شادی نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر کسی کے لیے دستیاب ہوں


ہر چوائس
میں اپنے چھوٹے بھائی کے رشتے کے لیے اخبار میں ضرورتِ رشتہ کے صفحات دیکھ رہی تھی کہ ایک رشتہ دار نے ایک سطر پر سرخ رنگ سے نشان لگایا۔ اس سطر پر لکھا تھا: ‘اس کی ایک غیر شادی شدہ بڑی بہن ہے۔’ انھوں نے طنز کے ساتھ کہا: ‘بڑی بہن کی شادی نہ ہونا ہمارے لڑکے کے لیے ایک بہتر لڑکی کی تلاش میں بہت سے مسائل پیدا کرے گا۔’

ان کے یہ الفاظ میرے سینے میں تیر کی طرح لگے۔ میں درد سے بلبلا اٹھی اور بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو پایا۔ میرے اندر غصہ ابل رہا تھا کہ وہ ایسی باتیں کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے الفاظ سن کر دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا جیسے کوئی میرا گلا گھونٹ رہا ہو۔ میں زور سے چیخنا چاہتی تھی کہ میرے شادی نہ کرنے کا فیصلہ میرے بھائی کے بہتر لڑکی حاصل کرنے کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہے۔ البتہ ان حالات میں خاموشی بہتر تھی اور میں نے ایسا ہی کیا۔

مجھے امید تھی کہ میرا بھائی یا میرے والد میرے اس رشتہ دار کی بات کی مخالفت کریں گے۔ لیکن انھوں نے بھی باقی رشتہ داروں کی طرح میرے دکھوں سے کنارہ کش رہنے میں ہی بہتری سمجھی۔ میری ماں میری تکلیف سمجھتی تھی اور وہ کئی بار اس قسم کی دل دکھانے والی باتوں کو ختم کرنے کی ناکام کوشش بھی کرتی تھی۔ بہر حال وہ خوش تھی کہ اس کے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے۔ ایک وقت تھا جب میرے والدین میری شادی کے خواب دیکھا کرتے تھے۔

میں دو بھائی بہنوں میں بڑی تھی اس لیے طے تھا کہ میری شادی ہی پہلے ہو گی لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے میں نے اپنے والدین کو اس خوشی سے محروم کر دیا جس کا وہ خواب ہمیشہ سے دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے گذشتہ چند سالوں میں ہمارے درمیان بہت کشیدگی رہی۔ میرے رشتہ داروں اور دوستوں کے پاس بھی اسی قسم کے سوالات تھے۔
ہر چوائس

شادی نہ کرنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ہر کسی کے لیے دستیاب ہوں کچھ دوستوں کی باتیں سمجھ میں آتی تھیں لیکن بعض کی باتیں بے سر و پا تھیں۔ مثال کے طور پر، میرے سکول کے زمانے کے ایک دوست نے مجھ سے ایک دن پوچھا: ‘میں جانتا ہوں کہ تم شادی نہیں کرنا چاہتیں لیکن تمہاری کچھ خواہشات تو ہوں گی۔ اگر تم کہو تو تمہاری خواہشات کو پورا کرنے میں مدد کر سکتا ہوں۔’ انھوں نے کہا کہ انھیں ایسا کرنے میں خوشی ہو گی لیکن ان کی بیوی اور بچوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے۔ اپنے دوست سے ایسی باتیں سن کر میں سکتے میں آ گئی۔

یہ سچ تھا کہ میں اپنی ضروریات یا جنسی خواہشات سے بے خبر نہیں تھی اور مجھے ایک پارٹنر کی ضرورت بھی تھی لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ میں کسی کے لیے بھی دستیاب ہوں۔ یہ مجھے کبھی قبول نہیں۔ زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ میرے پرانے دوستوں نے ایسی پیشکش کی، جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ مجھے ان کی تجویز پر غصہ نہیں آیا لیکن یہ سوچ کر میں شدید تناؤ میں ضرور چلی گئی کہ انھیں ایسا خیال کیسے آيا۔ اور ستم یہ کہ اسے ‘مدد’ اور ‘خدمت’ کہنا بہت ہی بیہودہ تھا۔ ان کی اسی بات نے ہماری دوستی کے درمیان کی معصومیت کو ختم کر دیا۔ ان سے ملنے کے بارے میں سوچ کر خوف ہوتا ہے اور میں اب بھی ان سے بات کرنے سے بچتی ہوں۔

جب لوگوں کو میرے ‘سنگل’ (تنہا) ہونے کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو میرے بارے میں ان کے خیالات بدل جاتے ہیں۔ مجھ سے بات کرنے کا ان کا انداز پہلے جیسا نہیں رہتا۔ لیکن یہ چیزیں مجھے پریشان نہیں کرتیں، یہ سب میرے لیے عام بات ہو چکی ہے۔ میں اپنے فیصلے خود کرتی ہوں۔اپنی ‘پسند’ اور ‘ناپسند’ کا خود خیال رکھتی ہوں۔

آج میں 37 سال کی ہوں اور مجھے اکیلے رہنے کے اپنے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ میں جب 25 سال کی تھی تو میں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بارے میں پہلے اپنی ماں کو بتایا۔ میں نے پیسے کمانے شروع ہی کیے تھے اور میں اپنے خواب پورا کرنا چاہتی تھی، نئی بلندیوں کو چھونا چاہتی تھی۔ پرندوں کی طرح میں آزاد رہنا چاہتی تھی مجھے لگتا ہے کہ میری والدہ نے میرے دل کی بات سمجھ لی لیکن دوسرے لوگوں کے سوالات کے سامنے وہ مجبور تھی۔ تم اپنی بیٹی کی شادی کب کر رہے ہو؟
ہر چوائس

