وعدے کا سب سے اہم اور ضروری جزء تھا، کو مکمل طور پر فراموش کردیا جاتا ہے اور پھر سینہ تان کر اس غلطی، جھوٹ اور وعدہ خلافی کو کبھی تو ثقافت کے دلنشیں لبادے کے تلے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی اس کےجواز کے لیئے عادت کا راگ الاپنا شروع کردیا جاتا ہے مگر مجال ہے جو دونوں اطراف میں سے کوئی ایک بھی اس کے سنگین نتائج کو مدِنظر رکھتے ہوئے اعترافِ جرم تو کجا احساسِ ندامت یا شرمندگی کا ہی اظہار کر دے، اور کرے بھی کیوں کہ ہمارے اوراق میں تو یہ کوئی غلطی ہی نہیں پھر چاہے شارع یہ ہی کیوں ناں کہتا رہے کہ “سب سے بڑی غلطی اور گناہ وہ ہے جسے سب سے چھوٹا سمجھ کر کیا جائے”۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے وقت کی قدر نہیں کی وقت نے ان کو کہیں کا نہ چھوڑا اور عبرت کا نشان بناتے ہوئے اپنی تیز رفتار آندھی سے ان کے تہہ کو بالا کر کے رکھ دیا کہ وقت کی تلوار کسی کو نہیں بخشتی اور یہی وہ چیز ہے جو ہمارے پاس انتہائی وافر مقدار میں موجود ہے اور ہم بلا خوف و خطر اس کا استعمال نہایت بے دردی سے کرتے چلے آ رہے ہیں بنا یہ سوچے سمجھے کہ ایک دن وقت کا یہ پرندہ کبھی ناں لوٹنے کے لیئے ہمارے ہاتھ سے اچانک اڑ جائے گا اور ہم سوائے ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہ کر پائیں گے۔ اور اس بات کی گواہی تاریخ کے ساتھ ساتھ ہمارا حاضر بھی دیتا ہے کے جنہوں نے وقت کے اس بے لگام اور سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے کو رام کرتے ہوئے اسکی تال سے تال ملائی وہ کامیاب و کامران ٹہرے اور اس کامیابی و کامرانی کے نتیجے میں وقت نے کہیں تو ان کو آفاق کی بلندیوں کی سیر کروائی، کہیں چاند اور سورج کے ہوشربا نظارے دکھلائے، کہیں کائنات کےسربستہ راز ان پر آشکار کئے، کہیں ان کو اپنی ذات تک سے آگے نکلنے کے مواقع فراہم کیئے تو کہیں ان کو اقوامِ عالم کا قائد بنا کر عالمِ انسانی کی لگام ان کے ہاتھ میں تھما دی اور اپنی ناقدری کرنے والوں کو ان کی غلامی پر مجبور کر دیا جو کہیں تو جسمانی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے اور کہیں ثقافتی اور ذہنی صورت میں قبضہ جمائے بیٹھی ہے اور وہ ناہنجار و نامراد، بجائے اس کے کہ حقیقت کا مردانگی سے سامنا کرتے ہوئے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں، کہ یہ اعتراف ہی کامیابی کی انتہائی خوبصورت اور سحر انگیز وادی کے کٹھن راستے کا پہلا سنگِ میل ہوا کرتا ہے، اپنے شاندار ماضی کے سحر میں کھوئے ہوئے ہیں یا کسی ایسی غیبی مدد کے منتظر ہیں جو راتوں رات ان کو محکوم سے حاکم کے درجہ پر فائز کر دے، اور جب ان دونوں سے کچھ دیر کے لیئے دل اوک جاتا ہے تو دوسروں کے عیوب پر نظر جمائے تنقید اور “میں ناں مانوں” کا ورد شروع کر دیتے ہیں اور یہ حقیقت مکمل طور پرفراموش کر دیتے ہیں کہ “خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے”


Comments

FB Login Required - comments