اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں


inam-rana-3

آج ایک سال ہو گیا اسے دیکھے ہوئے، مگر اب بھی بہت یاد آتا ہے۔

محترم عدنان کاکڑ اور عامر خاکوانی کے ’تبادلہ بیانیہ‘ مضامین نے مجھ کم علم کے دماغ کا وہی حال کیا ہے جو ابولکلام آزاد کی نثر پڑھتے ہوتا ہے، یعنی بس الفاظ پہچان لیتا ہوں۔ لکھنے کو بہت سے خیال دماغ میں آتے ہیں؛ پانامہ لیکس سے سیاستدانوں کا تو جو ہو گا میرے ہم پیشہ کس جگہ منہ دیں گے کہ اس میں وکلا کا کردار بھی ’وہی وہانوی‘ کی کہانیوں کی ہیروئن سا تھا، ایک سترہ سال کی لڑکی ہزاروں خواب آنکھوں میں سجائے اسی کے ہاتھوں ماری گئی جسکی سیج سجانے کے لیے سجی تھی، ایک بوڑھے دوست کا افسانوی عشق، اور کچھ نہیں تو یہ سوال کہ آخر غیور علی خاں شادی کیوں نہیں کرتا۔ مگر میرے حواس اور قلم پر ڈیننگ سوار ہے۔ جو میرا ذاتی دکھ ہے مگر جب میں آپ کا، تو میرے دکھ بھی آپ سے سانجھے۔

صاحبو شادی سے اگلے ہی روز صبح صبح میری زوجہ ماجدہ کو ایک کال آئی اور اس نے اس زور و شور سے رونا شروع کیا کہ ہر بد خیال اس کے بولنے تک میرے دل و دماغ پہ چھا گیا۔ دل ہی دل میں تعزیت کے جملے موزوں کرتے ہوئے جب چار پانج بار پوچھا تو ہچکیوں سے روتی بیگم نے کہا ’میرا کیناگارٹ مر گیا‘۔ فورا تمام سسرالی رشتہ داروں کا نام یاد کیا پر دماغ میں کچھ نہ آیا۔ کون کیناگارٹ؟ میرا کتا، بیگم نے ایک چیخ ماری اور اس زور سے روئیں کہ مجھے میرے والد کی موت پر اپنا رونا یاد آ گیا۔ ساتھ ہی ہچکیوں میں کہا، ’تم ایشین ہو، تم میرا غم نہیں سمجھو گے‘۔ اور وہ سچی تھی کہ مجھے سمجھ نہ آیا کہ اتنا ماتم ایک کتے کے لیے؟ اب کچھ دیر تو میں ہونق یہ سوچتا رہا کہ اس موقع پر کہنا کیا ہے کہ کسی کتے کی تعزیت کا اس سے پہلے تجربہ نہ تھا۔ سو بہت سوچ کر کہا، حوصلہ کیجیے، اللہ کی رضا۔ جب پھر بھی کوئی خاص فرق نہ پڑا تو میں نے کہا مرحوم بہت سمجھدار تھے، جیسے ہی پتہ چلا آپ کی زندگی میں میں آ گیا ہوں، سمجھ گئے کہ میری اب ضرورت نہ رہی ہے۔ شکر ہے اس بات پہ روتی ہوئی بیگم ہنس پڑیں اور کم از کم ہمارا ولیمہ ہو گیا۔ کون جانے زوجہ ماجدہ نے ولیمہ مرحوم کے قلوں کی روٹی سمجھ کر ہی کھایا ہو۔

den4

‘کیناگارٹ‘ کی موت کے بعد میری بیگم کا مسلسل اصرار رہا کہ کتا پالا جائے مگر میں کسی نہ کسی بہانے ٹالتا رہا۔ کتے مجھے بھی پسند ہیں مگر میں ہمیشہ کتے سے خوفزدہ ہی رہا ہوں کہ بقول پطرس کون جانے کب بھونکنا چھوڑ کر کاٹنا شروع کر دے۔ میرے اک کلائنٹ جو کتوں کے کینل (کتا گھر) چلاتے ہیں نے کیس جیتا تو بطور شکریہ صبح صبح مجھے کہا سر ایک جرمن شیپرڈ ہے، لیجیے گا؟ اب اصولا تو نا ہی بنتی تھی مگر مفت کی شے میں یہ برائی ہے کہ اصولوں کو ڈگمگا دیتی ہے۔ سو بیگم کو اٹھاتے ہوے کہا، کتا لینا ہے؟ اب پہلے تو ان کی نظروں میں وہی شک ابھرا جو مصطفی کمال کی ہر پریس کانفرنس پہ ابھرتا ہے، مگر پھر میرا مظبوط لہجہ دیکھ کر کہا ہاں ابھی لاؤ تاکہ تم مکر نہ سکو۔ چنانچہ ایک پیارا سا جرمن شیپرڈ ہمارے گھر آ گیا۔ اور سچ پوچھیے تو اتنا پیارا تھا کہ دل میں ہی آ گیا۔ اب اس موقع پر دل میں جو شکوک آئے انھیں قاری حنیف ڈار صاحب سے فتوی لے کر دور کیا تاکہ بوقت ضرورت رحمت کے ان فرشتوں کو دکھانے کے کام آئیں جو ڈیننگ سے گھبرا کر میرے گھر نہ آئیں۔ دوسرا بیگم سے وعدہ لیا کہ یہ رہے گا ہمارے لان میں، گھر کے اندر نہیں رہے گا۔

دوستو اس موقع پر زرا اس موضوع پر بھی نظر ڈال ہی لیں کہ کتا پالنا برا کیوں؟ حضرت سفیان (ر) سے مروی ایک حدیث مبارک ہے ’جس نے کوئی کتا پالا ، اور پالنے والے کا مقصد کھیت (گهر) یا مویشیوں کی حفاظت نہیں ہے تو روزانہ اس کے نیک عمل میں سے ایک قیراط ثواب کی کمی ہو جاتی ہے‘۔ صحیح بخاری حدیث نمبر 3325۔

دوستو مجھ کم علم کا ایک خیال ہے جس سے محترم دوست پیر عبیداللہ بھی اتفاق کرتے ہیں کہ ایک تو غربت میں کتا پال کر اضافی پیٹ کا بوجھ خود پہ لادنا اس پابندی کی وجہ تھی۔ دوسرا لڑانے کے لیے کتے پالنے کی دل شکنی مطلوب تھی۔ بلکہ پیر عبید اللہ تو کہتے ہیں کہ یہ جو رحمت کے فرشتے نہ آنے والی بات ہے یہ خونخوار کتوں کی موجودگی سے گھبرا کر مہمانوں کے نہ آنے کی بات ہے کہ مہمان کو رحمت کا فرشتہ کہا گیا۔ پھر سوچیے جس جانور سے اچھے سلوک پر ایک کسبی بخشی جائے اور جو اصحاب کہف کے ساتھ قیامت تک بٹھا دیا گیا، وہ اتنا بھی برا نہیں ہو سکتا جتنا ہم لوگوں نے بنا ڈالا۔

den2

بیگم نے نووارد کا نام لارڈ ڈیننگ کے نام پر ڈیننگ تجویز کیا اور میرے تمام احتجاج رد کر دیے کہ میرے ایک دوست اور استاد کی لا فرم بھی اس نام سے تھی۔ یقین کیجیے آج بھی قسمیں کھاتا ہوں کہ نام اس کو چڑانے کے لیے نہیں رکھا۔ لوگ بال ہٹ، تریاہٹ کہتے ہیں، زوجہ ہٹ شاید زوجہ کے خوف سے اردو لغت میں نہیں ڈالا گیا۔ خیر ہوا یہ کہ دو دن بعد بیگم ’ہدایت نامہ برائے ٹہل سیوا ڈیننگ‘ ہمیں تھما کر خود ضروری کام سے تین دن کے لیے جرمنی چلی گئیں اور میں ’سلیپنگ ود دی اینیمی‘ کے احساسات کے ساتھ جاگنے لگا۔ میرا کتوں سے خوف مجھے اس کے زیادہ قریب جانے سے روکتا تھا مگر ’ہدایت نامہ‘ میں درج تھا کہ دو وقت سیر بھی کرانی ہے۔ مجھے یہ خوف کہ یہ سیر کراتے مجھے ہی پڑ گیا تو میں تو اب تمباکو نوشی کی وجہ سے زیادہ دور بھاگ بھی نہیں سکتا۔ اب آپ سے کیا چھپانا، تین دن میں بیگم کا کوٹ، بوٹ اور دستانے پہن کر ڈیننگ کو واک کرواتا رہا کہ اسے لگے مالکن ہی ہے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو آواز بھی ذرا نسوانی نکال کر اسے پکارتا تھا۔ ان تین دن میں میرا اور اس کا وہ تعلق قائم ہوا جو ماں اور بچے کا ہوتا ہے۔ میں اسے کھلاتا تھا۔ پھراتا تھا۔ قانون کے مطابق جب کہیں وہ فضلہ گراتا تو اٹھا کر پلاسٹک بیگ میں ڈالتا تھا اور اسکے قریب آتا جاتا تھا۔ یہی تین دن اسے بھی میرے اتنا قریب لے آئے کہ وہ مجھ سے ایسے ہی پیار کرتا تھا جیسے بچہ اپنے باپ سے۔ میں جہاں جاتا، وہ پیچھے پیچھے آتا۔ اگر کچھ دیر میں نظر نہ آتا تو وہ ہلکا ہلکا غراتا یا ایک آدھ بار بھونک کر پوچھتا کدھر ہو؟ تین دن بعد جب بیگم آئیں تو کتا تو ان کا تھا، بچہ میرا بن چکا تھا۔ تب ہی مجھے یہ گیان بھی پرتاب ہوا کہ اپنا کتا پالنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسی اور کے کتے سے ڈر نہیں لگتا۔

