ابوالکلام آزاد: ناشائستہ حملہ، شائستہ جواب


سید عابد علی بخاری

Syed Abid Ali Bukhari

چند دن قبل قیام پاکستان کا منظر نامہ سمجھنے کے حوالے سے مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں میرا ایک مضمون ہم سب نے شائع کیا۔ بہت سے قارئین نے بے انتہا پسند کیا، چند احباب نے غلطیوں کی نشاند ہی کی اور چند ایک نے اس سے اختلاف کیا۔ ان سبھی احباب کا شکریہ۔ انہی قارئین میں سے شکیل چوہدری صاحب نے میرے مضمون کو موضوع سخن بناتے ہوئے جس شائستہ انداز میں ایک طویل جذباتی گفتگو لکھی میں اس کے لیے ان کا ممنون ہوں۔ اس سارے محسوسات اور خود ساختہ الہامات پر مبنی گفتگو نے چند غلط فہمیوں کو جنم دیا۔ کوشش ہے کہ اس تحریر کے ذریعے ان مغالطوں کو دور کیا جا سکے۔

جناب شکیل صاحب لکھتے ہیں کہ:

“بخاری صاحب نے یہ فتویٰ صادر کردیا ہے۔”

اس حوالے سے عرض ہے کہ میں نہ مفتی ہوں نہ لبرل فاشسٹ البتہ خیال رہنا چاہیے کہ فتویٰ دینا اور رائے کے اظہار میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ میری نظر میں برداشت سے عاری ملاّ ہو یا مرضی تھوپنے کی دھن میں مگن لبرل فاشسٹ دونوں ایک ہی منزل کے مسافر ہیں جن کا منتہا انتہاؤں کو چھونے کے خبط میں مبتلا ہے۔

تنقید نگار نے پوچھا ہے کہ اگر بادشاہت میں ہندو غلام نہیں تھے تو جمہوری دور میں مسلمان غلام کیسے سکتے ہیں؟ عرض ہے کہ بھارت کی جمہوریت جس کی مثالیں آپ نے دی ہیں اس کی ایک جھلک کشمیر میں بھی ملاحظہ فرما لیں تو غلامی کا تصور واضح ہوتے دیر نہیں لگے گی۔

تنقید نگار ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ:

“ایسا لگتا ہے کہ مولانا آزاد اور ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بخاری صاحب کی معلومات سنی سنائی بلکہ خیالی باتوں پرمشتمل ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ ہندوستان جاکر وہاں کے مسلمانوں سے ملیں۔ اگر فی الحال ایسا ممکن نہیں تو پھر فیس بک یا ای میل کے ذریعے ہی ان سے رابطہ کرلیں۔”

اس باب میں بس اتنا ہی عرض خدمت ہے کہ آپ کے پسندیدہ مہا بھارت کے چالیس سے زیادہ مقامات پر گھومنے اور وہاں سینکڑوں مسلمانوں سے ملنے سے پہلے شائد میرا بھی یہی خیال تھا کہ ہم لوگ پاکستان میں بیٹھ کر بھارتی مسلمانوں کے بارے میں درست رائے قائم نہیں کرتے۔

تنقید نگار آگے رقم طراز ہیں:

“انہیں کم از کم اسد الدین اویسی ‘ ذاکر نائیک اور ایم جے اکبر سے ضرور رابط کرنا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ بخاری صاحب کو لینے کے دینے پڑ جائیں۔

اگر کسی ہندوستانی مسلمان نے پاکستانیوں کو غلام قرار دے دیا تو بخاری صاحب کیا جواب دیں گے؟”

بدقسمتی کہیے یا خوش قسمتی اپنی بھارت یاترا کے دوران میں مذکورہ ہستیوں سے ملاقات سے محروم رہا۔ اول اور ثانی الذکر افراد سے ملنے کی اب بھی خواہش ہے، موقع ملا اور آپ کے ممدوح ملک نے تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کیا تو آپ کے مشورے پر ضرور عمل ہو گا۔ ہاں جن لوگوں سے ملنے کا موقع ملا وہ تو اپنی بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کے لیے بھی پریشان کن نظر آئے۔ ان کی بے چارگی اور بے بسی کی کہانیوں کے اظہار کے لیے شائد ہم سب کے لیے لکھا جانا والا یہ مختصر مضمون نا کافی ہو۔

