شبیر احمد عثمانی ۔۔۔۔ خواب اور وصیت کے درمیان



wajahatدرویش نے ہماری تاریخ میں تنگ نظری کی مثالیں دیتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کا ذکر کیا تو ایک محترم بھائی کو سخت اختلاف ہوا۔ اپنے رد عمل میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قائداعظم نے وصیت کی تھی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ قائداعظم کی اس وصیت کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ دینے کی البتہ زحمت نہیں کی گئی۔ شبیر احمد عثمانی صاحب کے عقیدت مندوں میں اس قسم کے دعاوی کا رجحان بہت غالب ہے۔ جون 2013 میں الجامعہ دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی محمد رفیع عثمانی نے واہ آرڈیننس فیکٹری کی ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قائداعظم محمد علی جناح مولانا شبیر احمد عثمانی کو اپنا باپ کہتے تھے۔ رفیع عثمانی صاحب سے استفسار  کیا گیا کہ اس بیان کا کوئی حوالہ، کوئی شہادت؟ بابائے قوم نے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی کو یہ رتبہ کب اور کہاں عطا فرمایا؟ قائداعظم کی ذات ایک کھلی کتاب ہے۔ وہ حد درجہ خوددار، زبان و بیان کے معاملے میں غایت درجہ محتاط اور کم آمیز انسان تھے۔ قائداعظم 1876ء میں پیدا ہوئے تھے۔ شبیر احمد عثمانی کی ولادت 1886ء کی ہے۔ قائداعظم سے بعید ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے سے دس برس چھوٹے شبیر عثمانی کو اپنا باپ سمجھا یا قرار دیا ہو۔ اس نوع کے بیانات سے لازم آتا ہے کہ کہ تحریک پاکستان میں اور قیام پاکستان کے بعد شبیر احمد عثمانی کے کردار کا ایک اجمالی جائزہ بھی لیا جائے تاکہ اہل پاکستان کو معلوم تو ہوکہ وہ ہستی کون تھی جسے بقول مفتی رفیع عثمانی بابائے قوم اپنا باپ کہتے تھے۔

شبیر احمد عثمانی صاحب ابتدائی طور پر مجلس احرار کے رکن تھے۔ 1930کی دہائی میں ان کے دیو بند کے کانگرس نواز مولویوں سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ 1944ء میں مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی ۔ 1945-46ء کی انتخابی مہم میں مسلم لیگ کی حمایت کی۔ 26اکتوبر 1946ءکو انہوں نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ اور مطالبہ پاکستان کی حامی تھی۔ ایک طالب علمانہ سوال بہر صورت کھٹکتا ہے۔ مسلم لیگ کا رکن ہوتے ہوئے مولانا شبیر عثمانی کو جمعیت علمائے اسلام قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جو ایک متوازی سیاسی جماعت قائم کرنے کے مترادف تھا۔ کیا وہ ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان کی رہنمائی پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس کا جواب جاننا ہو تو شبیر احمد عثمانی کے مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بارے میں سردار شوکت حیات کا بیان پڑھتے ہیں ۔ پڑھنے والے اپنی فہم کے مطابق اس سے نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

”نامور دیوبندی عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک رات خواب میں اپنے استاد محترم کو دیکھا۔ جنہوں نے انہیں بتایا کہ انہوں (استاد) نے خواب میں حضور اکرم ﷺ کو مدینہ میں اپنے گھر سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔ وہاں پر ہندوستان کے علما صف بستہ کھڑے تھے۔ قطار کی دوسری طرف حضور نے ایک دبلے پتلے، لمبے یورپی لباس پہنے عمر رسیدہ آدمی کو دیکھا جو ملاقات کا منتظر تھا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ مسٹر جناح ہیں۔ نبی اکرم علما کی جانب سے منہ پھیر کر سیدھے جناح کی طرف گئے اور انہیں سینے سے لگا لیا۔ دوران خواب مولانا شبیر احمد عثمانی کو ان کے استاد نے حکم دیا کہ قائداعظم کے پاس جاﺅ اور فوراً اس کے سیاسی مرید بن جاﺅ۔ چنانچہ مولانا نے قائد اعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ قائد نے نواب شمس الحسن ، آفس سیکرٹری مسلم لیگ، کو مولانا کے قیام دہلی کے دوران ان کی مناسب دیکھ بھال کا حکم دیا۔ “ (A Nation That Lost its Soul -صفحہ 219)

لگے ہاتھوں شبیر احمد عثمانی کے بارے میں ایک اور گواہی بھی لے لیجئے۔ عبیدالرحمن کراچی کے ایک معروف وکیل تھے۔ آبائی خطہ سیتا پور تھا مگر تعلیم لکھنو میں پائی۔ نوجوانی میں تحریک پاکستان کے ضمن میں مسلم لیگ کے ساتھ سرگرم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد طویل عرصہ مسلم لیگ سے وابستہ رہے۔ خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح سے ربط رہا۔ کچھ عرصہ تحریک استقلال میں شامل رہے۔ فوجی آمر جنرل ضیاالحق کی خود ساختہ مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ اپنی خود نوشت ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘ کے صفحہ 49پر لکھتے ہیں :

”قائد اعظم لکھنو تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لئے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں۔۔۔۔ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔۔۔۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے ‘۔

اس اقتباس میں قائد اعظم کے بارے میں شبیر احمد عثمانی کی قدر پیمائی اور خود اپنی ذات مقدسہ کے بارے میں خود رائی کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔

شبیر عثمانی زبان و ادب میں کوتاہ تھے۔ اردو کے صاحب طرز نثر نگار مختار مسعود ایسے سلیم الطبع ہیں کہ کسی کی ذات پر مذہبیت کی مہر دیکھتے ہی ریجھ جاتے ہیں لیکن ’آواز ِدوست‘ میں لکھتے ہیں، ”آپ نے شیخ الہند کے ترجمہ قران پاک پر شبیر احمد عثمانی کے حاشیے دیکھے ہوں گے، زبان کے لحاظ سے بہت معمولی ہیں۔“ شبیر عثمانی نے 1927ءکے لگ بھگ ’الشہاب ‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا تھا جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ ارتداد کی سزا موت ہے۔ جب اوودھ میں تعلقہ داریوں (جاگیروں) کا سوال اٹھا تو شبیر احمد عثمانی کا فتویٰ تھا کہ ’تعلقہ داریوں کی حفاظت میں جان دینا شہادت ہے‘۔شبیر عثمانی صاحب پاکستان میں ذمیوں ( یعنی غیر مسلم شہریوں) سے جزیہ وصول کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی رائے میں پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو قانون ساز اسمبلیوں یا پالیسی ساز اداروں کے رکن بننے کا حق نہیں تھا اور نہ انہیں ’کلیدی مناصب‘ پر فائز کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں تکفیری سیاست کی لغت میں ’کلیدی منصب‘ کی مبہم لیکن نہایت خطر ناک اصطلاح محترم شبیر احمد عثمانی ہی کی دین ہے۔ شبیر احمد عثمانی کو جون 1947ءمیں مشرقی بنگال کے کوٹے میں سے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔

شبیر احمد عثمانی نے یکم ستمبر 1947ءکو اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم کی 20 روز قبل 11 اگست 1947 ءکو دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کا جواب تھا۔ چند جملے ملاحظہ ہوں۔ ”میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم کی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہوں احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علمائے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم یا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم علمائے دین اور مسلمان لیڈروں کی مشترکہ جہد و سعی سے مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور ایک نصب العین پر متفق ہو گئے۔۔۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام مساعی پاکستان کے دستور اساسی کی ترتیب پر صرف کریں اور اسلام کے عالمگیر اور فطری اصولوں کو سامنے رکھیں کیونکہ موجودہ مرض کا یہی ایک علاج ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مغربی جمہوریت اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اسلام کی بین الاقوامیت کی جگہ تباہ کن قوم پرستی چھا جائے گی“۔

قائد اعظم اپنی تقریر میں فرما چکے تھے کہ ”وقت گزرنے کے ساتھ (پاکستان میں) ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی حوالے سے نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کے ذاتی اعتقاد کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی معنوں میں، ریاست کے شہری کے طور پر“۔ چنانچہ سیاست کے غیر جمہوریت پسند حلقوں کے مہرے کے طور پر مولوی شبیر احمد عثمانی نے یہ گرہ لگانا بھی ضروری سمجھا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ خواہ حالات کتنے ہی نا مساعد کیوں نہ ہوں مسلمان مسلمان رہے اور ہندو ہندو۔ “

دیکھئے مولانا شبیر احمد عثمانی یہاں اس شخص (جناح) کی مخالفت فرما رہے تھے جس کی اقتدا کرنے کا حکم بقول  خود ان کے استاد نے خواب میں دیا تھا۔

مولانا کے ان خیالات کی روشنی میں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ قیام پاکستان کے بعد جناح-لیاقت کشمکش میں شبیر عثمانی لیاقت علی کے قریب تھے۔ واضح رہے کہ قائد اعظم جمہوریت کے حامی تھے جب کہ لیاقت علی پاکستان میں قدامت پسند جاگیردار سیاست کو فروغ دینا چاہتے تھے۔  14 اگست 1947 کو کراچی میں شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی کے ہاتھوں پاکستان کا پرچم لہرانے کا فیصلہ بھی لیاقت علی اور چوہدری محمد علی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ تھا۔ 11 اگست 1947 کو قائد اعظم دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے تو شبیر عثمانی دوسری صف میں نشستہ تھے۔ اس موقع پر اسمبلی میں کوئی مذہبی رسم منعقد نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ تلاوت تک نہیں کی گئی۔ تعجب نہیں کہ دو مولویوں کو پرچم لہرانے کا اعزاز دینا اس ٹولے کی طرف سے ایک علامتی اظہار تھا جس نے قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر سنسر کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ شبیر احمد عثمانی تو بہرحال مشرقی بنگال کے کوٹے میں سے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ ظفر احمد عثمانی کی کیا سرکاری حیثیت تھی؟ یاد رہے کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد فروری 1949 میں لیاقت علی اور شبیر احمد عثمانی نے مری کے مقام پر بیٹھ کر قرار داد مقاصد کا مسودہ تیار کیا تھا۔

سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس چوہدری فضل حق نے نظریہ پاکستان کونسل اسلام آباد کے ماہنامے ”نظریہ“ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔ ”علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کی وفات کے بعد بتایا کہ قائد مرحوم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ وہ لندن کی خود اختیار کردہ جلاوطنی کو سرور کائنات کے حکم پر ختم کر کے واپس آئے تھے جو انہیں سرور کائنات نے ایک خواب میں دیا تھا۔ خواب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قائد نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم نہایت واضح تھا۔ ”محمد علی واپس جاﺅ اور وہاں کے مسلمانوں کی قیادت کرو“۔ قائداعظم نے یہ خواب سنا کر تاکید کی تھی کہ اس واقعہ کا ذکر ان کی حیات میں کسی سے نہ کیا جائے “ ( بحوالہ ڈاکٹر صفدر محمود ، روز نامہ جنگ، 29 ستمبر 2011ء)

