ملاّجینئرنگ: تخلیقی شہکار یا دودھاری تلوار


عمران خوشحال راجہ

imran raja
گو بہت سارے لوگ اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ ملائیت کبھی منکسر بھی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ یہاں اس کی ابتدا نسبتاً پر امن اور بدرجہ کم متشدد انداز میں ہوئی۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت یہاں صرف چھے مذہبی جماعتیں تھیں اور بہت عرصہ بعد تک بھی ان کی تعداد اتنی ہی رہی لیکن آج ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے جن میں سے ایک صد سے زیادہ مسلح جدوجہد کرنے والی قومی اور عالمی سطح کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب مدرسوں کے بچے ہر روز روٹیاں اور سالن جمع کرنے گلی محلے کے ہر گھر جایا کرتے تھے۔ عموماً ان کے پاس ایک ہی بالٹی ہوتی تھی جس میں ہر طرح کا شوربا، ترکاری اور جو کچھ بھی کہیں سے ملتا تھا ڈلوا کر لے جاتے تھے۔ ذرا وقت بدلا تو مدرسوں کے اپنے لنگر چلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مولوی جو سماجی اور سیاسی طور پر موثر نہیں تھا مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست اور معاشرت میں بھی نمایاں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
پاکستان کی تاریخ میں چند ایک بڑے واقعات ایسے ہیں جنھوں نے نہ صرف مذہبی متشددین کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ ملائیت کو وہ طاقت دی ہے جس کا استعمال آپ آئے روز ملاحظہ کرتے ہیں۔ بانیِ پاکستان محمد علی جناح سمیت دیگر کئی بظاہر سیکولر قائدین کے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ایسا ممکن تھا کہ ملائیت شروع دن سے ہی اس ملک پر قبضہ جما لے۔ لیکن چونکہ تقسیمِ ہندوستان نے ملائیت کو بھی تقسیم کردیا تھا اس لیے ایسا کلی طور پر ممکن نہ ہو سکا۔ ہاں البتہ جس قدر ممکن تھا اس نے پاکستان کے آئینی معاملات میں مداخلت کر کے اپنی من مرضی کے مقاصد حاصل کیے۔

بھارت کے ساتھ جنگیں، مشرقی پاکستان کا الگ ہو جانا، پشتونستان اور گریٹر بلوچستان کی تحریکوں کا زور پکڑجانا اور افغانستان کا ان تحریکوں کو بڑھاوا دینا، یہ وہ تمام عوامل تھے جن کی وجہ سے پاکستان میں پہلی بار ملاّ جینئرنگ یعنی ایسی سوشل انجینئرنگ جس میں ریاستی پروپیگینڈا اور مذہب کو استعمال کر کے صنعتی سطح پر مولوی پیدا کیئے جاتے ہیں، کی گئی۔ افغانستان میں داؤد خان کی حکومت جو کہ بھارت کی دوست سمجھی جاتی تھی کا دھرن تختہ کرنے کے لئے پہلی بار داؤد مخالف پانچ ہزار مجاہدین کی کھیپ اس وقت کے وزیرِاعظم ذولفقار علی بھٹو کی نگرانی میں تیار کی گی۔ اسی کھیپ میں مولوی گلبدین حکمتیار، جو کہ بعد میں افغانستان کے وزیراعظم بھی بنا، جیسے بہت سے لوگوں کو مسلح جدوجہد کی تربیت دی گئی۔

سرد جنگ کی وجہ سے افغانستان میں امریکی مداخت اس وقت عملی شکل اختیار کر گئی جب ستر کی دہائی کے آخری سالوں میں سویت یونین کے حمایتی نور محمد تراکی اور حفیظ اللہ امین نے افغانستان کی حکومت کو گرادیا۔ پاکستان سے تربیت پانے والی پہلی کھیپ کو امریکہ نے مکمل طور پر مدد کرتے ہوئے ردِ انقلاب کا ٹاسک دیا۔ یوں سویت اور امریکہ کی پراکسی وار کا آغاز ہوا جس کے لیے نئی کھیپ تیار کی گئی اور یہ سلسلہ چلتا گیا۔