اس کے بعد شکیل صاحب سوالات کا ایک طویل سلسلہ اس طرح شروع کرتے ہیں کہ

“وہ (یعنی بھارتی) بخاری صاحب سے پوچھ سکتے ہیں”

عرض خدمت ہے کہ وہ سوالات جو ابھی پوچھے ہی نہیں گئے ان کے بارے میں قبل از وقت اندازے تخمینے لگانا بے معنی۔ ہاں آپ کے ذہن میں اگر ایسے سوالات کا الجھاﺅ ہے تو اس کا سلجھانا آپ کا اپنا کام ہے۔ جب آپ کے خود ساختہ سوالات کے جوابات آپ کو مل جائیں تو استفادہ عام کے لیے ہمیں بھی ضرور بتائیے گا۔ اتنا عرض کر دوں کہ جن لوگوں سے میں ملا یہ محسوس کیا کہ وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہلاتے اتنا نہیں شرماتے جتنا خود کو مسلمان کہتے ان کے چہروں پر خوف نظر آتا ہے۔ ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہمارے دیسی سیکولر اور لبرل فاشسٹ کی طرح وہ نہ تو فتووں کا بازار گرم کرتے ہیں اور نہ ہی فکری فسطائیت کا شکار ہیں۔

تنقید نگار مزید لکھتے ہیں:

“بخاری صاحب نےصحیح کہا ہے کہ ‘علم و تحقیق کا سفر ریاضت مانگتا ہے۔ ہنگامہ ہائے حیات میں یہ بہر طور ایک مشکل منزل ہے۔ میرے نزدیک یہ امر قابل افسوس ہے کہ کسی شخص کا علم و فضل یا احترامِ ذات ہمیں حق گوئی سے باز رکھے۔’ بخاری صاحب کو چاہیئے کہ وہ اب علم و تحقیق کا سفر شروع کر ہی دیں۔ کوئی بات نہیں اگر یہ ریاضت مانگتا ہے۔ اور ہاں حق گوئی اور زبان درازی کا فرق ضرور ملحوظ خاطر رکھیں۔”

اس بابت اتنا عرض کرنا کافی ہوگا کہ پہلے تو شکریہ کہ آپ کو کوئی ایک بات تو پسند آئی اور جہاں تک رہی آپ کی ذاتی رائے تو اپنے مضمون کے موضوع، الفاظ کے انتخاب اور جملوں کے تسلسل سے لے کر نفس مضمون تک کو ایک بار غور سے دوبارہ پڑھ لیں شائد آپ پر ہاں حق گوئی اور زبان درازی یہ فرق واضح ہو جائے۔

اس کے بعد متحدہ عرب امارات’ ایران’سعودی عرب’ افغانستان اور بنگہ دیش کے بارے میں اندازوں اور تخمیوں پر مبنی شکیل صاحب کچھ ذاتی آرا ہیں جن کے قائم کرنے میں وہ پورا حق رکھتے ہیں۔ میں ان ممالک کا نہ ہی مداح ہوں اور نہ ترجمان۔

تنقید نگار لکھتے ہیں:

“بخاری صاحب نے اکیس مارچ کو فیس بک پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت عدم برداشت اور تشدد کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صورت حال کب پیدا ہوئی؟”

میں اس کو دعوی نہیں حقیقت سمجھتا ہوں۔ میڈیا میں مثالیں بھری پڑی ہیں۔ ارون دھتی رائے، منور رانا، معروف کشمیری ادیب پروفیسر مرغوب بنہالی، اودے پرکاش، جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل اور افسانہ نویس جی ایس بھلرن کی مانند دیگر کئی نامور ادیب، مصنف، آرمی آفیسر عدم برداشت اور تشدد کے باعث ہی اپنے اعزازات پر شرمندہ ہیں۔ میرے ایک جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا درست نہیں اس طرح پورا موقف سمجھنا ناممکن ہے۔ جو احباب اس حوالے سے موقف جاننا چاہتے ہیں وہ فیس بک کے صفحے کے اس لنک سے براہ راست بھی ساری گفتگو ملاخطہ کر سکتے ہیں۔