قائداعظم کی نماز جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی ۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائداعظم کا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول قائداعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔“

سبحان اللہ! شیخ الاسلام کی سیاسی بصیرت میں خوابوں کو بہت دخل تھا ۔ اس میں تو کلام نہیں کہ حضرت کو رسالت مآب کی زیارت اکثر نصیب ہوتی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ مولانا کو اہم سیاسی سوالات کی وضاحت میں اپنی اس خوش نصیبی کے اظہار کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ یہ تو واضح ہے کہ ان سے نماز جنازہ سے متعلق سوال کرنے والا قائد اعظم کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھتا تھا۔ مولانا نے ایسے کوتاہ اندیش کو دو ٹوک سیاسی انداز میں قائد اعظم کے مرتبے سے آگاہ کرنے کی بجائے اپنے مبارک خواب کا ذکر کیوں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کا سیاسی موقف بابائے قوم قائد اعظم کی دستوری اور سیاسی بصیرت سے متصادم تھا۔ چنانچہ  انہیں اپنے سیاسی موقف کا جواز تراشتے ہوئے خوابوں میں پناہ لینا پڑتی تھی جیسے ان کے عقیدت مند اب قائد اعظم کی وصیت نکال لائے ہیں۔ ضیاالحق نے قائد اعظم کی ڈائری دریافت کی تھی اور ضیاالحق  کی ذریات وصیت ایجاد کرنے کوشش میں ہے۔ نہ وہاں ثبوت دیا جا سکا اور نہ یہاں حوالہ مل سکے گا۔ واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

26 thoughts on “شبیر احمد عثمانی ۔۔۔۔ خواب اور وصیت کے درمیان

  • 07-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    محترم وجاہت صاحب

    “یہی ظفر عثمانی تھے جنہوں نے ضیاالحق کے عہد میں وہ معروف (بدنام؟) رپورٹ تیار کی تھی جس میں سیاسی جماعتوں کو خلاف اسلام قرار دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ظفر عثمانی رپورٹ کا ایک نسخہ 17 اگست 1988 کے روز بھی ضیاالحق کے ساتھ تھا ”

    غالبا یہ صاحب ظفر عثمانی نہیں بلکہ ظفر انصاری تھے۔

  • 07-04-2016 at 4:02 pm
    Permalink

    وقت کا ضیاع

  • 07-04-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    محترم اسلم صاحب بجا فرمایا۔ رہنمائی پر تہ دل سے تشکر قبول فرمائیں۔ غلطی کی اصلاح کر لی گئی ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیے

  • 07-04-2016 at 4:48 pm
    Permalink

    جناب عبیدالرحمن ایڈووکیٹ کا سیاسی سفر ابھی تک رُکا نہیں ـ ایک مدت سے ورجینیا میں مقیم ہیں ـ اب آپ خیر سے الطاف بھائی کی متحدہ قومی موومنٹ کے گُن گاتے ہیں اور انکا فرزندِ ارجمند متحدہ کے واشنگٹن / ورجینیا چیپٹر کا عہدے دار بھی ھے ـ عبیدالرحمن صاحب کی خُوبی ھے کہ کسی واقع کو کہانی بنانے کا ہنر جانتے ہیں ـ اُنکی بیشتر یاداشتیں یہاں کی ادبی مجالس میں سُننے کا موقع ملا ھے ـ

  • 07-04-2016 at 8:05 pm
    Permalink

    Wajahat Masood Sir, you have been less than candid and fair in this article. While your objections on Molana Shabbir Usmani are mostly valid, your characterization and depiction of Jinnah Sahib and his politics is one sided and unfair. As a student of political science and history, I see Jinnah and Muslim league’s pre partition politics as “communal” and “sectarian”. Secondly, Jinnah Sahib was secular in his personal life but not in his politics, he heavily relied upon and used the Islamic rhetoric and symbolism to garner support of the masses (Remember his speech of 1946 in Peshawar declaring that Pakistan will not just be a piece of land but a “laboratory of Islam”). Most importantly, he was anything but democratic in the light of (1) dismissal of NWFP assembly (2) amending India Act 1935 to concentrate powers in the office of Governor General instead of Prime Minister, while in India, Nehru did the opposite which played its role in strengthening the democratic roots in India (3) imposing Urdu as a national language and ironically, he declared it in English (4) calling his political opponents “traitors” which set the tone for future political lexicon in Pakistan.

  • 07-04-2016 at 8:08 pm
    Permalink

    While I strongly disagree and criticize the politics of Shabbir Ahmed Usmani and ilk, I think Jinnah and Muslim League equally expressed political opportunism during the Pakistan movement, they were double tongued and at times hypocrite. Just like, Usmani and other Ulama, Jinnah and ML were enrolling communists and Mullah’s to achieve their political end.