‘اگر آپ کو ایک اچھا لڑکا نہیں مل رہا ہے تو ہمیں بتائیں، ہم کچھ مدد کریں۔۔۔’

جوں جوں میرا کریئر بہتر ہونے لگا لڑکے کی تلاش تیز ہونے لگی۔ لوگ میرے والدین کو بتاتے کہ شادی سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ لیکن ان کے برعکس میں کسی کے ساتھ شادی نہ کرنے کو حفاظت سمجھتی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میرے والدین کے دل و دماغ میں کیا ہے۔ ان کی بیٹی شادی کی عمر سے گزرنے والی ہے اور وہ ابھی بھی ان کے گھر میں رہ رہی ہے۔ میرے والد چاہتے تھے کہ میرا گھر جلد از جلد آباد ہو جائے، اس لیے میں نے ایک یا دو نہیں بلکہ 15 لڑکے دیکھے۔

میں اپنے والد کے تفکرات کو سمجھتی تھی اور قدر بھی کرتی تھی اس لیے میں ان لڑکوں سے ملنے کے لیے تیار ہو گئی لیکن ان میں سے ایک بھی مجھے پسند نہیں آیا۔ لیکن ان تجربات سے مجھے یہ ضرور پتہ چل گیا کہ میں شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی۔

میرے والدین بھی اس بات کو سمجھ گئے لیکن باقی لوگ میرے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ انھیں یہ لگتا ہے کہ میں بہت نخرے کر رہی ہوں۔ وہ مجھے گھمنڈی، آوارہ، اپنے والدین کی خواہش کی قدر نہ کرنے والی، بیوقوف، غیر مہذب اور بھول کا شکار لڑکی کہتے۔ میں نہیں سمجھ سکی کہ لوگوں کو میرے متعلق ایسی باتیں کر کے کیا لطف آتا ہے؟ اور جب ان سے بھی ان کی تسلی نہ ہوتی تو وہ میری کردار کشی کرنے لگتے۔

لیکن میرے خیالات بالکل واضح تھے۔ کسی طرح کی محبت میں رہنا یا لو ان ریلیشنز میں کوئی برائی نہیں۔ دنیا اس طرح کے خیالات کے ساتھ کئی قدم آگے بڑھ چکی ہے۔ جن چیزوں میں مجھے لطف آتا ہے میں جب چاہوں کر سکتی ہوں۔ خواتین اب کسی پنجرے میں قید ہو کر نہیں رہ سکتیں۔ میں صرف آزاد رہ کر جینا چاہتی ہوں، شادی ایک قسم کا بندھن لگتا ہے۔ میں آسمان میں پرواز کرنے والے پرندے کی طرح بننا چاہتا ہوں، اور اپنی خواہش کے مطابق زندگی جینا چاہتی ہوں۔ جی میں آئے تو سارا دن گھر میں رہ اور جی میں آئے تو ساری رات باہر گزار دوں۔ کلب، ڈسکو، مندر، پارک جہاں میں جانا چاہوں جاؤں۔ جب جی میں آئے گھر کے کام کروں، دل نہ ہو تو کھانا بھی نہیں بناؤں۔

میں ایسی زندگی نہیں چاہتی جہاں صبح صبح اپنی ساس کے لیے چائے بنانا ہو، شوہر کے لیے ناشتہ یا بچوں کو سکول بھیجنے کی فکر ستاتی رہے۔ مجھے تنہا رہنا پسند ہے۔ مجھے اپنی آزادی سے پیار ہے اور میں یہ بات اتنی دفعہ کہہ سکتی ہوں جتنی بار مجھے کہنے کی ضرورت ہو۔.

میں نے بہت سی شادی شدہ خواتین دیکھیں جن کا کنبہ بڑا ہے، بچے ہیں لیکن پھر بھی وہ تنہائی محسوس کرتی ہیں۔ جب کہ میں وہ تنہائی محسوس نہیں کرتی اور میرے خاندان اور دوست دونوں ہیں۔ میں ایسے رشتے کو ترجیح دیتی ہوں جس میں مجھے خوشی ملتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک غیر شادی شدہ لڑکی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میں کبھی بھی بوجھ نہیں بنی۔ میں نے دنیا بھر کی سیر کی، میں خود کماتی ہوں اور پیسہ کس طرح خرچ کرنا ہے، یہ فیصلہ بھی میرا ہی ہے۔

میں نے اپنے کام سے اپنی پہچان بنائی ہے اور میری تعریف میں کئی مضامین بھی لکھے جا چکے ہیں۔ وہ اخبار جو کبھی میرے شادی نہ کرنے کے فیصلہ کا مذاق اڑاتے تھے آج وہ میرے سنگل ہونے کی تعریف کرتے ہیں۔ میرے والدین آج مجھ پر فخر کرتے ہیں اور ان کے دوست اپنی بیٹیوں کو مجھ جیسا کامیاب ہونے کے لیے مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس بات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ میں نے اپنے لیے فیصلہ کیا ہے اور اسے درست بھی ثابت کیا ہے۔

(یہ کہانی شمال مغربی ہند میں رہنے والی ایک لڑکی کی زندگی پر مبنی ہے جس نے بی بی سی کی نمائندہ ارچنا سنگھ سے بات کی۔ لڑکی کی خواہش پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر دویا آریہ ہیں)

اس سیریز کے دیگر حصےبستر میں جبر کرنے والے شوہر کو میں نے چھوڑ دیامیں نے شادی نہیں کی، اسی لیے تمہارے والد نہیں
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3801 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp