وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس


qomiقومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان میں ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ سمیت غیر ملکی ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ان کے کردار کو بے نقاب کرنے اور ان کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات کا فیصلہ وزیراعظم ہاو¿س اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
وزیراعظم ہاو¿س سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس کو قومی سلامتی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کارروائیوں کو اطمینان بخش قرار دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ماہ بلوچستان سے ہندوستانی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا تھا۔سیکیورٹی اداروں کے مطابق گرفتار افسر کا تعلق ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے جسے گرفتاری کے بعد تفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا تھا۔’را’ ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی، جس میں اس نے ’را‘ سے تعلق اور ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہونے کا اعتراف کیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع قلعہ عبد اللہ میں بھی آج سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران افغان انٹیلی جنس کے ایجنٹ کو گرفتار کیا گیا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتی حکام متعدد بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں جاری شورش کے پیچھے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے، جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ ‘را’ اور افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کو فنڈز اور ٹریننگ فراہم کررہی ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکا میں ہونے والی جوہری سلامتی کانفرنس کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے جوہری پروگرام کی حفاطت اور سکیورٹی کے معیار کا اعتراف کیا گیا ہے۔امریکا سے ایف 16 طیاروں کی خریداری اور مسلح افواج کے ترقیاتی پروگراموں کا بھی اجلاس کے دوران جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اطلاعات پرویز رشید، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس اور مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ بھی شریک تھے۔


Comments

FB Login Required - comments