  • 07-04-2016 at 9:54 pm
    Permalink

    Syed Mohammad Sami

  • 07-04-2016 at 11:57 pm
    Permalink

    “کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے” تاہم یہ مصرعہ محترم وجاہت مسعود کی اس طبع آزمائی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے جن تک اس میں کچھ ایویں ہے کا اضافہ نہ کر دیا جائے۔ اپنے ہی جس مصرع طرح پر آنجناب نے طبع آزمائی کی ہے وہ یہ کہ حضرت شبیر احمد عثمانی تنگ نظر تھے، اب اس ذیل میں ان کی طرز تحریر یا قرآن کا حاشیہ کا ذکر کہاں سے آگیا ہم جیسے کوتاہ فکر یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس پر مختار مسعود کا حوالہ تو نور علی نور ہے۔ شبیر احمد خود کو پارسا و مقدس سمجھتے تھے( اس سلسلے میں جن وکیل صاحب کا ایک حوالہ وجاہت صاحب نے دیا ہے ان کی حقیقت کسی نے اپنے کمنٹس میں اجاگر کر دی ہے)، وہ خواب دیکھتے تھے یا ان کو زیارت رسول اللہ ہوتی یہ سب باتیں وجاہت مسعود صاحب کے خیال میں تنگ نظری ہو سکتی ہیں ،ہوتی ہوں یا پھر جو مصالحہ ان کے ہاتھ لگا اس سے بس ایسی ہی بلڈنگ تعمیر کی جاسکتی تھی کہ ان کو تنگ نظر جو ٹھرا چکے تھے۔۔۔ حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔۔
    علاوہ ازیں اگر مولانا غیر مسلموں کو کلیدی مناصب پر فائز کرنے کے خلاف تھے یا وہ غیر مسلموں سے جزیہ لینے کے حامل تھے تو یہ ان کی اکیلے کی فکر نہیں اسلامی تاریخ میں کیا غیر مسلموں سے جزیہ نہیں لیا جاتا رہا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جس دور میں جزیہ لیا گیا وہ وہ مسلم حکمران تنگ نظر ہیں؟ وجاہت صاحب لگتا ہے آپ مسلمانوں کے بارے میں کچھ تنگ نظر واقع ہوئے ہیں ۔
    مزید براں آپ نے کسی پس منظر کے بیان کی ضرورت محسوس کیے بغیر مولانا کا یہ فتوی نقل کیا ہے “جب اوودھ میں تعلقہ داریوں (جاگیروں) کا سوال اٹھا تو شبیر احمد عثمانی کا فتویٰ تھا کہ ’تعلقہ داریوں کی حفاظت میں جان دینا شہادت ہے” ذرا مکمل حوالہ تو دے دیجیے تاکہ اس فتوی کا سبب تو سامنے آسکے ۔
    آپ مزید مولانا کو نقل کرتے ہیں مولوی شبیر احمد عثمانی نے یہ گرہ لگانا بھی ضروری سمجھا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ خواہ حالات کتنے ہی نا مساعد کیوں نہ ہوں مسلمان مسلمان رہے اور ہندو ہندو۔ “
    اس کے بعد اس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں
    “دیکھئے مولانا شبیر احمد عثمانی یہاں اس شخص (جناح) کی مخالفت فرما رہے تھے جس کی اقتدا کرنے کا حکم بقول خود ان کے استاد نے خواب میں دیا تھا”۔
    مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ اس طرح کا اعتراض بھی کرسکتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ اوپر کہی گئی بات آپ کے معتقدات کے خلاف ہے؟ حضرت قائد اعظم رہنما تھے کوئی خدا نہیں کہ ان سے اختلاف جائز ہی نہ ہو۔ کیا حضور نبی کریم کو لوگ مجلس مشورت میں مشوری دیتے ہوئے آزادانہ اپنی رائے نہ دیتے تھے ذرا یہی یاد کر لیجیے کہ غزوہ احد مدینہ سے باہر نکل کر کیوں لڑا گیا؟ مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا کہ یہ اعتراض میں عالی جناب وجاہت مسعوود صاحب کی زبانی سن رہا ہوں۔۔۔
    آپ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ “تعجب نہیں کہ دو مولویوں کو پرچم لہرانے کا اعزاز دینا اس ٹولے کی طرف سے ایک علامتی اظہار تھا جس نے قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر سنسر کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ”
    محترم وجاہت صاحب اوپر آپ مولانا حضرات سے بار بار حوالہ طلب کرتے ہیں اور خود ایک صریح من گھڑت الزام اس طرح عائد کردیتے ہیں؟ یہاں تو آپ سے حوالہ بھی نہیں مانگا جاسکتا کہ آپ کا استعجاب ہی اس کی تردید کے لیے کافی ہے۔۔
    آپ کا خری پیراگراف تو طنز کا شاہکار ہے اور بقول رشید احمد صدیقی صاحب مرحوم کہ طنر کا محرک بنیادی طور پر برہمی ہوتی ہے تو عالی جناب آپ تھوڑا ٹھنڈا ہر کر بھی اچھی اچھی باتیں بتا سکتے ہیں یہ آپ اتنا غصہ میں کیوں آجاتے ہیں؟

    • 10-04-2016 at 4:34 pm
      Permalink

      GOOD VALID POINTS RAISED.. WAJAHAT SAHAB SEEMS SO BIASED WITH ULEMA. why cant one struggle for his cause?? why cant any ulema haae their oponions?? why cant they ahve difference of opinion and why cant they work for their cause???

  • 08-04-2016 at 1:17 am
    Permalink

    لطف آیا مضمون اور تبصرے پڑھ کر۔
    وجاہت صاحب کا نثری اسلوب دلکش ہے مگر آزاد خیالی کہیں کہیں زہرخند کو بھی جگہ دیتی ہے۔ اس کا شکوہ بجا طور پر تبصروں میں جناب فہد انوار نے کیا ہے۔ سلمان یونس صاحب کی آرا نہ صرف چشم کشا بلکہ کافی حد تک قابلِ فہم بھی ہیں۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخی مآخذ کو نہ صرف اہلِ مذہب بلکہ مذہب مخالف طبقات بھی دیانت داری اور بے تعصبی سے کام میں لائیں۔ مذہب پرست تو اس سلسلے میں بدنام ہیں سو ہیں مگر ایک مذہبی معاشرے کے مذہب مخالف بھی اس قباحت سے بسا اوقات دامن نہیں بچا پاتے۔
    وجاہت صاحب سے درخواست ہو گی کہ آپ کو مبدءِ فیض سے عمدہ اسلوبِ کلام ارزانی ہوا ہے۔ اسے طنز و تضحیک میں رائگاں نہ جانے دیجیے۔ صرف اس مضمون کا مذکور نہیں، ہم دلدادگان کو کہیں کہیں اور بھی یہ قلق رہتا ہے۔

    • 08-04-2016 at 7:08 pm
      Permalink

      Raheel Farooq Sahib: Thanks for your comments on my comments. I did not make an issue about the lingo and lexicon of Sir Wajaht Masood, although I found it distasteful at certain points, for the reason that I do not want deviate from the core of the argument and I would rather have Wajahat Masood saab focus on the rebuttal arguments instead of justifying or clarifying the language he used in the article. Let us see if افلاک سے آتا ھے نالوں کا جواب آخر or not

  • 08-04-2016 at 7:41 am
    Permalink

    Murshid Wajahat Masood SaiN
    I think there are some historical mistakes in this article.
    Some background
    Shabir Usmani ( Usmani) was in Deoband. His elder brother was Deoband Chief. It was Usmani who drafted the well kwon Fatwa of India being “Dar ul Harab”. In 1929, Khilafat people developed differences with Congress. In early 30s he did not “leave” Deoband due to any political differences. Many a time he was expelled from Deoband because students used to complain against him. His own brother informally expelled him many times. He was formally expelled from Deoband. One of his friend said the reason was some unsavory “illat” (Habit). When he was expelled initially he went to Gujarat state.
    He was again hired back later. Ashraf Thanvi was his protector. Ahsraf Thanvi died in 1943. In 1945 students boycotted and demonstrated against him because of same Illat (homosexuality??). He joined Muslim League during late 1945 and not 1944.
    He was selected against Sylhet seat.
    He did not raise flag on August 15, 1947. Neither did other Usmani in East Bengal. These are lies.
    He was not even in Pakistan. He came to Pakistan at the end of 1947. That photo of him with Jinnah of flag raising is from February 1948. Our honest historians have lied to us.
    I don’ think he was in second row during first session. I think constituent assembly record should be explored.
    Janaza: Ms Fatima Jinnah wanted Shia scholar to lead the Janaza. But government wanted a Sunni person with arugment of majority being Sunni. So Shia janaza was performed within the governor general house. Sarkari Janaza was performed by Usmani. I think this Janaza episode is also in Ms Jinnah’s censored book My Brother.
    I agree with Liaqat Ali , Jamaat Islami using these people ( others being Malik Umar VC Punjab University etc.) for their own dastardly agenda.

  • 08-04-2016 at 12:00 pm
    Permalink

    ”قائد اعظم لکھنو تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لئے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں۔۔۔۔ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔۔۔۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے ‘۔

    اس اقتباس میں قائد اعظم کے بارے میں شبیر احمد عثمانی کی قدر پیمائی اور خود اپنی ذات مقدسہ کے بارے میں خود رائی‘ سے زیادہ اُن کی اپنے دیگر ہم خیالوں کے ساتھ مل کر مستقبل کی صورت گری کی خواہش نظر آتی ہے جس میں وہ بوجوہ کامیاب بھی رہے ہیں

    قرارداد مقاصد اسی خواہش کی عکاس ہے اور ابھی تک ہمارے سروں پر منڈلارہی ہے

  • 08-04-2016 at 12:08 pm
    Permalink

    شکریہ فہد انوار صاحب!
    لیکن کیا ہم آپ سے جناح صاحب کا عثمانی صاحب کو باپ کہنے کے ریفرنس کے متعلق روشنی ڈالنے کے متعلق استدعا کر سکتے ہیں؟ قرائن سے تو لگتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔
    نیز کیا یہ سچ ہے کہ جناح کا پہلا جنازہ گھر میں شیعہ عالم دین نے پڑھایا تھا؟ چنانچہ اگر عثمانی صاحب کے متعلق کوئی وصیت ہوتی تو گھر والوں کو اسکا علم نہ ہوتا؟
    نیز غیر مسلموں کو کلیدی مناصب نہ دینے، یا ان سے جزیہ طلب کرنے کا جہاں تک معاملہ ہے، تو پھر وقت اور حالات کیوں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مولانا عثمانی صاحب تنگ نظر تھے؟ وجہ یہ ہے کہ ماضی کے حالات اور تھے، جبکہ 1947 کے حالات کچھ اور کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب خود ترکی کی خلافتِ عثمانیہ جزیے کو ترک کر چکی تھی، خود عرب ممالک میں جزیہ ختم ہو چکا تھا۔
    مثلا آج جب داعش یا طالبان جزیے کی بات کرتی ہے، تو انہیں تنگ نظر ہی کہا جاتا ہے۔
    میرا آپ سے آخری سوال یہ ہے، اگر مولانا صاحب غیر مسلموں سے جزیہ طلب کرنے کا تقاضہ کر رہے تھے، تو پھر انہیں کس چیز نے روکا تھا کہ وہ غلامی کا تقاضہ نہ کرتے؟ آخر کار غلامی بھی تو “حلال اللہ” تھا اور کسی کو اجازت نہیں کہ وہ حلال اللہ کو اپنی طرف سے حرام کر دے، کیونکہ یہ بدعت و کفر ہے کہ اللہ کی شریعت کو تبدیل کیا جائے۔
    اس لیے سعودیہ کے مفتی شیخ صالح الفوزان نے فتویٰ دیا ہے کہ اسلامی ریاست کے قائم ہوتے ہی غلامی کو جاری کرنا پڑے گا کیونکہ جب تک جہاد جاری ہے تب تک غلامی بھی جاری ہے۔
    چنانچہ سوال پھر وہی آتا ہے کہ اگر مولانا عثمانی صاحب کے نزدیک پاکستان کی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں سے جزیہ لینا جائز تھا، تو پھر وہ غلامی کا کیسے انکار کر سکتے تھے؟
    مجھے اس ضمن میں بہت اشتیاق رہا ہے کہ مذہبی طبقات اس مسئلے کو واضح کریں کہ وہ پاکستان کو اسلامی مملکت بنا کر غلامی سے کیسے چھٹکارا پاتے ہوئے حلال اللہ کو اپنی طرف سے حرام بنائیں گے۔ کیسے ممکن ہو گا کہ وہ غیر مسلموں کو کلیدی مناصب سے روکیں اور ان سے جزیہ لیں، مگر پھر بھی غلامی کے ادارے کو جاری نہ کریں۔