ہم میاں بیوی نے اسے اتنے ہی لاڈ سے پالا جتنا اولاد کو پالا جاتا ہے اور اس نے بھی ویسی ہی محبت کی جیسی بچہ والدین سے کرتا ہے۔ ہم اسکی تعریف کرنے والوں کو اپنا دوست اور اس کی برائی کرنے والوں کو برا خیال کرتے تھے۔ یادش بخیر میرے ایک دوست دو دن کو میرے پاس تشریف لائے۔ اک دور کے سرخے اب شدید نمازی مسلمان ہو چکے تھے اور ڈیننگ کے پاس آنے پر یونہی بدکتے تھے جیسے کسی دور میں کسی بوژوا مرد کو دیکھ کر۔ عورت تو خیر بوژوا بھی ہو تو مادے کی جدلیات پر حاوی ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے اک بار انھوں نے ڈیننگ کے بارے میں کچھ برا کہ دیا تھا۔ کافی عرصے تک میں دل ہی دل میں ان سے ناراض رہا۔ اس عرصہ میں میرا بھائی بھی آ گیا اور ڈیننگ کے کافی کام اس کے ذمہ لگے۔ وہ بھی اس سے بہت پیار کرتا تھا مگر یقین کیجیے اگر کبھی وہ ڈیننگ کو ڈانٹ دیتا تو میرا دل ڈوب جاتا تھا۔

