ٹُکر ٹُکر دیکھ ٹَھکا ٹَک


laiba zainabایسے تو یہ ہرگز باہر نہیں جائے گی۔ آج کل بڑا بُرا ماحول ہے۔ اسے برقعہ لے کر دیں۔ بائیک پر جائیں تو ایسے گھور گھور کر دیکھتے ہیں سب۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ بازار جانا ہے تو چادر لے کر جانی ہے۔ اس طرح صحیح نہیں ہے جانا۔ آپ کو نہیں معلوم وہاں بیٹھے لڑکے کیا کیا باتیں کرتے ہیں۔ اس طریقے سے لڑکیوں کا ہوٹل میں جانا مناسب نہیں لگتا۔ آج کے بعد تمہارے سر سے دپٹہ اترا دیکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔ تمہاری امی اس سے کہیں کہ اگر یونیورسٹی میں پڑھنا ہے تو تمیز سے پڑھے، لڑکوں سے بات کرتی نظر نہ آئے یہ مجھے اس طرح کے بہت سے جملے سُنے ہوں گے آپ نے.عورتیں ایسی باتیں کبھی باپ,کبھی بھائی,کبھی شوہر اور کبھی کسی اور مرد کے منہ سے سنتی ہیں.رشتے بدلتے رہتے ہیں مگر باتیں وہی.کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کیا باقی لڑکیوں کو بھی ویسا ہی لگتا ہے یہ سب سن کے جیسا مجھے.ایک عجیب سی الجھن میں ڈال دیتے ہیں یہ الفاظ.اکثر ایسا لگتا ہے کہ میرا مرد نہ ہونا بھی میرا ہی قصور ہے.

آپ بازار جائیں,باہر ریڑھی والے سے سبزی خریدیں,سٹاپ پر بس کا انتظار کریں یا رکشے میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوں کچھ ہوس بھری نگاہیں ہمیشہ آپکے تعاقب میں ہوتی ہیں.سکون سے اپنا کام کرتے کرتے اچانک سے ایک عجیب کی تپش اپنی جانب محسوس ہو تو سمجھ جائیں کہ کوئی آپکو “تاڑنے” میں مصروف ہے.ایسے الفاظ کا استعمال اس لیئے ضروری ہے کیونکہ ویسے تو بات سمجھ میں آنے سے رہی.

ماشاءاللہ، سبحان اللہ سے لے کر اوئے ہوئے، کیا لگ رہی ہو، تک آپ سڑک پر چلتے جائیں اور سنتے جائیں (باقی کے الفاظ نہ لکھنے کی وجوہات ذاتی ہیں). صبح اچھے خاصے موڈ میں گھر سے نکلو تو کچھ نہ کچھ ایسا ضرور سننے کہ اندر آگ اتر جائے.آپ نقاب میں ہیں تو ذرا چہرہ دکھائیں، دپٹہ سر پر ہے تو ذرا پاس آئیں، میک اپ کیا ہوا ہے تو کتھے چلے او سرکار اور اپنی دُھن میں ہیں تو ذرا میری سیٹی بھی سُن لیں. پس آپ کو خاتون ہو کر باہر نکلنے کہ کی ہمت ہو ہی گئی ہے تو پھر یہ سب باتیں بھی سُنیں.

میں ایک بدتمیز لڑکی ہوں یہی وجہ ہے کہ اکثر ان جملوں کا جواب دے دیتی ہوں کیونکہ مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتا.میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہوں کہ وہ بلاجواز میرے بارے میں ایسی باتیں کرے.ایک لڑکا اپنی گاڑی کا شیشہ بھی تڑوا چکا ہے انہی وجوہات کی بنا پر اور اکثر باآوازِ بلند اپنی عزت افزائی کروا چکے ہیں.مگر یہ سب صرف اس لئے ہو سکا کونکہ مجھے یقین تھا کہ اگر گھر والوں تک بات پہنچی تو پہلے وہ میری بات سنیں گے.مسئلہ صرف میرا نہیں ہے.ان سب لڑکیوں کا بھی ہے جو یہ باتیں اپنے گھر والوں کو نہیں بتا سکتی ہیں.کسی کی پڑھائی چھوٹ جائے گی تو کوئی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گی کیونکہ ہم تو آرام سے یہ کہہ دیں گے کہ عورت کا کام ہی کیا ہے گھر سے باہر جانے کا.

ایسی فضول حرکتیں کرنے والوں سے میں بس اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ کبھی سوچا ہے ایک لڑکی پر گزرتی کیا ہے؟ آپ کے الفاظ اس کی زندگی تباہ کر سکتے ہیں احساس ہے اس بات کا؟اسکا کوئی جاننے والا یہ باتیں مرچ مسالے لگا کر گھر تک پہنچائیں تو خاندان والے اسکا جینا حرام کر سکتے ہیں کبھی اس پہلو پر غور کیا ہے؟کتنی لڑکیاں اب تک ان باتوں کی وجہ سے اپنے سارے خوابوں کا قتل کر چکی ہیں آپکو اندازہ بھی ہے؟نہیں نا؟؟؟؟ کیونکہ آپکو تو سب اپنے شغل کی پڑی ہے پھر چاہے کسی کہ جان جاتی ہے تو جائے آپکی بَلا سے.اپنی بہن کو سات پردوں میں قید کریں اور دوسروں کی بہنوں کا جینا دوبھر.

میرا مقصد عورت کو مظلوم ثابت کرنا یا مردوں کا جلادوں والا روپ ظاہر کرنا نہیں ہے. لیکن ایک دفعہ سوچیئے گا ضرور کہ “بچی چیک کر”۔۔۔ “تیری بھابی جا رہی ہے، یار”۔۔۔  “بڑی فٹ چیز ہے”۔۔۔ ابے اُسے پہلے میں نے دیکھا تھا۔۔۔۔  وہ میری والی ہے۔۔۔۔ کہہ دینے سے کوئی آپ کا نہیں ہوگا مگر آپ اُس کی بددعاؤں کی فہرست میں شامل ضرور ہو جائیں گے. لیکن جب تک آپ یہ سب نہیں سوچتے تب تک ہر عورت کو ٹُکر ٹُکر دیکھ ٹھکا ٹھک

نوٹ: اگر آپ مرد ہیں تو میری تحریر نہ پڑھیں کیونکہ اکثر مانیں گے نہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور باقیوں کو نئے طریقے مل جائیں گے چھیڑنے کے.


Comments

FB Login Required - comments

16 thoughts on “ٹُکر ٹُکر دیکھ ٹَھکا ٹَک

  • 07-04-2016 at 1:28 pm
    Permalink

    اخیر میں آپ کا نوٹ پڑھ کر ایسا لگا جیسے آپ نے مجھے راہ چلتے چھیڑنے کو آوازلگائی ہو.

  • 07-04-2016 at 2:06 pm
    Permalink

    یہی اس معاشرے کی سیاہ سچائی ہے تاہم بات کو مزید کھولنا ضروری ہے ۔ شاید ابھی اس کا موقع نہیں
    اچھا لکھا ، لائبہ
    صحافی کو بہادر ہونا چاہیے ۔

    • 07-04-2016 at 7:27 pm
      Permalink

      Itna Khuch Tou Khol Diya He Liba BB Ne Sabookh Sb. K Banda Sunta Jai Aor Sharmata Jai…
      Aorat Hona TOu Ek Jurm Hey Hi… Magar Mard Hona Bhi Iss Trah Bhari Lagta Hey K Aap Ko Unn Gunahon Ka Bojh Bhi Uthana Parta Hy Jo.. Kam Se Kam… Aap Ne Nahi Kiye Hote..

    • 07-04-2016 at 8:13 pm
      Permalink

      آپکا کمنٹ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ہے مجھے سچ میں

      • 07-04-2016 at 8:14 pm
        Permalink

        آپکا کمنٹ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ہے مجھے سچ میں سبوخ سید

  • 07-04-2016 at 2:50 pm
    Permalink

    بہت ذبردست لکھا آپ نے (keep it up brave girl)

  • 07-04-2016 at 3:01 pm
    Permalink

    اختتامی نوٹ بہت اچھا لگا۔

  • 08-04-2016 at 12:29 pm
    Permalink

    میں اپنی کلاس میں پڑھاتے ہوئے بچوں سے یہی کہتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے حوالے سے کُتّوں کا معاشرہ ہے جہاں لڑکی کے گھر کی دہلیز سے قدم باہر رکھنے سے لے کر اسکول و کالج تک ہر موڑ پر چھبتی ہوئی، نگاہوں ہی نگاہوں میں رال ٹپکاتی، بھوکی نظریں بچیوں کا تعاقب کرتی ہیں۔ ہر ،موڑ پر حوصلہ شکنی کا سامنا ہوتا ہے، بہادر ہیں وہ بچیاں جو ان سب کا مقابلہ کرتی ہیں

    تاڑنے اور چھیڑنے کےآئیڈیازدینے سے یاد آیا کہ ایک مولوی صاحب سے سہیل وڑائچ نے خوبصورتی کے معیار کے حوالے سے سوال کیا تو جواب ملا ’صاف ایڑھی’ تو جناب لوگ تو اس میں بھی آئیڈیاز ڈھونڈلیں گے

  • 08-04-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    🙂
    میں اپنی صفائی پیش نہیں کرسکتا اور نہ ہی اوروں کے بارے میں کہوں گا ۔ بلکہ اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اصل بات الگ تلگ ہونے کا ہے ۔ جب تک مرد اور عورت ایک دوسرے کو سمجھیں گے نہیں تب تک میں مرد ہوں آپ کو دیکھوں گا آواز ماروں گا مجھے میری خوشی سے تعلق ہے، نہ آپ کے عزت کی پروا ۔ یہ باتیں جو آپ نے کہی ہے سب کو معلوم ہے اور سب کو پتہ ہے ۔ میں پڑھوں گا کچھ وقت کیلئے اچھا بن جائوں گا سوچتے سوچتے پھر سے اپنی راہ نکل لوں گا۔ اگر اس طرح سے ماحول کیا صاف کیا جاتا تو کب کا صاف ہوچکا ہوتا۔

  • 08-04-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    آپنے درست لکھا ھے یہ ھماری بد قسمتی ھے کہ ھم ابھی تک اس قسم کی گھٹیا اور پوچ باتوں کو اپنے لئے مذاق اور مردانگی کا نمو نہ سمجھتے ھیں۔

  • 08-04-2016 at 4:46 pm
    Permalink

    بات تو سچ ہے
    مگر بات ہے رسوائی کی

  • 08-04-2016 at 5:33 pm
    Permalink

    Bibi ap apny betay ko bhi samjha deejiye ga keh wo jab gher sy bahir jaiy tu aisa sab kuch na kray. Mujhy yakeen hy ap bhi apni beti ko kahin gi keh wo gher sy na jaiy. Aurtain he mardon ko paida kerti hain aur educate nhi kertin bus mera beta dunia ka sab sy acha beta hy. Mai ny aj tak yeh dekha hy aurat ny us betay ko humesha support kia hy jo bht bura hota hy usk bary mai kaha jata hy pori dunia iski mukhalif ho gai hy. Aur mard bhi ager chahty hain unki beti ko koi na tang kery tu pehlay wo dosron ki betiyun ko tang kerna band krain aur apny betay aur beti ko educate karain aur yeh Pakistan mai tu kabhi nhi ho ga.

  • 08-04-2016 at 7:48 pm
    Permalink

    آپ نے جملہ آخر میں لکھا ورنہ آپکا مضمون نما سیاپا کبھی نہ پڑھتا، سارا زور مردوں پر لگا کر آخر میں لکھنا کہ مرد نہ پڑھیں،
    اور یہ جو 1400 ویوز ہیں آپکی تحریر پر، اسکے بارے میں بھی ارشاد فرمائیں گی آپ؟ یہ آپکی تحریر کی وجہ سے نہیں ہیں، تو اگلی مرتبہ اس پر بھی تبرا بھیجیں۔ مطلب یہ کہ آپ عورتیں جہاں عورت ہونے کی رعایت مل رہی ہو وہاں تو آج تک میں نے کوئی ایسا مضمون نہیں پڑھا کہ جناب ہمیں یہ رعایت نہ دیں، ہمیں بھی اپنے جیسا عام انسان سمجھیں۔

    تو جو توجہ آپکو کسی اچھے انداز میں حاصل ہوتی ہے، وہ سڑک پر بدتمیزی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ مرد کے اندر قدرت نے عورت کی طرف کشش رکھی ہے، اور یہی صورتحال کم و بیش سب جانداروں میں ہے جہاں مقصد افزائش نسل ہے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ آپ عورتیں جہاں لکھنا شروع کرتی ہیں وہیں پوری مرد برادری کو زلیل کرنا شروع کر دیتی ہیں، یہ خیال رکھے بغیر کہ ایک مرد نے کبھی آپکی اماں سے ایک عہد کیا تھا اور اسکو آپکی پیدائش اور افزائش تک نبھایا، اور اپنے فطری تقاضوں کو بھی انسانیت کے دائرے میں رکھا۔

    میں یورپ میں رہا ہوں، روزانہ لڑکیاں جنسی طور پر ہراساں کی جاتیں ہیں، جہاں اکیلی لڑکی نظر آئی، جملے، دعوتیں، ڈیٹ پر بلانے کی خواہش، وغیرہ سب ہوتا ہے۔ تو جو آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ سب دنیا میں یہی ہوتا ہے وہ کچھ حد تک درست کہتے ہیں۔

    اب آپ کہیں گی میں ان راہ چلتے آوارہ لڑکوں کی حمائت کر رہا ہوں، تو ایسا بھی ہرگز نہیں، کوئی زمہ دار باپ، بھائی یا شوہر ایسا معاشرہ نہیں چاہے گا جہاں بھیڑیوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے، تو جو لوگ خواتین کو ہراساں کرتے ہیں انکی جہاں تک ممکن ہو سکے سزا ہونی چاہیے، یا معاشرے میں انکے لیے نا پسندیدگی ہونی چاہیے، اور میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی غیرتمند مرد اسکو پسندیدہ سمجھے گا۔

    لیکن عورتوں کو بھی اپنے وجود کی انفرادیت کا ادراک ہونا چائیے، اور اس انفرادیت کے فائدے اٹھاتے ہوئے معاشرے میں ناگزیر حالات کی وجہ سے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر لینی چاہیں۔ جن میں مناسب لباس، مناسب انداز اور اطوار، اور مناسب میل جول شامل ہیں۔

    آخر میں جملہ معترضہ، کہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ کہیں، کہ جسکے لیے میں بن سنوری ہوں، صرف وہی چھیڑے ، باقی باراتی بن جائیں۔

    • 13-04-2016 at 11:55 am
      Permalink

      سب سے پہلے میں آپ کے آخری کمنٹ کا جواب دینا چاہوں گی کہ ” خواتین کی اکثریت خود کو اچھا لگنے کے لیے بنتی سنورتی ہے یا پھر ان کے لیے جو ان کے اپنے ہوں، کسی سڑک چھاپ فضول عاشق نامراد کے لیے ہرگز نہیں بنتی سنورتی ” دوسری بات یہ کہ خواتین کو اپنے وجود کی انفرادیت اور اپنی عزت و آبرو کا ہر ممکن ادراک بھی ہوتا ہے لیکن بقول میرے اپنے بھائی کے جس نے ایک بار مجھے سمجھایا تھا کہ” آپی آپ لوہے کا عبایہ پہن کر بھی باہر نکلو گی تو بھی یہ غلیظ لوگ ضرور اس کی کسی درز تک سے بھی تمھیں اور تمھارے سراپے کو کھوجنا چاہیں گے کہ تمھارا قد رنگت اور جسامت کیسی ہے تو بہتر ہے ان فضول لوگوں کی طرف توجہ دینا چھوڑ کر اپنے مقصد کو اہمیت دو” اور یہ بات سمجھانے والا بھی مرد اور میرا بھائی ہے۔ تو خواتین تمام مردوں کو کبھی کچھ نہیں کہتی ہیں اور عزت دینے والوں کو عزت و احترام ہی سے نوازتی ہیں۔ ہاں ناپسندیدہ حرکات کے جواب میں ان کا بیان کیا جانا بطور اصلاح ضروری ہے بالخصوص اس معاشرے میں جہاں عموما مرد کے کیے کی سزا بھی عورت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ اور یقینا لائبہ نے کافی کچھ واضح طور پر لکھا ہے لیکن یقین جانیے یہ اب بھی کم ہے جس قدر ہراسمنٹ خواتین کو سڑکوں پر سہنی پڑتی ہے۔ بلکہ اب تو یہ عالم بھی ہے کہ میرے آنکھوں دیکھا واقعہ جو کچھ ماہ پہلے پیش آیا اس میں ایک خبیث شخص سڑک پر دو عورتوں کو مار رہا تھا اور وجہ یہ تھی کہ بیٹی کو چھیڑنے پر ماں نے اس شخص کو لعنت ملامت کی جس پر اس نے دونوں ہی کو مارنا شروع کردیا جبکہ آس پاس تماشائی ان کی کسی بھی مدد کے بجائے اسے “ذاتی” لڑائی کا نام دےکر موقعے پر موجود تھے۔ میرے گاڑی سے اتر کر وہاں پہنچنے اور صورتحال جاننے تک وہ شخص فاتحانہ جاچکا تھا اور بھیڑان تبصروں کے ساتھ چھٹ رہی تھی کہ، “توبہ توبہ عورتوں کو گھر سے نہیں نکلنا چاہیے” یا “اگر کچھ ہوجائے تو برداشت کرنا چاہیے کیا فائدہ اتنی بےعزتی کروانے کا” اور مجھے یقین ہے کہ انھی سب تماشائیوں نے گھر جا کر اپنی خواتین کا گھر سے نکلنا محال کردینا تھا۔
      مناسب اطوار ، مناسب انداز، مناسب میل جول سے یاد آیا کہ دو روز پہلے ایک معذور لڑکی کا پمس ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں ریپ ہوا ہے۔

  • 08-04-2016 at 8:31 pm
    Permalink

    Zabardast comint

  • 13-04-2016 at 12:56 pm
    Permalink

    یہ پاکستانی ،انڈین اور بنگالی معاشرہ بہت گندہ ہے اس معاشرے کے مردوں کے ذہن میں گند بھرا ہوا ہےعورت کو بچپن میں اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت کرنی چاہئے تبھی یہ معاشرہ سدھرے گا۔

Comments are closed.