غذائی قلت ۔ سواد آگیا


muhammad-adil2محمد عادل۔۔

یہ دوسری جنگِ عظیم کی ایک سہانی صبح تھی جب بچوں کی چیخ و پکار سے رات بھر کے تھکے ہوئے چرچل کی آنکھ کھل گئی۔ جی وہی اپنے چرچل، برطانیہ کے مشہورِ زمانہ وزیرِ اعظم سر ونسٹن چرچل۔ غصے کے عالم میں چرچل بستر سے اتر کر خواب گاہ سے باہر نکلے، تو دیکھتے ہیں کہ بچوں نے کیا اودھم مچایا ہوا تھا۔ کوئی ادھر اچھل رہا تو کوئی ادھر کود رہا تھا۔ سب کی زباں پہ ایک ہی نعرہ تھا، ’آج ناشتے میں انڈہ، مکھن اور ڈبل روٹی کھانئیں گے، انڈہ ، مکھن ڈبل روٹی‘۔ چرچل نے پریشان نظروں سے اپنی بیگم کلیمنٹائن کو دیکھتے ہوئے کہا، ’کیا مصیبت ہے جانو، ناشتہ کیوں نہیں بنا رہی ان کے لیے؟‘ بیگم طنزیہ نداز میں بولیں، ’پورا دن آپ گھر سے غائب رہتے ہیں، راتوں کو دیرسے لوٹتے ہیں۔ جرمنی کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے اور گھر جن جنگی حالات سے گزر رہا ہے اس کی کچھ خبر نہیں۔ آپ کو تو اتنا بھی علم نہیں کہ گھر پہ انڈے اور مکھن آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا، یہ تو بھلا ہو ہندوستانیوں کا جن سے ہم نے پراٹھے کے ساتھ رات کا بچا ہوا سالن کھانے کا طریقہ سیکھ لیا۔ ورنہ آپ کو تو ہمارے ناشتے کی بھی کوئی فکر نہیں‘۔ اسی وقت چرچل کی بڑی دخترِ نیک اختر ڈیانا گویا ہوئیں اور ایسا تاریخی جملہ ادا کیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے، ’ابا جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کیا تھا؟‘

یہ درد بھری جلی کٹی باتیں سن کر چرچل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آؤ دیکھا نا تاؤجیب سے کچھ پاؤنڈ نکالے اور اپنے سیکرٹری کو مارکیٹ سے ناشتے کا سامان لانے کے لیے بھیج دیا۔ مارکیٹ قریب ہی تھی لیکن سیکرٹری کافی دیر لگا کر واپس آیا۔ اتنی دیر سے سامان لانے پر چرچل صاحب کو غصہ تو بہت آیا لیکن پہلے ہی بچے ناشتے کی وجہ سے پریشان تھے، اس لیے خاموش رہ گئے۔ بیگم نے جلدی جلدی بچوں کا من پسند ناشتہ میز پر لگایا۔ پورا خاندان اور سیکرٹری بھی میز پہ ناشتہ کرنے لگے۔ ناشتے کا لطف کچھ دوبالا ہی لگ رہا تھا۔ چرچل کا بیٹا سلائس پہ مکھن لگاتے ہوئے بولا،‘ابا آج تو ناشتے کا سواد ہی کچھ اور ہے۔‘ چرچل نے بھی اقرار میں سر ہلایا اور پھر سیکرٹری سے مخاطب ہوئے، ’میاں سیکرٹری آج تو انڈوں اور مکھن کا ذائقہ کچھ الگ سا ہی ہے، کہاں سے لائے ہو یہ سامان؟‘ سیکڑٹری دو تین سیکنڈ تو خاموش رہا پھر اس نے اپنی جیب سے کچھ پاؤنڈز نکالے اور چرچل کی طرف بڑھاتے ہوے کہا،‘سر، یہ آپ کے پاؤنڈز۔ ناشتہ خریدنے کی غرض سے میں دو تین مارکیٹوں میں گھوما، لیکن کہیں بھی انڈہ اور مکھن نہیں مل رہا تھا، لیکن آپ کے بچوں کی بدتمیزیوں کی وجہ سےجو کہ نہایت ناقابلِ برداشت ہوگئی تھیں، مجھے خالی ہاتھ واپس آنا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، اس لیے میں یہ انڈے اور مکھن ملکہِ برطانیہ کے باورچی خانہ سے چرا کر لے آیا۔‘ چرچل کی بیٹی سارہ یہ سن کر بولی، ’یعنی پرائے مال کا سواد ہی کچھ اور ہے ابا۔‘ چرچل نے پوچھا، ’ مارکیٹ میں انڈے اورمکھن کیوں نہیں مل رہے؟‘ سیکرٹری فلسفیانہ انداز میں بولا،‘سر جی! عقل کو ہاتھ ڈالیں، جنگ کا زمانہ ہے لوگوں کو دال چاول کےلالے پڑے ہوے ہیں، انڈہ اور مکھن کہاں سے ملے گا؟‘ کہتے ہیں اس وقت چرچل کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور پھر اس نے اعلان کردیا کہ جب تک انگلینڈ کے تمام بچوں کے ناشتے کے لیے انڈہ اور مکھن دستیاب نہیں ہوگا، تب تک وہ خود بھی انڈہ اور مکھن کا ناشتہ نہیں کریں گے۔

تھر میں غذائی قلت اپنے عروج پہ ہے، اور بھوک ایک عفریت سی بنی بیٹھی ہے۔ گزرے ہوے تین ماہ میں تقریبآ تین اعشاریہ پانچ بچے فی دن کی اوسط سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ یاد رہے یہاں غذائی قلت سے مراد انڈہ اور مکھن جیسی عیاشی نہیں بلکہ کم از کم صاف پینے کا پانی، آٹا، سستی دالیں، سبزیاں اور چاول جیسے اجناس ہیں۔ دودھ، گوشت، انڈے، مکھن اور مرغی کا گوشت وغیرہ تو وہاں ایسے حرام ہے جیسے عام مسلمانوں کے لیے خنزیر کا گوشت۔ غذائی قلت کے مسٰلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ان علاقوں میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں اعلیٰ اقسام کے کھانوں کو سامنے رکھ کر ان بھوکے ننگوں کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے اور ان نعمتوں کا سواد چکھ چکھ کر شکر ادا کیا جاتاہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ اجلاس میں شامل ہونے والوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ کھایا جانے والا کھانا دراصل ان غریبوں کا گوشت ہے جو ان بھوکوں کی ہڈیوں کے گودے کی چکنائی میں تر بتر ہے اور پیئے جانے والے مشروبات میں ان بھوکوں ننگوں کا خون شامل ہے، لیکن اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ بچا ہوا کھانا نالی میں نا بہایا جائے بلکہ کچرے کے ڈبوں میں ڈالا جائے جہاں سے اس علاقے کے فقراء باآسانی اپنا حصہ حاصل کرسکیں۔

چرچل نے ان جنگی حالات میں خود پہ بھی وہ خوراک حرام کرڈالی جو کہ عوام کو مہیا نہ تھی اور اپنی قوم کا ہیرو قرار پایا۔ موٹی گردنوں اور نکلی ہوئی توندوں والے ازلی بھوکے، ہیرو بننے کا مطلب سمجھتے تو زبان کے ذائقے تک محدود سواد پہ قابو پا لیتے، عوام کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شامل ہوجاتے۔ لیکن مذاق ہی سہی پر چرچل کی بیٹی نے شاید درست کہا تھا کہ،‘پرائے مال کا سواد ہی کچھ اور ہے۔‘


Comments

FB Login Required - comments

9 thoughts on “غذائی قلت ۔ سواد آگیا

  • 06-04-2016 at 10:00 pm
    Permalink

    شان دار

    • 07-04-2016 at 6:57 pm
      Permalink

      شکریہ جناب !!

  • 07-04-2016 at 12:37 am
    Permalink

    المیہ لیکن بہت عمدہ اسلوب میں لکھا۔

    • 07-04-2016 at 6:58 pm
      Permalink

      شکریہ سر جی،، ممنون ہوں ،،

  • 07-04-2016 at 2:01 am
    Permalink

    بہت شاندار
    چرچل نے ان جنگی حالات میں خود پہ بھی وہ خوراک حرام کرڈالی جو کہ عوام کو مہیا نہ تھی اور اپنی قوم کا ہیرو قرار پایا۔ موٹی گردنوں اور نکلی ہوئی توندوں والے ازلی بھوکے، ہیرو بننے کا مطلب سمجھتے تو زبان کے ذائقے تک محدود سواد پہ قابو پا لیتے، عوام کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شامل ہوجاتے۔ لیکن مذاق ہی سہی پر چرچل کی بیٹی نے شاید درست کہا تھا کہ،‘پرائے مال کا سواد ہی کچھ اور ہے۔‘

    • 07-04-2016 at 6:58 pm
      Permalink

      کرم نوازی ہے جناب کہ آپ نے تحریر کو سراہا ،، شکریہ

  • 07-04-2016 at 7:36 am
    Permalink

    excellent and best picture of thar residents. plz continue it. at least one column per week.
    thanks and regards

    • 07-04-2016 at 7:01 pm
      Permalink

      Thanks Sir
      I will try to continue writing the columns, and I am highly obliged of your comments. Support from the reader is always needed, always required. Thanks a lot.

  • 25-04-2016 at 12:27 pm
    Permalink

    Ma Sha Allah Grt job

Comments are closed.