مذہب کی جبراً تبدیلی کی بپتا


yousaf benjamenگذشتہ برس پنجاب کے ایک ضلع سے ایک پندرہ سالہ مسیحی لڑکی کو اغوا کے بعد جبراً دائرہِ اسلام میں داخل کر لیا گیا جسے وہ اب عمر بھر کا روگ قرار دیتی ہے۔ آئیے آپ کو اُسی لڑکی کی زبانی اُس کی یہ درد بھری کتھا سناتے ہیں جس سے اس اہم مسئلہ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کا اندازہ ہو جائے گا۔ متاثرہ لڑکی کے تحفظ کے پیش نظر یہاں فرضی نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔

میرا نام کومل ہے۔ میری عمر 15 سال اور مسیحی ایمان میری زندگی کا حصہ۔ زندگی کے پہلے پندرہ برس ہی میں مجھے سر پر کانٹوں کا وہ تاج سجانا اور سولی اُٹھانا پڑی ہے ’کہ جی جانتا ہے‘۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں مگر یہی پچھلے سال کا گرم ترین مہینہ تھا،کالی سیاہ اندھیری رات اور بستی میں معمول کے مطابق بجلی غائب ۔ میں اور اماں کئی سال پرانی ایک ہی چارپائی پر سو رہے تھے کہ اچانک میری زندگی میں اذیتوں اور کرب کا ایسا سلسلہ اور آنسوﺅں کی ایسی برسات شروع ہوئی جو نہ تو آج تک تھمی ہے اور نہ کبھی تھم پائے گی۔

میں اپنے بوڑھے والدین کے بڑھاپے کی اولاد ہوں جو بھٹہ خشت پر خون پسینے کی حلال کمائی کے گھن چکر میں مجھے اور دیگر بہن بھائیوں کو تعلیم دلوانا تو کیا وہ کبھی اسکول کا نام تک نہ لے سکے اور میں اپنے صحن میں ناچتی غربت اور اڑتی بکھرتی ریت مٹی کے سوا کچھ نا دیکھ پائی۔

اس رات یکایک گھر میں کہرام مچ گیا۔ چہرہ چھپائے اور اسلحہ اُٹھائے پانچ افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں گھس آئے۔ اہلِ خانہ کو زدو کوب کیا اور شدید نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے مجھے گھسیٹ کر کار میں اغوا کر کے لے گئے۔ میرے منہ اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کسی نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اسی رات ایک دوسرے کی موجودگی میں وہ بار بارمیری عزت لوٹتے رہے۔ یوں یہ سلسلہ لگ بھگ دو ماہ تک جاری رہا۔ یہ میرے آنے والی اذیتوں کی شروعات تھی۔

میرے نسوانی اعضا پر جلتے ہوئے سگریٹ لگانا ان کا روز کا معمول تھا۔ اغوا کار اکثر مسیحوں کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کرتے، تشدد کرتے اور ہوس کا شکار بناتے رہے، اس دوران برائے نام خوراک دی جا رہی تھی۔

مہینوں انتہائی درجہ کی اذیت کے بعد آخر کار وہ مجھے ایک مقامی عدالت لے گئے اور میری منشا کے برخلاف چند کاغذات پر میرے انگھوٹھے لگوا کر میرا نام، میرا ماضی، میری شناخت، میرا عقیدہ اور میری ہستی تک تبدیل کر دی گئی اور میں نا چاہتے ہوئے بھی لمحہ بھر میں کیا سے کیا ہو گئی، مگر حقیقی طور پر میں آج بھی اپنے مسیحی ایمان کی پیروکار ہوں۔ عدالت میں جبری طور پر میرا مجازی خدا بننے والا وہ شخص اس سے قبل بھی دیگر دو خواتین کے ساتھ یہی سلوک کر چکا تھا۔ اس دن سے میری زندگی بھر کے روگ نے دوسری کروٹ لی۔

میرے لئے وہ دن کرب کی انتہاﺅں کو چھو گیا جب میرے ہی جبری ’شوہر‘ نے میرے جسم کی قیمت لگانا شروع کر دی۔ مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ اور دھندے کے لئے وقت کی کوئی قید نہ تھی۔ زندگی میں اتنی بڑی’ جبری تبدیلی‘ کے بعد میرے ذہن میں اس سے متعلق سینکڑوں سوالات نے جنم لینا شروع کر دیا اور رفتہ رفتہ میری حیثیت اور وقار تباہ ہو گیا۔ میں نے اسی اذیت میں چھ ماہ روز جینے اور روز مرنے کا تجربہ کیا۔

بہر حال میں اُس ’حراست‘ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور اب اپنے ماں باپ کے ساتھ ہوں۔ میری کوکھ میں ایک نئی زندگی پل رہی ہے، مگر میں اس کو کس کا نام دوں گی؟ اس کے سوالوں کے کیا جواب دوں گی؟ اُسے کیا مستقبل دوں گی؟ میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر انصاف کی متلاشی ہوں مگر اپنے خاندان کا تحفظ بھی مجھے عزیز ہے۔ اب اس بے معنی زندگی کو کدھر لے جاﺅں؟


Comments

FB Login Required - comments