صنعتی پیمانے پر کی جانے والی ملاّجینئرنگ کی ان کھیپوں میں سے اضافی اور کسی حد تک استعمال شدہ کھیپ کو ‘سعودی اسلام’ کی ترویج کا ٹاسک ملا کیونکہ تبھی ‘ایرانی اسلام’ نے ایران میں انقلاب لاکر مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کی چوہدراہٹ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ سو کراچی سے کشمیر تک ہر دو سنی مسجدوں کے مقابلے میں ایک اہلحدیث مسجد تعمیر ہوئی اور یوں ملائیت میں مسلکی رنگ گاڑھا ہوتا گیا۔ اب پاکستان میں کئی رنگوں اور مسلکوں کے مولوی تھے پر سوال یہ پیدا ہوا کہ کس مسلک کی ملاّجینئرنگ زیادہ سودمند اور پائیدار ہوگی۔ سو لیبارٹری ٹیسٹ کہ بعد یہ پتا چلا کہ بریلوی کھیپ مطلوبہ نتائج نہیں دی سکی لحاظہ دیوبندی اور اہلحدیث کھیپ کی پیداورا کو بڑھایا جائے۔

اسّی کی دہائی کے آخر تک سویت پسپائی اور انخلا کے بعد افغانستان مکمل طور پر ان لوگوں کے قبضے میں آگیا جو کسی نہ کسی طرح ملاّجینئرنگ کے عمل سے گزرے تھے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد آر پار کے پشتون طالبان تو اقتدار سنبھالنے لگے لیکن پاکستان سے گئے پنجابی طالبان وطن واپس آ گئے۔ اسے اتفاق کہیں یا منصوبہ بندی، جس سال سویت یونین نے جنگ ہاری اور افغانستان سے انخلا مکمل کیا اسی سال کشمیر ایک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔ سرینگر کے گلی محلوں میں ہم کیا چاہتے۔۔۔ آزادی! کے نعرے اور گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ کشمیر میں افغانستان سے لوٹے ہوئے غازیوں کی موجودگی کا احساس تب ہوا جب خود کشمیری قوم پرستوں کی لاشیں گرنے لگیں اور تحریک کا نعرہ کشمیر بنے گا خودمختار سے بدل کر کشمیر بنے گا پاکستان ہو گیا۔

گیارہ ستمبر 2011 تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ اب افغانستان میں پاکستان کی مرضی کی حکومت تھی اور بھارت پاکستان کی تخلیقی ملاّجینئرنگ کے ہاتھوں تنگ آکر آئے روز خون کے آنسو رو رہا تھا۔ مگر گیارہ ستمبر نے بہت کچھ بدل دیا۔ امریکی دباؤ پر”وار آن ٹیرر” کاحصّہ بن کر پاکستان نے جیسے اپنے پاؤں نہیں سر پر کلہاڑی دے ماری۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اس کے بعد طالبان کی وہ حکومت جس کو پوری دنیا میں صرف پاکستان کی حمایت حاصل تھی پاکستان کی دشمن بن گئی۔ پر یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ کچھ لوگ دوست رہے کچھ دشمن بن گئے اور بہت ساروں کا آج دن تک پتا نہیں چل سکا کہ وہ دوست ہیں یا دشمن۔ کشمیر میں جہاد کرنے والوں کو جب مالی تنگی کا سامنا ہوا تو بہت سارے مشرف پر پل پڑے کچھ نے نئے گروپ بنا لیے اور کچھ نے پہلے سے بنے ہوئے گروپوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ اب یہ لوگ پاکستان میں غیر مذہبی، غیر مسلکی جنگ میں مصروفِ عمل ہیں لیکن بہت دفعہ اپنے ہی مذہب اور مسلک کے معصوموں کے گلے بھی کاٹ دیتے ہیں۔ گویا ملاّجینئرنگ تخلیقی شہکار سے کہی زیادہ دو دھاری تلوار ثابت ہوئی جس نے ستر ہزار سے زیادہ سر قلم کر دیے۔

نوٹ: اگرچہ بریلوی ملائیت عالمی سطح کے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکی تاہم قومی سطح پر اس کے استعمال کی ایک جھلک آپ نے حال ہی میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملاحظہ کی ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments