رسوائیوں کی الف لیلیٰ


ranaوزیراعظم نواز شریف اور ان کی اولاد اور شریف خاندان کے معتبر لوگ پانامہ لیکس کی زد میں آچکے ہیں، مصاحبین اور عادی غلام بڑھ چڑھ کر مغل اعظم کی صفائیاں پیش کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ سلطنت مغلیہ میں زندہ ہیں . مغل بادشاہوں کے بھی کچھ اصول تو ہوں گے، کچھ اخلاقیات بھی یقیناً ہوں گی۔ یہ کھوکھلے لوگ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اپنی نسبت مطلق العنان مغلیہ خاندان سے جوڑ سکیں. ضیاالحق کے سیاہ دور میں جن خاندانوں نے برق رفتار ترقی کی ان میں شریف خاندان سر فہرست ہے۔ ایک اتفاق فونڈری کتنی بڑی صنعتی سلطنت میں تبدیل ہوگئی۔ اس خاندان کو اس اوج ثریا پر پہنچانے میں کلیدی کردار جنرل ضیاالحق اور جنرل غلام جیلانی نے ادا کیا. اس بدقسمت ملک کے وسائل کو جی بھر کے اور دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا اور ابھی تک لوٹ کا سلسلہ جاری ہے. اردو کے ایک کلاسیک استاد نے اس نفسیات کے بارے میں لکھا تھا کہ

کیچڑ میں کوڑی دیکھیں تو دانتوں سے لیں اٹھا

اے اشرفی، زمانہ تو کنگال ہو گیا

یہ افسوسناک صورت حال تین عشروں سے کئی بار عوام کے نوٹس میں آئی حتیٰ کہ جناب اسحاق ڈار کا مشہور اعترافی بیان جس میں موصوف نے شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا لیکن کسی کے کان پر کبھی جوں تک نہیں رینگی۔ شریف خاندان کا احتساب نہ تو کسی نے کرنے کی تکلیف گوارا کی اور نہ ان کو آج تک انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا. کون نہیں جانتا کہ کس نے کس طرح آئی جے آئی کی تشکیل کی، کس نے فنڈز مہیا کیے اور کیسے نواز شریف سمیت مختلف سیاست دانوں کو خریدا گیا. پاکستان میں آج تک کسی بالادست کا احتساب نہیں ہوسکا صرف ان کو ہی احتساب کی بھینٹ چڑھایا گیا جو لاوارث اور کمزور لوگ تھے. آف شور کمپنیاں بنانا یا ان کے ذریعے جائیداد خریدنا قانون کی نظر میں شاید جرم نہ بنتا ہو لیکن کس کو نہیں معلوم کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے کاروباری لوگ ایسا کرتے ہیں۔ پورے ملک کو تو آپ ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش میں لگے ھوے ہیں اور خود ٹیکس سے بھاگ رہے ہیں، صاحب آپ اور آپ کی اولاد کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ یہ سرمایا کہاں سے آیا آپ کے پاس.

آپ خوش قسمت ہیں تیسری دفعہ آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ اس بدقسمت ملک کے عوام نے یہ عزت تیسری بار آپ کو عطا فرمائی ہے کیا آپ اس ملک سے انصاف کررہے ہیں اپنی دولت تو غیر ممالک میں انویسٹ کرتے ہیں اور باہر کے ملکوں میں بسنے والوں کو کس منہ سے پاکستان میں سرمایا کاری کا درس دیتے ہیں ؟

کیا آپ ملک سے بے وفائی کے مرتکب نہیں ہوئے؟ آپ جیسے لوگوں کی اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ اپنے بچوں کے نام پر آف شور کمپنیاں بنا کر اس کا دفاع کس بھونڈے انداز سے آپ اور آپ کے کاسہ لیس خوشامدی درباری لوگ کررہے ہیں، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے اگر ضمیر نام کی کوئی چیز آپ کے پاس ہے تو فی الفور استعفیٰ دیں. لیکن حضور آپ کیوں استعفیٰ دیں گے؟ اس ملک میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے آپ یہ کہہ سکتے ہیں آج تک کس کس کا احتساب ہوا ہے؟ کیا آئین توڑنے والوں کا احتساب ہوا ہے؟ آپ پوچھ سکتے ہیں کیا سیاچن پر پسپائی اختیار کرنے والوں کو آپ احتساب کے کٹہرے میں لے کر آئے ہو؟ کیا کارگل کی چوٹیوں پر ایک مہم جوئی کی بنا پر سینکڑوں قیمتی جانوں کا زیاں اور خون کس کی گردن پر ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کون سی کارروائی کی گئی ہے؟ آپ یقیناً کہہ سکتے ہیں جنرل اختر عبدالرحمن، جنرل حمید گل، جنرل پرویز مشرف، جنرل ضیاالحق اور جنرل کیانی ان سب کے خاندانوں کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی؟ یہ سب بھی تو ارب پتی یا شاید کھرب پتی ہیں، تھوڑی سی ہمت کیجئے۔ دریافت کریں کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ایبٹ آباد میں کیا کر رہا تھا؟ کسی کو سزا دی گئی؟ رسوائیوں کی اس الف لیلیٰ میں ایک اور کہانی کا اضافہ ہوجانے گا۔

آپ کو اطمینان قلب ہونا چاہیے کہ اس حمام میں سیاستداں، عدلیہ ، جنرل اور میڈیا سب ننگے ہیں۔ یہ پاکستان ہے، مملکت خداداد میں احتساب کی کوئی روایت نہیں، ملک توڑنے سے لے کر دہشت گردوں کی پرورش تک۔ کیا اس ملک میں کبھی کسی سے جواب دہی  ہو سکے گی؟ اور یہ بھی کہ جواب دہی  کے بغیر جمہوریت کی ثقافت کیسے پروان چڑھ سکے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan