مجرم بھٹو


Aamir-Hazarvi

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد علمائے کرام نے تحریک نظام مصطفی چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک کے بطن سے پھر کوئی ضیاء الحق جنم لیتا ہے یا نظامِ مصطفی نافذ ہوتا ہے؟ انتظار کیجیے آگے کیا ہوگا؟ اگر تاریخ میں جھانکیں تو تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی تحریکوں کے نتیجے میں غریب مرتے ہیں۔ قائدین مفاد سمیٹتے ہیں اور فوجی طاقت اقتدار کو بوٹوں تلے روند کے کسی بھٹو کو تختہ دار پہ لٹکا دیتی ہے۔ اپریل کو ہی یاد کیجیے اس مہینے کی چار تاریخ کو عالمِ اسلام کے عظیم لیڈر کوسزائے موت دی گئی۔ اس لیے کہ اس کے گناہ کہیں زیادہ تھے اسکے جرائم کی لسٹ بھی لمبی تھی۔

بھٹو کا جرم یہ تھا کہ اس نے ملک کو متفقہ آئین دیا۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے ایٹم بم کی بنیاد رکھی۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے بھارت سے زمین واپس لی۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے نوے ہزار فوجی بھارت سے آزاد کروائے۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے سیاست کو محلات سے نکال کر غریب کی جھونپڑی تک پہنچا دیا اور پھر اس سے بڑا جرم یہ کیا کہ وڈیرے اور مزدور کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے جمعہ کی چھٹی منظور کی ۔ اس نے شراب پر پابندی لگائی۔ اس کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے اسلامی ممالک کی کانفرس بلائی اور پھر سب بڑا جرم یہ تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور دستخط کرتے وقت کہا کہ میں موت کے پروانے پر یہ دستخط کر رہا ہوں۔ یہ جرائم ہیں نا! اور ان جرائم کی سزا موت ہی تو بنتی ہے ۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو شخص ہمیشہ کے لئے پاکستان میں ختم نبوت کا مسئلہ حل کرواتا ہے اس کے خلاف تحریکِ نظام مصطفی چلائی جاتی ہے۔ ایک عاشقِ رسولؐ کے خلاف ایسی تحریک چلانا قابلِ افسوس ہے ۔بھٹو کا عشق دیکھنا ہو تو جاوید ہاشمی کی کتاب ’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ دیکھ لیجئے کہ بھٹو کو جب بتایا گیا کہ آپ اس جگہ کھڑے ہیں جہاں حضورؐ نے نوافل ادا کیے ۔ یہ سنتے ہیں بھٹو فوراً پیچھے ہٹ گئے ۔ اور نمدیدہ آنکھوں سے کہا کہ میں یہ گستاخی نہیں کر سکتا ۔ جہاں حضورؐ کی پاؤں لگے ہوں وہاں میں پاؤں رکھوں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس عاشق صادق کے خلاف تحریکِ نظام مصطفی چلی اور پھر اسے اقتدار سے ہٹا یا گیا ۔ یہ وہ تحریک تھی جو بھٹو کی پھانسی کے لئے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ اس تحریک کے اثرات ابھی مٹے نہیں کہ اب پھر تحریکِ نظام مصطفی کا اعلان ہو گیا ہے ۔ اس مرتبہ معاملہ کہاں تک جائے گا کچھ نہیں معلوم؟

جی چاہتا ہے کہ داعیانِ نظام مصطفی سے پوچھوں ۔ حضورِ والا ! کیا یہ قوم مصطفائی بن چکی ہے ؟؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہ قوم سب سے زیادہ سیکس فلمی دیکھتی ہے۔ یہاں بچے اور بچیوں کیساتھ آئے روز ریپ ہو رہے ہیں ۔ یہاں خالص اشیاء ملنا بند ہو چکی ہیں ۔ یہاں دوائیاں خالص نہیں ملتی ۔ یہاں دودھ خالص نہیں ملتا ۔ یہاں کرپشن رگ رگ میں دھنس چکی ہے۔ یہاں چوری عام ہو چکی ہے ۔ یہاں قتل و غارت گری کے بازار ہر وقت سجے رہتے ہیں ۔ یہاں لوگ اللہ اکبر کی صدا پہ مسجد کا رخ نہیں کرتے ۔ یہاں جمعے کے دن مسجدیں خالی پڑی ہوتی ہیں ۔ یہاں بہنوں کو ان کا حق نہیں ملتا ۔ یہاں بیویاں اس وجہ سے قتل کر دی جاتی ہیں کہ انہوں نے بیٹی کیوں جنی ہے؟

حضور یہاں آپ کے مقابلے میں لوگ زرداری، نواز شریف اور عمران خان کو تو ووٹ دیتے ہیں جبکہ آپکی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں۔ لوگ تیار ہی نہیں ہیں ۔ لوگ اعتبار کرنے اور پیار کرنے سے ڈر تے ہیں ۔ لوگ دھوکے کھا چکے ہیں ۔ آپ میاں نواز شریف سے مطالبہ کرنے کے بجائے دعوتی راستہ اختیار کر یں ۔ آپ لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالیں ۔ آپ لوگوں کو نیکی کی طرف راغب کریں ۔ آپ گناہوں سے نفرت کا سبق پڑھائیں ۔ جب لوگ خود برائی سے رکیں گے تو آپکی کامیابی ہو گی ۔ آپ کی کامیابی کا سورج اس وقت طلوع ہو گا جب ارکانِ پارلیمنٹ خود اسلام کی بات کریں گے۔ سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے میرے نبیؐ کے نظام کا نام استعمال کرو گے تو لوگ آپ سے متنفر ہونگے۔

آپ پرانی تحریک نظامِ مصطفی کا تنقیدی جائزہ تو لے لیں ۔ آ پ عوام کی رائے تو معلوم کریں عوام کیا کہتے ہیں؟ اس تحریک کا نتیجہ سوائے بد امنی، قتل وغارت، مفادات اور نئے ضیاء الحق کی آمد کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ ۔یہ وقت قوم کی اصلاح کا ہے۔ آپ اس قوم پر حدیں جاری کریں گے تو قوم رب کے قوانیں سے نفرت کرے گی ۔ آپ کس کس کو سزا دینگے ۔کس کس کو لٹکائیں گے ؟ یہ اسلام دفعہ 144تو نہیں جسے آپ ڈنڈے کے زور پہ نافذ کردیں گے ؟ نمازیں تو ضیا ء الحق بھی پڑھواتا تھا جبکہ لوگ بے وضو پڑھتے تھے۔ اس وقت ایک ہی راستہ ہے کہ فرد پہ محنت کی جائے ۔ فرد کو مخاطب کیاجائے ۔ ایسے مطالبوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔


Comments

FB Login Required - comments