شکیل صاحب نے یہاں تک تو موضوع کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ بعد کی کچھ سطروں میں پاکستان کے قیام کو برا بھلا کہنے اور ہندوستان کے بارے میں تعریفوں کے پل باندھنے پر ہی زور رہا۔ اس کے بعد وہ آزاد مرحوم کے حوالے سے میری تحریر کو ناپسندیدہ کہتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کے ایک قول کو ناشائستہ ترین پھبتی قرار دیتے ہیں۔

میں قائد کے قول کو پھبتی نہیں حقیقت سمجھتا ہوں۔ آج کا بیانیہ آزاد کے منظرنامے کو سمجھنے اور قائد کے حوالے سے کیا بیان کرتا ہے وہ سب راز نہیں حقیقت ہے۔ ابوالکلام آزاد کا بیانیہ اگر درست ہوتا اور قائد کی جدوجہد فضول ہوتی تو آج شائد آپ میرے ساتھ آزادانہ گفتگو کی جگہ کشمیر کے مسلمانوں کی مانند آزادی کے متلاشی ہوتے یا شیو سینا سے جان بچانے کے باوجود عامر خان کے مانند راہ فرار تلاش کررہے ہوتے۔ رہی میری ناپسندیدہ تحریر تو آپ قائد کے قول کو جس نظر سے دیکھتے ہیں وہاں میری رائے کی کیا وقعت ہو گی اس کا میں اندازہ ہی لگا سکتا ہوں۔

آخر میں تنقید نگار لکھتے ہیں کہ:

     “بخاری صاحب نے بڑے ذوق وشوق سےابو الاعلی مودودی کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ ‘مولانا نے نماز کے لیے اذان کہی مگر اس کے بعد گہری نیند سو گئے۔’ کیا مولانا آزاد کو مودودی صاحب کے راستہ پر چلنا چاہیئے تھا۔ بخاری صاحب مولانا مودودی کی باتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے میں ان کی خدمت میں مودودی صاحب کا ایک اور ارشاد پیش کرنا چاہتاہوں۔’لیگ کے قائدا عظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔”

میری مکمل تحریر کو پڑھنے والوں کو ساری تحریر سے سید مودودی کا کہا صرف ایک جملہ ملے گا۔ اس میں قائد اعظم کے علاوہ کئی دیگرحوالے درج کیے گئے ہیں۔ اب سید مودودی کے بارے میں میرے ذوق و شوق کا الہام انہیں کیسے ہوا اور قائد اعظم نے شکیل صاحب کے خواب میں آنا کیوں پسند نہیں کیا؟ میں تو اس راز کی حقیقت کا شناسا نہیں۔

نقد و جرح اور مواخذہ کرتے وقت مناظرانہ گفتگو، آگے بڑھنے سے انکار اور پاکستان سے نفرت قوم کو ترقی کی جانب نہیں لے کر جا سکتی الٹا زوال کا شکار ہی کر سکتی ہے۔ تنقید نگار طلبہ اور ملکی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن بہتری کے لیے کوئی حل تلاش نہیں کرتے۔ تنقید نگار ایک قاری کو جو مشورہ دیتے ہیں ان ہی کے الفاظ میں عرض ہے کہ دلیل اورمتانت سے میرے مضمون کا جواب دیتے تو بہت بہتر ہوتا۔ لیکن اس کے لئے آپ کو محنت کرنا پڑتی اوراس کا ہمارے ہاں رواج نہیں ہے۔ آپ نے آسان راستے کا انتخا ب کیا اور مناظرانہ پھبتیوں پر اکتفا کیا۔


Comments

FB Login Required - comments

13 thoughts on “ابوالکلام آزاد: ناشائستہ حملہ، شائستہ جواب

  • 08-04-2016 at 3:36 pm
    Permalink

    سندھ میں ہندوؤں کی حالت زار
    04-03-2016 راشد احمد

    میر پور خاص کے قریب میگھوار اور کوہلی برادری کے گاوں ’’راو بابو احسان ‘‘ پر حال ہی میں ہونے والے حملے کے دوران مکانات اور ’’ہنومان مندر‘‘ میں موجود مورتیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حملے کے دوران بچوں اور خواتین سمیت مقامی لوگوں کو ہراساں کیا گیا، مندر کی عمارت منہدم کر دی گئی اور مورتوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق یہ حملہ حاجی بشیر راؤ نامی ایک مقامی زمیندار نے کیا ہے تا کہ اس زمین پر قابض ہو کر یہاں پٹرول پمپ بنا سکے۔ اس آبادی میں 150 سے زائد گھر اور چھ مندر قائم ہیں، یہ مندر بھی قریب ڈیڑھ سو برس قدیم ہیں۔ تاحال سول سوسائٹی، مقامی انتظامیہ اور سیاسی نمائندگان کی جانب سے متاثرین کی دادرسی نہیں کی گئی۔ حملے کے بعد سے اب تک صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ہری رام کشوری نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے لیکن ان کے دورے کو تین روز گزر جانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مقامی آبادی خوف و ہراس کا شکار ہے اور انتظامیہ سے تحفظ کی طلب گار ہے۔ سندھ پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت مذہبی اقلیتوں کے لیے پرامن خیال کیا جاتا رہا ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے یہاں ہندو برادری کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندو لڑکیوں کے اغواء اور جبری شادیوں کے واقعات میں اضافے کے بعد اب ہندو آبادیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

    ایک عرصہ تک اس علاقے پر ہندوؤں کی حکمرانی رہی ہے، نہ صرف ہندوؤں کی حکمرانی رہی ہے بلکہ ہندو اس پورے علاقے میں غالب اکثریت رکھتے تھے اور ان کا بہت زیادہ اثر ورسوخ تھا لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا رہا اور تقسیم ہند و پاک کے بعد تو اس خطہ میں ہندوؤں کے حالات دن بہ دن خراب تر ہی ہوتے چلے گئے۔ ملک میں تشدد پسندی کی لہر کی وجہ سے اب تو نوبت اینجا رسید کہ ہندو اس خطہ میں آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں لیکن ان پر بھی سر زمین روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہے اور یہ بیچارے اس آبائی سر زمین سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔اس کی ایک بڑی وجہ وہاں کے شدت پسند مسلمانوں کا وہ ظالمانہ رویہ ہے جو وہ وہاں کے ہندؤوں سے روا رکھ رہے ہیں ۔انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ان کے ڈاکٹرز اور پڑھے لکھے افراد کو اغوا کر کے بڑے بھاری تاوان وصول کئے جاتے ہیں ۔ہندوؤں کی لڑکیوں کو مختلف طریقوں سے جال میں پھانس کر بعد ازاں مذہب کا نام استعمال کر کے انہیں مسلمان کرکے ان سے شادیاں کی جاتی ہیں اور کوئی اس معاملے میں آواز اٹھائے تو مذہب کے نام پر بعض انتہا پسند ملا جو مرضی کہتے اور کرتے پھریں کون انہیں روکنے ولا ہے۔ اسی تناظر میں کافی ہندو اب وہاں سے شفٹ ہو کر ہندوستان جا بسے ہیں اور کئی صرف موقعے کی تلاش میں ہیں کہ کسی طرح موقعہ ملے تو وہاں سے نکلیں ۔ کافی سارے ہندو وہاں سے جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اور وہاں کے لوگوں کو ا س بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ہمارے رویوں سے پورے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔ سرمایہ کے ساتھ ساتھ ہنر اور تعلیم یافتہ لوگ بھی اس معاشرہ کو الوداع کہہ رہے ہیں مگر ہمیں کیا ہمیں تو صرف اپنا ذاتی مفاد عزیزہے۔ ملک کی عزت تار تار ہو رہی ہے ہماری بلا سے۔ اقلیتیں ملک چھوڑ رہی ہیں ہماری بلا سے۔ ایسے لگتا ہے کہ سندھ میں صرف ایک ہی شہری ہے اور اس کا نام ہے ڈاکٹر عاصم۔

  • 08-04-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    جی بخاری صاحب کیا فرماتے ہیں اب اس مسئلے کے بیچ ۔ یہ صرف ایک مثال ہے ، عیسائی برادری اور احمدیوں کی پاکستان میں مذہبی آزادیوں کاذکر ہی کیا ۔ زندہ رہنا بھی محال کر دیا کیا ہے۔

    • 08-04-2016 at 11:21 pm
      Permalink

      جناب عدنان ملک صاحب پاکستان کے مسائل زیر بحث موضوع کا حصہ نہیں۔ بہت اہم اور حساس نوعیت کے مسائل کا آپ نے ذکر کیا ۔ ان پر بات پھر کبھی۔

  • 08-04-2016 at 3:48 pm
    Permalink

    مذہب کی جبراً تبدیلی کی بپتا
    06-04-2016 یوسف بینجمن

    گذشتہ برس پنجاب کے ایک ضلع سے ایک پندرہ سالہ مسیحی لڑکی کو اغوا کے بعد جبراً دائرہِ اسلام میں داخل کر لیا گیا جسے وہ اب عمر بھر کا روگ قرار دیتی ہے۔ آئیے آپ کو اُسی لڑکی کی زبانی اُس کی یہ درد بھری کتھا سناتے ہیں جس سے اس اہم مسئلہ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کا اندازہ ہو جائے گا۔ متاثرہ لڑکی کے تحفظ کے پیش نظر یہاں فرضی نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    میرا نام کومل ہے۔ میری عمر 15 سال اور مسیحی ایمان میری زندگی کا حصہ۔ زندگی کے پہلے پندرہ برس ہی میں مجھے سر پر کانٹوں کا وہ تاج سجانا اور سولی اُٹھانا پڑی ہے ’کہ جی جانتا ہے‘۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں مگر یہی پچھلے سال کا گرم ترین مہینہ تھا،کالی سیاہ اندھیری رات اور بستی میں معمول کے مطابق بجلی غائب ۔ میں اور اماں کئی سال پرانی ایک ہی چارپائی پر سو رہے تھے کہ اچانک میری زندگی میں اذیتوں اور کرب کا ایسا سلسلہ اور آنسوﺅں کی ایسی برسات شروع ہوئی جو نہ تو آج تک تھمی ہے اور نہ کبھی تھم پائے گی۔

    میں اپنے بوڑھے والدین کے بڑھاپے کی اولاد ہوں جو بھٹہ خشت پر خون پسینے کی حلال کمائی کے گھن چکر میں مجھے اور دیگر بہن بھائیوں کو تعلیم دلوانا تو کیا وہ کبھی اسکول کا نام تک نہ لے سکے اور میں اپنے صحن میں ناچتی غربت اور اڑتی بکھرتی ریت مٹی کے سوا کچھ نا دیکھ پائی۔

    اس رات یکایک گھر میں کہرام مچ گیا۔ چہرہ چھپائے اور اسلحہ اُٹھائے پانچ افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں گھس آئے۔ اہلِ خانہ کو زدو کوب کیا اور شدید نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے مجھے گھسیٹ کر کار میں اغوا کر کے لے گئے۔ میرے منہ اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کسی نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اسی رات ایک دوسرے کی موجودگی میں وہ بار بارمیری عزت لوٹتے رہے۔ یوں یہ سلسلہ لگ بھگ دو ماہ تک جاری رہا۔ یہ میرے آنے والی اذیتوں کی شروعات تھی۔

    میرے نسوانی اعضا پر جلتے ہوئے سگریٹ لگانا ان کا روز کا معمول تھا۔ اغوا کار اکثر مسیحوں کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کرتے، تشدد کرتے اور ہوس کا شکار بناتے رہے، اس دوران برائے نام خوراک دی جا رہی تھی۔

    مہینوں انتہائی درجہ کی اذیت کے بعد آخر کار وہ مجھے ایک مقامی عدالت لے گئے اور میری منشا کے برخلاف چند کاغذات پر میرے انگھوٹھے لگوا کر میرا نام، میرا ماضی، میری شناخت، میرا عقیدہ اور میری ہستی تک تبدیل کر دی گئی اور میں نا چاہتے ہوئے بھی لمحہ بھر میں کیا سے کیا ہو گئی، مگر حقیقی طور پر میں آج بھی اپنے مسیحی ایمان کی پیروکار ہوں۔ عدالت میں جبری طور پر میرا مجازی خدا بننے والا وہ شخص اس سے قبل بھی دیگر دو خواتین کے ساتھ یہی سلوک کر چکا تھا۔ اس دن سے میری زندگی بھر کے روگ نے دوسری کروٹ لی۔

    میرے لئے وہ دن کرب کی انتہاﺅں کو چھو گیا جب میرے ہی جبری ’شوہر‘ نے میرے جسم کی قیمت لگانا شروع کر دی۔ مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ اور دھندے کے لئے وقت کی کوئی قید نہ تھی۔ زندگی میں اتنی بڑی’ جبری تبدیلی‘ کے بعد میرے ذہن میں اس سے متعلق سینکڑوں سوالات نے جنم لینا شروع کر دیا اور رفتہ رفتہ میری حیثیت اور وقار تباہ ہو گیا۔ میں نے اسی اذیت میں چھ ماہ روز جینے اور روز مرنے کا تجربہ کیا۔

    بہر حال میں اُس ’حراست‘ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور اب اپنے ماں باپ کے ساتھ ہوں۔ میری کوکھ میں ایک نئی زندگی پل رہی ہے، مگر میں اس کو کس کا نام دوں گی؟ اس کے سوالوں کے کیا جواب دوں گی؟ اُسے کیا مستقبل دوں گی؟ میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر انصاف کی متلاشی ہوں مگر اپنے خاندان کا تحفظ بھی مجھے عزیز ہے۔ اب اس بے معنی زندگی کو کدھر لے جاﺅں؟

  • 08-04-2016 at 5:09 pm
    Permalink

    عدنان صاحب، آپ کن سے جواب کی توقع لگا ئے بیٹھے ھیں، یہ وھ ذھنیت ھے جس نے اختلاف رائے کو ھمیشہ جرم سمجھا اور لبرل ھوں تو لیبل اور مولوی ھوں تو فتویٰ لگاتے ھیں یہ لوگ ۔۔ صرف پاکستان اور اسرائیل دنیا کو وھ دو ملک ھیں جنھیں اپنے قیام کے دن سے ھی اپنے وجود کو دلائیل سے ثابت کرنا پڑتا ھے اور پھر بھی وھ ھو کے نہیں دیتا اور طرفہ تماشہ یہ کہ دونوں ممالک آپس میں جانی دشمن بھی ھیں۔۔۔ قائید اعظم اور مسلم لیگ مسلمانوں کے صیہونی تھے، جو سلوک اسرائیل فلسطینوں کے ساتھ کرتا ھے وھی پاکیستان اپنی مزھبی اقلیتوں حتیٰ کہ سیاسی مخالفیںن کے ساتھ کرتا ھے ،،، صاحب مضمون سے مکالمہ لا حاصل ھے

  • 08-04-2016 at 6:17 pm
    Permalink

    Bewazan mazmoon h

  • 08-04-2016 at 7:34 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا بخاری صاحب۔ مجھے آپ کی علمی شائستگی اور متانت سے خاص طور سے متاثر کیا۔ آپ کی عمر دیکھتے ہوئے مجھے خطرہ تھا کہ شائد آپ جواب دیتے ہوئے جذباتی ہوجائیں گے۔ آپ کا تحمل اور برداشت قابل تعریف ہے۔ آپ نے اچھا لکھا ۔ ماشااللہ۔ میرے خیال میں لکھنے والے کو شائستگی سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہیے ، کبھی ردعمل یا جوش جذبات میں آ کر تحریر لکھنی چاہیے نہ ہی کمنٹس۔ آپ نے اپنے پہلے مضمون میں جو لکھا، اس پر جو اعتراض آیا، اب آپ کے جواب سے بڑی حد تک رفع ہوگیا۔ میری طرف سے تحسین قبول فرمائے۔ اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے اور برکت عطا کرے آمین۔