den1

ڈیننگ تھا بھی بہت پیار لینے والا۔ بچہ تھا سو کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کرتا اور پھر فورا ایسی معصوم شکل بنا لیتا کہ ڈانٹنے کی ہمت نہ پڑتی۔ میری اور بیگم کی ایسی ایسی چیز اس نے خراب کی کہ اگر ہم خود بھی ہوتے تو کبھی ایک دوسرے کو معاف نہ کرتے، مگر اس کی بار ہم ایک دوسرے کو کہہ دیتے کہ کچھ نا کہنا ابھی بچہ ہے۔ ہر تھوڑی دیر بعد وہ اپنا کھلونا منہ میں دبائے آ جاتا کہ کھیلو، اب آپ لاکھ بچنا چاہیں پر وہ کھیلنے پر مجبور کر ہی دیتا تھا۔ ارے ہاں اس دوران میری بیگم نے میرے (جھوٹے دل سے) نا کرنے کے باوجود اس کو گھر کے اندر رکھ لیا تھا کہ باہر بہت سردی تھی اور وہ ابھی بچہ تھا۔ میری اور اس کی زندگی کا ایک پیٹرن سا بن گیا تھا۔ میں صبح صبح اٹھتا اور نیچے آ کر سیڑھیوں کے پاس پڑا اسکا جنگلہ کھولتا، وہ میرے پاؤں پر سر رکھتا اور لاڈیاں کرتا، پھر میں کافی اور پہلا سگریٹ پیتے ہوے اخبار پڑھتا اور وہ کانی آنکھ سے کبھی مجھے دیکھتا اور کبھی اس کھلونے کو جو پاس پڑا ہوتا۔ جرمن شیپرڈ بہت ذہین کتا ہوتا ہے، وہ جانتا تھا کہ جب تک میں صبح ایک دو سگریٹ نہ پی لوں مجھے چھیڑنا کافی کتا کام ہو سکتا ہے۔ جب میں دفتر سے آتا تو وہ میرے بوٹوں کے ساتھ کھیلتا اور میرے تسمے دانتوں سے کھولتا۔ ہم واک کرتے، اکٹھے کھیلتے اور یقین کیجیے اک دوسرے سے باتیں کرتے۔ کئی بار میں نے پنجابی میں اس سے بیگم کی برائیاں بھی کیں اور اس نے ایک ’ہئو فیر‘ (پھر کیا ہوا) جیسی آواز نکال کر حوصلہ بھی دیا۔ اسے میری جدائی برداشت نہ ہوتی تھی۔ کتنی بار ایسا ہوا کہ رات کو وہ اپنا جنگلا کھول کر دبے پاؤں سیڑھیاں چڑھتا، میرا دروازہ اگر تھوڑا سا بھی کھلا ہوتا تو میرے بیڈ کے پاس آ کر بیٹھ جاتا۔ پہلی بار جب آدھی رات کو میری آنکھ کھلی اور اسے دیکھا تو یقین کیجیے میری چیخ اتنی شدید تھی کہ ڈیننگ بھی ایسے بھاگا جیسے پکڑا جانے پر ایک چور، چور چور کہہ کر بھاگ پڑتا ہے۔ مگر چرخ نیلی فام کو دو محبت کرنے والے دل کب بھاتے ہیں خواہ ان میں سے ایک کتے کا ہی کیوں نہ ہو۔

den3

پچھلے سال بیگم کو اپنی جرمن ڈگری کی تکمیل کے لیے چھ ماہ کے لیے جرمنی رہنا تھا، میں نئی جاب شروع کر رہا تھا اور میرا بنگالی لینڈ لارڈ ہر دوسرے روز احتجاج کر رہا تھا کہ کتا گھر میں کیوں رکھا ہے۔ سو طے یہ پایا کہ بہتر ہے ڈیننگ چھ ماہ جرمنی رہے تاکہ معاملات درست رہیں۔ ہم تینوں اکٹھے بزریعہ سڑک جرمنی گئے اور کچھ دن اکٹھے وہاں رہے۔ وہاں بھی وہ یوں میرے پیچھے پیچھے پھرتا تھا کہ میرے ساس سسر کو یقین تھا کہ یہ میرے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ مجھے یاد ہے جب اسے چھوڑ کر میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ دروازے کے شیشے سے مجھے یونہی دیکھتا تھا جیسے کوئی بچہ اپنے اس باپ کو جو اسے یتیم خانے میں جمع کرا کر چلا جائے۔ اگلے کتنے ہی روز میں ڈیننگ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے سوتا تھا۔ میرا سسرال ایک پرفضا وادی میں ہے۔ سنا ہے ڈیننگ وہاں بہت خوش ہے اور بھاگتا پھرتا ہے۔ سنا ہے سارا قصبہ اس کا دیوانہ ہے اور وہ اپنی حرکتوں سے ہر ایک کا دل جیت لیتا ہے۔ حالات نے اجازت نہ دی اور میں اسے دوبارہ نہ مل سکا۔ خیال آتا ہے کہ شاید کبھی وہ سوچتا ہو، میں کیسا بے وفا نکلا۔ کتنے ہی ایسے رشتے ہیں جنکی بے وفائی کا ہمیں گلہ رہتا ہے یہ جانے بغیر کہ وہ رشتہ ہمارے لیے کیسے تڑپ رہا ہے۔

صاحبو آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ یہ مجھے کیا ہوا، میں یہ کیا کتا کہانی لے کر بیٹھ گیا۔ آج میں بھی بس یہی کہوں گا کہ ’آپ ایشین ہیں، آپ نہیں سمجھیں گے‘۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

