سرخ جوڑے سے سرخروئی تک ….


farhana sadiqکسان کو ہل چلا کر زمین میں شگاف کرنا تھا، تا کہ بیج بو سکے….

وہ بیج جو اس کے مستقبل کی ضمانت ہے….

کتنے ہی لوگ اس کے منتظر تھے ….

اسے بھیجتے ہوئے بتادیا گیا تھا نروئی زمین ہے۔ قوت زیادہ لگانا ہوگی ….

اسے اپنے زور بازو پہ یقین تھا سو خوشی خوشی مشقت میں جت گیا….

 مگر یہ کیا کہ ہر بار کی کوشش ناکام ہورہی تھی….

کبھی پھل کی انی ٹوٹ جاتی تو کبھی اسکی ہمت جواب دے جاتی….

 فخرو انسباط سے جگمگاتا چہرہ بجھ چکا تھا….

زمیں کی حیرت زدہ آنکھیں شکوہ کناں تھیں کہ ….

تو کیسا گھبرو کسان ہے تجھ سے ایک کھیتی نہ لگائی گئی….

ذلت کے احساس سے پیشانی عرق آلود ہونے لگی….

Honorkillingدور کسی پکھیرو نے چہچہا کر مقررہ مہلت کے خاتمے کا اعلان کیا….

. اس نے اہک بار پھر کوشش کی مگر ….

بے بسی سے اس کے اعصاب چٹخنے لگے….

رگ رگ میں دوڑتے رسوائی کے خوف نے پھنکارتے اژدھے کی صورت اختیار کر لی ….

اور نس نس سے اگلتے زہر نے زمین کو ہمیشہ کے لئے بنجر کردیا ….

واپسی کے قدم توجیح کے لئے الفاظ کا چناؤ کر چکے تھے. ….

شوہر نے اٹک اٹک کے اقبالی بیان دیا ….

خون نہیں نکلا، لڑکی بدکردار تھی اسی لئے مار دیا. ….


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “سرخ جوڑے سے سرخروئی تک ….

  • 07-04-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    فرحانہ صادق بہت خوب ۔۔

  • 07-04-2016 at 7:14 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا ،، زورِ قلم میں اضافہ کی ڈھیروں دعائیں

  • 07-04-2016 at 9:02 pm
    Permalink

    Wonderfully written, what a gifted piece.

  • 08-04-2016 at 9:10 am
    Permalink

    حساس موضوع پر بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔گویا راقم طراز حجلہ عروسی میں ہی موجود تھیں۔۔قوت مشاہدہ کے ساتھ طویل تجربہ بھی جھلک رہا ہے

  • 08-04-2016 at 5:41 pm
    Permalink

    فرحانہ صادق جس پختہ انداز میں کٹیلے جملوں سے اپنی تحاریر کو سجاتی ہیں ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ فرحانہ کے قلم کی کاٹ کا ذکر بڑے بڑے ناموں کے ساتھ ایک سانس میں کیا کریں گے ۔۔۔۔ بہت خوب فرحانہ

  • 08-04-2016 at 7:05 pm
    Permalink

    ظلم ہوا۔ مرنے والی پر بہت زیادہ مگر خبر نشر ہونے کے بعد بہت سوں اور بہت سیوں کو تبصرے سے قبل اپنے تصور کی آنکھ کو جس کشٹ میں ڈالنا پڑا وہ بھی درجے میں کہیں کم، مگر ظلم ہی تھا۔

  • 09-04-2016 at 8:42 am
    Permalink

    ظلم ہوا

  • 14-04-2016 at 9:58 am
    Permalink

    رونگٹے کھڑی کر دینے والی ان کہی کہانی کا بیان، ایسا ہی ایک بیان ان کا بھی ہے جنھیں کسان نہیں مارتے بلکہ خاندان کی عزت، طلاق کا داغ، گھر میں بیٹھی بن بیاہی بہنیں، اور معاشرے کا تمسخر اور یہ سوچ مار دیتی ہے کہ عورت کا نہ جسم ہوتا ہے نہ خواہشات۔ کتنی ہی عورتیں ساری زندگی انجانی آگ میں جھلستے پیاسی بنجر دھرتی کی عمر گزار دیتی ہیں کہ انھیں سینچنے والے کسان کے زوربازو میں دم خم نہیں ہوتا۔ لیکن کسان اس زمین کو چھوڑنے پر بھی تیار نہیں ہوتا کہ اس کی لب کشائی کسان کے بھرم اور ظاہری وقار کو تباہ کردے گی۔ یوں ایک زندگی جیتے جی مر جاتی ہے۔ مزید کچھ غیرت مند کسان اپنے شملے پر ہری کھیتی کے مالک ہونے اور اپنے بیج کے تسلسل کے لیے زبردستی کسی اور کسان سے چپ چپاتے ہل چلوا لیتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک کھیتی تو ایک گونگی بہری بےحس بےجان زمین ہی ہے نا!

Comments are closed.