جمہوریت اور سیاسی اخلاقیات کے تقاضے


phpThumb گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران دو وزرائے اعظم کے طرز عمل اور رویہ سے ، جمہوریت کے دو رخ ، سیاسی اخلاقیات کے دو معانی اور ذاتی طرز عمل کے دو پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ ان پہلوؤں کے مطالعہ میں پاکستان میں جمہوری نظام کے لئے کوشش کرنے والوں اور اس کی خواہش رکھنے والوں کے لئے بہت سے سبق پنہاں ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ جمہوریت ایک مشکل اور پیچیدہ نظام ہے جس میں صبر و تحمل اور تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے، اس مطالعہ سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ جمہوریت صرف اکثریتی ووٹ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ ووٹوں کی یہ طاقت اگر کسی سیاسی رہنما کو اقتدار اور اختیار عطا کرسکتی ہے تو اس سے ذمہ داری کا تقاضہ بھی کرتی ہے۔ جمہوریت میں جب بھی کسی سیاسی رہنما کی صداقت، نیک نیتی اور ایمانداری پر سوال اٹھایا جائے گا تو وہ اس کا جواب دینے سے پہلے اپنے سیاسی عہدے سے علیحدہ ہو جائے گا اور قانون اور ضابطہ کے مطابق خود کو جواب دہی کے لئے پیش کرے گا۔ پاناما پیپرز کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے بعد آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ اور پاکستان کے وزیر اعظم نے قوم کو بتایا ہے کہ وہ ایسا عدالتی کمیشن بنا رہے ہیں جس کا سربراہ سپریم کورٹ کاایک ریٹائرڈ جج ہوگا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پرائم ٹائم میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اب ان کے مخالفین اور ناقدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کمیشن کے سامنے اپنے دلائل اور ثبوت پیش کریں اور بتائیں کہ انہوں نے یا ان کے بیٹوں نے کون سا ٹیکس چوری کیا ہے یا کون سی بد عنوانی کی ہے۔ اس کے برعکس آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگمندر گنلاؤسن SIGMUNDUR GUNNLAUGSSON نے پہلے صدر سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کردیں تاکہ ملک میں نئے انتخاب ہو سکیں اور یہ دیکھا جا سکے کہ کیا عوام وزیر اعظم کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن چند ہی گھنٹوں میں انہیں یہ باور کروا دیا گیا کہ جمہوری سیاست میں منتخب ہونے والے لیڈر کو الزام لگنے کی صورت میں خود جوابدہی کے لئے متعلقہ قانونی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے۔ وہ نئے انتخاب کرواکے یا لوگوں سے از سر نو مینڈیٹ لے کر اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکتا۔ پاکستان کے لیڈر اس قسم کی جمہوری ذمہ داری قبول کرنے یا ایسی مثبت روایت قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا مؤقف ہوتا ہے کہ عوام کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے۔ اگر لوگوں نے کسی شخص کو ووٹ دیا ہے تو اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عوام کو اس کی قیادت اور صداقت پر پورا بھروسہ ہے۔ حالانکہ جمہوری نظام میں یہ بات طے ہے کہ لوگوں کے ووٹ کسی شخص کو بے گنا ہ ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اس کا فیصلہ ملک کی عدالت یا کوئی دوسرا بااختیار ادارہ کرتا ہے۔ اس لئے لوگوں کی حمایت کی دلیل کسی لیڈر کو مالی بدعنوانی کے الزامات کے باوجود برسر اقتدار رہنے کے قابل نہیں بناتی۔ اگرچہ عام اصول قانون یہی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک بے گناہ اور معصوم ہے جب تک اس پر لگائے جانے والے الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔ یہ اصول سیاست دانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ لیکن جمہوری روایت اور عوام کے عطا کردہ بھروسہ کا تقاضہ ہوتا ہے کہ متعلقہ لیڈر اس مدت میں اعتبار کے اس عہدہ پر فائز نہ رہے ، جب کہ اس کے خلاف کسی بدعنوانی، اختیار کے ناجائز استعمال یا کسی فوجداری جرم کے الزام کی تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں اور وہ بے گناہ ثابت نہ ہوجائے۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو اسی روایت کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔ حالانکہ پاناما پیپرز میں ان کے بارے بھی اسی قسم کی معلومات سامنے آئی ہیں ، جن کا سامنا پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ہے۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ان دستاویزات میں ان دونوں لیڈروں کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کی صداقت یا درستگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔ یہ وکلا ٗٗٗٗکی ایک فرم سے حاصل کئے گئے کاغذات میں سامنے آنے والی چند معلومات ہیں جو ان کے یا ان کے اہل خاندان کے زیر ملکیت بعض آف شور کمپنیوں (ایسی کمپنی جو اپنے ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں رجسٹر کروائی گئی ہو)کے بارے میں ہیں۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اور ان کی بیوی ایک آف شور کمپنی وینٹرس کے مالک ہیں اور انہوں نے یہ معلومات اپنے اہل وطن سے پوشیدہ رکھیں۔ وزیر اعظم سگمندر گنلاؤسن کا کہنا ہے کہ وہ تو اس کمپنی میں اپنے حصص اپنی بیوی کے نام منتقل کرچکے تھے۔ اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے دو بیٹوں اور بیٹی کی ملکیت میں بعض آف شور کمپنیاں ہیں۔ اس طرح نہ نواز شریف پراور نہ ہی ان کے بیٹوں یا بیٹی پر کسی غیر قانونی حرکت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ لیکن ہر جمہوری ملک کی طرح پاکستان کے اپوزیشن لیڈر یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کے خاندان کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی ہے۔ اگرچہ اس کا مختصر جواب یہ ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کی ساری اولاد بالغ اور اپنے افعال کی خود ذمہ دار ہے ، اس لئے وزیر اعظم ان کے اعمال کے لئے جوابدہ نہیں ہو سکتے۔ تاہم پاکستان کے سماجی ڈھانچے اور شریف خاندان کے باہم روابط کی روشنی میں یہ جواب معاملہ کی وضاحت کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف اور ان کے بھائی اپنے والد میاں محمد شریف کی زندگی میں اپنے تمام معاملات کے لئے والد کے احکامات کے پابند رہے تھے اور ان کا سارا کاروبار بھی مشترک تھا۔ اب بھی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کافی اثاثے ان کی والدہ کی ملکیت ہیں۔