17 thoughts on “اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

  • 07-04-2016 at 2:16 pm
    Permalink

    رانا صاحب ایک تو آپ نے مضمون بہت اچھا لکھا ہے ۔ دوسرا آپ کا یہ مضمون میرے لیے بڑا مفید ثابت ہوا ہےکہ Cynophobia کا شکار ہوں بچپن سے۔ لیکن آپ نے جس خوبصورتی سے محبت اور چاوٗ سے کتوں کا ذکر کیا ہے یقین جانئے فوری ایک کتا پالنے کو دل کر رہا ہے۔ آپ کے مضمون میں کئی کمال جملے ہیں لیکن اس مشورے کے تو کیا کہنے ۔۔ ’’ تب ہی مجھے یہ گیان بھی پرتاب ہوا کہ اپنا کتا پالنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسی اور کے کتے سے ڈر نہیں لگتا‘‘ ۔۔ مجھے سو فیصد یقین ہو گیا ہے کہ کتا پالنے سے میرے اندر کسی بھی کتے کا خوف ختم ہو سکتا ہے۔
    کتا پالنے کے حوالے سے غامدی صاحب کو یو ٹیوب پر تلاش کیجئے گا۔ رحمت کے فرشتوں والی بات پر ایک خوبصورت جواب پائیں گے۔

  • 07-04-2016 at 2:20 pm
    Permalink

    مجاہد بھائی ایک تو آپ نجانے میرے مضامین میں نام کیوں دھونڈتے رہتے ہیں۔ تحریر کا مزہ لیا کیجیے اور پردہ رکھا کیجیے۔ اللہ پاک کو پسند ہے۔ ?

  • 07-04-2016 at 2:21 pm
    Permalink

    وقار بھائی بہت شکریہ۔ آپ کی تعریف ہر بار میرے سوکھتے قلم میں نئی سیاہی بھر دیتی ہے۔ لو یو

  • 07-04-2016 at 3:23 pm
    Permalink

    سوال یہ ہے کہ اسے دوبارہ کیوں نہ دیکھ سکے؟

  • 07-04-2016 at 6:07 pm
    Permalink

    حضرت آپ تفقہ والا حصہ چھوڑ کر پڑھا کیجیے۔ مزہ برقرار رہے گا۔
    ویسے تفقہ فی الدین ہر مسلمان کا فرض ہے۔ غلط بھی ہو تو اک نیکی تو مل ہی جاتی ہے۔ ?

  • 07-04-2016 at 6:59 pm
    Permalink

    واہ بہت ہی خوب انداز تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل کو بھاتے جا رہے ہو میاں

  • 07-04-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    اس تحریر کا لطف آپ کے انداز بیاں نے دوبالا کردیا۔ یوں لگا لارڈ ڈیننگ کہیں آس پاس ہی گھوم رہا۔ باقی سرخے اور بورژوا نامی ایک قدیم داستان کو پھر سے تازہ کرنے کا مزا الگ ۔ یعنی ایک ٹکٹ میں دو تین چار مزے لینا ہوں تو انعام رانا کی تحریر کو پابندی سے خوراک کا حصہ بناکر رکھا جائے۔ افاقہ کی بھرپور ضمانت۔

  • 08-04-2016 at 12:44 am
    Permalink

    سگ باش ندیمِ رانا مباش
    انعام رانا نے مضمون تو آقائی ڈیننگ کی مدحت میں باندھا مگر ان کی شمشیرِ خامہ کی زد میں آئی اس فقیر کی ناکتخدائی کا ذکر ایک زخمِ پارینہ کو خلشِ نو دے گیا۔ چلیں حسابِ دوستاں در دلِ دوستاں، ویسے بھی غلطی اس نالائق کی ہی ہے کہ کل رات لاڈ میں ایک نئی تحریر کا مطالبہ کر بیٹھا تھا۔
    مکرمی وجاہت مسعود نے ‘ہم سب’ میں جن نئے گل بوٹوں کی کیاری لگائی ہے اس میں انعام رانا سِیس پھول کی مانند ہے جو سنجیدہ مکالموں کے درمیان ‘ہم سب’ کی جبین پہ قوس قزح بکھیرتا رہتا ہے۔ اس شوخ نویس کی ہر تحریر اپنے بہیتر ایک چنچل نار کے فتنے چھپائے ہوتی ہے اور بس نظریں ملانے کی دیر ہے کہ قاری بقول حضرت امیر خسرو نعرہء مستانہ لگاتا ہے کہ ‘بات اگم کہہ دی، نی رے موسے نیناں ملائی کے’۔
    تاہم جس طرح مردِ نادان پہ کلامِ نرمِ نازک بے اثر اسی طرح انعام کی مکری کبھی کبھی کچھ نازک طبع احباب کے مزاج پہ گراں بھی گزرتی ہے جس کا ایک تجربہ رانا کو ابھی حال ہی میں ہوا ہے جب اس نے ایک مردے میں روح پھونکنے کی سعیِ رائگاں کی۔ شاید انعام رانا کی ہمت بڑھانے کے لئے ہی میر تقی میر بڑے پتے کی بات کہہ گئے ہیں کہ
    ؔ کچھ ضرر عائد ہوا تیری (میری) ہی اور
    ورنہ اس سے سب کو پہنچا انتفاع