    • 08-04-2016 at 10:17 pm
      Permalink

      بہت شکریہ جناب عامر خاکوانی صاحب
      مصروفیت کے سبب لکھنے میں تاخیر ہوئی۔
      تاخیر سے لکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جلد بازی میں لکھی تحریر میں بے احتیاطی اور جذباتیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
      تحمل اور برداشت کو سراہنے اور علم و عمل میں اضافے کی دعا کے لیے بے حد شکریہ
      رہی بات اعتراضات کے رفع ہونے کی تو میرے جیسے افراد آپ کی تحریروں سے سیکھتے ہیں۔
      ویسے تجزیہ تو نہیں کیا لیکن خیال ہے کہ لکھنےاور سیکھنے کے عمل میں کسی حد تک جوتحمل اور برداشت ہے وہ آپ جیسے تحمل مزاج اور دوسروں کی رائے برداشت کرنے والے لوگوں کو پڑھنے کے سبب ہے۔

  • 08-04-2016 at 9:48 pm
    Permalink

    بہت خوب عابد علی بخاری، بہت مناسب طریقے سے مدلل جواب دیا ہے آپ نے۔ شکیل چوہدری کو اپنے اور آپ کے طرز تکلم کا موازنہ ضرور کرنا چاہیے۔

    • 08-04-2016 at 10:58 pm
      Permalink

      جناب ایم علی صاحب
      پسند کے لیے بے حد شکریہ
      شکیل صاحب بڑے آدمی ہیں ۔ کم عمر لوگوں سے تلخ انداز میں گفتگو کو ہماری معاشرتی اقدار میں برداشت کیا جاتا ہے۔ اگر وہی کم عمر افراد بڑوں جیسا ہی رویہ اور طرز گفتگو اپنائیں توکسی بھی معاشرے میں یہ ایک ناپسندیدہ عمل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس کا خیال رہے۔

  • 08-04-2016 at 10:50 pm
    Permalink

    زبردست عابد بخاری صاحب بہت عمدگی سے جواب لکھا ہے آپ نے۔ اللہ آپ علم اور زورِ بیان مزید ترفع عطاکرے

  • 09-04-2016 at 11:26 am
    Permalink

    Masha Allah Abid bukhari zabardast

  • 09-04-2016 at 11:31 am
    Permalink

    واہ بخاری صاحب جو تیرگی ہندوستان کے نامہ عمال میں نظر آتی ہے وہ پاکستان تک آتے آتے بحث کا موضع بننے سے بھی محروم ہے۔
    آپ نے دونوں مضامین میں قیامِ پاکستان کے منظر نامہ کو پییش کرتے ہوئے عبدالکلام آزاد کو معتوب ٹہرایا ۔ اور ساری غزل اس مضمون پر باندھی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت ِزار نہائت دگرگوں ہے۔ عدم برداشت ہے اور ایک لمبی فہرست ان اکابرین کی درج فرمائی ہے جو ہندوستان میں عدم برداشت کی وجہ سے شرمندہ ہیں اور اپنے اعزازات واپس کر رہے ہیں ان میں مسلمان بھی ہیں ہندو بھی اور یہاں تک کہ ہندوستانی فوج کے سابق افسر بھی۔ مگر آپ یہ نظرانداز کر گئے کہ کم از کم وہاں کچھ لوگوں میں اتنی شرم ابھی باقی ہے کہ ہندوستان میں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اپنا احتجاج درج کروا رہے ہیں- مگر ہمارے یہاں تو کوئی موثر آواز نہیں اٹھ رہی ۔ اگر کوئی توجہ دلائے تو آپ فرماتے ہیں کہ
    “جناب عدنان ملک صاحب پاکستان کے مسائل زیر بحث موضوع کا حصہ نہیں۔ بہت اہم اور حساس نوعیت کے مسائل کا آپ نے ذکر کیا ۔ ان پر بات پھر کبھی۔
    بہیت خوب
    جو چاہے آپ کہ حسنِ کرشمہ ساز کرے

Comments are closed.