کیا جلب زر سے گریز ممکن ہے؟


 دنیا کے mujahid mirzaامیر ترین شخص بل گیٹ کی کل دولت کا اندازہ پچاسی اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔ مفروضے کے طور پر اگر اس دولت کو ایک ہزار ڈالر یعنی پاکستان کے ایک لاکھ روپے کے حساب سے لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو پچاسی لاکھ چالیس ہزار افراد فوری طور پر خط غربت سے نکل جائیں گے لیکن ایک شخص یعنی بل گیٹ بذات خود خط غربت پہ آ کھڑے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بل گیٹ نے دنیا کی ساڑھے سات ارب ارب آبادی سے فی شخص ساڑھے گیارہ ڈالر اینٹھے تو ان کے پاس اتنی دولت اکٹھی ہوئی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے فرضی طور پر پچاسی لاکھ چالیس ہزار افراد سے ایک ہزار ڈالر یعنی ایک لاکھ روپے فی شخص منافع کمایا تو ان کے پاس اتنی دولت جمع ہوئی۔ انہوں نے نہ کسی چالاکی کا مظاہرہ کیا نہ ہی عیاری سے کام لیا، نہ بی بظاہر کوئی بددیانتی برتی۔ پھر وہ دنیا کے واحد ارب پتی نہیں ہیں بلکہ دنیا میں ایسے افراد کی تعداد تقریبا” ساڑھے اٹھارہ سو ہے۔ یاد رہے دنیا کے کل سات ارب چالیس کروڑ انسانوں میں سے کل ساڑھے اٹھارہ سو۔ البتہ کروڑ پتیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوگی فرض کر لیتے ہیں بیس گنا زیادہ یعنی سینتیس ہزار افراد اور لکھ پتیوں ( ذہن میں رہے کہ یہ ارب پتی ، کروڑ پتی اور لکھ پتی ڈالروں میں ہیں، اگر انہیں ملک عزیز کی کرنسی سے ماپنا ہو تو ایک ارب کو ایک کھرب ، ایک کروڑ کو ایک ارب اور ایک لاکھ کو ایک کروڑ شمار کرنا ہوگا) کی تعداد ان سے بہت زیادہ ہوگی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ کروڑ پتیوں کی تعداد سے بھی ایک ہزار گنا زیادہ یعنی تین کروڑ ستر لاکھ افراد۔ دنیا بھر کے اصلی اور مفروضہ افراد کی مجموعی تعداد چار کروڑ سے چند ہزار زیادہ بنتی ہے ۔ مطلب یہ کہ محض گذارا کرنے والے، غریب یا عسیر یعنی انتہائی غریب سات ارب انسان بہر صورت باقی بچ رہتے ہیں۔

اس تمہید کے بعد فرض کرتے ہیں کہ ایسے کتنے قلندر اور درویش ہونگے جنہیں اپنے ذاتی مکان کی خواہش نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے بہت ہی کم چنانچہ سب ہی کی خواہش ہوگی کہ کسی نہ کسی طریقے سے اتنی رقم جمع کر لیں جس سے مکان تعمیر کروایا جا سکے یا خریدا جا سکے۔ پھر سوچتے ہیں کہ ایسے کتنے لوگ ہونگے جو تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہوں اور نہ چاہیں کہ ان کی اولاد تعلیم حاصل کرے۔ ظاہر ہے باشعور افراد میں ایسا کوئی نہیں ہوگا چنانچہ ان کی تگ و دو ہوگی کہ اتنا کما لیں جس سے وہ اپنی اولاد کو مناسب تعلیم دلوا سکیں۔ کھانا پینا ، دینا دلانا، بیاہ مرگ، مرض مصائب وہ چیزیں ہیں جن کے لیے رقم درکار ہوتی ہے کرنسی چاہے کوئی ہو۔ دنیا میں رہنے کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس نظام کا حصہ بننا پڑتا ہے جو اصل میں ان 1850 یا زیادہ سے زیادہ اڑتیس ہزار پانچ سو افراد کا نظام ہے جسے معیشت کا سرمایہ دارانہ نظام کہا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں بیشتر جائیدادیں، کارخانے، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دیگر سہولیات ذاتی ملکیت ہوتے ہیں جو سب کمائی کے ذرائع پہلے اور خدمات کی فراہمی کے وسائل بعد میں ہوتے ہیں۔

جلب زر کو روکنے کا ایک نظام وضع کیا گیا تھا جس کی نرم شکل کو اشتمالی یا سوشلسٹ طرز معیشت کو نام دیا گیا تھا اور سخت شکل کو اشتراکی یا کمیونسٹ نظام۔ سابق اشتراکی ملک روس میں یہ نظام ختم ہونے کے بعد وہاں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، کروڑ پتی کھمبیوں کی مانند اگے اور بیشتر آبادی خط غربت سے نیچے چلی گئی۔ چین، کیوبا، ویت نام اور شمالی کوریا جیسے ملکوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت زیادہ امیر ہیں اور غریب تو ویسے ہی ختم ہونے میں نہیں آتے۔

ہمارا آئندہ قابل فکر نکتہ یہ ہے کہ کیا دولت دیانتداری سے اکٹھی کی جا سکتی ہے۔ اس کا جواب ہم کیا دیں فورڈ موٹرز کے بانی ہنری فورڈ نے دیا تھا کہ مجھ سے پہلے دس لاکھ ( ون ملین) کا حساب مت مانگو، اس کے بعد کے ہر سینٹ (یعنی پائی پائی) کا حساب دینے کو تیار ہوں۔ یہ بات انہوں نے انیسویں صدی کے اوائل میں کہی تھی۔ تب کے دس لاکھ ڈالر آج کے کروڑوں ڈالر کے مساوی ہونگے۔ ظاہر ہے دولت دیانتداری سے نہیں کمائی جا سکتی۔ اس بارے میں مجھے یاد ہے ایک بار جاوید احمد غامدی صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ جب انہوں نے شروع میں سکول بنانے کے بارے میں سوچا تو انہین اس ضمن میں صالح اور متقی لوگوں کی تلاش تھی۔ جن ایسے باثروت لوگوں سے انہوں نے رجوع کیا، ان کے مطابق ان کا کم سے کم جرم (گناہ؟) ٹیکسوں کی ادائیگی سے فرار تھا۔ یعنی دولت کمانے کے ضمن میں سب سے کم جرم جو کیا جاتا ہے وہ ٹیکس نہ دینا یا کم ٹیکس دینا ہوتا ہے۔ جلب زر اور ارتکاز زر کے دوسرے ہتھکنڈے ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک زمانے میں پاکستان کے چمڑے کی صنعت سے وابستہ لوگوں نے خفیہ طور پر ہیروئن کی سمگلنگ کا دھندہ کیا تھا۔ دوسرے ملکوں میں کاروبار کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونا ایک عام سی بات ہے جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ بھی ہوتا ہے لیکن اس پر کوئی بولتا نہیں کیونکہ اس طرح بیروزگاروں کو روزگار مل رہا ہوتا ہے۔ جب دولت کمائی جانے لگتی ہے تو اس میں جائز ناجائز کو لوگ کم ہی دیکھتے ہیں یا اس کے لیے تاویلیں گھڑ کر جواز پیدا کر لیتے ہیں۔ مثلا” ایک زمانے میں جب میرا کاروبار سے واسطہ پڑا تو ایک دوسرے ملک سے روس آئے ہوئے مشتری نے مجھ سے کہا کہ آپ سے بات کرنی ہے۔ میں نے کہا کرو۔ اس نے کہا، مجھے علیحدگی میں بات کرنی ہے۔ تخلیہ میں اس نے کہا کہ وسط ایشیا سے لڑکیوں کو مشرق وسطٰی بھجوانے کا کام ہے۔ میں نے اس کو بہت برا بھلا کہا کہ یہ بھلا کونسا کاروبار ہے مگر وہ بضد تھا کہ یہ کاروبار ہے۔ ان کے کاروبار اور آمدنی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہوگا ہم تو ترسیل محنت کا کام کریں گے۔ میں نے اسے چلتا کیا۔ رات کے کھانے پر میں ایک میمن کاروباری شخصیت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جنہیں یہ واقعہ سنایا، میرا خیال تھا کہ وہ مضحکہ اڑائیں گے یا افسوس کریں گے مگر انہوں نے جو ہارورڈ سے تعلیم یافتہ تھے، حج کیا ہوا تھا  اور شراب نوشی سے گریزاں تھے کہا کہ وہ شخص ٹھیک کہتا تھا کہ یہ کاروبار ہے۔ کسی کو دوسرے ملک جانے میں معاوضہ لے کر مدد دینا کاروبار ہی ہے۔ ان سے کمیشن لے لیا جائے وہ چاہے کوئی بھی دھندہ کیوں نہ کریں اس سے واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔ جی ہاں کاروبار کی اخلاقیات کرنسی ہوتی ہے۔

