خیبر پختونخوا میں نیا پولیس ایکٹ لا رہے ہیں : عمران خان


imran khanپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ پاناما لیکس پر انہیں پھر سے ڈی چوک یاد آرہا ہے اور ہوسکتا اس بار لمبے عرصے تک دھرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاناما لیکس میں جو کچھ منظر عام پر آیا ہے وہ تو ابتدا ہے ابھی ایک کروڑ دستاویزات سامنے آنا باقی ہیں، اس میں بہت سے لوگ سامنے آئے ہیں اور وہ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ آف شور کمپنیاں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں، بھارت میں سپریم کورٹ نے پاناما لیکس پر تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی ہے جسے 25 اپریل تک کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم سی شکل بنا کر قوم کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا اب نواز شریف کو قوم سے سچ بولنا ہوگا، ہم اس معاملے کو دبنے نہیں دیں گے اور وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے، انہیں دوبارہ ڈی چوک یاد آرہا ہے، ہوسکتا ہے کہ اتنے لمبے دھرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں خیبرپختونخوا کی پولیس سیاسی دباو¿ سے بالاتر ہوکر قانون کے مطابق کارروائی کرے، اس لئے ہم نیا پولیس ایکٹ لا رہے ہیں جس کے تحت نچلی سطح تک ادارے میں احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور پولیس کو تقرریوں اور تبادلوں کے ذریعے بلیک میل نہیں کیا جاسکے گا۔
عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے احتساب سے متعلق قانون میں ترمیم سے شبہات نے جنم لیا تھا ، اسی وجہ سے سابق ڈی جی احتساب کمیشن مستعفی ہوگئے تھے لیکن اب ایسا قانون لایا جارہا ہے جس کے تحت احتساب کمیشن اور ڈی جی احتساب کے درمیان اختیارات واضح ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کی چھان بین اور شواہد کی جانچ پڑتال کرنے والے ماہرین کی کمی ہے اس لیے کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت عام لوگوں کو کرپشن کی نشاندہی پر معاوضہ ملے۔


Comments

FB Login Required - comments