ان حالات میں جمہوری اخلاقیات اور روایات کے مطابق تو نواز شریف کو مستعفیٰ ہوکر متعلقہ اداروں میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت تھی۔ ذاتی بدعنوانی کے لئے کسی کمیشن کا قیام اس مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ جمہوری نظام میں کوئی شخص خواہ وہ وزیر اعظم ہی ہو، قانون اس کے ساتھ خصوصی سلوک روا نہیں رکھ سکتا۔ وزیر اعظم کے معاملہ میں کمیشن کا قیام ، امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ پاناما کاغذات میں جیسی بھی معلومات سامنے آئی ہیں، وزیر اعظم اگر خود کو ان میں جوبدہ سمجھتے ہیں تو انہیں عام عدالت یا متعلقہ ادارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن نے اس کمیشن کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں پر مشتمل ہو نا چاہئے۔ یہ مطالبہ بھی اصول انصاف اور سیاست دان کی طرف سے قانون مملکت کے سامنے جوابدہی کے طریقہ کار کے برعکس ہے۔ ناروے میں نوے کی دہائی میں برسر اقدار رہنے والے وزیر اعظم تھور بیورن یاگلاند نے اپنے ایک دوست اور ماہر سفارت کار تھرئے رود لارشن کو اپنی کابینہ میں وزیر نامزد کیا تھا۔ ان کے بارے میں جلد ہی یہ خبر سامنے لائی گئی کہ انہوں نے چند برس قبل چند ہزار کرونر کا ٹیکس ناجائز ہتھکنڈوں سے بچایا تھا۔ لارشن نے اس الزام کی تردید کی لیکن چند ہی روز میں انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر خود کو ٹیکس حکام کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑا۔ بعد میں لارشن کی بات درست ثابت ہوئی اور خبروں میں لگایا گیا الزام غلط ثابت ہؤا لیکن انہوں نے کبھی اسے نا انصافی نہیں کہا ۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی جمہوری نظام میں پبلک آفس قبول کرے گا تو وہ الزام کو غلط ثابت کرنے سے قبل اس قسم کے کسی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ یعنی خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی ذمہ داری سیاست دان پر عائد ہوتی ہے، الزام لگانے والے صحافی یا اپوزیشن لیڈر سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے الزام کے ثبوت سامنے لائے۔ نواز شریف نے قوم کے نام خطاب میں یہ مؤقف اختیار کرکے جمہوری مزاج اور ضرورت کے برعکس رویہ کا مظاہرہ کیا ہے۔

آج پنجاب اسمبلی میں اس سوال پر تماشہ لگایا گیا۔ اپوزیشن کمیشن کی ہئیت کے حوالے سے تجاویز ایک قرار داد کی صورت میں سامنے لانا چاہتی تھی۔ لیکن اسے قرار داد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپوزیشن نے اس ذبردستی پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اس دوران حکمران جماعت کے ارکان نے اپوزیشن اور پاناما پیپرز سامنے لانے والوں کو خوب لتاڑا۔ صوبے کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے تو قرار داد پیش کرنے کے خوہشمند ارکان اسمبلی کو ضمیر فروش قرار دیا۔ اس قسم کے مباحث جمہوری روایت کو راسخ کرنے کی بجائے جمہوریت کی زمین میں آمریت کا پودا کاشت کرنے کی کوششوں کے مترادف ہے۔ کسی بھی سیاست دان کو ایسی شدت پسندی سے گریز کرنا چاہئے۔

میاں نواز شریف نے منگل کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے خود پر اور اپنے خاندان پر ہونے والے مظالم کی طویل داستان بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح ان کے والد نے بنکوں کے قرض سے جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں کاروبار شروع کیا تھا۔ اس کاروبار کوو فروخت کرکے ان کے دو بیٹوں نے برطانیہ میں کاروبار شروع کیا جو اب پھل پھول رہا ہے۔ اسی کاروبار کے حوالے سے نوز شریف کے بچوں پر آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا الزام لگایا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے ان کمپنیوں کی ملکیت قبول کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ میاں نواز شریف نے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔ تاہم پندرہ منٹ تک اپنے خاندان کی داستان مظلومیت سنانے کے باوجود وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ان کے والد نے جلا وطنی میں کتنے سرمایہ سے اسٹیل فیکٹری لگائی تھی اور اسے بعد میں کتنے داموں فروخت کیا گیا۔ بنکوں کا قرض اتارنے کے بعد شریف خاندان کو کتنا منافع حاصل ہؤا اور اس میں سے کتنے سرمائے سے حسن و حسین نواز نے برطانیہ میں کاروبار کا آغاز کیا۔ اور اب ترقی کر تے ہوئے اس سرمایہ کا حجم کیا ہو چکا ہے۔

یہ معلومات فراہم کرنے سے اگرچہ جمہوری نظام میں سیاسی ذمہ داری اور جوابدہی کے تقاضے تو پورے نہ ہوتے لیکن باتیں بنانے والے لوگوں کے منہ ضرور بند ہو سکتے تھے۔ ساتھ ہی قوم کو بھی یہ پتہ چل جاتا کہ ان کے وزیر اعظم کا خاندان قسمت کا کتنا دھنی ہے کہ وہ جہاں اور جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے، وہ تیزی سے کثیر منافع کا سبب بننے لگتا ہے۔ ایسے میں وہ یہ امید ضرور کر سکیں گے کہ کسی روز نواز شریف کی قسمت کی بدولت شاید ان کے دن بھی پھرنے لگیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “جمہوریت اور سیاسی اخلاقیات کے تقاضے

  • 08-04-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    شائد یہ درست ھو کہ آف شور کمپنیاں قانونی ھوں۔ مگر بعض ملکوں میں عصمت فروشی اور ھم جنسی بھی قانونی ھیں۔ تو پھر ۔۔۔ کچھ اخلاقی ذمہ داری بھی ھوتی ھے۔

Comments are closed.