اب شور مچ گیا ہے کہ آف شور کمپنیاں بنا کر دولت چھپائی گئی ہے۔ آف شور پر شور کیسا؟ اس سے پہلے سوئیٹرزرلینڈ، سان مارینو اور لیچٹن شٹائن کے بینک ہوا کرتے تھے جو نہ تو یہ پوچھتے تھے کہ دولت کہاں سے آئی اور نہ ہی اس کے بارے میں کسی کو بھنک پڑنے دیتے تھے۔ پھر عشروں پیشتر قبرص، مالٹا اور دیگر جزائر میں قائم کی جانے والی آف شور کمپنیوں کا چلن تھا۔ اس کے بعد کے مین آئی لینڈ، پانامہ، فجی اور بحرالکاہل کے دیگر جزائر میں آف شور کمنیاں قائم کی جانے لگیں۔ کیا یہ سب سبھوں کو اس سے پہلے معلوم نہیں تھا۔ کک بیکس، کمیشن کوئی آج کی مراعات ہیں۔ سود کو مارک اپ کہہ کر اگر آپ نے مذہب کی قدغن سے بچنا ہے تو بچ لیں لیکن سود تو سود ہی رہے گا۔ آف شور کمپنیوں کا کاروبار بھی سود کو مارک اپ کہہ کر بچنے کی طرح ٹیکس بچانا، ناجائز دولت چھپانا، یا ناجائز دھندوں اور اعمال سے آمدنی پانا اور ان میں مزید رقم لگانا ہے۔ اگر سب ٹھیک ہے تو آف شور کمپنی قائم کرنے کی ضرورت ہی کیوں پڑے اور کیا مین لینڈ ملکوں میں حکام کو معلوم نہیں کہ آف شور کمپنیاں کیوں بنائی جاتی ہے؟ چنانچہ جس نظام کے تحت دولت بنائی جاتی ہے اس میں جلب زر سے گریز اور ارتکاز زر سے انکار ممکن نہیں ہے


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کیا جلب زر سے گریز ممکن ہے؟

  • 06-04-2016 at 6:39 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھا لکھا.. بلکہ کھرا لکھا..ایسا لگتا ہے کہ انسانیت مجبور ہو کر سوشلزم کا نقارہ بجانے کو ہے.. ذرہ مزید گند پھیلنے دیں. گھٹن بڑھے گی تو تازہ ہوا کی طلب ہو گی..

  • 06-04-2016 at 8:36 pm
    Permalink

    کاروبار کی اخلاقیات کرنسی ہوتی ہے۔مجاہد صاحب بہت ہی اعلیٰ تحریر

  • 07-04-2016 at 11:24 am
    Permalink

    شکریہ نسیم، شکریہ وقار!!

Comments are closed.