بھارت پاکستان میں اپنی خفیہ سرگرمیاں فوری بند کرے: دفتر خارجہ


daftrayپاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے خفیہ ایجنسی ’را‘ کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہندوستان، پاکستان میں اپنی خفیہ سرگرمیاں فوری بند کرے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو تک ہندوستان نے قونصلر رسائی مانگی ہے، ہندوستانی درخواست پر قونصلر رسائی کے 2008 کے معاہدے کے مطابق غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی بنیاد پر پاکستان سے کلبھوشن نیٹ ورک کے لوگوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، پاکستان کو ’را‘ کی سرگرمیوں پر تشویش ہے اور ہندوستان، پاکستان میں اپنی خفیہ سرگرمیاں فوری بند کرے۔واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل حساس اداروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان سے ہندوستانی نیوی کے حاضر سروس افسر کی گرفتار کیا تھا۔سکیورٹی اداروں کے مطابق گرفتار افسر کا تعلق ’را‘ سے ہے اور اس نے اپنا نام کلبھوشن یادیو بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ پاک۔ ہند سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کے حوالے سے معاملات طے ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک کے حکام اس حوالے سے رابطے میں ہیں۔
نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے روز گرفتاری پہلے سے کی گئی کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بلکہ محض ایک اتفاق ہے۔ ایران کے صدر کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حسن روحانی کا دورہ کامیاب رہا۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سکیورٹی معاملات پر تعاون کا طریقہ کار موجود ہے، جبکہ پاک ایران سکیورٹی کمیٹی میں دونوں ممالک کے داخلہ سیکرٹریز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے دورہ پاکستان میں اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان کی سکیورٹی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔
جوہری سکیورٹی کے حوالے سے نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان 42 سال سے محفوظ جوہری پروگرام چلا رہے ہیں، چوتھی نیوکلیئر کانفرنس پاکستان کے نقطہ نظر سے اہم تھی، جس میں جوہری سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔انہوں نے پٹھان کوٹ حملے کے ایک تحقیقاتی افسر کے قتل کے حوالے سے کہا کہ ایک ہندوستانی افسر کے قتل کی خبر دیکھی ہے، تاہم تفصیلات کا علم نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاناما لیکس کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ا±ن کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔


Comments

FB Login Required - comments