  • 08-04-2016 at 2:41 am
    Permalink

    کمال ہے استاد…. میں ایشین ہوں پھر بھی سمجھ گیا… کیوں کہ کمال لکھا… میں بھی کبھی جرمن شیپرڈ ضرور رکھوں گا اور کہیں چھوڑ کر بھی نہیں آوں گا

    اور ہاں سچ …… چااااااا ?

  • 08-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    میرے دل میں کتا پالنے کا شوق پیدا کرلیا۔ کیا واقعی مجھے کتے سے وہی پیار مل جائیگا جو مجھے انسانوں سے نہ مل سکا؟

    • 10-04-2016 at 8:33 am
      Permalink

      یقین کیجیے مل جائے گا

  • 08-04-2016 at 5:31 pm
    Permalink

    یار تمہاری یہ تحریر کتا دوستوں کو عیاں کردیگی اب اتفاق کہئے کہ میں خود یہ شوق رکھتا ہوں اسلئے میں تو بہر حال اس ادبی کتانامہ کی تعریف کرونگا مگر اس سلسلے میں فقہی مباحث سے اجتناب بہتر ہے اسلئے کہ کتا یا تو ضرورت کیلئے پالا جاتا ہے یا شوقیہ دونوں میں برائ اسلئے نہیں کہ یہ نوع حیوانی وفاداری میں اشرف المخلوقات نوع انسانی سے کہیں آگے اور جان تک نثار کر دیتی ہے سو رانا یہ مضمون لکھکر تم نے وفاداری کا حق ادا کردیا
    ??????

  • 08-04-2016 at 8:36 pm
    Permalink

    بہت ہی مزے دار، دلچسپ اور خوبصورت تحریر۔ کمال ہے رانا صاحب، آپ کی تحریر میں اس قدر تیزی سے نکھار آ رہا ہے کہ رشک آتا ہے۔ خوبصورت رائٹر ہیں آپ ۔ ماشااللہ۔

    • 09-04-2016 at 3:35 pm
      Permalink

      سر بہت شکریہ۔ آپ سب اور “ہم سب” کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔ رہنمائی ملتی رہی تو شاید بات بن ہی جائے۔ ?

  • 08-04-2016 at 9:04 pm
    Permalink

    I love dogs. People with dogs live healthier, happier and longer. Thank you for beautiful essay.

  • 09-04-2016 at 6:47 am
    Permalink

    کمال لکھا انعام. یہ آپکی سب سے بہترین تحریر ہے. ویسے میں حیران ہوں کہ اس اپنے تئیں لبرل ویب سائٹ کے ناز و ادا اتنے بخیل اور تنگ نظری کا شکار کیوں ہیں؟ انعام رانا کی شدید مخالفت لیے ایک کمنٹ تو جگمگاتا رہا اور اس بد بودار کمنٹ کے جواب کو فوراً ہٹا دیا گیا. مجھے شک ہے کہ ہم سب کی ادارتی ٹیم کے کچھ لوگ رانا صاحب سے اور انکی کامیابی سے جلتے ہیں.

  • 09-04-2016 at 3:38 pm
    Permalink

    میری مخالفت میں حملے سر آنکھوں پر بھائی۔ اگر مجھے چھیڑ کر کسی کی کسر پوری ہو جاتی ہے تو اپنا کیا جاتا ہے۔ باقی بھائی، ہم سب والے سب مجھ سے برتر ہیں بھائی اور بہتر بھی۔ اور میں ان ہی کا لگایا ہوا پودا ہوں تو مجھ سے کیا جلنا۔ ویسے بھی محبت بہترین جواب ہے۔ سو سب کو آئی لو یو۔ ?

Comments are closed.