بنام مرشد نازک خیالاں ۔۔۔۔ (1)


wajahatمکالمہ برادر عزیز عدنان خان کاکڑ صاحب اور برادر عزیز عامر ہاشم خاکوانی صاحب میں جاری ہے اور دلائل کی ذمہ داری بھی ان دو محترم اصحاب ہی پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم موضوع اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اور برادرم خاکوانی نے حالیہ تحریر میں کچھ ایسے نکات اٹھائے ہیں جن کا خطاب اس گروہ سے ہے جس پر عمومی انداز میں لبرل ہونے کی تہمت دھری جاتی ہے۔ درویش بھی لبرل ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور اسے تحقیر کا استعارہ نہیں سمجھتا۔ میری رائے میں اردو زبان میں لبرل ازم سے قریب اصطلاحات فراخ دل، روشن خیال، روادار، انسان دوست اور وسیع المشرب ہیں۔ یہ سب تو مثبت صفات ہیں۔ ایک ہندو بھی فراخ دل اور انسان دوست ہوسکتا ہے۔ ایک ہندو تنگ نظر بھی ہوسکتا ہے۔ ایک کو گنگا رام، جواہر لعل نہرو، وی پی سنگھ اور آئی کے گجرال کہا جاتا ہے۔ دوسرے کو ولبھ بھائی پٹیل اور نریندر مودی کہا جاتا ہے۔ ایک مسلم وسیع المشرب اور روادار بھی ہوسکتا ہے، اسے محمد علی جناح، بیرسٹر آصف علی، ڈاکٹر ذاکر حسین، سیف الدین کچلو اور حسرت موہانی کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان متعصب اور تنگ نظر بھی ہوسکتا ہے۔ اسے شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر اسرار احمد اور منور حسن کہا جاتا ہے۔ ایک افریقی امریکی مارٹن لوتھر کنگ ہوتا ہے اور ایک افریقی امریکی میلکم ایکس ہوتا ہے۔ ایک یہودی موشے دیان ہوتا ہے اور ایک یہودی رابن اسحاق ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور روشن خیالی اخلاقی نصب العین ہیں۔ جو ان اقدار کو اچھا سمجھتے ہیں انھیں ان کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور اگر کوئی ان اقدار سے بے نیاز رہنا چاہتا ہے تو اسے انتخاب کا حق ہے۔ لبرل ازم کوئی قائم بالذات گروہ نہیں ہے اگرچہ معیشت میں لبرل ازم کا مکتبِ فکر موجود ہے جو اقتصادی سرگرمیوں میں ریاست کی کم سے کم مداخلت کا علمبردار ہے۔ اسی طرح فلسفے میں بھی روشن خیالی کی روایت موجود ہے۔ سیاست میں بھی رجعت پسندی کے مقابلے میں انسان دوست سیاست کی روایت موجود ہے۔ تاہم عمومی طور پر لبرل ازم فرد اور اس کی آزادیوں پر زور دیتا ہے۔ یہ درویش ان اقدار کو مثبت اور قابل تعریف سمجھتے ہوئے اس بحث میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں۔۔۔

محترم بھائی عامر ہاشم خاکوانی خود کو اسلامسٹ قرار دینا پسند کرتے ہیں۔ عاجز کی تفہیم یہ ہے کہ اسلامسٹ مسلمان مذہب کو ایک سیاسی نظام سمجھتے ہیں۔ سیاست بنیادی طور پر اجتماعی زندگی کے بارے میں پائے جانے والی مختلف آرا اور ترجیحات میں مسلسل مکالمے کا نام ہے۔ مکالمہ دلیل سے کیا جاتا ہے، دلیل میں دعویٰ نہیں ہوتا ہے۔ دوسری طرف عقیدہ تسلیم کرنے کا نام ہے۔ کسی بھی مذہب کا ماننے والا جو بھی دلیل پیش کرے اس سے اختلاف نہیں کیا جاتا۔ جہاں سے فرد کے لئے عقیدے کی آزادی شروع ہوتی ہے، خارجی دنیا کے لئے دلیل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ چنانچہ مذہب اور سیاست میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ سیاست میں دلیل کی اجازت ہے اور عقیدہ کو بغیر دلیل کے بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ عقائد کا اختلاف انسانوں میں ہمیشہ سے موجود ہے اور مستقبل قریب میں بھی مذہب کا تنوع ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ چنانچہ انسانوں کے لئے ایک راستہ یہ ہے کہ فرد کی مذہبی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے دلیل اور اختلاف رائے کو سیاسی بندو بست تک محدود کر دیا جائے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ سیاست میں عقیدے کو دخل دے کر مستقل اختلاف اور نزاع کی صورت پیدا کی جائے۔ اسلام کو ایک مذہب کے طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں ڈیڑھ ارب انسان امن کے اس مذہب کی پیروی کرتے ہیں اور دنیا میں ساڑھے پانچ ارب انسان اسلام کے پیروکار نہیں ہیں۔ اسلام کے ساتھ کسی مخاصمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی بھی مذہب یا عقیدے کی مخالفت ایک بے معنی سرگرمی ہے اور سیاسی طور پر غیر درست فکر ہے۔ البتہ اسلام ازم کی مخالفت کا حق ہر اس شخص کو ہے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلامسٹوں کے تصور مذہب و سیاست سے اتفاق نہیں کرتا یا غیر مسلم ہے۔ کیونکہ اسلام ازم عقیدے کو ایک سیاسی بندوبست کی شکل دے کر تمام اختلافی عقائد اور آرا کے ماننے والوں کے یکساں سیاسی اور معاشرتی حقوق کے لئے خدشات پیدا کرتا ہے اور اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو خود کو اسلامسٹ نہیں کہتے۔  اسلام ایک عقیدہ ہے اور ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ اسے تسلیم کرے اور اس کی پیروی کرے۔ اسلام ازم ایک سیاسی نکتہ نظر ہے جس سے اختلاف کا حق عقیدے کی مخالفت نہیں بلکہ انسانوں کی جائز سیاسی اور معاشرتی آزادی کا اظہار ہے۔

محترم عامر ہاشم خاکوانی نے مستقبل میں مسلم اکثریتی ریاستوں کے اتحاد کا تصور پیش کیا ہے۔ امید رکھنی چاہئے کہ اس اتحاد میں ایران اور سعودی عرب بھی شامل ہوں گے۔ تاہم اس اتحاد میں کسی ریاست کی شمولیت یا استخراج کا معاملہ اس مجوزہ اتحاد کا داخلی معاملہ ہے۔ چونکہ یورپی یونین کی مثال پیش کی گئی ہے لہٰذا یورپی یونین کے حوالے سے کچھ نکات ایسے ہیں جن پر خارجی دنیا کی نظر ہوگی کہ خاکوانی صاحب کا مجوزہ اتحاد یا خلافت ان پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

  • متعین جغرافیائی سرحد۔۔۔ ماضی میں اسلامی ریاست کی کوئی ایسی مثال موجود نہیں جب ریاست کی متعین جغرافیائی حدود کو تسلیم کیا گیا ہو۔ ماضی قریب میں افغانستان کی طالبان امارت نے ڈیورنڈ لائین کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ تادم تحریر عراق اور شام کی سرحدیں ملیامیٹ ہوچکی ہیں، چناچہ اسلام ازم سے اتفاق نہ کرنے والے فرد اور ریاستیں بجا طور پر جاننا چاہیں گی کہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت اپنی متعین جغرافیائی حدود پر اکتفا کرے گی یا اسکی حقانیت سرحدوں کو روندتی ہوئی دوسرے علاقوں تک توسیع چاہے گی۔
  • یورپی یونین میں قانون سازی کی بنیاد عقل عامہ ہے اور تمام شہری قانون سازی میں حصہ لینے اور کسی بھی ریاستی عہدے پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں شامل ہر پارلیمنٹ قانون سازی کا مطلق اختیار رکھتی ہے۔ جاننا چاہئےکہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت میں ان تین بنیادی نکات پر کیا اصول اختیار کیا جائے گا۔
  • انتقال اقتدار تاریخی طور پر کسی ریاست کے استحکام اور انتشار میں حد فاصل رہا ہے۔ چناچہ سوال کیا جانا چاہئے کہ خاکوانی صاحب کی مجوزہ خلافت میں اقتدار کا جواز کیا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں حاکمیت کا جواز کیا ہوگا۔ (کیا عوام حاکمِ اعلیٰ ہوں گے؟) نیز یہ کہ انتقال اقتدار کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

اگرچہ تاریخ کا حوالہ بعض محترم بھائیوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے لیکن جب عزیز محترم عامر خاکوانی “جلدبازی میں خلافت قائم کرنے” کے خواہش مند عناصر پر افراتفری، انتشار اور قتل و غارت پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں تو ان سے یہ پوچھنے کا جواز بنتا ہے کہ فروری 1989 سے ستمبر 1996 تک افغانستان میں مجاہدین باہم افراتفری انتشار اور قتل و غارت پھیلا رہے تھے تو دعوت اور تعلیم کا راستہ تجویز کرنے والوں نے ان کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ 2005 میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد جون 2014 تک پاکستانی طالبان کی عذر خواہی اور حمایت کیوں کی گئی؟

محترم عامر ہاشم خاکوانی فرماتے ہیں کہ “اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کے حوالے سے اسلام کا مکمل ماڈل، فکری اور عملی سٹرکچر اور رہنمائی کرنے والے اصول ہیں”

اس ضمن میں انہوں نے اسلام کے تصور معیشت کے بنیادی عناصر یاد دلائے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تصور معیشت بیرونی دنیا سے منقطع ہو گا اور صرف داخلی سطح پر اختیار کیا جائے گا۔ بوقت ضرورت بیرونی دنیا کے ساتھ معاشی معاملت میں معیشت کے ان داخلی تصورات کا اطلاق کیسے ہوگا؟

محترم دوست نے “اسلام کے مکمل ضابطہ حیات میں۔۔۔ حیا، حفظ مراتب اور تحفظ فروج کو اخلاق کے بنیادی اجزا قرار دیا ہے”۔ جاننا چاہئے کہ قانون میں حقوق اور آزادیوں کی اکائی فرد انسانی ہے۔ قانون میں گروہی حقوق کی فہرست خاصی محدود ہے جس میں ریاستوں کا حق خود ارادیت نیز بین الاقوامی تعلقات میں فریق  ریاستوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے معیارات کی اکائی فرد انسانی ہے۔ مذہب کی آزادی ایک فرد کا حق ہے۔ مذہب کی آزادی ایک ناقابل انتقال انفرادی حق ہے یعنی کسی شخص کے  مذہب کی آزادی متعلقہ مذہبی گروہ کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔ کسی مذہبی گروہ میں شمولیت اختیار کرنے میں فرد آزاد ہے لیکن اسے کسی گروہ میں شمولیت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح “تحفظ فروج” فرد کے حق خلوت اور حق تحفظ سے تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی آزادیوں کو معاشرے میں پائے جانے والے “تحفظ فروج” کے مفروضہ تصورات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح فاضل دوست نے اقلیت کے تصور کا جس طرح ذکر کیا ہے اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ کسی معاشرے میں مذہب، زبان اور نسلی اعتبار میں عددی اقلیت میں ہونا گویا کوئی تعزیر کا درجہ ہے۔ اور اکثریتی گروہ اقلیت پر بالادستی قائم کرنے اور اس کے حقوق متعین کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ تصور عمرانی معاہدے کے ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن میں تمام انسانوں کو مذہب، زبان، نسل اور جنس سے قطع نظر برابری کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہاں پر جمہوریت میں مساوات کے اصول اور کثرت رائے کے طریقہ کار کو گڈ مڈ کیا جا رہا ہے۔ کسی ریاست میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد اجتماعی بندو بست میں شرکت، معاشی حقوق تک رسائی اور انفرادی آزادیوں کے تحفظ کا یکساں استحقاق رکھتے ہیں اور اس مساوات کو مسترد کرنے والے کسی بندوبست کی مخالفت کا تمام انسانوں کو پیدائشی حق حاصل ہے۔

(بنام مرشد نازک خیالاں ۔۔۔۔ (2))


Comments

FB Login Required - comments

11 thoughts on “بنام مرشد نازک خیالاں ۔۔۔۔ (1)

  • 06-04-2016 at 11:34 pm
    Permalink

    عامر خاکوانی سے امید تھی کہ ان کے دلائل نصابی کتب کی سطح سے بلند ہوں گے تاہم توقع خام ثابت ہوئی ۔ اسلام کو معاشی ماڈل سمجھنا اور ریاست کو تکفیر کا حق دینا ۔۔۔۔ ناطقہ سر بگریباں ہے۔۔۔۔۔

    آپ کا تجزیہ انتہائ عمدہ ہے۔

  • 07-04-2016 at 12:02 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا وجاھت صاحب،،، صرف ایک بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاھوں گا اور وہ یہ جملہ ھے۔۔۔
    ایک افریقی امریکی میلکم ایکس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جناب میلکم اپنے نسل پرستانہ خیالات اور نظریات سے رجوع کر گیا تھا تفصیل کے لیے دیکھیں اقبال احمد صاحب کے انٹرویو ’ سامراج کے مد مقابل ’

  • 07-04-2016 at 12:27 am
    Permalink

    عدم برداشت کے رویے نے پاکستانیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔کاش ایک دوسرے کی تصیح کرنے کے بجاۓ ہم لوگ اپنے اپنے عقائد اور روایات پر ایمانداری سے عمل کر لیں۔۔۔۔
    ہر فرقے اور مذہب میں شرارتی لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔مگر اُن لوگوں کی وجہ سے فرقہ یا مذہب بُرا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ہمارے ہاں تحقیق کی بجاۓ تقلید کا رحجان ہے۔۔۔۔۔اب بھی ہمارے اعلٰی اور جیّد دماغوں نے مل کر کوئی حل نہ نکالا۔۔۔تو کچھ بعید نہیں ۔۔۔۔۔۔کہ ہمارا نشان تک نہ ملے گا داستانوں میں۔۔۔۔
    خدارا اپنی آنے والی نسلوں کے لیۓ ایک پرامن جنت نظیر پاکستان چھوڑ کے جائیں۔۔۔۔۔۔

  • 07-04-2016 at 12:33 am
    Permalink

    ریاستیں ہمیشہ اخلاقی معاہدات پہ چلتے ہیں لیکن یہاں اخلاقی معاہدات کے ساتھ مسٹر جناح سے لے کر اب تک جو کچھ کیا جارہاہے وہ سب کے سامنے ہیں ان معاہدات پہ لبرل حضرات کس صف میں کھڑے ہیں وہ بھی شاہد اب مکمل واضح ہوتی جارہی ہیں اصل مسہلہ بقول احمد سلیم آکسیجن کا ہے جو ریاست و مذہب دونوں کو انجکشن کی صورت میں دیا جا رہا ہے بس کچھ لوگ مذہب کو لبرل ازم کا انجکشن لگا رہے ہیں اور کچھ لوگ ریاست کو.. اصل چہرہ (مذہب و ریاست)کی کافی حد تک جدید تاریخ کے تناظر میں مسخ ہوتی جارہی ہیں۔۔۔۔

  • 07-04-2016 at 1:14 am
    Permalink

    With dues respect, while the person that this author refers to hasn’t done justice to presenting the Islamic perspective in an academic manner, the author here doesn’t succeed either. In order to have a meaningful conversation, the author must first lay out his position on the sources of Islam and his fundamental understanding of religion. There are a lot of assumptions and implicit premises based on which he has presented his position or critiqued the opposing side. The “either you are with us (the exalted group) or with the enemy” kind of approach really doesn’t do much more than provide a rhetorical flourish. Just as he has tried to underline some foundational features of liberalism, there are some foundational features of Islam as well. Dismissing them out of hand or considering them inferior is not going to cut it. For instance, the idea that in law, individual is the primary unit of rights and freedom is a peculiarly Western conception of law built on the ideas of Enlightenment rationality and liberalism. Presenting them as some sort of a universal unalterable truth is only presenting one side of the story. The author has also written that opposing a faith or religion is a meaningless activity and politically incorrect. This actually brings in sharp focus the use of instrumental rationality to make a point while avoiding the real issue. Why doesn’t an individual have to right to criticize the basics of a faith or religion if you have the right to criticize a certain understanding of that very faith? Is

    • 07-04-2016 at 2:28 am
      Permalink

      Mr. Ral. You have misunderstood the author where you stated that “why doesn’t an individual has the right to criticize the basics of faith or religion if you have the right to criticize certain understanding of the very faith” The author stated that is is useless to criticize not that you don’t have the right to, it is useless because faith is based on devine message for which there is no way to measure and no yardstick to evaluate it on, except the ones that are drwan from the human percepts such as “collective goood of mankind” etc but that enters into the domain of “a certain interpretation of a religion” and not the “basis of the religion”

  • 07-04-2016 at 11:52 am
    Permalink

    Please ask Facebook to provide a key for “Like” at you page

    • 07-04-2016 at 12:06 pm
      Permalink

      لائک کا بٹن ویب سائٹ پرفارمنس کے مسائل کی وجہ سے نہیں ڈالا گیا ہے۔ اسے ڈالنے کے لیے فیس بک کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

  • 08-04-2016 at 12:56 am
    Permalink

    لبرل ازم کے متعلق اس کے علمبرداروں کو واضع کرنا ہوگا کہ گاہے یہ چند ‘انسانی خصائص’ کا نام ہے یا ایک مکمل سیاسی، سماجی اور معاشی فلسفہ ہائے نظام ہے- مسلمان معاشروں میں اسے جس پیکنگ میں بیچا جاتا ہے وہ انسانی خصائص ہیں جنہیں لبرل ازم پیدا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے- لیکن یہ وضاحت ضروری ہے، اسی بنیاد پر ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک شخص اگر روادار، انسان دوست، فراخ دل اور وسعت خیال رکھتا ہو تو آخر ان خصائص کا معیار کیا ہو گا؟ اگر ان حمیدہ صفات کا معیار اسلام کی تعلیمات ہوں گی تو بجا طور پر ہم اسے سچا مسلمان کہیں گے اور اگر ان کا معیار لبرل فلسفہ ہوگا تو وہ ایک سچا لبرل کہلانے کا حقدار ہوگا- اگر لبرل ازم کے معیار پر کسی سچے مسلمان میں ان خصائص کی پیمائش کی جائے گی تو وہ ہو سکتا ہے کہ روادار کے بجائے متعصب، انسان دوست کے بجائے رجعت پسند اور فراخ دل کے بجائے تنگ نظر دکھائی دے، اسی طرح ان خصائص کے اسلامی معیار پر کسی لبرل اور سیکولر کو پرکھا جائے تو متعصب، انسان دشمن اور تنگ نظر سمجھا جائے- لہذا ہم بطور مسلمان کسی کے بارے کوئی تاثر قائم کرنے بھی لگیں تو اس کا معیار لازماً اسلام کی خالص تعلیمات ہوں گی، اگر کسی سطح پر اسلام کوئی معیار قائم نہیں کرتا تو پھر معروف پیمانوں پر رویوں کی پیمائش کی جا سکتی ہے-
    ہمارے ہاں لبرلز اور اسلامسٹ کے درمیان جو مکالمے کی فضا تیار ہوتی ہے اس کے پیچے یہی اپنے اپنے معیارات ہیں- سیاسی نظام کو ہی لیجئے، ہمارے لبرل کہتے نظر آتے ہیں کہ سیاست اجتماعی زندگی کے بارے میں پائے جانے والی مختلف آرا اور ترجیحات میں مسلسل مکالمے کا نام ہے، یہ مکالمہ انسانوں کا ایک گروہ ہی کرتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس مکالمے کی کوئی بنیاد ہوگی جس پر ایک محدود مدت کیلئے قابل قبول دلیل پیدا کی جا سکے گی- مسلمان گروہ اس کی بنیادیں اسلامی تعلیمات میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات پر پیدا ہونے والے سیاسی نظام میں مکالمے کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ کسی دوسرے نظام سے زیادہ یہاں مکالمے کی گنجائش موجود ہے ہمارے سامنے سیاست کے باب میں کئی فقہی آراء موجود ہیں جن کے تمام تر دلائل اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر اٹھائے جاتے ہیں- لبرل ازم ان دلائل کو انسانی عقل کی بنیاد پر اٹھاتا ہے، انسانوں کے سیاسی نظام میں کسی خارجی اثر کو مسترد کر دیتا ہے- یہاں پر بطور اسلامسٹ دو اہم نکات کی وضاحت ضروری ہے یہاں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کون سی فقہ یا اسلامی آراء سیاسی نظام کا حصہ بنیں گی، اس سوال کے پیچھے کوئی بڑی کشمکش موجود نہ ہے ظاہر ہے عوام کی اکثریت جن افراد کو یہ اختیار دے گی وہ اس چیز کا فیصلہ کریں گے کہ عوامی اکثریت پر کون سی فقہ نافذ العمل ہوگی، دوسری کشمکش یہ پیدا کی جاتی ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام میں دوسرے عقائد کلئے برابری کی بنیاد پر کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے یہ باہمی مخاصمت کا سبب بنے گا- ظاہر ہے یہ بات کسی جغرافیائی دائرے میں ہی کی جاتی ہے، جہاں اکثریتیں اور اقلیتیں موجود ہوں گی، اسلام کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، انہیں اقلیت کے بجائے ذمی قرار دیتا کہ ان کی جان، مال اور ضروریات اسلامی ریاست کے ذمہ ہیں، روا داری کا سبق دیتا ہے، یہ تمام حقوق فقط قانونی دائرے میں ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ معاشرتی دائرے میں انہیں زندہ کرتا ہے- سیکولرازم مذہب کو محدود کر کے فرد کا معاملہ بنا دیتا ہے، فرد کی مذہبی آزادی کا دعویٰ بھی کرتا ہے لیکن گروہ یا اکثریت کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا روادار نہیں ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مذہب کو محدود ہی نہیں کرتا بلکہ ری کنسٹرکٹ بھی کرتا ہے ایک دینی ریاست فرد کے ساتھ ساتھ گروہ کو بھی آزادی فراہم کرتی ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیکولرازم کی بنیاد پر سیاست کرنے کی کھلی آزادی ہے لیکن کسی مذہبی ایجنڈے کے ساتھ سیکولر فرانس میں سیاست کرنا جرم ہے، سیکولر ترکی میں تو خود حکمران جماعت کو سیاسی جلسوں میں اسلامی شعار کے استعمال پر تین بار عدالتی کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا-

  • 08-04-2016 at 1:32 am
    Permalink

    Mr. Sal, I don’t agree with your interpretation of Mr. Masood’s words. Nonetheless, even if I accept your view that there is no yardstick to measure faith, what is the yardstick of understanding that faith? And who decides it?

    • 08-04-2016 at 9:13 pm
      Permalink

      Mr. Ral_ I think now we are on the same page 🙂 that is exactly why the author considers it useless to debate the validity of a a faith because it is based on devine commandment

Comments are closed.