  • 08-04-2016 at 3:01 pm
    Permalink

    محترم وجاہت صاحب

    عاجز آپ کی توجّہ کا بے حد شکر گزار ہے۔ آپ نے اپنی غلطی کا برملا اعتراف کر کے اعلٰی ظرفی کی بہترین مثال پیش کی ہے۔

    آفرین صد آفرین

  • 08-04-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    وجاہت صاحب آپ نے ہر مخالف بیان و تبصرہ پر ثبوت مانگا ہے جو عین منطقی ہے مگر خود آپ نے یا تو کوئی واضح ثبوت دینے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی یا پھر کہی سنی’ غیر معروف، غیر مستند یا ایسے حوالے دیئے جو ابتداء سے ہی متنازع اور تا حال جواب طلب ہیں۔ قطع نظر موضوع کے نکات اور مبینہ حقائق کے آپ کے لب و لہجہ میں دلیل کم اور طنز زیادہ نظر آرہا ہے۔ میرے اس ناقص تبصرہ کو علامہ کی طرف داری نہ خیال کرلیجیئے گا کیونکہ ہمارے ہاں یہی چلن عام ہے۔ یہ تبصرہ صرف آپ کی تحریر پر ہے

  • 09-04-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود کی جہالت کے بارے میں پہلے سنا ہی تھا مگر آج پڑھ بھی لیا۔

    • 09-04-2016 at 6:42 pm
      Permalink

      Janab Ap ne kahan para ha hum ko bhi btaiay ta ke hum bhi mustafeed hon. Hum younhi Wajahat ko Sahib -eRai Danishwar samjhtey rahey.

  • 09-04-2016 at 5:24 pm
    Permalink

    مجھے اتنے سارے خواب سن کر طاہرالقادری صاحب اور ممتازقادری و ثناء خوان ممتازقادریوں کے سارے خواب یاد آگئے…. آہ…..!!!

  • 10-04-2016 at 12:59 am
    Permalink

    استاذی وجاہت مسعود صاحب کا مضمون پڑھا اور اس کے بعد دیگراہل فکر کا ردعمل بھی فرداً فرداً دیکھا۔ خوب ہے۔ استاذی نے اپنے ایک مضمون میں لف ونشر مرتـب کی ابلاغی ترکیب کام میں لائی اور دو اصناف (تنگ نظر و وسیع المشرب) کے تحت تین تین بندے بھگتا دیے ۔ اس مقام پر پہنچ کر میں زیرلب مسکرایا بھی ۔ اس محتاط مسکراہٹ کی وجہ استاد کے مزاج کے بر خلاف ان کی تحریر میں ”فتوے” کے سے آہنگ کا احساس تھا۔

    استاذی کے ساتھ کچھ دلکش و بے تکلف لمحات گزرے ہیں سو کسی حد تک ان کا مزاج شناس ہوں۔ وہ طنز کا بہت لطافت سے استعمال کرتے ہیں ۔ کالم تو آپ سب پڑھتے ہیں ، میں گفتار کی بات کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ ہاں تومضمون میں تنگ ںظر قرار دیے گئے افراد میں ایک شبیرعثمانی بھی تھے۔ قلم چلا تو روانی لپیٹ دیے گئے۔ اس پر یار لوگوں نے کافی ‘شاعری’ فرمائی ہے ۔ میں نے ان تبصروں کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھا۔ ہاں کسی صاحب کی فیس بک پر ایک طویل جواب صبح دیکھا تھا۔ انہوں نے اچھی کوشش کی ہے۔ شائستگی کا دامن بھی نہیں چھوڑا۔ وہ صاحب ”دو قومی نظریے” کے سرٹیفائیڈ قسم کے نگہبانوں میں سے تھے لیکن ان کی تحریر پڑھنے لائق ہے ۔

    اس سارے معاملے میں میں کافی حد تک خود کو سلمان یونس صاحب(جنہوں نے اوپرردعمل کا اظہارکیا ہے) کے خیالات کے قریب پاتا ہوں۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں ۔ صرف ایک سن لیجیے۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک اسائمنٹ دی گئی جس میں قائداعظم اور علامہ اقبال کے ‘دو قومی نظریے’ کو کسی نہ کسی حیثیت میں اجاگر کرتے فرامین کو جمع کرنا تھا ۔ حیرت کی بات ہے اقبال اس باب میں مجھے بہت پیچھے نظر آئے بلکہ خطبہ اٰلہ آباد کے بعد محض چند ہی مقامات پر ظاہر ہوئے لیکن ”دو قومی نظریے” کے اثبات میں بہت سرگرم کبھی نہیں دکھائی دیے۔ پھر ظاہر ہے موت نے مہلت نہ دی ، سو گزر گئے۔ قائداعظم کے اقوال البتہ جگہ جگہ بکھرے ہوئے ملے جن سے مطلب کشید کرنے میں کوئی خاص ابلاغی مشقت نہیں اٹھانی پڑتی۔

    پچھلے موسم گرما کی ایک شام استاذی کے آشیانے پرجناب خالد احمد صاحب(نیوز ویک) کے ساتھ ایک علمی نشست سجی۔ کئی پڑھنے لکھنے والے احباب حاضر تھے۔ سوالات چلے اور خالد احمد دھیمے مگرباوقارعالمانہ لہجے میں گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ میں نے قائداعظم کی بابت پوچھا کہ جناب ہم(نوجوان) تذبذب کا شکار ہیں ۔ ہمارا سابقہ قائد کے دو طرح کے شارحین سے ہے ۔ اجارہ داری مگر ڈاکٹر صفدر محمود وغیرہ اور’ نظریہ پاکستان’ والوں کی ہے ۔ شارحین کا ایک گروہ(جو تعداد میں اگرچہ کم ہے) اپنی ساری توانائی 11 اگست کی تقریر کے ان حصوں کی تبلیغ میں صرف کرتا ہے جنہیں مبینہ طور پر سنسر کرنے کی ‘ناپاک ” جسارت کی گئی تھی۔ کیا کیا جائے؟ خالد احمد صاحب نے مطالعے کا مشورہ دیا تھا۔

    مولانا شبیر عثمانی کے بارے میں کلام طویل ہو گیا ۔ میرا احساس ہے( اوریہ غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ استاذی اس معاملے میں تھوڑاسا غصہ کر گئے ہیں۔ (معمول میں وہ ایسا نہیں کرتے )تنگ نظری کے اثبات کے لیے تاریخ کے طاقچے سے بہت کچھ نکال لائے ہیں اور خوبصورتی سے اسے جوڑا بھی ہے۔ ترجمہ خوبصورت وروان نثر لکھنے والے مختارمسعود صاحب کو پسند نہ آنا بھی تنگ نظری کی جملہ دلیلوں (ضمنی کہہ لیجیے) میں سے ایک تھا۔ میرے خیال میں نہیں بنتی ۔

    اس ناچیز کی رائے یہ ہے کہ اب یہ بحث کہ کون تنگ نظر تھا اور کون وسیع المشرب بہت اہم نہیں رہی ۔ اگر جواب الجواب پر جانبین کی توانائیاں صرف ہوں تو یہ وقت کا ضیاع ہے ۔ جوھڑ میں کھڑا پانی معتفن ہو جاتا ہے۔ اگر بانس لے کر اسی کو ہلاتے رہیں گے تو سوائے بدبو کے کچھ برآمد نہیں ہو گا۔ تالاب کا پانی ‘ایکسپائری ڈیٹ’ سے آگے بڑھ جائے تو نکاسی کا انتظام کرنا چاہیے ۔

    میں نے جوھڑ اور بدبو وغیرہ کی علامت برتی ہے ۔ احباب دل پر نہ لیں کیونکہ جوھڑ میں صرف پانی نہیں اور بھی بہت کچھ سڑرہا ہے ۔ اسی کی سرانڈ ہمارے دماغ پر اثر کرتی ہے اور ہم کنفیوژ ہوجاتے ہیں ۔

  • 10-04-2016 at 1:20 am
    Permalink

    فرحان صاحب ، آپ نے بے لاگ تجزیے کا حق ادا کر دیا ،، تاریخ پاکستان کے دوران قاید اعظم اور مسلم لیگ کی طرف سے مزھب کا مسلسل ، کھلے عام اور بے محابا استعمال قررار داد مقاصد پر منتج ھوا ، اب المیہ یہ ھے کہ ھمارے لبرل دانشور قرارادا مقاصد کو تو لتاڑتے ھیں اور بجا طور پر ، لیکن جڑ پر بات کریں تو ھتھے سے اکھڑ جاتے ھیں ،، میرے جیسے عامی جو قرارداد مقاصد کو عوام اور جمھوریت پر ڈاکہ سمجھتے ھیں جب ان لبرل دانشوروں کو مسلم لیگ اور قاید کی دو عملی اور مزھب کے استعمال کا دفاع کرتے دیکھتے ھیں تو انگشت بدنداں رہ جاتے ھیں ،، قرار داد مقاصد پر راقم کا ایک نا مکمل سا تبصرہ یوں ھے ،،،،
    قرار داد مقاصد پرراقم کا تبصرہ ،،،، اور قرارداد مقاصد کے ذریعے پاکستان کی ریاست نے شروع ھی سے جو معایدہ اپنے شہریوں کے ساتھ کیا وہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ۔۔۔ ” اس ملک میں حاکمیت توصرف اللہ تعالیٰ کی ھوگئ ،،،،، البتہ،،، زمین انگریز کے کتے نہلانے والے جاگیرداروں کی۔۔” یہ قرارداد پیش اور پاس کرنے والوں نے اقلیتوں کے ساتھ تو دھوکہ کیا ہی لیکن خود اسلام جس کا ایک زریں اصول بقول اقبال “اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب،،بادشاھوں کی نہیں اللہ کی ھے یہ زمیں” ھے کے ساتھ بھی بھونڈا مزاق کیا۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک کی دستور ساز اسمبلی اپنی پہلی اور بنیادی اّئینی دستاویز پاس کرتے ھوئے معاشی اور معاشرتی انصاف کے لیے بئیادی اقدام یعنی زمین کی ملکیت پر حد مقرر کرکے جاگیرداری کے خاتمے پرمعنی خیر خاموشی اختیار کی۔ میرے خیال میں اس قرارداد پر اٹھنے والے بہت سے اعتراضات اپنا زور اور اثر کھو دیتے اگر اس میں صرف رسما بھی جاگیرداری جیسی ہمہ گیر معاشرتی اور معاشی ام المساٰئل کے خاتمے کا ذکر یا عزم کا اظہار ھوتا،،،!!!

    مزید یہ کہ اس فکری تضاد پر میں نے بھی دو ایک استاد دانش وروں کو کھول کر دیکھا تو اندر سے وھی یکطرفہ سوچ اور لبرلز کے اعمال کی ھر صورت پردہ پوشی کرنے والا ‘مولبی’ نکلا ، البتہ اس میں مثتثنیات کا ذکر نہ کرنا زیادتی ھو گی، اور میری معلومات کی حد تک صف اول سکالرز میں سے وہ ڈاکٹر مبارک علی اور کچھ حد تک ڈاکٹر مبارک حیدر اور اقبال احمد مرحوم ھیں اور نیم سنجیدہ یا صف دوم میں طارق فتح (کینڈا) ھیں ،، البتہ نجی گفتکو کی حد تک تومیرے ساتھ مکالمے میں حسن عباس Pakistan’s drift into extremism: Allah the army and America’s War on Terror بھی قائید اور مسلم لیگ کی اس دو نظری کو تسلیم کر چکے ھیں

  • 10-04-2016 at 2:14 am
    Permalink

    ایک تصحیح

    ”شارحین کا ایک گروہ(جو تعداد میں اگرچہ کم ہے) اپنی ساری توانائی 11 اگست کی تقریر کے ان حصوں کی تبلیغ میں صرف کرتا ہے جنہیں مبینہ طور پر سنسر کرنے کی ‘ناپاک ” جسارت کی گئی تھی۔”

    میرے تبصرے کی مندرجہ بالا سطور کو یوں پڑھا جائے ۔

    ””شارحین کا ایک گروہ(جو تعداد میں اگرچہ کم ہے) اپنی ساری توانائی 11 اگست کی تقریر کے ان حصوں کی تبلیغ میں صرف کرتا ہے جنہیں سنسر کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تھی۔ ”

  • 10-04-2016 at 12:25 pm
    Permalink

    محترم سلمان یونس صاحب، میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے بعد مہربان دوستوں کی رائے اور تبصرے پڑھتا ہوں۔ واقعے یا بیان میں کوئی غلطی سامنے آئے تو اعتذار کر لیتا ہوں۔ بحث میں حصہ نہیں لیتا کہ اسے پڑھنے والے کے احترام کا حصہ سمجھتا ہوں۔ لکھنے والے نے لکھ دیا۔ اب پڑھنے والا اپنی رائے قائم کرنے اور رائے بیان کرنے میں آزاد ہے۔ اگر کوئی ناقابل اشاعت پیرایہ اظہار بروئے کار نہ لایا گیا ہوا ہو تو اتفاق اور اختلاف سے قطع نظر پڑھنے والوں کی رائے شائع کر دی جاتی ہے۔ اگر کسی محترم بھائی سے کوئی ذاتی تعلق ہو تو اپنی رائے نجی طور پر بھیج دیتا ہو۔ اگر لکھنے والا قاریئن کی بحث میں شامل ہو جائے تو غیر ضروری بدمزگی کا اندیشہ باقی رہتا ہے۔

    • 10-04-2016 at 12:43 pm
      Permalink

      مکرمی وجاھت مسعود صاحب، کمنٹس کا جواب نہ دینے کی پالیسی کے بارے میں آگاہی بخشنے کا شکریہ اور آپ کی اس پالیسی میں واضح حکمت ھے جو مکالمہ کے لیے سازگار ماحول قائم کرنے کے لیے ضروری ھے۔۔ سکھانے کا شکریہ – اگر مناسب سمجھیں تو میرا ای میل یا فیس بک ایڈ کر لیں، آپ سے مزید سیکھتے رھیں گے

  • 11-04-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    اردو کے صاحب طرز نثر نگار مختار مسعود ایسے سلیم الطبع ہیں کہ کسی کی ذات پر مذہبیت کی مہر دیکھتے ہی ریجھ جاتے ہیں لیکن ’آواز ِدوست‘ میں لکھتے ہیں، ”آپ نے شیخ الہند کے ترجمہ قران پاک پر شبیر احمد عثمانی کے حاشیے دیکھے ہوں گے، زبان کے لحاظ سے بہت معمولی ہیں۔“

    یہ رائے گرچہ قرین حقیقت ھے پر یہ ھے ملا واحدی کی جس کو مختار مسعود صاحب نے روایت کیا ھے ص 106 پر آواز دوست میں۔

  • 24-04-2016 at 8:58 am
    Permalink

    Such nice articale to read n all these above mentioned comments as well .. worth reading .. Worthy Masood Wajahat Sir I a very Important Question in my mind that after reading all those comments if u wouldn’t respondthen how will dumb people like us make ourselves educated? N how can we explore the reality?

Comments are closed.